| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
علامہ تفتازانی نے مقاصد و شرح میں اُن پر رَد اجمالی کیا کہ وہ سب انتفائے جز پر مبنی ہیں۔ اور مُلا عبدالحکیم نے حواشی شرح مواقف میں کہا اشکال ہندسیہ ثبوت مقدار پر موقوف ہیں وہ اتصال جسم پر وہ نفی جز پر ، تو ان سے نفی جز پر استدلال دور ہے، اصحابِ جز کے نزدیک نہ زاویہ ہے نہ وتر نہ قطر نہ دائرہ سب تخیلاتِ باطلہ ہیں کہ توہم اتصال سے پیدا ہیں، شرح مقاصد میں یوں تفصیل فرمائی کہ براہین ہندسیہ سے ابطال جز میں مثلث متساوی الاضلاح وتنصیف زاویہ و تنصیفِ خط و وجودِ دائرہ ووجودِ کرہ سے مدد لی ہے اور ان میں سے کچھ بے نفی جز ثابت نہیں۔ اقلیدس نے تنصیفِ خط اس پر مثلث متساوی الاضلاع بنا کر کی اور تنصیف زاویہ اس کی ساقین برابر کرکے وتر نکال کر اس پر دوسری طرف مثلث مذکور بنا کر ، اور مثلث مذکور خط پر دو دائرے کھینچ کر، اور کرہ یوں ثابت کرتے ہیں کہ قطر دائرہ کی بجائے محور مانیں اور اس کے دونوں نقطہ طرف کو بجائے قطبین، اب نصف دائرہ کو اس محو رپر گھمائیں یہاں تک کہ اپنی وضع اول پر آجائے اس سے سطح کروی کہ محدب کرہ اور اسے محیط ہے پیدا ہوگی تو سب کا مبنی ثبوت دائرہ ہوا اور وجود دائرہ یوں ثابت کرتے ہیں کہ سطح مستوی پر ایک خطِ مستقیم(عہ) تخیل کریں۔ ۔
عہ : علامہ نے فرمایا ایک خطِ مستقیم متناہی اقول : صرف اتنا ہی خط کافی نہیں بلکہ وہ شرط ضرور ہے جو ہم نے ذکر کی ۱۲ منہ غفرلہ
اقول : یعنی سطح متناہی ہو اور یہ خط اس میں ایسی جگہ کہ کسی طرف سطح کا امتداد اس خط کی مقدار سے کم نہ ہو) اس خط کا ایک کنارہ ثابت رکھیں اور دوسرے کو دورہ دیں یہاں تک کہ اپنے محل اول پر آجائے اس دورہ سے سطح دائرہ حاصل ہوگی جیسے عمل پر کار سے، لیکن برتقدیر جزیہ حرکت خط جس سے دائرہ بنایا خود محال ہے کہ مستلزم محال ہے تو بے نفی جز ان میں سے کسی کا اثبات محض خیال ہے۔ ملاّ حسن نے حواشی صدرا میں اس حرکت کا استحالہ یوں بتایا کہ خط کا ایک کنارہ ثابت رکھ کر دوسرے کو جو حرکت دی ہے یہ کنارہ جتنی دیر میں اس سطح مستوی کا ایک جز قطع کرے وہ جز خط کہ کنارہ ثابتہ کے متصل ہے اگر وہ بھی ایک ہی جز قطع کرے یونہی آخر تک جب تو دائرہ صغیرہ وکبیرہ مساوی ہوجائیں گے اور اگر جز سے کم تو جز منقسم ہوگیا اور اگر یہ ساکن رہے تو خط کے اجزاء بکھر گئے تو دائرہ پورا ہونا لازم نہ ہوگا حالانکہ لازم مانا تھا تینوں شقیں محال ہیں لہذا وہ حرکت محال ہے۔
اقول : کلام یہاں طویل ہے اور انصاف یہ کہ تخیل دائرہ ان تجشمات کا محتاج نہیں اور وجود دائرہ کا ان سے ثبوت نہیں ہوسکتا کہ یہ سب تخیلاتِ نامقدورہ ہیں خارج میں پرکار ہے جو بحالت اتصال جسم دائرہ حقیقیہ بنانے کی ضمانت نہیں کرسکتی، نہ وہ سطح جسے مستوی سمجھیں واقع مستوی ہونی ضرور جس سے حقیقت تک عظیم فرق ہے نہ پرکار کی رفتار میں اول سے آخر تک فرق نہ پڑنے کی ذمہ داری ہوسکتی ہے نہ وہ نشان کہ اس سے بنے تمام مسافت میں یقینی یکساں ہونے کی تو وجود ثابت نہیں مگر دائرہ حسیہ کا صدرا نے با آنکہ اقرار کیا کہ ابطال جز پر اشکالِ ہندسیہ سے استدلال ضعیف ترین طریق ہے کہ ان کا وجود اور اتصال جسم ماننا ایک ہی چیز ہے مگر مربع مثلث قائم الزاویہ کا استثنا کیا اس بنا پر کہ ابن سینا نے اصحابِ جز کا مذہب بتایا کہ مربع کے منکر نہیں۔ اور ظاہر ہے کہ مربع میں قطر ڈالنے سے دو مثلث قائم الزاویہ پیدا ہوں گے تو جو دلیل اس پر مبنی ہو اصحابِ جز سے اس کا دفع ناممکن ہے انتہی، اصحاب جز کی طرف یہ نسبت کذب محض ہے ان کی کتب میں کہیں تسلیم مربع حقیقی کا پتہ نہیں۔
اقول : بلکہ وہ صراحتہً وجود زاویہ کا انکار کرتے ہیں پھر مربع کہاں سے آئے گا صراحۃً سرے سے مقدار ہی نہیں مانتے تو کوئی شکل کہاں سے آئے گی۔ ابن سینا نے کہا ہمارے پاس وجود دائرہ کے دو ثبوت اور ہیں کہ نفی جز پر مبنی نہیں۔ اوّل اجسام میں بسیط بھی ہیں۔( یعنی مرکبات کی انتہا بسائط کی طرف لازم) اور بسیط کی شکل طبعی کُرہ ہے، اور جب کرے کے دو حصے مساوی حسایا وہماً کیے جائیں گے۔ دو دائرہ حاد ث ہوں گے۔ بحرالعلوم نے فرمایا یہ اگرچہ نفی جز پر مبنی نہیں۔ اولاً : اس پر مبنی ہے کہ اجسام میں طبعیت ہے۔ ثانیاً : اس پر کہ شکل مقتضائے طبع ہے۔ ثالثاً : اس پر کہ طبیعت واحدہ مادہ واحدہ میں فعل واحد ہی کرے گی اور یہ سب ممنوع بلکہ باطل ہیں۔ اقول ، رابعاً : بلکہ ہم ثابت کرچکے کہ ان کے نزدیک طبیعت واحدہ نے مادہ واحدہ میں افعال مختلفہ متباینہ بالنوع کئے کہ افلاک مجوف بنائے جن میں محدب و معقر۔ خامساً : اثبات وجود واقعی کے درپے ہو کر تنصیف کرہ میں وہماً بھی ملانا عجیب ہے تنصیف وہمی سے دائرہ موہومہ بنے گا یا موجودہ۔ سادساً : اگر وہمی سے گزر کر خاص حسی لو تو اب وہ کرہ بتاؤ جس کی تنصیف حسی کرو گے۔ زمین پر کسی کرے کا حقیقیہ ہونا ثابت نہیں کرسکتے اور واقع میں افلاک میں بھی ثبوت نہیں کما تقدم ( جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے) اور فرض کرلیں تو ان کی تنصیف حسی تمہارے نزدیک محال۔
سابعاً : فرض کرلیں کہ کوئی کُرہ حقیقیہ قابل تنصیف حسی تمہیں مل سکے اب اپنی تنصیف کا ضامن بتاؤ کہ صحیح دو نصف کرسکو گے ہاتھ اتنا بھی نہ بہک سکے کہ ایک جز لایتجزی کی قدر دونوں نصفوں میں فرق ہو۔ اور جب یہ کچھ نہیں تو وہی نِرا تو ہم رہ گیا جس کا کوئی منکر نہیں۔ دائرہ واقعیہ نہ ثابت ہونا تھا نہ ہوا۔ ثامناً : نفی جز پر مبنی نہ ہونا بھی عجیب منطق ہے، اس کی بنا ثبوتِ مادہ پر ہے اور ثبوت مادہ کی بنا نفی جزیر، یہ ہے ابن سینا کی ریاست۔
اگر کہیے طبیعت واحدہ اجزا میں بھی فعل واحدہ ہی کرے گی۔ اقول : انہیں ملا ہی نہ سکے گی کہ اتصال اجزا محال ہے پھر کرہ کہاں سے بنائے گی۔
دوم : اصحابِ جزو دائرہ حسیہ سے تو منکر نہیں حسیہ حقیقیہ ہوسکتا ہے یوں کہ دائرہ حسیہ میں کچھ اجزا واقع میں اونچی کچھ نیچے ہوں گے۔ ہم ایک خطِ مستقیم مرکز دائرہ پر رکھ کر سب سے اونچے جز پر رکھیں گے نیچے اجزاء میں اس خط کی مقدار سے جتنی کمی ہے اسے اجزاء لاتتجزی بھر کر پوری کریں گے۔ اگر سب طرف کمی پوری ہو کر بعد برابر ہوجائیں دائرہ حقیقیہ ہوگیا اور اگر کہیں اتنی کمی رہے کہ اب ایک جزء رکھیں تو خط کی مقدار سے اونچا ہوجائے گا تو معلوم ہوا کہ یہاں کمی ایک جز سے کم کی ہے تو جز منقسم ہوگیا، اور اگر غیر متناہی اجزاء رکھتے جائیں اورخلا کبھی نہ بھرے تو اس کی تقسیم نامتناہی ہوئی اور یہ ان کے مذہب کے خلاف ہے کہ ہر بعد کو وہ بھی متناہی مانتے ہیں۔ اقول ،اولاً: کلام وجود دائرہ میں تھا نہ نرے تو ہم وتخیل میں کہ محتاج تجشم نہ تھا اور اس تدبیر سے ثابت ہوا تو و ہی توہم نہ واقع میں۔ دائرہ بنالینا کہ یہ تدبیر نہ ہوگی مگر وہم میں واقع میں ایک جز کی قدر نشیب و فراز کو نہ امتیاز کرسکتے ہو نہ اس کے بھرنے کو ایک جز کہیں سے لاسکتے ہو، تو جو مقصود تھا ثابت نہ ہوا، اور جو ثابت ہوا مقصود نہ تھا، یہ ابن سینا کی ریاست ہے۔ ثانیاً : ابن سینا کی جاں فشانی پر افسوس آتا ہے کہ محض خرط القتا د ونفح فی الزماد ہے دو جز متصل ہو ہی نہیں سکتے، ان سے خلا بھرنا کیسا، ایسی ہی تقریر شبہ ثالثہ میں تھی اور وہیں اس کا رَد گزرا ۔
ثم اقول : یہ سب بردو مات بے وجہ ہے، ہمارے نزدیک تحقیق یہ ہے کہ نہ براہین ہندسیہ نفی جز پر مبنی نہ ان سے نفی جز ہوسکے، ان کی بنا خطوطِ موہومہ پر ہے اگرچہ واقع میں اجزاء سے ترکب ہو، عمارتوں میں ان سے مدد لی جاتی ہے، دیواروں و ستون کو کون کہہ سکتا ہے کہ متصل وحدانی ہیں ، مگر وہی اتصال موہوم کام دیتا ہے اور نفی جز ان سے یوں نہیں ہوسکتی کہ وہ وجود جز باطل نہیں کرتیں بلکہ اتصال اور وہ خود محال، وباﷲ التوفیق ، اب ان شبہات کو اگر ہم ذکر نہ بھی کریں عاقل خود ان کا جواب سمجھ لے گا مگر گنا دینا مناسب کہ ناواقف کو یہ وہم نہ ہو کہ فلاں شبہ جواب سے رہ گیا معہذا بعونہ تعالٰی بیان جوابات عدیدہ و افاداتِ جدیدہ لائے گا وباﷲ التوفیق۔