Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
167 - 212
 (۶۔۷) فلاسفہ کی تصریح ہے اور خود علامہ سید شریف قدس سرہ، نے بعض حواشی میں فرمایا کہ خط کی دوجہتیں ہیں اور سطح کے لیے چار۔

اقول : یعنی خط کے لیے فوق و تحت کہ امتداد طولٰی سے ماخوذ ہیں اور سطح کے لیے یمین و یسیار بھی کہ امتداد عرضی سے لیتے ہیں نہ قدام و خلف کہ امتداد عمق سے ہیں تو ثابت ہوا کہ اولاً تحیز بالذات کی تخصیص باطل۔

ثانیاً :  منشا شبہ دو معنی جہت کا اشتباہ تھا اس کے کشِ سے زاہق و زائل ایک یہی شبہ اتصال جز میں جدا تھا جس کا انکشاف بحمدہ تعالی بروجہ احسن ہوگیا باقی تمام شبہات سابقہ ولا حقہ کے جواب میں یہی ایک حرف کافی کہ
اتصال جزئین محال والحمدﷲ شدید المحال۔
تنبیہ ،اقول : اس شبہ کی ایک تقریر یوں ہوسکتی ہے کہ ا ب ح تین جز ہیں شک نہیں کہ ب کے ایک طرف ا ہے اور اس کے دوسری طرف ح کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ دونوں اس کی ایک ہی طرف ہیں تو ضرور ب میں دو طرفین ممتا زہیں جن کی طرف اشارہ حسیہ جدا ہے تو شے دون شے کا مصداق ہوگیا اور یہی انقسام ہے اور جواب ہماری تقریر سابق سے واضح ہے۔

اولاً : ب کی ایک طرف ا اور اس کی دوسری طرف ح نہیں بلکہ ب سے ایک طرف ا اور اس سے دوسری طرف ح ہے تو انقسام نہیں اور دونوں عبارتوں کا فرق ہمارے بیان سابق سے روشن ہے۔

ثانیاً :  تین مخروط ہیں ان کے رؤس نقاط ا ،ب ،ح ،٭ا ٭ب٭ح ، یہ تقریر بعینہ ان تین نقطوں میں جاری کون کہہ  سکتا ہے کہ ا و ح  دونوں ب کے ایک طرف ہیں، اگر کہیے کہ یہ انقاط معدوم و موہوم ہیں تو ان کے لیے جہات نہیں۔

اقول، اولاً : خود فلاسفہ قائل اور دلائل قاطعہ قائم کی کہ اطراف یعنی سطح و خط و نقطہ کہ نہایات جسم و سطح و خط ہیں موجود فی الخارج ہیں۔

(۱) اقلیدس نے اس کا موجود ہونا اصول موضوعہ میں رکھا، طوسی نے تحریر میں اس کی تقریر کی، علامہ قطب الدین شیرازی نے حواشی حکمۃ العین میں فرمایا، انہیں موجود نہ ماننا مذہب فلاسفہ کے خلاف ہے، انہوں نے حکماء کا لفظ کہا ہے اور مشائین و اشراقین کسی کی تخصص نہ کی ، نیز فرمایا کہ اطراف یعنی خط وسطح ان کے نزدیک انواع کم متصل موجود فی الخارج سے ہیں تو معدوم کیسے ہوسکتے ہیں۔ یعنی تو یونہی نقطہ کہ وہ خط موجود کی طرف ہے بعض متاخرین نے کہ ان کا وجود انتزاعی مانا، باقر نے صراط مستقیم میں اسے رد کیا اور ان بعض کے زعم کو کہ ابن سینا نے اس کی تصریح کی۔ حمد اﷲ علی المتشدق نے فی الآن میں خلافِ واقع بتایا۔

(۲) شرح حکمۃ العین میں کہا کہ اطراف اگر موجود نہ ہوں تو وہ مقدار متناہی نہ ہوگی ضرور ہے کہ مقدار متناہی کسی شے پر ختم ہوگی وہی اس کی طرف ہے تو مقادیر متناہیہ کے اطراف بلاریب موجود ہیں۔

(۳) صاحبِ حکمۃ العین نے اپنی بعض تصانیف میں اس پر یہ دلیل قائم کی کہ دو جسموں کا تماس اپنی  پوری ذات سے نہیں ہوسکتا و رنہ تداخل لازم آئے، نہ کسی امر معدوم سے یہ بداہۃً ظاہر ہے نہ کسی ایسے امر سے کہ جانب تماس میں منقسم ہو کہ یہ منقسم اگر بالکلیہ مماس ہوں تداخل ہے اور بالبعض تو ہم اس بعض میں کلام کریں گے کہ وہ منقسم ہے یا غیر منتقسم ، اور بالاخر غیر منقسم پر انتہا ضرور ہے اور یہ غیر منتقسم  اجزاء جسم نہیں کہ جز لا یتجزی باطل ہے تو ثابت ہوا کہ ایک شے ذو وضع کے جانب عمق میں منقسم نہیں  موجود فی الخارج ہے اسی سے اجسام کا تماس ہے اور وہ نہیں مگر سطح، یونہی سطحوں کے تماس سے نقطے کا وجود فی الخارج لازم۔ سید شریف نے فرمایا، وجود اطراف پر یہ دلیل سب سے ظاہر تر ہے۔

ثانیاً :  بالفرض ان کا وجود انتزاعی ہو تو وہ منتزعات کہ خارج میں ان کے احکام جدا ہوں ان پر آثار مترتب ہوں ضرور وجود خارجی سے خط رکھتے ہیں۔ اطراف ایسے ہی ہیں اور اسی قدر تمایز جہات و سماوات کو کافی۔

ثالثاً  : ہم ان خطوط و نقاط میں کہ ضرور انتزاعی ہیں جہات ثابت کرچکے مقر کدھر۔
شبہ ۱۵ : سطح جوہری کے اجزائے تتجزی سے مرکب ہو جب شمس کے مقابل ہو ضرورۃً اس کا ایک رخ روشن دوسرا تاریک ہوگا۔ ( مواقف ومقاصد) صدرا نے بڑھایا کہ دوسرا غیر مرئی ہوگا۔ کہ ایک ہی شے حالتِ واحدہ میں مرئی و غیر مرئی نہیں ہوسکتی تو جانبِ عمق میں انقسام ہوگیا۔

اقول :  وہی مالوف و معہود کے دائرے میں وہم کا گھرا ہونا غائب کا شاہد پر قیا س کررہا ہے وہم سطح عرضی میں یونہی سمجھتا ہے کہ اس کا رخ ہمارے سامنے ہے اور پشت جسم سے متصل ،۔ علامہ بحرالعلوم نے حواشی صدرا میں فرمایا اس کا تو یہی ایک رخ ہے کہ ہمارے مواجہ اور شمس سے مستنیرہے سطح میں دو رخ کہاں یعنی مرئی و غیر مرئی کی مغایرت تلاش کرنی حماقت ہے اس میں غیر مرئی کچھ نہیں وہ بتمامہ مرئی اور بتمامہ مستنیر ہے ۔ پھر فرمایا خلاصہ دلیل یعنی شبہ مذکورہ یہ ہے کہ جو چیز متحیز بالذات ہوگی ضرور بصر میں اور دوسری اشیاء میں حاجب ہوگی۔ یوں ہی نورِ شمس سے ساتر ہوگی تو ضرور اس کے لیے دو رخ ہوں گے اور اس کا انکار مکابرہ ہے۔

اقول : اوّلاً اب شُبہ کی حالت اور بھی ردی ہوگئی۔ حاجب وساتر ہونے کے لیے ضرور دو رُخ ہونا ہی کافی نہیں بلکہ لازم کہ شعاع بصر و شمس دوسرے رُخ تک نہ پہنچے، ورنہ ہر گز حاجب نہ ہوگی جیسے آئینہ کتنے ہی دل کا ہو نہ نگاہ کو روکے نہ دھوپ کو، جب ممتد منقسم دوسری جہت تک شعاع پہنچنے سے ساتر نہیں ہوسکتا تو وہ جس میں اصلاً امتداد ہی نہیں کیونکر حاجب ہو حاجب ہوجائے گا اس کا اثبات مکابرہ ہے۔

ثانیاً :  مستدل جانتا تھا کہ تنہا ایک جز لایتجزٰی بصرو شمس کو حاجب نہیں ہوسکتا کہ وہ مقدار ہی نہیں رکھتا۔ لہذا اجزاء سے مرکب سطح لی کہ حجم و مقدار پیدا ہو کر صلاحیت حجب ہوجائے اور نہ جانا کہ اجزاء کا اتصال محال و متفرق ہوں گے اور ہر دو کے بیچ میں خلا، تو بصر یا شمع کی شعاعیں جہاں پہنچیں گی ان کے مقابل نہ ہوگا۔ مگر جزء واحد کہ محض بے مقدار ناقابل ستر ہے یا خلا کہ بدرجہ اولی اور وہ طریقہ اتصال حسی کہ ہم نے اوپر ذکر کیا محض ارادۃ اﷲ عزوجل پر مبنی ہے اسے انقسام سے علاقہ نہیں۔
Flag Counter