Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
166 - 212
شبہ ۱۳ :  تین خط اجزائے لاتتجزٰی سے مرکب آپس میں متماس، فرض کریں ان میں ایک فلک الافلاک کے قطر پر منطقہ ہو او ر اس کے ایک جانب خط ا ب دوسری طرف خط ح ء اس شکل پر
27_43.jpg
 اور ا سے ء تک ایک خط ملائیں ضرور یہ خط ا ء ایک قطر فلک الافلاک پر ہوگا کہ اس کے مرکز پر گزرا ہوا دونوں طرف محدب سے ء ا ملاصق ہے، تو ثابت ہوا کہ اگر خط کا اجزا سے ترکب ممکن ہو تو فلک الافلاک کا قطر تین جز کی قدر ہو اس سے بڑھ کر اور کیا استحالہ درکار ( حواشہ فخریہ)
اقول : توجیہ و تقریب یہ ہے کہ ہ ر قطر ہے اور ا ب ح ء اس کے مقارن و موازی چاروں طرف اس کے مساوی فصل پر ہیں تو ا ہ ۔ ہ ۔ ج ۔ ب ر۔ ر ء چاروں قوسین برابر ہیں تو ان کے یہ چاروں  زاویہ ا ہ ر ج ہ ر۔ ب ر ہ ۔ ء ر ہ کہ  مساوی قوسوں  پر   پڑے مساوی ہیں۔
27_44.jpg
تو مثلث( ا ہ ن ۶ ء ر ن) سے یہ دونوں زاویہ اور قوسین (ا ہ ۶ ء ر )اور دونوں زاویہ (ن) بوجہ تقاطع برابر ہیں تو  بحکم  شکل  ( ۲۶ ہ ن = ن ر۔ ) لاجرم ن جس پر خط ا ء گزرا مرکز ہے اور وہ ا ن ء دونوں کنارے محدب پر بھی گزرا ہے، تو قطر فلک الافلاک ہے اور ضرور وہ ان تین خطوں سے ایک ہی ایک جز لے گا ا ب سے ا ہ ر سے (ن ج ء) سے ء کہ اگر طرفین میں کسی سے دو جز پر گزرے تو زاویہ پیدا ہو کر دو خط ہوجائے گا یوں (ن /ح) اور وسطانی سے دو جز لے تو دو زاویے پیدا ہو کر تین خط یوں (ا ۔ ن ح ۔ یا ا ح ن ء) تو ثابت ہوا کہ قطر فلک الافلاک صرف تین جزء لایتجزی کے برابر ہوگا۔ یہ تقریر شبہ ہے علامہ بحر العلوم قدس سرہ، نے حواشی صدرا میں اس کا یہ رد فرمایا کہ اصل جز پر اس وصل خط کا امکان ممنوع ۔
اقول : ہر دو نقطوں میں وصل خط اگرچہ وہماً کا امکان بدیہی ہے صالح انکار نہیں رہا یہ کہ پھر جواب صحیح کیا ہے۔

اقول : واضح ہے خطوط جوہری کا اتصال محال ضرور ان میں امتداد فاضل ہوگا۔ ا سے مرکز تک نصف قطر فلک الافلاک ہوگا اور مرکز سے ء تک دوسرا نصف ۔
شبہ ۱۴ : ہر متحیز کی داہنی جانب بائیں کی غیر ہوگی یونہی تمام جہات مقابلہ اور یہ حکم بدیہی ہے تو قطعاً ہر متحیز جمیع جہات میں منقسم ہوگا، تو نہ ہوگا مگر جسم تو جوہر فرد و خط جوہری وسطح جوہری خود ہی محال ہیں نہ کہ اُن کا جسم سے ترکب( مواقف و شرح) ماد متحیز سے متحیز بالذات ہے کہ اسی کو جہات درکار ، بخلاف نقطہ و خط وسطح عرضیات کہ ان کا تحیز بہ تعبیت جسم ہے توان کے لیے جہات متصور نہیں۔

(سید) ملا عبدالحکیم نے حاشیہ میں جواب دیا کہ یہ بدہات بداہتِ وہم ہے، مالوف و معہود اشیائے منقسمہ ہیں ان میں جہات ایسی ہی ہوتی ہیں وہم سمجھتا ہے کہ سب میں یونہی ضرور ہیں۔) حالانکہ غیر منقسم کا منقسم پر قیاس باطل ہے وہ بذاتِ خود ہر شے کا محاذی ہوگا جیسے نطقہ مرکز کہ خود ہی تمام نقاطِ محیط کا محاذی ہے نہ یہ کہ جدا جدہ حصوں سے ہر نقطے کی محاذات کرے اور اس کی تحقیق یہ ہے کہ محاذات ایک امر اعتباری ہے کہ دو چیزوں کی ایک وضع خاص سے منتزع ہوتی ہے اس کے لیے ایک طرف سے تعدد بس ہے دونوں طرف تعدد کی کیا حاجت، جیسے ایک با پ کے دس بیٹے ہوں ، اس کے لیے ہر ایک کے اعتبار سے ایک ابوت ہونا اس کی ذات میں تعدد کا باعث نہیں، ہاں اگر محاذات کوئی عرض قائم بالمحل ہوتی تو ضرور ہر محاذات کے لیے محل جدا گانہ درکار ہوتا اور انقسام لازم آتا انتہی یہ جواب باول نظر ہمارے خیال میں آیا تھا۔
والآن اقول : وباﷲ التوفیق
( اب میں کہتا ہوں اﷲ تعالٰی کی توفیق کے ساتھ ت)
جہت ووضع کی سبیل واحد ہے جس طرح وضع کبھی اجزائے شے کی باہمی نسبت سے لی جاتی ہے اور کبھی بلحاظ خارج، دوم ہر ذی وضع کے لیے لازم متحیز بالذات ہو خواہ بالتبع ، شک نہیں کہ راس مخروط کا نقطہ ایک وضع ممتاز رکھتا ہے کہ وضع مخروط سے جدا ہے بلاشبہ وہ قاعدے اور اس کے دائرے اور اس کے ہر نقطے سے ایک جہت مخصوص رکھتا ہے اور اس تکثر جہات سے متکثر نہیں ہوتا، یونہی جز، اور بمعنی اول نہ ہوگی مگر متجزی میں اسے غیر متجزی میں تلاش کرنا خلافِ عقل ہے، یونہی جہت کے دو معنی ہیں، ایک شے کے باہم حصص میں کہ اس کا ایک حصہ اوپر دوسرا نیچے ہو، ایک حصہ آگے دوسرا پیچھے ہو، ایک حصہ داہنا دوسرا بایاں، یہ غیر متجزی میں قطعاً محال اور اسے بدیہی ماننا قطعاً باطل خیال ، بلکہ اس میں اس کا نہ ہونا بدیہی ہے۔ دوم شے کے لیے خارج کے لحاظ سے یہ منقسم وغیر منقسم متحیز بالذات و بالتبع سب میں ہوگی۔ یہی ہر متحیز کے لیے بدیہی ہے اور ا س سے انقسام لازم نہیں کہ محض نسبت ہے اور تعددِ نسب سے منتسب میں حصے نہیں ہوجاتے دو جہت واقعہ غیر متبدلہ یعنی فوق و تحت میں تو ظاہر یہ ایک سے فوق یعنی بہ نسبت اس کے مرکز سے بعید یا تمہارے طور پر محدب سے قریب ہے اور دوسرے سے تحت یعنی بہ نسبت اس کے مرکز سے قریب ہے تو ان میں منقسم کی بھی نفسِ ذات ہی کا اعتبار ہے نہ حصص کا تو غیر منقسم کے حصے کہاں سے ہوجائیں گے باقی چار حقیقۃً انسان و حیوانات میں ہیں کہ جو انسان کے منہ کی جانب ہے اس سے آگے ہے اور پیٹھ کی طرف پیچھےداہنے ہاتھ کی طرف اس سے جانب راست اور بائیں کی طرف جانب چَپ ، حجر سے حقیقتاً نہ کچھ آگے نہ پیچھے نہ داہنے نہ بائیں، ہاں غیر ذی روح کو ایک طرف متوجہ فرض کرو تو اس فرض سے یہ چاروں جہتیں فرضاً پیدا ہوجائیں گی۔ انسان و حیوان میں ان کی تبدیل وضع کے بغیر نہ بدلیں گی، انسان جب تک مشرق کو منہ کیے ہے جو چیز اس سےشرق ہے اس سے آگے اور غربی پیچھے اور جنوبی داہنے شمالی بائیں ہے، ہاں جب غرب کو منہ کرلے گا سببدل جائیں گی، لیکن حجر میں بے اس کی تبدیل وضع کے محض تبدیل فرض سے مبدل ہوں گی، پتھر کو جو مشرق کی طرف متوجہ فرض کرے اس کے نزدیک وہ پہلی بار چار جہتیں ہیں اور اسی حال میں جو اسے مغرب کی طرف متوجہ قرار دے اس کے نزدیک پچھلی یہاں توجہ کی تعین جہتِ حرکت سے ہوجاتی ہے جو جس طرف متحرک ہے اسی طرف متوجہ سمجھا جاتا ہے کہ عادتاً انسان یا حیوان جدھر چلے اس طرف منہ کرتا ہے تو پتھر یا جز مثلاً اگر شرق کی جانب متحرک ہو جو اس سے شرق ہے آگے ہے یعنی اس سے جہت حرکت کی طرف ہے اور غربی پیچھے یعنی جہت متروک مبدء کی طرف اور جنوبی راست یعنی اس سے جانب جنوب کو اور شمالی چپ یعنی جانب شمال کو اسے انقسام سے کیا علاقہ ، اور شک نہیں کہ اس کے لیے تحیز بالذات کی حاجت نہیں۔

(۱) کون کہہ سکتا ہےکہ فلک کا محدب ا وپر اور مقعر نیچے نہیں۔

 (۲) کیا معدل النہار منطقۃ البروج سے اوپر نہیں۔

(۳) کیا نقطہ اعتدال سے مرکز نیچا نہیں۔ 

(۴) کیا راس الحمل سے راس الثور آگے اور راس الحوت پیچھے نہیں۔

(۵) کیا توالی بروج میں انقلاب صیفی سے اس کا نظیرہ داہنی جانب اور شتوی سے اس کا نظیرہ بائیں جانب نہیں، الٰی غیر ذلک۔
Flag Counter