| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
شبہ ۹ : جز متناہی ہے اور ہر متناہی متشکل اب اگر مضلع ہو تو جانب زاویہ غیر جانب ضلع ا نقسام ہوگیا، اور اگر کرہ ہو تو جب کرے ملیں( یعنی دو کرے متصل ہوں اور تیسرا ان دونوں کے اوپر) ضرور فرجہ کہ بیچ میں رہا ہر کرے سے چھوٹا ہوتا ہے تو جز منقسم ہوگیا( متن و شرح حکمۃ العین) اقول ، اوّلاً : جز کا متناہی یعنی صاحبف نہایت ہونا مسلم نہیں متناہی وغیر متناہی امداد کے اقسام ہیں ولہذا تصریح کرتی ہیں کہ خط کے لیے جہت بمعنی نہایت صرف دو ہیں عرض میں وہ امتداد ہی نہیں رکھتا کہ نہایت ہو۔ ثانیاً : اگر تناہی عدم امتداد کو بھی شامل مانیں تو شکل بے امتداد ممکن نہیں کہ وہ ایک یا زائد حدود کے احاطہ سے بنتی ہے احاطہ کو دو چیزیں درکار ، محیط و محاط ، اور اثنینیت بے امتداد معقول نہیں۔ ہر متشکل متناہی ہے ہر متناہی متشکل نہیں، جیسے نقطہ ، وہ اور جز خود اپنے نفس کے لیے حد ہیں نہ کہ ان کو کوئی حدِ محیط۔ ثالثاً : ہم فرض کرتے ہیں کہ کُرے ہوں گے اور فرجے رہنا اتصال پر موقوف، اور وہ محال اگر کہیے اتصال محال سہی مگر عقل حکم کرتی ہے کہ اگر متصل ہوتے ضرور ان کے فرجے ان سے چھوٹے ہوتے، امتناعِ اتصال اس حکم عقل کا نافی نہیں تو ضرور فی نفسہ ان میں اس کی صلاحیت ہے کہ ان سے چھوٹی مقدار پیدا ہو اگر چہ خارج سے وہ صورت محال ہے۔
اقول : اولاً: یہ جب تھا کہ نظر بنفس ذات ان کا اتصال ممکن اور خارج سے محال یا بغیر ہوت امگر ہم بتا آئے کہ جز کی نفس ذات آبی اتصال۔ ثانیاً : حل یہ کہ یہاں یہ حکم عقل ہر گز نہیں بلکہ یہ ہے کہ اگر متصل ہوتے متداخل ہوتے کہ ایک طرف سے ملنے دوسرے طرف سے جدا ہونے کی ان میں اصلاً صلاحیت نہیں جیسے دو خط جب اپنے طول میں ایک دوسرے کی طرف متحرک ہوں ملتے ہی انکے دونوں نقطے متداخل ہوجائیں گے نہ کہ متجاوز رہیں اور جب متداخل ہوتے فرجے کدھر سے آتے اگر کہیے نقطے عرض ہیں ان کا تداخل ممکن ، یہ تو جوہر ہیں ان کا تداخل کیونکر ممکن۔ اقول : جبھی تو ان کا اتصال محال ہوا کہ وہ بے تداخل ناممکن تھا اور تداخل محال اگر کہیے ہم تو نفس حکم عقل برتقدیر اتصال میں کلام کرتے ہیں۔ اقول : ہاں اس فرض مخترع پر ضرور انقسام ہوجاتا اور حرج نہیں کہ محال محال کو مستلزم ہو ا جیسے فلسفی اگر حمار ہوتا ضرور ناہق ہوتا اور اس تقریر پر تمہیں اس سارے تجشم تشکل و مضلع وکُرہ وفرجہ کی حاجت نہ تھی کہ ان کا نفس اتصال بلا تداخل ہی موجبِ انقسام ۔ رابعاً : مستدل نے عبث تطویل کی نفس کُرویت ہی مستلزم انقسام کہ اس میں فرض مرکز و محیط سے چارہ نہیں اور سر اُس میں وہی ہے کہ شکل بے امتداد ناممکن، اور اسی میں اس کا جواب ہے کہ جب جز میں امتداد نہیں شکل کہا۔
شبہ ۱۰ : کرے پر منطقہ اپنے تمام موازی دائروں سے بڑا ہے اب اگر کسی موازی میں اس کے ہر جز کے مقابل ایک جز ہے تو جز و کل مساوی ہوگئے کہ دونوں میں اجزا برابر ہیں لاجرم لازم کہ اس کے ایک جز کے مقابل اس میں ایک جز سے کم ہو اور یہی انقسام ہے۔ اقول : اجزا کسی میں متصل نہیں ان میں امتدا د فاصل ہیں تو اوّلاً ممکن کہ دونوںمیں جزا مساوی ہوں، اور کروں کی تساوی نہ ہو کہ بڑے میں اجزا زیادہ فصل پر ہوں گے چھوٹے میں کم پر ۔ ثانیاً : بلکہ ممکن کہ چھوٹے میں اجزا زائد ہوں اور بڑا زیادت امتداد سے بڑآ ہو۔ ثالثاً : اگر کم ہی ہوں تو جز منقسم نہ ہوگا بلکہ امتداد کما مّرمرارًا ( جیسا کہ متعدد بار گزر چکا ہے۔ ت)
شبہ ۱۱ : جب کسی شاخص کا ظلِ اس کا دو چند ہوجائے جیسا وقتِ عصر حنفی میں تو نصف ظل ظل نصف ہوگا۔ اب اگر وہ شاخص خط جوہری اجزائے طاق مثلاً پانچ سے مرکب ہے تو اس کی تصنیف جز کی تصنیف کردے گی۔ اقول ، اولاً : بدستور امتداد کی تنصیف ہوگی اور اگر اس کے منتصف پر کوئی جز نہیں جب تو ظاہر، اور اگر ہے تو وہی جز نصفین میں حدِ فاصل ہوگا نہ کہ منقسم۔ ثانیاً : یہ اس پر مبنی کہ خط جوہری کا سایہ پڑے اور یہ مسلم نہیں کہ وہ حاجب نہیں ہوسکتا کما سیأتی (جیساکہ آگے آئے گا)۔
شبہ۱۲ : جسم اگر اجزا سے مرکب ہوتا جز اس کا ذاتی ہوتا تو اس کے لیے بین الثبوت ہوتا کہ اس کے تعقل سے پہلے متعقل ہوتا تو نہ محتاجِ اثبات ہوتا نہ کہ اکثر عقلاً اس کے منکر ۔ اقول : ایک یہ شُبہ عقل فلاسفہ کے قابل ہے میں اس کی حکایت کو اس کے رد سے مغنی رکھوں گا اور صرف اتنا کہوں گا کہ جسم اگر ہیولٰی و صورت سے مرکب ہوتا ہیولٰی اس کا ذاتی ہوتا تو اس کے لیے بین الثبوت ہوتا ۔ الخ اب کہو گے ہیولٰی تو جز ء خارجی ہے نہ کہ عقلی۔ اقول : پھر جز میں اسے کیوں بھولے۔