| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
شبہ ۷ : تلازم سریعہ وبطیئہ جن وجوہ سے ثابت کیا جن کو جھوڑ دیا کہ وہ خود ہمیں مسلم ہے حاجت اثبات نہیں ان میں سے ایک وجہ کو خود مستقل شبہ کرتے ہیں،۔ یوں کہ ایک خط (عہ)فرض کیجئے تین جز سےمرکب ۱ ب ح دوسرا دو جز سے ء ہ یہ دوسرا اس سے پہلے پر ہے یوں کہ ا کے مقابل ء، اور ب کے محاذی ہ اور اس دوسرے پر ایک جز ر اس کے ء پر ہے۔ اس شکل پر اب فرض کر و خط ء ہ خط ا ب ح پر بقدر ایک جز کے حرکت کر لے تو ضرور ر کہ اس پر رکھا ہے بالعرض وہ بھی متحرک ہوگا اگر خود حرکت نہ کرتا اس حرکت سے یہ شکل ہوجاتی ر ا سے منتقل ہو کر ب پر آیا ہ ب سے چل کر أ ب ہ ح ح پر اور ر حرکت عرضیہ کے سبب ء ہ ا سے ہٹ کر ب پر لیکن فرض کرو کہ اس نے اپنی ذاتی حرکت بھی ایک جز کی تو شکل ا ب ج یوں ہوئی ر کہ ر ایک جز حرکت عرضیہ سے ہٹا، ورنہ ایک جز حرکت ذاتیہ سے اور ا سے ا ب ء ج ہ ، ح کے مقابل ہوگیا، تو جتنی دیر میں ر نے اپنی مجموعی حرکتین سے دو جز قطع کیے ب و ج اتنی دیر میں ء نے ایک ہی جز طے کیا ب تو جتنی دیر میں ر اپنی مجموع حرکتین سے ایک جز قطع کرکے ب کے محاذی آیا ہوگا ظاہر ہے کہ اتنی دیر میں ء نے ب سے کم قطع کیا ہوگا تو جز منقسم ہوگیا۔
عہ : سیالکوٹی نے شرح مواقف میں اس سے یہ جواب دیا کہ اصحابِ جز ایک جزو منفرد کا وجود ہی نہیں مانتے اس کی حرکت درکنار، اور یہ جواب شرح مقاصد سے ماخوذ ہے، اور اس نے تیسری وجہ اور مستفادکہ ان وجود پر حرکت کے قائل نہیں جن سے محال لازم آتا ہے۔
اقول : یہ جواب اگر صحیح ہو تو شبہ پنجم کی وجوہ ثلاثہ سے بھی ہوسکے مگر اس کی صحت میں نظر ہے، جز من حیث ہو جز ضرور منفرد نہ ہوگا مگر جب جزو لایتجزی ممکن جو ہر فرد کیوں ناممکن، اور جب وہ ممکن تو اس کی حرکت کیوں محال، اور جب حرکت ممکن تو اس کی حرکت میں کیا استحالہ، بداہت عقل شاہد ہے کہ متحرک کے لیے اس نحو حرکت میں کوئی استحالہ نہیں تو وہ ناشی نہ ہوا مگر فرض جو ہر فرد فاہم با ایں ہمہ جب ان سب کے تسلیم پر ہمارے پاس جواب شافی موجود ہے تو ان کے انکار کی کیا حاجت وہ بھی بشکل مدعی کہ بارِ ثبوت ہم پر ہو، ۱۲ منہ غفرلہ۔
اقول : یہ سب ملمع ہے اولاً ر کا خط ء ہ سے اتصال کہ اس کی حرکت سے حرکت عرضیہ کرے محال کہ اتصال جزئین ممکن نہیں۔ ثانیاً : ا ب ، ح سب اجزائے متفرقہ ہیں ا ور ان میں امتداد فاصل تو جتنی دیر میں ر مجموع حرکتین سے ب کے محاذی ہوگا اتنی دیر میں ء اس نصف امتداد کو طے کرے گا جو ا و ب میں ہے نہ کہ نصف جز کو۔
شبہ ۸ : وجوہ تلازم سریعہ وبطیہئ سے ایک اور وجہ کو حکمۃ العین میں مستقل شبہ قرار دیا اس کا ذکر بھی کردیں کہ کوئی متروک نہ سمجھے۔ اقول : اس کا ایضاح یہ کہ ایک لکڑی زمین میں نصب کرو، طلوعِ آفتاب کے وقت اس کا سایہ روئے زمین پر جانب مغرب پھیلا ہوگا جس کی مقدار دائرہ زمین کے ایک حصہ کی قدر ہوگی آفتاب جتنا بلند ہوتا جائے گا سایہ سمٹتا آئے گا یہاں تک کہ جب آفتاب آسمان کا ربع دائرہ قطع کرکے نصف النہار پر پہنچے گا سایہ اپنی انتہائے کمی کو پہنچے گا اگر آفتاب اس جگہ کے سمت الراس سے جنوب یا شمال کو ہٹا ہوا ہو اور عین سمت الراس پر ہو تو سایہ منعدم ہوجائے گا۔ بہرحال جتنی دیر میں آفتاب نے اپنے فلک کا ربع دائرہ قطع کیا کہ کروڑوں میل ہے اتنی دیر میں سایہ نے دائرہ زمین کا یہ حصہ قطع کیا جس پر وقتِ طلوع پھیلا ہوا تھا یا اس سے بھی کچھ کم اگر دوپہر کو بالکل منعدم نہ ہوگیا یہ سریعہ وبطیئہ کا تلازم تھا اور یہیں سے ظاہر کہ آفتاب جتنی مقدار قطع کرے گا سایہ اس سے بھی بہت کم کہ اسے یہ چھوٹی مسافت آفتاب کی اس بڑی مسافت کے ساتھ ساتھ قطع کرنا ہے تو اسی نسبت سے اس کے بڑے حصوں کے مقابل اس کے چھوٹے حصے پڑیں گے اور شک نہیں کہ آفتاب کا ارتفاع انتقاض ظل کی علت ہے اب اگر مسافت اجزائے لاتتجزی سے مرکب ہو اور فرض کریں کہ آفتاب نے ایک جز قطع کیا تو سایہ اتنی دیر میں اگر ساکن رہے یعنی نہ گھٹے تو معلول کا علت سے تخلف ہو اور یہ محال ہے اور اگر حرکت کرے یعنی گھٹے تو اس کی حرکت بھی اگر ایک جز یا زائد ہو تو بطیہ سریعہ کے برابر یا اس سے بڑھ کر ہوگئی لاجرم ایک جز سے کم ہوگی اور یہ انقسام ہے۔
اقول : قطع نظر اس سے کہ سایہ کوئی شے باقی مستمر متحرک متزائد یا متناقض نہیں آفتاب دو لمحہ ایک مدار پر نہیں رہتا اور ہر مدار کی تبدیل پر پہلا سایہ معدوم ہو کر دوسرا جدید حادث ہوگا کہ اس وقت جو حصہ زمین مواجہ شمس تھا اب مستور ہے اور جو مستور تھا اب مواجہ ہے اور ہر نیا طلوع سے دوپہر تک کم حادث ہوگا اور دوپہر سے غروب تک پہلے سے زائد نہ کہ ایک ہی سایہ گھٹتا بڑھتا رہا تو یہاں نہ کوئی حرکت ہے نہ متحرک نئے نئے سائے مختلف المقدار ہر لمحہ جدید پیدا ہونے کو مجازاً حرکت کہہ لو جواب وہی ہے کہ مسافت میں اجزاء متصل نہیں بلکہ متفرق اور ان میں امتدادات و ہمیہ فاصل تو ایک جز سے دوسرے پر آفتاب نہ آئے گا مگر ایک امتداد طے کرکے سایہ اس کے حصوں میں سے کوئی حصہ کم ہوگا جیسا جز طوقی وقطبی کے حرکات میں گزرا بالجملہ اجزا نہیں مگر حدود مسافت کی طرح جن کی لحظہ بلحظہ تبدیل سے حرکت تو سطیہ و متحرک کو بین الغایتین جدید نسبتیں حاصل ہوتی ہیں اور حرکت قطعیہ میں انہیں کی موافات ہوتی ہے اب اگر کوئی کہے کہ یہ حدود بلاشبہ نقاط غیر منقسمہ ہیں آفتاب جتنی دیر میں ایک حد طے کرے سایہ ضرور اس سے کم طے کرے گا ورنہ سریعہ وبطیئہ برابر ہوجائیں گی ، تو نقطہ منقسم ہوگیا اس کا جواب یہی دو گے کہ دو نقطے متصل نہیں وہی جواب یہاں ہے۔