Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
163 - 212
 (۳) ایک خط اجزائے طاق مثلاً پانچ جز ۱ ب ح ء ہ سے مرکب میں خط کے اوپر دو جز ح و ط ہوں ایک ا پر دوسراہ پر  اور ایک دوسرے کی طرف ایک چال سے چلیں تو ضرور جزاء و سطانی ح پر آکر ملیں گے تو ح ان دونوں کے ملتقی پر ہوا۔

اقول :  یہ فرض محال ہے وہ مساوی چال سے چلیں یا مختلف سے یا ایک چلے دوسر اساکن رہے۔

بہرحال محال ہے کہ کہیں مل سکیں کہ اتصال جزئین ممکن نہیں جیسے دو جسم کہ ایک دوسرے کی طرف مساوی یا مختلف سیر سے چلیں یا ایک ہی چلے ، بہرحال بعد تلاقی وقوف وواجب کہ تداخل محال ، یہاں قبل تلافی وقوف لازم کہ اتصال محال بقائے میل موجبِ حرکت نہیں جب کہ کوئی مانع ہو اور لزوم محال سے بڑھ کر اور کیا مانع وہاں امتناع تداخل نے تلاقی پر حرکت روک دی اگرچہ میل باقی ہو یہاں استحالہ اتصال قبل تلاقی روک دے گا، اگر کہیے کہاں روکے گا، جہاں رکیں ضرور ان میں ایک امتداد موہوم فاضل ہوگا جس کی تقسیم نامتناہی ہوسکتی ہے۔ تو ممکن ہے کہ ابھی اور بڑھیں، اور ہمیشہ یہی سوال رہے گا۔
اقول : یہ وہ سوال ہے جو تم پر وارد کیا گیا کہ جب مسافت کی تقسیم نامتناہی ہے تو محال ہے کہ کوئی متحرک اسے قطع کرسکے اور اس کا جواب تم یہی دیتے ہو کہ یہ انقسام بالفعل نہیں موجود بالفعل امتداد متناہی ہے کہ قطع کرسکے اور اس کا جواب تم یہی دیتے ہو کہ یہ انقسام بالفعل نہیں موجود بالفعل امتداد متناہی ہے کہ قطع ہوجائے گا وہی جواب یہاں ہے یوں نہ سمجھو تو یوں سہی، آیا کبھی وہ وقت آئے گا کہ اب ان کی حرکت موجبِ تلاقی ہو یا بوجہ لامتناہی تقسیم کبھی نہ آئے گا ، برتقدیر ثانی غیر متناہی چلے جائیں گے اور کبھی نہ ملیں گے کہ کوئی جز ان کے ملتقی پر ہو، اور برتقدیر اول جہاں وہ حرکت رہے گی کہ اب ملادے وہیں رک جانا واجب ہوگا۔
شبہ۶: بارہا حرکتِ سریعہ و بطیئہ متلازم ہوتی ہیں۔(اسے بوجوہ ثابت کیا ہے ان سے تطویل کی حاجت نہیں ایک مثال آسیابس ہے) ظاہر ہے کہ چکی کا دائرہ قطبیہ ( جو اس کی کیلی کے پاس ہے) چھوٹا ہے اور دائرہ طوقیہ ( جو اس کے بیرونی کنارے پر رہے۔) بڑا ہے دونوں دائروں پر ایک ایک جز لیجئے یقیناً دونوں ایک ساتھ دورہ پورا کریں گے۔ جز قطبی نے جتنی دیر میں یہ چھوٹا دائرہ طے کیا اتنی ہی دیر میں جز طوقی نے وہ بڑا دائرہ تو اس کی بطیہ اس کی سریعہ متلازم ہیں۔ فرض کیجئے کہ دائرہ طوقیہ دائرہ قطبیہ کا دس گناہ ہے تو جتنی دیر میں جز قطبی ایک جز مسافت طے کرے گا ضرور ہے کہ جز طوقی دس جز چلے گا، تو طوقی جتنی دیر میں ایک جز قطعی کرے گا قطبی ایک جز کا دسواں حصہ چلے گا تو جز منقسم ہوگیا۔ یا یوں کہیے کہ جز طوقی جتنی دیر میں ایک جز چلا اتنید یر میں قطبی بھی ایک جز چلا تو جز منقسم ہوگیا یا یوں کہیے کہ جز طوقی جتنی دیر میں ایک جز چلا اتنی دیر میں قطبی بھی ایک جز چلا تو سریعہ و بطیہ برابر ہوگئیں اور ایک جز سے زائد چلا تو بطیئہ سریعہ سے بڑھ گئی اور دونوں باطل ہیں۔ لاجرم ایک جز سے کم چلے گا اور یہی انقسام ہے۔ اس شبہ نے متکلمین کو بہت پریشان کیا۔ نظام تو طغرے کا قائل ہوا یعنی مثلاً ایک اور دس کی نسبت ہے جو قطبی جتنی دیر میں ایک جز متصل پر منتقل ہوا طوقی اتنی ہی دیر میں بیچ سے نو جز چھوڑ کر دوسویں جز پر ہوجائے گا تو طوقی نے ایک سے لے کر نو جز تک قطع ہی نہ کئے کہ اتنی دیر میں قطبی کے لیے جز کا کوئی حصہ ہو بلکہ دونوں ایک ہی ایک جز چلے مگر یہ جز متصل اور وہ نو جز کے بعد والا جز تو سریع وبطی برابر بھی نہ ہوئیں، اور متلازم بھی رہیں اور انقسام جز بھی نہ ہوا مگر یہ ایسی بات ہے جسے کوئی ادنی عقل والا بھی قبول نہیں کرسکتا کہ متحرک بیچ میں اجزائے مسافت کو ایسا چھوڑ جائے کہ نہ انہیں قطع کرے نہ ان کے محاذی ہو اور دفعۃً ادھر سے ادھر ہو رہےکم از کم نو جزوں کی محاذات پر توگزرا اور ہر جز کی محاذات ایک حصہ حرکت سے ہوئی اتنی دیر میں جزء قطبی ساکن رہا تو حرکتین کا تلازم نہ ہوا اور محترک ہوا تو ضرور ایک جز سے کم قطع کیا۔ ہمارے متکلمین تلازم حرکتین کے منکر ہوئے اور مان لیا کہ جب تک طوقی مثلاً نوجز چلے قطبی ساکن رہے گا جب وہ نویں سے دسویں پر آئے گا یہ اپنے پہلے سے دوسرے پر ہوجائے گا تو نہ ساتھ چھوٹا نہ سریعہ و بطیئہ برابر ہوئیں نہ جز کا انقسام ہوا اس پر رد کیا گیا کہ ایسا ہو تو چکی کے اجزاء سب متفرق ہوگئے کہ طوقی چلیں گے اور قطبی ساکن رہیں گے یوں ہی بیچ والے اپنے اپنے لائق ٹھہریں گے کہ معیت باقی رہے تو چکی اگرچہ کیسے ہی مضبوط لوہے کی ہو اس کے تمام اجزائے لاتتجزی گھماتے ہی سب متفرق ہوجائیں گے اور ٹھہراتے ہی سب بدستور ایسے جم جائیں گے کہ ہزاز حیلوں سے جدا نہ ہوسکیں ، پھر ہر دائرے کے اجزاء کو اتنی عقل درکار کہ مجھے اتنا ٹھہرنا چاہیے کہ ساتھ نہ چھوٹے اس کا جواب التزام سے دیا کہ ہاں یہ سب کچھ فاعل مختار عزجلالہ، کے ارادے سے ہو تا ہے ، فاعل مختار پر ہمارا ایمان فرض ہے مگر بداہت عقل شاہد کہ وہ ایسا کرتا نہیں جس طرح ممکن ہے کہ وہ پلنگ جس پر سے ہم ابھی اٹھ کر آئے ہیں اس کے پائے علماء فضلا ہوگئے ہوں۔ ومسلم الثبوت کاد رس دے رہے ہوں قطعاً قادر مطلق عزمجدہ کی قدرت اسے شامل ، مگر ہم یقیناً کہ ایسا ہوتانہیں معہذا چکی نہ سہی خود اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر ایڑھیاں جماکر گھومے تو قطعاً اس کے ہاتھوں کی انگلیوں نے جتنی دیر میں بڑا دائرہ طے کیا پاؤں کی انگلیوں نے اتنی ہی دیر میں چھوٹا دائرہ تو ان کی ایک جز مسافت کے مقابل ان کے لیے جز کا حصہ آئے گا یا آدمی کے اجزاء بھی چکی کی طرح متفرق ہوجائیں گے آدمی ریزہ ریزہ پاش پاش ہوگیا اور اسے خبر نہ ہوئی، اس کا الزام کیونکر معقول ، انفار متفلسفہ کو اس طغرہ و تفریق اجزاء پر بہت قہقہے لگانے کا موقع ملا ، ابن سینا سے متشدق جونپوری تک سب نے اس کا مضحکہ بنایا۔

وانا اقول : وباﷲ التوفیق : ( اور میں اللہ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں ت) بات کچھ بھی نہیں ، مسافت اگر جواہر فردہ سے مرکب ہوگی ہر گز دو جوہر متصل نہ ہوں گے ان میں امتداد موہوم فاصل ہوگا، اب جز طوقی کی مسافت میں اگر اجزائے مسافت جز قطبی کے برابر ہیں جب تو ظاہر ہے کہ ایک اور دس کی نسبت میں ان کا فاصلہ ان کے فاصلے سے دس گناہ ہوگا، طوقی جتنی دیر میں ایک جز قطع کرے گا اتنی ہی میں قطبی بھی مگر مساوات نہ ہوئی ،
27_41.jpg
27_42
کہ اس نے بڑی قوس قطع کی اور اس نے چھوٹی ، اس شکل پر طوقی ا پر تھا اور قطبی ہ پر ، جب وہ ایک جز طے کرے گا یعنی ب پر آئے گا۔ یہ بھی ایک جز چلے گا ر پر ہوگا اس نے قو س ا ب قطع کی اور اس نے قوس ہ ر ، اور اگر مسافت طوقی میں اجزائے مسافت قطبی سے زائد ہیں مثلاً ا ب میں دس جز ہیں اور ر ہ میں یہی دو اس شکل پر تو جب طوقی ایک جز چلے گا یعنی ا سے ح پر ہوگا قطبی ایک جز نہ چلے گا بلکہ جب وہ نوجز چل کر اسی ب پر آئے گا یہ ایک جز چل کر ہ سے ر پر ہوگا اور جز کا انقسام نہ ہوا بلکہ امتداد فاصل کا یعنی جب طوقی ا سے ح پر آئے گا۔ قطبی اس فاصلے کا جوہ سے ر تک ہے نواں حصہ قطع کرے گا۔ جب وہ ء پر ہوگا یہ اس فاصلے کا ۹/۲   طے کرے گا وھکذا تو نہ طغرا ہوا نہ تفریق اجزا نہ انقسامِ جز نہ تساوی حرکتیں نہ ان کا تلازم، اصلاً کوئی محذور لازم نہیں۔ وﷲ الحمد وہ سارے مصائب اتصال اجزا ماننے پر تھے اور وہ خود محال۔
Flag Counter