| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
شُبہ ۲: جس میں چاک اول کا رفو چاہا ہے۔ اجزاء ملاقی ہوں جب تو وہی تداخل یا انقسام ہے ورنہ ان میں خلا ہوگا۔ یہ خلا کوئی وضع ممتاز رکھتا ہے یعنی اس کی طرف اشارہ حسیہ اجزاء کی طرف اشارے کا غیر ہے یا نہیں برتقدیر ثانی اجزاء میں تلاقی ہوگئی برتقدیر اول یہ خلا عدم صر ف نہیں کہ ذی وضع ممتاز ہے اب ہم اسے پوچھتے ہیں یہ اجزاء سے ملاقی ہے یا نہیں، اگر نہیں تو عدم صرف ہوا اس سے حجم کیا پیدا ہوگا۔ حجم تو یوں ہوتا کہ ایک جز یہاں ہے ایک وہاں، بیچ میں خلا ہے اور اگر ہاں تو بالکل ملاقی یعنی اجزاء کے ساتھ متداخل ہے جب بھی حجم نہ ہوا اور بالبعض ملاقی ہے، تو جزء منقسم ہوگیا۔(سندیلی علی الجونفوری) اقول ،اولاً : خط ا،ب اپنے دونوں نقطہ طرف ا وب سے ملا ہے یا جدا ، برتقدیر ثانی یہ نقطے اس کی طرف کب ہوئے کہ طرف شیئ شے سے منفصل نہیں ہوتی، برتقدیر اول بالکل ملاقی یعنی نقطوں سے متداخل ہے تو خط کب ہوا کہ اس کو امتداد چاہیے اور اگر بالبعض ملاقی ہے تو نقطہ منقسم ہوگیا۔
ثانیاً : وَھُوَالْحلُّ :
جہالت کے سر پر سینگ نہیں ہوتے شق اخیر مختار ہے، یہ خلا ذو وضع ہے اور اجزا سے ملاقی ہے اور ملاقات بالبعض ہے اور منقسم خلا ہوا نہ کہ جز، ہر دو جز کے بیچ میں خلا ایک خط موہوم ہے جس کے دونوں نقطہ طرف دونوں جز واقع فی الطرف پر منطبق ہیں اور بیچ میں امتداد خطی، تو یہ خلاوخط منقسم ہیں نہ کہ اجزاء و نقطہ۔
شبہ ۳: دوسرا رفو یوں چاہاکہ ہم اس خلا کو اجزاء سے بھریں گے تو ہم تو تلاقی اجزاء ہوجائے گی اور اگر کبھی نہ بھرسکے تو خلا کی تقسیم غیر متناہی ہوئی تو جسم کی تقسیم غیر متناہی لازم آئی۔ اور یہی مطلوب ہے۔ اور اگر بھر جائے اور ایک جز سے کم کی جگہ رہے تو جز منقسم (سندیلی) اقول ،اوّلا : دوجزوں کا ملنا محال تو بھرنے کا قصد قصہ محال جیسے کوئی کہے کہ خط ا ب میں ہم برابر نقطے رکھیں گے، اب تین حال سے خالی نہیں، یا متناہی نقطوں سے بھرے گا یا غیر متناہی سے کہ دو حاصروں میں محصور ہوں گے یا نہ بھرے گا یعنی ایک نقطہ سے کم کی جگہ خالی رہے گی کہ موجب تقسیم نقطہ ہے اور بہر صورت تتالی نقاط لازم، اس سے یہی کہا جائے گا کہ احمق دو نقطے برابر ہوسکتے ہی نہیں نہ کہ متوالی نقطوں سے خط بھرنے کی ہوس۔ ثانیاً : خدا کی تقسیم لامتناہی ہونے سے امتداد موہوم کی تقسیم نامتناہی ہوئی نہ کہ جسم کی ۔ ثالثاً : اگر نظر میں یہ تقسیم جسم ہونے سے واقع میں اس کی تقسیم ہوجائے تو کیا ایسی ہی غیر متناہی تقسیم مطلوب تھی کہ جسم کا تالف اجزائے لاتتجزی سے اور ان کے خلاؤں کے ذریعہ سے جسم کی تقسیم نامتناہی لا متناہی قسمت تو جز سے بھاگنے کو لیتے تھے جب اجزاء موجود پھر لاتناہی پر خوشی کا ہے کی ۔
شبہ ۴ : اجائے جسم میں جو چیز دو کے بیچ میں ہے وہ ان کو تلاقی سے مانع ہے ورنہ تداخل ہوگا حجم نہ بنے گا،اور یہ ممانعت یوں ہی ہوگی کہ ایک طرف سے ایک جز سے ملا ہو دوسری طرف سے دوسرے جز سے تو ضرور یہ طرفین ممتاز فی الوضع ہوں گی کہ ہر ایک کی طرف اشارہ جدا ہوگا جب تو ایک طرف سے اس سے دوسری سے اس سے ملنا ہوگا اور جب اس کے لیے طرفین ممتاز فی الوضع ہیں تو ضرور اس میں شے دون شے فرض کرسکتے ہیں تو انقسام ہوگیا اگرچہ وہماً ۔ اقول : یہ وہی شبہ اولٰی بعبارت اُخرٰی ہے اور جواب واضح نہ کوئی جز دوسرے سے ملا نہ دو جزوں کا مانع لقا،بلکہ تھامانع بیچ کا خلا جیسے نقطتین طرف کو امتداد خط۔
شبہ ۵: ایک جز دو جزوں کے ملتقی پر ہوسکتا ہے اور جب ایسا ہوگا جزو لا یتجزٰی نہ ہوگا کہ ملتقی پر ہونے کے یہی معنی کہ اس کا ایک حصہ ایک جز پر ہے دوسرا دوسرے پر ، لیکن ملتقی پر ہوسکنا ثابت ہے تو لا یتجزّٰی ہونا باطل۔ اقول : وہ تو باطل نہیں بلکہ ایک جز کا دو کے ملتقٰی پر ہونا ہی باطل ہےکہ اتصال جزئین محال، اس کا امکان تین وجہ سے ثابت کرتے ہیں۔
(۱) جب مسافت اجزائے لاتتجّرٰی سے مرکب ہے اور ایک (عہ) جز اس پر حرکت کرے یعنی اس کے ایک جز سے منتقل ہو کر دوسرے جز پر آئے تو ظاہر ہے کہ دونوں جز اس حرکت کے مبدء و منتہی ہوئے اور حرکت نہ مبدء میں ہوتی ہے نہ منتہی میں بلکہ بینھما تو ضرور حرکت اس جز کے لیے اسی وقت ہوئی جب ان دونوں کے بیچ میں تھا یہی ملتقی پر ہوتا ہے۔
عہ : اقول : جز کا ان اجزاء سے ملنا ہی محال ہے مگر حرکت بلا اتصال بہ تبدل محاذات بھی ہوسکتی ہے لہذا ہم نے فرض پر کلام نہ کیا ۱۲ منہ غفرلہ۔
اقول : سب اعتراضوں سے قطع نظر مسافت کے دو جز متصل ہونا محال بلکہ ہر دو جز میں ایک امتداد موہوم فاصل ہے۔ جز متحرک وقت حرکت اس امتداد میں ہوگا۔ (۲) ایک خط اجزائے زوج مثلاً چھ جز ۱ ب ج ء ہ ر سے مرکب فرض کریں خط کے اوپر ا کے محاذی ایک جزح ہے اور خط کے نیچے ر کے محاذی ایک جز ط اس شکل پر ح ا ح ب خ غ ہ ط د ا ب فرض کرو کہ ح ط کی طرف اور ط ح کی طرف مساوی چال سے چلے تو ضرور بیچ میں ایک دوسرے کی محازات میں آئیں گے یہ محاذات نہ نقطہ ح پر ہوگی جب تک ح نقطہ ح پرآئے گا۔ ط نقطہ ع پر ہوگا ابھی محاذات تک نہ آیا نہ نطقہ ع پر ہوگی کہ جب ح نقطہ ء پر آئے گا ط نقطہ ح پر پہنچے گا محاذات سے گزر گیا ہوگا ضرور ج و ع کے بیچ میں ہوگی تو اس وقت ح ط دونوں ج و ع کے ملتقی پر ہوں گے۔ اقول : یہ بھی اتصال اجزاء پر مبنی اور وہ محال بلکہ ج و ء میں امتداد موہوم ہے اس کے منتصف پر یہ محاذات ہوگی۔