Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
161 - 212
موقف دوم :
اثبات جزہم اوپر بیان کرچکے کہ ہمیں اس کی حاجت نہیں صرف امکان کافی ہے تو یہ موقف محض تبرعی ہے ولہذا ہم نے عنوان مقام میں یہ کہا کہ جز باطل نہیں یعنی اس کے بطلان پر کوئی دلیل قائم نہیں، نہ یہ کہ جز ثابت ہے کہ ابطال فلسفہ میں ہمیں اس کی حاجت نہیں، متکلمین نے یہاں بہت کچھ کلام کیا ہے۔ اور وہ ہمارے نزدیک تام نہیں اگرچہ ان میں بعض کو شرح مقاصد میں قوی بتایا لہذا ہم اس سب سے اعراض کرکے اسلامی قلوب مستقیمہ کے لیے بتوفیقہ تعالٰی خود قرآنِ عظیم سے جز کا ثبوت دیں۔
فاقول : قال المولٰی سبحانہ وتعالٰی
، ومزّقنٰھم کُل ممزّق۱ ؎ ۔
( اور انہیں پوری پریشانی سے پراگندہ کردیا ۔ت) تمزیق پارہ پارہ کرنا۔ ہم نے انکی کوئی تمزیق باقی نہ رکھی سب بالفعل کردیں۔
(۱ ؎ ۔ القرآن الکریم  ۳ ۴/۱۹)
ظاہر ہے کہ یہاں تمز یق موجود مراد نہیں ہوسکتی۔ کہ تحصیل حاصل ناممکن۔ لاجرم تمزیق ممکن مراد یعنی جہاں تک تجزیہ کا امکان تھا سب بالفعل کردیا تو ضرو ریہ تجزیہ ان اجزاء پر منتہی ہوا جن کے آگے تجزیہ ممکن نہیں ورنہ کل مزق نہ ہوتا کہ ابھی بعض تمیزیقین باقی تھیں اور ہ وہ اجزاء جن کا تجزیہ ناممکن ہو نہیں مگر اجزائے لاتجزی ، تو اس (عہ)تقدیر پر حاصل یہ ہوا کہ ان کے اجسام کے تمام اتصالات حسیہ ہر حصے اور ہر ہر حصے کے حصے باطل فرما کر ان کے اجزائے لاتجزی دور دور بکھیردیئے کہ اب کسی جز کو دوسرے سے اتصال حسی بھی نہ رہا۔اگر کہیے مراد تقسیم فکی ہے نہ وہمی یعنی خارج میں جتنے پارے ہوسکتے تھے سب کردیئے اگرچہ ہر پارہ وہم میں غیر متناہی تقسیم سے منقسم ہوسکتا ہے تو اجزائے لاتجزی لازم نہ آئے کہ وہ وہماً بھی قابل اقسام نہیں ۔
عہ :  یعنی جب کہ ترکب اجزا سے فرض کریں ورنہ اجزائے لاتتجزٰی کی طرف تحلیل تو ضرور مفاد ارشاد ہے کماسیأتی ۱۲ منہ غفرلہ۔
اقول ،اوّلاً: تخصیص بلا دلیل باطل و ذلیل :

ثانیاً :  وہم سے اگر مجرد اختراع مراد ہو تو وہ کہیں بھی بند نہیں اور اگر وہ کہ واقعیت رکھے تو ناممکن ہے جب تک واقع میں شے دون شیئ یعنی دو حصے متمائز نہ ہوں۔ فکی و وہمی کا فرق انسانی علم قاصر و قدرت ناقصہ کے اعتبار سے ہے شے جب غایت صغر کو پہنچ جائے گی انسان کسی آلے سے بھی اس کا تجزیہ نہیں کرسکتا بلکہ وہ اسے محسوس ہی نہ ہوگی تجزیہ تو دوسرا درجہ ہے لیکن مولٰی عزوجل کا علم محیط اور قدرت غیر متناہی جب تک حصوں میں شے دون شیئ کا تمایز باقی ہے قطعاً مولٰی تعالٰی عزوجل ان کے جدا فرمانے پر قادر ہے تو وہ جو تمزیق فرمائے اس میں کل ممزق وہیں منتہی ہوگا جہاں واقعی میں شیئ دون شَے باقی نہ رہے اور وہ نہیں مگر جزو لایتجزی ۔
موقف سوم :
ابطلال دلائل ابطال : ابطالِ جز کے لیے فلاسفہ کے شبہاتِ کثیر ہیں اور بحمدہ تعالٰی سب پادر ہوا۔ شُبہ ۱: کہ اُن کا نقلِ مجلس ہے اجزاء اگر باہم ملاقی نہ ہوں گے حجم حاصل نہ ہوگا تو جسم نہ بنے گا، اور ملاقی ہوں گے تو اگر ایک جز دوسرے سے بالکل ملاقی یعنی متداخل ہو جب بھی حجم نہ ہوا، سب جزء واحد کے حکم میں ہوئے اور اگر ایسا نہ ہو تو ضرو رایک حصہ ملا ہوگا اور دوسرا جدا، تو جز منقسم ہوگیا جواب با اختیار شق اول ہے۔

اقول :  اور حصول حجم کی صورت ہم بتاچکے۔
Flag Counter