Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
160 - 212
مقام سی ویکم
جزء لایتجزٰی باطل نہیں، یہ وہ مسئلہ علم کلام ہے جسے نہایت پست حالت میں سمجھا ،بلکہ اُس کے بطلان پر یقین کلی کیا جاتا ہے فلاسفہ اس کے ابطال پر چمک چمک کر دلائل حتی کہ بکثرت براہین ہندسیہ قائم کرتے ہیں عقلی تمسک میں بیان ہندسی سے زیادہ اور کیا ہے جس میں شک و تردد کو اصلاً جگہ ہی نہیں رہتی اور متکلمین ان دلائل سے جواب نہیں دیتے اپنے سکوت سے ان کا لاجواب ہونا بتاتے ہیں، تو گویا فریقین اس کے بطلان پر اتفاق کیے ہیں، مگر بحمدہ تعالٰی ہم واضح کردیں گے کہ اس کے رد میں فلاسفہ کی تمام حجتیں اور ہندسی برہانیں پادر ہوا ہیں، وباﷲ التوفیق یہ مقام چار موقفوں پر مشتمل ہے۔
موقف اوّل :
اس مسئلہ میں ابطال رائے فلسفی اور دربارہ جز ہ ہمارا مسلک۔

اقول : وبربنا التوفیق یہاں ہمارا مسلک فریقین سے جدا ہے۔

(۱) ہمارے نزدیک جزو لایتخری باطل نہیں خلافاً للحکماء لیکن دو جزوں کا اتصال محال ہے خلافاً لظاھر ماعن جمہور المتکلمین۔ ظاہر ہے کہ اتصال غیر تداخل ہے تو وہ یونہی ممکن ہر ایک میں شیئ دو ن شیئ یعنی جدا اطراف ہوں دونوں ایک ایک طرف سے باہم ملیں اور دوسری طرف سے جدا رہیں ورنہ تداخل ہوجائے گا اور جزء میں شے دو ن شے محال تو وہ اپنی نفس ذات سے آبی ا تصال فلسفی کی تمام براہین ہندسیہ اور اکثر دیگر دلائل اس اتصال ہی کو باطل کرتی ہیں وہ خود ہمارے نزدیک نفس ملاحظہ معنی اتصال وجزو سے باطل ہے ان تطویلات کی کیا حاجت۔ امید کہ اتصال اجزاء ماننے سے ہمارے متکلمین کی مراد اتصال حسی ہو جیسا انہوں نے نفی دائرہ وغیرہ میں فرمایا ہےکہ یہ اتصال مرئی حس کی غلطی ہے ان سے مماست جز پر جو تفریعات منقول ہیں اسی پر محمول ہیں ورنہ اتصال حقیقی کا بطلان محتاج بیان نہیں۔

(۲) ہمیں یہاں پر اصل مقصود ابطال ہیولٰی ہے کہ اس کی ظلمتیں قدم عالمِ اگرچہ نوعی کے کفریات لاتی ہیں اس کی کلیت کا ابطال یہاں ہے اور ابطال بالکلیہ بعونہ تعالٰی مقام آئندہ میں تو ہم یہاں مقام منع میں ہیں۔ ہمیں ہیولٰی صورت کے سوا دوسری وجہ سے ترکب جسم کا دعوٰی کرنے کی حاجت نہیں بلکہ اس بارے میں جوکچھ کہیں گے محض ابدائے احتمال ہوگا کہ تغلیس مدعی کے لیے اسی قدر کافی۔

(۳) ربِّ عزوجل فاعل مختار ہے اس کے ارادے کے سوا عالم میں کوئی شے موثر نہیں رویت شے نہ اجتماع شرائط عادیہ سے واجب نہ ان کے انتفاء سے محال، وہ چاہے تو سب شرطیں جمع ہوں اور دن کو سامنے کا پہاڑ نظر نہ آئے اور چاہے تو بلا شرط رویت ہوجائے جیسے بحمدہ تعالٰی روزِ قیامت اس کا دیدار کہ کیفیت وجہت ولون ووقوع ضوومحاذات وقُرب و بعد و مسافت وغیرہا جملہ شرائطِ عادیہ سے پاک و منزہ ہے۔ اب عادت یوں جاری ہے کہ نہایت باریک چیز کہ تنہا اصلاً قابل ابصار نہ ہو جب بکثرت مجتمع ہوتی ہے اگر اتصال نہ ہو وہ مجموعہ مرئی ہوتا ہے۔ کوٹھڑی کے روزن سے دھوپ آئے تو اس میں ایک عمودمستطیل وسعت روزن کی قدر عمیق محسوس ہوتا ہے۔ یہ نہایت باریک باریک اجزاء متفرقہ کا مجموعہ ہے جن کو ہباء منثورہ کہتے ہیں پراگندہ ونا متصل، ان میں کوئی جز رویت کے قابل نہیں اگر تنہا ہو ہر گز نظر نہ آئے میں ان ذروں کو نہیں کہتا جو اس عمود میں جدا اڑتے نظر آتے ہیں بلکہ ان اجزاء کو جن سے وہ عمود بنا ہے اور جو ایک سحابی شکل کے سوا کسی جز کو نہیں دکھاتا ان کی لطافت اس درجہ ہےکہ اس عمود میں ہاتھ رکھ کر مٹھی بند کرو ہاتھ میں کچھ نہ آئے گا مگر کثرتِ اجتماع بے اقتران سے ایک جسم عمیق، طویل، عریض بشکل عمود محسوس ہوتا ہے بلکہ دخان و بخار کی بھی یہی حالت ہے وہ اجزاء ہوائیہ کے ساتھ اجزاء ارضیہ یا مائیہ ایسے ہی متفرق و باریک و ممتزع ہیں کہ تنہا ایک نظر نہ آئے اور اجتماع سے یہ جسم دخانی وبخاری نظر آتا ہے بعینہ یہی حالت متفرقانہ اجتماع جواہر فردہ سے احساس جسم کی ہوسکتی ہے جسم انہیں متفرق اجزاء لایتجزی کے مجموعہ کا نام ہو جن میں کوئی دو جز متصل نہیں اور ان کا تفرق نظر میں وحدت جسم کا مانع نہیں جیسے اینٹوں کی دیوار کہ ہر اینٹ دوسری سے جدا معلوم ہوتی ہے اور پھر دیوار ایک ہے تختوں کا کواڑ یا تخت کہ ہر تختہ جدا ہے اور مجموعہ ایک، اکثر اجسام میں مسام محسوس ہوتے ہیں اور وحدتِ جسم میں مخل نہیں ہوتے، مسام کا فرجہ تمہارے نزدیک انقسام غیرمتناہی رکھتاہے تو ضرور اس حد صغر کو پہنچے گا کہ مسام واقع میں ہوں اور حس میں نہ آئیں۔ اگر کہیے جب کوئی دو جز متصل نہیں تو جو فرجہ ان کے بیچ میں ہے اس میں ہوا وغیرہ کوئی جسم ہے یا نہیں، اگر نہیں تو خلا ہے اور اگر ہے تو اس جسم کے اجزاء میں کلام ہوگا اور بالاخر خلا ماننا پڑے گا۔

اقول :  ہاں ضرور خلا ہے ، اور ہم ثابت کرچکے کہ وہ محال نہیں۔

(۴) صغر مسام میں ایک تقریر قاطع ابھی ہم کرچکے ، اس کے علاوہ عادت یوں جارہی ہے کہ جب فصل بہت کم رہ جائے کہ امتیاز میں نہ آئے تو شیئ متصل وحدانی معلوم ہوتی ہے وہ واقع میں اس کا اتصال نہیں بلکہ حس مشترک میں صور کمال متقاربہ کا اجتماع اس کا باعث ہوتا ہے کہ ان کے خلاؤں میں بھی ویسی ہی صورت مدرک ہوتی ہے اور سطح واحد متصل سمجھی جاتی ہے، کپڑے میں زری کے پھول بہت قریب قریب ہوں، نزدیک سے دیکھئے تو ہر پھول دوسرے سے جدا اور بیچ میں خلا، مگر دور سے سارا کپڑا مغرق معلوم ہوتا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ بوجہ بعد جس نسبت سے پھولوں کے خلا چھوٹے ہوتے گئے اُسی نسبت سے پھول بھی چھوٹے ہوتے جاتے ،قریب سے بڑے پھول اور ان میں بڑا خلا محسوس ہوتا ہے  بعید سے چھوٹے پھول اور ان میں چھوٹا خلا محسوس ہوتا مگر یہ نہیں ہوتا بلکہ خلا معدوم ہوجاتا ہے اور اس کی جگہ بھی نہ ہی زری کی صورت محسوس ہو کر ساری سطح زری سے مغرق بے فرجہ معلوم ہوتی ہے، ممکن کہ بعض اجسام دونوں حالتوں کے ہوں جن میں مسام نظر آئیں وہ اس کپڑے کو قریب سے دیکھنے کی حالت اور جن میں بالکل نظر نہ آئیں دور سے دیکھنے کی کہ خلا کے صغر نے سطح کو اجزا سے مغرق کردیا کہ جسم متصل وحدانی بلا مسام نظر آیا۔

(۵) ہندسہ کی بِنا خطوطِ موہومہ پر ہے ۔ یہاں جب کوئی دو جز متصل نہیں ضرور ہر دو جز میں ایک خط موہوم فاصل ہوگا جس کے دو نقطہ طرف پر یہ دو جز ہیں خطوط موہومہ ایک حد تک کتنے ہی چھوتے ہوں ان کی تقسیم وہماً ہوگی یا مجاراۃ للفلاسفہ،یہ بھی سہی کہ ان کی تقسیم غیر متناہی ہے اس تقدیر پر یہ جسم اگرچہ فی نفسہ متصل نہیں اجزائے متفرقہ ہیں تو اجزائے واقعیہ کی طرف اس کی تحلیل قطعاً متناہی ہوگی مگر وہ اتصال موہوم جس کا نام جسم تعلیمی ہے انقسام وہمی میں اس کی تقسیم غیر متناہی لاتقفی ہوگی اگر کہیے جسم تعلیمی جسم طبعی ہی کی تو مقدار ہے جب اسکی تقسیم نامتناہی تو اس کی بھی کہ یہ اسی سے متنزع ہے۔

اقول :  پھر بھولتے ہو اس کی ذات سے منتزع نہیں بلکہ ہوتا تو اس کے اتصال سے اس جسم طبعی کو متصل ہی کس نے مانا ہے کہ جسم تعلیمی اس سے منتزع یا اس کی مقدار ہو وہ تو اجزائے متفرقہ ہیں جن میں خطوط فاصلہ کے تو ہم سے ایک مقدار موہوم ہوگی تو اس کی تقسیموں سے وہی موہوم منقسم ہوگا نہ کہ جسم طبعی ۔

(۶) ہماری تقریر ۴ و ۵ کے ملاحظہ سے واضح کہ اتصال تین قسم ہے۔ حقیقی ، حسی، وہمی، جب اقسام کا ترکب اس طور پر ہو۔ اوّل ان میں اصلاً کسی جسم کو نہ ہوگا اور ثالث جو ہر جسم کو ہے اور ثانی سے اگر یہ مراد لو کہ اگرچہ حس میں مسام ہوں مگر جسم واحد سمجھا جائے تو یہ بھی ہر جسم کو ہے اور اسی پر تمام احکامِ شرعیہ وعقلیہ کی بنا ہے اور اگر یہ مراد لو کہ حس اس میں اصلاً تفرق کا ادراک نہ کرے تو یہ ان میں صرف بعض اجسام میں ہوگا جو املس ہوں جس طرح آئینے اور لوہے کا تختہ پالش کیا ہوا۔
 (۷) ہمارادعوٰی نہیں کہ سب اجسام یا فلاں خاص کا ترکب اس طرح ہے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ممکن کہ بعض کا ترکب اس طرح ہو، اس سے تین فائدے ہوئے۔

(الف) فلاسفہ کا ادعا کہ جسم کا ترکب اجزائے لاتتجزٰی سے نہیں ہوسکتا باطل ہوا۔

(ب) ان کا کلیہ کہ ہر جسم ہیولٰی و صورت سے مرکب ہے باطل ہوا۔

(ج) وہ دلائل کہ ابطال ترکب پر لائے تھے بے کار و ضائع گئے۔
 کما ستعرف ان شاء اﷲ تعالٰی
( جیسا کہ عنقریب تو جان لے گا اگر اللہ تعالٰی نے چاہا۔ ت)
Flag Counter