| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
وسابعاً : کیف بتوقف علمہ تعالٰی بہا علٰی وجودھا فی الخارج لکن الفلسفی بجھلہ یجعل العلم التفصیل حادثا تعالٰی سبحنہ و تعالٰی عما یقولون علواکبیرا ۔
(۷) اﷲ تعالٰی کا ان امور کو جاننا ان کے وجود فی الخارج پر کیسے موقوف ہوسکتا ہے؟ لیکن فلسفی اپنی جہالت کی بنا پر علم تفصیلی کو حادث قرار دیتا ہے اللہ تعالٰی ان باتوں سے بہت بلند ہےجو یہ فلاسفہ کہتے ہیں۔
وبالجملۃ فلاغنی فی شیئ من ھذا بل الجواب ما اقول : بتوفیق الوھاب انما یقتضی البرھان بامتناع خروج غیر المتناھی من القوۃ الی الفعل وھو حاصل ھٰھُنا قطعاً فلا معنی لتخلف البرھان وذلک ان تعلق العلم بشیئ لایخرجہ من القوۃ الی الفعل ۔
مختصر یہ کہ یہ جواب کچھ بھی فائدہ نہیں دیتا، جواب وہ ہے جو میں اللہ تعالٰی کی توفیق سے دیتا ہوں، اور وہ یہ کہ برہان تطبیق کا تقاضا ہے کہ غیر متناہی کا قوت سے فعل کی طرف نکلنا محال ہو اور یہ بات اس جگہ قطعاً حاصل ہے لہذا یہ کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے کہ برہان نہیں پایا گیا، اور یہ اس لیے کہ کسی چیز کے ساتھ علم کا تعلق ہونا اسے قوت سے فعل کی طرف نہیں نکالتا، اس کے چند دلائل ہیں :
فاوّلاً الاترٰی انہ تعالی علم للحوادث فی الازل انہا معدومۃ فی نفس الامروستوجد فی اوقاتھا فان کان العلم موجب وجود ھا بالفعل کان العلم بانہا معدومۃ فی نفس الامر علی خلاف الواقع۔
(۱) کیا تو نہیں دیکھتا کہ اللہ تعالٰی کو ازل میں حوادث کے بارے میں علم تھا کہ وہ نفس الامر میں معدوم ہیں اور عنقریب اپنے اوقات میں پائیں جائیں اگر علم کی وجہ سے ان کا وجود بالفعل ضروری ہوتا تو ان کے بارے میں یہ جاننا کہ وہ نفس الامر میں معدوم ہیں خلاف واقع ہوگا۔
وثانیاً : انما اراداﷲ تعالٰی وجود الحوادث فی اوقاتھا ولا وجود لہا الا بارادتہ تعالٰی فیستحیل ان تکون موجودۃ فی الازل ۔
(۲) اللہ تعالٰی نے ارادہ فرمایا کہ حوادث اپنے اوقات میں پائے جائیں اور ان کا وجود تو صرف اللہ تعالی کے ارادے سے ہوگا، اس لیے ان کا ازل میں موجود ہونا محال ہے۔
وثالثاً الا ترٰی انہ تعالٰی یعلم کل محال ویعلم کل محال ویعلم ان لوکان کیف کان فتعلق علمہ تعالٰی بہ لم یخرجہ عن الاحالۃ فضلا عن العدم وما سبیل غیر المتناھی الاسبیل سائر المحالات فھو تعالٰی یعلمہ ویعلم انہ محال ان یوجد فانکشف الاعضال والحمدﷲ ذی الجلال مع انہ احق الحق عندنا انا اٰمنا بربنا وصفاتہ واسمائہ ولا نشتغل بکنھھا ولا نقول کیف حیث لاکیف ولا علم لنا بذلک ولا سبیل الی تلک المسالک واﷲ یھدی من یشاء الٰی صراط مستقیم ۱۲ منہ غفرلہ۔
(۳) کیا تُو نہیں دیکھتا کہ اللہ تعالٰی ہر محال کو جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ اگر وہ موجود ہوتا تو کیسے ہوتا۔ پس اللہ تعالٰی کا علم اس سے متعلق ہے اس کے باوجود اس تعلق نے اسے محال ہونے سے نہیں نکالا، چہ جائیکہ عدم سے نکال دیتا، غیر متناہی کا معاملہ وہی ہے جو باقی محالات کا ہے پس اللہ تعالٰی غیر متناہی کو جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ اس کا واقع میں پایا جانا محال ہے۔ تمام تعریفیں صاحبِ عظمت و جلال اللہ تعالٰی کے لیے اشکال حل ہوگیا۔ باوجود یہ کہ ہمارے نزدیک صحیح ترین بات یہ ہے کہ ہم اپنے رب اور اس کی صفات اور اس کے اسماء پر ایمان لائے ہیں اور ہم ان کی حقیقت معلوم کرنے کے درپے نہیں ہوتے اور ہم نہیں کہتے کہ کیسے؟ کیونکر اس جگہ کیسے والی بات نہیں ہے اور نہ ہی ہمیں علم ہے اور ان راستوں تک پہنچنے کی کوئی صورت نہیں ہے، اللہ تعالٰی جسے چاہتا ہے صراطِ مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔ ۱۲ منہ غفرلہ ( امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ کا حاشیہ ختم ہوا) (ترجمہ شرف قادری)
اقول : قد اتضح بما افادہ الامام احمد رضا البریلوی قدس سرہ القوی أن خروج الغیرالمتناھی من القوۃ الی الفعل محال، وتبیّن أیضا أن تعلق العلم بشیئ لا یوجب وجودہ فی الواقع ،لکن بقی ھٰھنا سؤال معضل: وھوانا قائلون باحاطۃ علم الباری تعالٰی امور الغیر المتناھیۃ وھی مرتبۃ فی علم الباری تعالٰی فکیف لایجری فیہا برھان التطبیق ولا نسلم ان البرھان لایقتضی الا امتناع خروج غیر المتناھی من القوۃ الی الفعل، انما یقتضی البرہان استحالۃ الامور الغیر المتناھیۃ المرتبۃ سواء کانت موجودۃ ام لا وایضا لما کان علم الباری محیطا بالامور الغیر المتناھیۃ فلا بد ان تکون متناھیۃ عندہ تعالٰی جل مجدہ فلا مخلص الا فی ماقال العلامۃ عبدالحکیم السیالکوتی بانھا غیر متناھیۃ بحسب علمنا ولا نستطیع ان نعدھا بأیّ عدد وایّ اٰلۃ حاسبۃ أمابحسب علم اﷲ فھی متناھیۃ ، وانما کتبت ھٰذا الاعضال الذی ھو جذراصم رجاء من ا ﷲ تعالٰی ان یوفق أیّ عالم کبیر أن یحل ھٰذہ المعضلۃ باحسن وجہ واﷲ الموفق) محمد عبدالحکیم شرف القادری ۷ من ذالقعدۃ ۲۴ع ۱ ھ / الموافق باوّل ینایر عام ۲۰۰۴ م ۔
اقول : اوّلا : صریح غلط تم تو زمانے کو عرض قائم بالفلک مانتے ہو کہ وہ مقدار حرکت ہے تو حرکت سے قائم اور حرکت فلک سے قائم اور قائم سے قائم قائم اور یہ اتساع اس سے منزہ۔ ثانیاً قدم فرع وجود ہے اور یہ موجود ہی نہیں۔ ثالثاً مقصود تو یہ تھا کہ تمہاری ظلمتوں سے خلاص ہو کر زمانہ قدیم ہے اور وہ مقدار حرکت فلک ہے تو حرکت قدیم ہے تو فلک قدیم ہے تو افلاک و عناصر قدیم ہیں، یہ بحمدہ تعالٰی باطل اور ظلمتیں زائل اور نجات حاصل، والحمد ﷲ رب العالمین ( سب تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا ت)
تنبیہ : معضلہ کی ایسی ہی تقریر امتناع انقطاع زمانہ پر کی جاتی ہے کہ منقطع ہو تو عدم کو وجود سے ایسی ہی بعدیت ہوگی جس میں سابق ولا حق دونوں جمع نہ ہوسکیں، اور وہ نہیں مگر زمانی، تو زمانے کے بعد زمانہ لازم، اور ہمارے پانچوں جواب بعون الوہاب اس کے رَد کو بھی کافی ووافی، کما لایخفےٰ فاعرف وﷲ الحمد( جیسا کہ پوشیدہ نہیں،تو جان لے اور اللہ تعالٰی ہی کے لیے حمد ہے۔) اور یہ تقاریر زمانے کے موہوم ہونے ہی پر موقوف نہیں، اگر بالفرض زمانہ موجود خارجی اور مقدار حرکت اور خاص حرکت فلکیہ ہی کی مقدار یا کوئی جوہر مستقل ہو غرض عالم میں سے کچھ بھی ہو اس کے حدوث و امکانِ انقطاع پر کوئی حرف نہیں آسکتا ۔ وﷲ الحمد یہ تقریر خوب ذہن نشین کرلی جائے کہ بعونہ تعالٰی بکثرت ظلمات فلسفہ سے نجات ہے، میں امید کرتا ہوں کہ رَد فلسفہ قدیمہ میں اگر میں اور کچھ نہ لکھتا تو یہی ایک مقام بہت تھا جس کا صاف ہونا فیض ازل نے اس عبداذل کے ہاتھ پر رکھا تھا۔ وﷲ الحمد۔
یہ ہیں وہ ۳۰ مقام کہ اُس تذییل میں تھے،بعونہ تعالٰی دو کا بافاضہ اور اضافہ ہو کہ فلسفہ کی کوئی مہم مردودبات رَد سے نہ رہ جائے۔ وباﷲ التوفیق۔