اقول : اوّلاً تعالٰی ان یقترن بزمان ، و ثانیاً لوکان بقاؤ ہ بھذاالمعنی لم یکن باقیاً قبل الزمان لعدم الاقتران ولعلہ معطوف علی العدم ای بقاء ہ تعالٰی عبارۃ عن امتناع عدمہ مع امتناع مقارنتہ مع الازمنۃ وھذا وان کان بعیدا احسن من ذلک القریب لصحتہ وقربہ من الادب، امّا الذی انسلخ عن الادب رأسا وبعد عن الدّین بمرۃ وھوالمتشدق الجونفوری فزعم ان الفطرۃ المنفطمۃ عن لبان الطبیعۃ تشتھی سلب البقاء عنہ سبحنہ وتعدہ عین التقدیس ۲ اھ فلا واﷲ ماھذا الاتقدیس ابلیس، نسائل اﷲ العافیۃع
یبقی وجہ ربک ذوالجلال فلا تسمع تشدّق ذی خلال ۱۲ منہ
اقول : (۱) اللہ تعالٰی زمانے کے ساتھ مقارن ہونے سے بلند ہے،
(۲) اگر اللہ تعالٰی کی بقا کا یہ معنی ہو تو وہ زمانے سے پہلے باقی نہیں ہوگا کیونکہ زمانے کے ساتھ اقتران نہیں ہوگا، ( اس عبار ت کی توجیہ یہ ہے کہ ) غالباً مقارنتہ کا عطف عدمہ پر ہے اب مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالی کی بقاء کا مطلب یہ ہے کہ اس کا عدم محال ہے اور زمانوں کے ساتھ اس کا مقارن ہونا بھی محال ہے یہ مطلب اگرچہ ظاہر عبارت سے بعید ہے لیکن اس قریب مطلب سے بہتر ہے کیونکہ یہ صحیح بھی ہے اور ادب کے قریب بھی ہے لیکن وہ متشدق ( بے باک ، صاحبِ شمس بازغہ محمود ) جونپوری جوادب سے یک دم جدا اور دین سے بالکل دور ہے اس کا گمان ہے کہ وہ فطرت جو طبیعت کا دودھ پینا چھوڑ چکی ہے چاہتی ہے کہ اللہ تعالٰی سے بقا کی نفی کی جائے اور اسے عین تقدیس شمار کرتی ہے اھ اللہ تعالی کی قسم یہ ابلیس کی تقدیس ہے ہم اﷲ تعالٰی سے عافیت کی درخواست کرتے ہیں۔ تیرے رب ذوالجلال کی ذات باقی رہے گی لہذا تو اس مختلف خصلتوں والے بیباک گفتگو نہ سن ۔ ۱۲ منہ ۔ (ترجمہ محمد عبدالحکیم شرف قادری) ۔
اس اتساع متعالی میں صفات کو ذات یا معاذ اﷲ بطور فلاسفہ عقل اول کو واجب تعالٰی سے معیت اور تقوُّ م واستمرار موجود ہے اس کے لحاظ سے ذات (عہ) و صفات یابطور فلاسفہ عقول کو حوادث پر یہ دوسرا تقدم ہے، اور اس کا وجود صرف علمی ہے کہ ہر گز وجود خارجی نہیں،
عہ : اقول : واذلیس وجودہ عینیا بل علمیا فما ثم شیئ یمرعلیہ او یحیط بہ بل ھو بکل شیئ محیط اما الزمان فحادث وان لم یکن موجود افی الاعیان فلم یتعلق بہ فی الازل فما کان یتعلق بہ فی مالا یزال لا نہ تعالٰی ان یتجددلہ شیئ و معلوم انہ تعالٰی یعلم ویبصرویسمع ذاتہ العلیۃ علی وجہ الکمال وقد احاط بکل شیئ علماً ولیس الا ان الکل منکشف لدیہ وھوالمحیط بعلمہ وبصرہ وسمعہ وبکل شیئ وبالجملۃ فالعقول عاجزۃ عن ادراک کنہ الذات والصفات امنّابہ کما ھو باسمائہ وصفاتہ ۱۲ منہ غفرلہ ۔
عہ : اقول : (میں کہتا ہوں) چونکہ زمانے کا وجود خارجی نہیں بلکہ علمی ہے، تو کوئی ایسی چیز نہیں ہوگی جو اللہ تعالٰی پر گزرے یا اس کا احاطہ کرے، بلکہ وہ ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے، لیکن زمانہ تو وہ حادث ہے، اگرچہ خارج میں موجود نہیں ہے، لہذا ازل میں زمانے کا تعلق ذاتِ باری تعالی کے ساتھ نہیں ہوگا، آئندہ بھی متعلق نہیں ہوسکتا، کیونکہ اللہ تعالٰی اس بات سے بلند ہے کہ اس کے لیے کوئی چیز نوبہ نو ثابت ہو، اور یہ بات معلوم ہے کہ اللہ تعالٰی اپنی ذات عالیہ کو کامل طور پر جانتا، دیکھتا اور سنتا ہے اور اس کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کررکھا ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ سب چیزیں اس کے نزدیک منکشف ہیں اور وہ اپنے علم، بصر ، سمع اور ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے مختصر یہ کہ عقلیں اس کی ذات و صفات کی حقیقت کے جاننے سے عاجز ہیں، ہمارا اللہ تعالٰی پر ایمان ہے جیسے وہ فی الواقع ہے اور اس کے اسماء اور صفات پر بھی ہم ایمان رکھتے ہیں ۱۲ منہ غفرلہ ۔(ترجمہ عبدالحکیم شرف قادری )۔
بلا تشبیہ جس طرح ہمارے اذہان میں زمانے کا وجود وہمی کہ ہر گز وجود (عہ) عینی نہیں۔ الاعیان الثابتۃ لم تشم رائحۃ من الوجود ( اعیان ثابتہ نے وجود کی بُو نہ سونگھی ، ت) زمانے کا عدم اسی اتساع قدسی میں اس کے وجود حادث پر مقدم ہے اور زمانے سے پہلے زمانہ لازم نہیں اگر کہیے ہم اسی اتساع قدسی کا نام زمانہ رکھتے ہیں اب تو قدیم ہوا۔
عہ : فائدۃ جلیلۃ بھٰذا واﷲ الحمد تحل عقدۃ حارث فیھا الافہام وھو جریان برھان التطبیق فی علم اﷲ عزوجل لانہ یعلم کل متناہ وغیر متناہ علی التفصیل ، اجاب الدوانی فی شرح العقائد بان علمہ تعالٰی واحد بسیط فلا تعدد فی المعلومات بحسب علمہ بل ھی ھناک متحدۃ غیر متکثرہ ۱ ؎ ۔ امّا فی وجودھا الخارجی فالعالم حادث فلیس الموجود الامتناھیا وان لم یقف عند حد الی الابد، ھذا حاصل ما اطال بہ وردّہ عبدالحکیم بنقل الکلام الٰی علمہ تعالٰی التفصیلی ۔
عہ : فائدہ جلیلہ : اللہ تعالٰی کا شکر ہے کہ اس کے ذریعے وہ عقدہ حل ہوجائے گا جس کے بارے میں عقلیں حیران ہیں اور وہ ہے برہان تطبیق کا اللہ تعالٰی کے علم میں جاری ہونا کیونکہ اللہ تعالٰی ہر متناہی اور غیر متناہی کو تفصیلاً جانتا ہے۔ علامہ دوانی نے شرح عقائد میں جواب دیا کہ اللہ تعالٰی کا علم واحد اور بسیط ہے ۔ لہذا معلومات میں اللہ تعالٰی کے علم کے اعتبار سے تعدد نہیں ہے بلکہ وہ معلومات متکثر نہیں بلکہ متحد ہیں، جہاں تک معلومات کے وجود خارجی کا تعلق ہے تو عالم حادث ہے، اس لیے جتنی اشیاء موجود ہیں وہ متناہی ہیں اگرچہ ہمیشہ کے لیے کسی حد پر جا کر ان کا خاتمہ نہیں ہوتا، یہ ان کی طویل گفتگو کا خلاصہ ہے۔ علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی نے اسے رد کیا ہے کہ ہم گفتگو کو علم تفصیلی کی طرف منتقل کرتے ہیں۔
( ۱ ؎ ۔ شرح العقائد العضدیۃ للدوانی مطبع مجتبائی دہلی ص ۲۰ و ۲۱)
اقول : لا الجواب بشیئ ولا الرد علیہ فان تقسیم علمہ الی اجمالی وتفصیل من بدعات الفلا سفۃ بل علمہ تعالٰی واحد بسیط متعلق بجمیع الموجودات والمعدومات والممکنات والمحالات علی اتم تفصیل لا امکان للزیادۃ علیہ فالعلم واحد والمعلومات غیر متناھیۃ فی غیر متناہ فی غیر متناہ کما بینتہ فی فی کتابی "الدولۃ المکیۃ" و تعلیقا تھا "الفیوض الملکیۃ" ۔
اقول : (میں کہتا ہوں ) نہ تو یہ جواب درست ہے اور نہ ہی اس پر رَد صحیح ہے۔ کیونکہ اللہ تعالٰی کے علم کی تقسیم اجمالی اور تفصیلی کی طرف فلاسفہ کی بدعتوں میں سے ہے، جب کہ اللہ تعالٰی کا علم واحد ہے بسیط ہے اور اس کا تعلق تمام موجودات، معدومات، ممکنات اور محالات سے اتنی مکمل تفصیل کے ساتھ ہے، کہ اس پر زیادتی ممکن ہی نہیں ہے، پس علم ایک ہے اور معلومات غیر متناہی در غیر متناہی جیسے کہ میں نے اپنی کتاب الدولۃ المکیۃ اور اس کے حواشی الفیوض الملکیۃ میں بیان کیا ہے۔
قال السیا لکوتی بل الجواب فی تعلیقات الفارابی انہ تعالٰی یعلم الاشیاء الغیرالمتناھیۃ متناھیۃ و ذلک لان الجواھر والاعراض متناھیۃ والنسب یمکن ان نعتبرھا نحن غیر متناھیۃ امّا عندہ تعالٰی فمتناھیۃ اذیصح ان توجد تلک الجواھر والاعراض فی الاعیان فبوجودھا توجد النسب بالفعل لانھا لواز مھا ووجود کل شیئ ھو معلومیتہ ﷲ عزوجل، ھذا تلخیص ما أطال بہ ۔
علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی کہتے ہیں کہ جواب وہ ہے جو فارابی کی تعلیقات میں ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالٰی غیر متناہی اشیاء کو متناہی جانتا ہے(یعنی اشیاء اگرچہ غیر متناہی ہیں لیکن اللہ تعالٰی کے علم میں متناہی ہیں۱۲ شرف قادری) اور یہ اس لیے کہ جواہر اور اعراض متناہی ہیں ان کے درمیان نسبتیں غیر متناہی ہیں ہم یہ اعتبار کرسکتے ہیں کہ وہ غیر متناہی ہیں، لیکن اللہ تعالٰی کے نزدیک متناہی ہیں کیونکہ یہ جواہر اور اعراض کا خارج میں پایا جانا ممکن ہے،جب یہ خارج میں موجود ہوں گے تو نسبتیں بھی بالفعل پائی جائیں گی، کیونکہ یہ نسبتیں جواہر و اعراض کو لازم ہیں اور ہر شے کا وجود یہی اس کا اللہ تعالٰی کے لیے معلوم ہونا ہے۔( یعنی ہر شیئ کا وجود عبدالباری تعالٰی بحیثیت معلول ہونے کے یہی اﷲ تعالٰی کا ان اشیاء سے متعلق علم تفصیلی ہے ۱۲ شرف) یہ ان کی طویل گفتگو کا خلاصہ ہے۔
اقول : اولاً علمہ تعالٰی لاینحصرفی الجواھر والا عراض الموجودۃ بل یحیط بھا وبالممکنۃ وھی غیر متناھیۃ قطعاً کنعم الجنۃ واٰلام النار والعیاذ باﷲ منہا ۔
اقول : (میں کہتا ہوں کہ) اس میں کئی وجہ سے کلام ہے۔ (۱) اﷲ تعالٰی کا علم جواہر اور اعراض موجود ہ میں منحصر نہیں ہے، بلکہ انہیں بھی محیط ہے، جواہر و اعراض ممکنہ کو بھی شامل ہے اور وہ قطعاً غیر متناہی ہیں، جیسے جنت کی نعمتیں اور دوزخ کی تکلیفیں ، اللہ تعالٰی ان تکلیفوں سے محفوظ رکھے۔
وثانیاً : من یعلم الغیر المتناھی متناھیا فقد علم الشیئ علٰی خلاف ماھو علیہ واﷲ تعالٰی متعال عنہ وان ارید ان العلم الالٰھی محیط بھا فکانت محصورۃ فیہ کالمتناھی لم یفدفی منع جریان البرھان ۔
(۲) جو غیر متناہی کو متناہی جانتا ہے وہ شیئ کو ایسے وصف سے متصف جانتا ہے جس کے ساتھ وہ متصف نہیں(یعنی خلاف واقع صفت کے ساتھ موصوف جانتا ہے) اور اللہ تعالٰی اس سے بلند ہے اور اگر یہ مراد ہو کہ علم الہٰی ان امورِ غیر متناہیہ پر محیط ہے تو وہ امور علم الہی میں متناہی کی طرح محصور ہوں گے، اس صورت میں برہان تطیق کے جاری ہونے کو منع کرنا مفید نہ رہا( فقیر کہتا ہے کہ غالباً علامہ سیالکوٹی کا مطلب یہ ہے کہ وہ امور جو مخلوق کے لیے غیر متناہی ہیں اور مخلوق کی گنتی میں نہیں آسکتے وہ علم الہی میں متناہی ہیں تو اعتراض مذکور ( فقد علم الشیئ علٰی خلاف ماھو علیہ) ، لازم آئے گا اعنی أن تلک الامور غیر متناھیۃ بالنسبۃ الٰی علم الخلق ومتناھیۃ بالنسبۃ الٰی علم الخالق ۱۲ شرف قادری)۔
وثالثا : لاوجہ لقولہ یمکن ان نعتبرھا غیر متناھیۃ بل نعلم قطعا انہا غیر متناھیۃ فیجری البرھان فیہا بحسب علمنا ولا یحتاج الی علمنا بھا تفصیلا والا لم یجرالبرھان فی شیئ قط اذلا یحیط العلم الحادث بغیر المتناھی تفصیلا ابدا ۔
(۳) علامہ نے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ ہم جواہر وا عراض کے درمیان پائی جانے والی نسبتوں کو غیر متناہی اعتبار کریں اس کی کوئی وجہ نہیں ہے، بلکہ ہمیں قطعاً معلوم ہے کہ وہ نسبتیں غیر متناہی ہیں لہذا ان میں ہمارے علم کے مطابق برہان تطبیق جاری ہوجائے گا، برہان کا جاری ہونا اس امر کا محتاج نہیں کہ ہم انہیں تفصیلاً ہی جانیں ورنہ برہان بالکل کسی شیئ میں بھی جاری نہیں ہوگا کیونکہ علم حادث کبھی بھی غیر متناہی کا تفصیلی احاطہ نہیں کرسکتا۔
ورابعاً : قولہ اذیصح لامساس لہ بما جعلہ تعلیلا لہ ولا یفیدشبھۃ عامۃ فضلا عن علۃ ۔
(۴) علامہ نے کہا ہے : اذ یصح الخ اس قول کو جس کی تعلیل قرار دیا ہے اس کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، یہ علت تو کیا عام شبہہ کا بھی فائدہ نہیں دیتا۔
وخامساً : من العجب قولہ اذا وجدت وجدت نسب بالفعل وکیف توجد نسبۃ فی الاعیان ۔
(۵) وہ فرماتے ہیں کہ جب جواہر اور اعراض خارج میں پائی جائیں گے تو نسبتیں بھی بالفعل پائی جائیں، یہ قول باعثِ تعجب ہے نسبتیں خارج میں کیسے پائی جائیں گی؟
وسادساً : کیف یجتمع غیر المتناھی فی الوجود وحصول الترتیب غیر بعید
(۶) غیر متناہی چیزیں وجود میں کیسے جمع ہوسکتی ہیں؟ ان میں ترتیب کا حاصل ہونا کچھ بعید نہیں ہے۔