Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
157 - 212
جواب سوم ،اقول : ظاہر ہے کہ جب زمانہ حادث ہوگا اس کے لیے ظرف اول ہوگی نہیں مگر آن اور زمانہ کہ امتداد ہے، اس کے بعد ہوگا تو اس آن سابق میں زمانہ نہیں، لاجرم اس کا عدم ہے تو عدم زمانہ اس کے وجود پر سابق ہے اور زمانہ میں نہیں بلکہ آن میں ہے، اگر کہیے ا س آن سے پہلے عدم زمانہ تھا یا نہیں، بہرحال زمانہ سے پہلے زمانہ لازم۔ اگر نہ تھا جب تو ظاہر کہ وجود زمانہ تھا اور اگر پہلے عدم تھا تو یہ وہی قبلیت زمانیہ ہے۔

اقول :  اقتصار نہ کرو بات پوری کہو قبل وبعد صفت ہیں موصوف ظاہر کرو اگر یہ موصوف زمانہ لیا یعنی اس آن سے پہلے جو زمانہ تھا اس میں کیا تھا تو سوال نِر ا جنون ہے آن حدو ث زمانہ سے پہلے زمانہ کیسا اور اگر کوئی اور امکان و اتساع لیا تو ہم کہیں گے اس میں بھی عدمِ زمانہ تھا اور زمانہ سے پہلے زمانہ نہ ہوا۔
جواب چہارم ، اقول : حق یہ کہ عدم موجود نہیں تو نہ اس کے لیے کوئی ظرف ہے نہ وہ تقدم سے موصوف ہوسکے کہ یہاں تقدم و تأخر من حیث التحقیق میں کلام ہے عمرو سے پہلے زید تھا اس کے یہ معنی کہ وجودِ عمرو سے وجودِ زید سابق تھا، یونہی وجود سے پہلے عدم ہونے کا یہی مفہوم کہ عدم کا وجود اس سے مقدم تھا حالانکہ عدم ہر گز موجود نہیں ورنہ اعدام معلل ہوں کہ ان کا وجود نہ ہوگا مگر ممکن ورنہ حوادث محال یا واجب ہوجائیں اور ہر ممکن محتاجِ علت، حالانکہ عدم معلل نہیں نیز اگر اعدام موجود ہوں تو امور غیر متناہیہ مرتبہ موجودہ بالفعل لازم آئیں مثلاً عقول دس ہیں، دس سے زیادہ گیارہ بارہ الٰی غیر النہایۃ سب معدوم ہیں تو تمام اعدام مرتبہ نامتناہیہ موجود بالفعل ہیں اور یہ محال ہے تو یہ کہنا کہ حادث کا وجود مسبوق بالعدم ہے یا اعدام ازلی ہیں محض ظاہری بات ہے حادث وہ جس کا وجود ازل میں نہ تھا نہ وہ جس کا عدم ازل میں تھا کہ عدم تھا  اور ہے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور ازل کوئی زمانہ نہیں فلاسفہ بھی مانتے ہیں کہ مفارقات ازلی ہیں اور زمانی نہیں اگر کہیے جب ازل میں نہ حادث کا وجود تھا نہ عدم تو ارتفاع نقیضین ہوگیا۔

اقول : حادث کے وجود وعدم نقیضین نہیں باری عزوجل نہ حادث کا وجود ہے نہ عدم اگر کہیے جب ازل میں حادث کا عدم نہ تھا ضرور وجود تھا کہ سلب عدم کو وجود لازم تو حادث حادث نہ رہا۔

اقول : ازل میں حادث کا وجود نہ تھا اس کو یوں تعبیر کرتے ہیں کہ عدم تھا ورنہ عدم ثبوت ثبوت عدم نہیں، نہ اس کی نفی سے اس کی نفی ہو کہ وجود لازم آئے سلب بسیط سلب معدوم نہیں نہ اس کے سلب کو تحصیل لازم ، زید معدوم کے لیے جس طرح قائم ثابت نہیں لاقائم بھی ثابت نہیں کہ یہ بھی ثبوت موضوع کا طالب تو زید لیس بلا قائم ثابت  اور اس سے زید قائم ثابت نہیں۔
جواب پنجم ،اقول : بربی استخیر وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل فان اصبت فمن اﷲ ولہ الحمد لوان اخطأت فمن الشیطان وانا اعتقدبکل ماھو حق عندالرحمن ۔
اقول : میں اپنے پروردگار سے خیر طلب کرتا ہوں، اورہمیں اللہ تعالٰی کافی ہے، اور کیا ہی اچھا وہ کارساز ہے، چنانچہ اگر میں نے درست بات کہی تو وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے اور اسی کے لیے حمد ہے اور اگر میں نے غلطی کی تو  وہ شیطان کی طرف سے ہے اور میں اعتقاد رکھتا ہوں ہر اس چیز کا جو رحمان کے نزدیک حق ہے۔ (ت)
 (۱) ہر عاقل جانتا ہے کہ وجود باری عزوجل کو اس کی صفات قدیمہ (یا فلاسفہ کے نزدیک عقل اول) پر تقدم ذاتی ہے یونہی سب حوادث پر بھی مگر بداہت عقل شاہد کہ وجود حوادث پر اس کے وجودکو ایک اور۔۔۔۔۔۔۔۔بھی ہے جو صفات ( یا بطور فلاسفہ عقل اول) پر نہیں یقیناً کہا جائے گا کہ ازل میں وجود الہی تھا اور وجود حوادث نہ تھا بلکہ بعد کو ہوا اور ہر گز نہیں کہہ سکتے کہ ازل میں اﷲ تعالٰی تھا اور صفاتِ  الٰہیہ نہ تھیں، نہ فلسفی کہہ سکتا ہے کہ ازل میں واجب کہتا اور معلول اول نہ تھا، بالجملہ صفات یا معلول اوّل کو ازل سے تخلف نہیں اور وجود حوادث کو قطعاً ہے تو حوادث پر وجود حق کو تقدم ذاتی کے سوا دوسرا تقدم اور ہے اور وہ ہر گز زمانی نہیں کہ باری عزوجل زمانے سے پاک ہے فلاسفہ بھی اس تنزیہ میں ہمارے ساتھ ہیں۔

(۲) صفاتِ الہیہ قطعاً قدیم ہیں اور قدیم بالذات نہیں مگر ذاتِ عُلیہ اور صفات بھی زمانے سے متعالی تو اُن کا قدم (عہ) زمانی بھی نہیں ہوسکتا۔
عہ : وقع فی المقاصد وشرحہا مانصہ لاقدیم بالذات سوی اﷲ تعالٰی واما بالزمان فصفات اﷲ فقط ۱؂ اقول : وھو سہوعظیم فی العبارۃ فلیتنبہ و غایۃ توجیہہ عندی ان المتکلمین یقدرون لتصویر القدم وتقریبہ الی الفہم ازمنۃ ماضیۃ لا تتناھی فکل ماکان مع جمیع تلک المفروضات ای لم یصح ان یفرض زمان و ھو لیس معہ فہو القدیم لکن علٰی ھذا الاوجہہ لتخصیصہ بالصفات فانہ القدم الاخر للذات ۱۲ منہ۔
عہ : مقاصد اور اس کی شرح میں ہے کہ اﷲ تعالٰی کے سوا کوئی قدیم بالذات نہیں ہے، البتہ قدیم بالزمان صرف اﷲ تعالٰی کی صفات ہیں۔ اقول : اس عبارت میں عظیم سہو ہے۔ اس پر آگاہ ہونا ضروری ہے، میرے نزدیک اس کی انتہائی توجیہ یہ ہے کہ متکلمین قدم کی تصویر کھینچنے اور اسے فہم کے قریب کرنے کے لیے ماضی کے غیر متناہی زمانوں کو فرض کرتے ہیں تو ہر وہ چیز جو ان تمام مفروضات کے ساتھ ہو یعنی کوئی ایسا زمانہ فرض نہ کیا جاسکے جس کے ساتھ وہ چیز نہ ہو تو وہ قدیم ہے لیکن اس صورت میں تو اُسے صفات کے ساتھ مختص قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ یہ تو ذات کے لیے ایک اور قدم ثابت ہوگیا ۱۲ منہ۔
 ( ۱ ؎ شرح المقاصد   المقصد الثانی    المنحج الثالث   المبحث الاول    دارالمعارف النعمانیہ لاہور   ۱ /۱۲۹)
 (۳) باری و صفات باری عزجلالہ کے لیے یقینا بقا ہے کہ وجود اس کا موجب ہے اور وہ نہیں (عہ۱) مگر استمرار وجود اور اسمترار مقتضی اتساع، اور محال ہے کہ زمانہ ہو(عہ۲)،  لاجرم اگر میری فکر خطا نہیں کرتی تو ضرور علم الٰہی میں ایک اتساع قدسی زمان و زمانیات سے متعالی ہے جس کا پر تَو حوادث میں زمانہ ہے عجب نہیں کہ آیہ کریمہ
  وانّ یوماً عندربک کالف سنۃ مما تعدون  ۱ ؎ ۔
( اور بے شک تمہارے رب کے یہاں ایک دن ایسا ہے جیسے تم لوگوں کی گنتی میں ہزار برس۔ ت) اس کی طرف اشارہ ہو، واﷲ تعالٰی اعلم،
 ( ۱ ؎القرآن الکریم   ۲۲ /۴۷)
عہ ۱:  قال فی المقاصد وشرحھا المعقول منہ ای من البقاء استمرار الوجود منہ ۱؂ غفرلہ۔
مقاصد اور اس کی شرح میں ہے المعقول منہ استمرار الوجودمنہ بقاء سے جو معنی سمجھ میں آتا ہے وہ ہے وجود کا جاری رہنا زمانے سے ۱۲ منہ۔
( ۱ ؎ شرح المقاصد   المقصد الثالث     الفصل الاول    المبحث الخامس     دارالمعارف النعمانیہ لاہور   ۱ /۱۸۰)
عہ ۲ :  وقع فیھا بعد ماقدمت ولا معنٰی لذلک سوی الوجود من حیث انتسابہ الی الزمان الثانی بعد الزمان الاول ۱؂ اھ ۔
مقاصد اور شرح مقاصد میں ابھی نقل کردہ عبارت کے بعد ہے، اور اس کا یہی معنی ہے کہ پہلے زمانے کے بعد وجود دوسرے زمانے کی نسبت سے پایا جائے  ،کی نسبت سے پایا جائے ا ھ ۔
 ( ۱ ؎ ۔  شرح المقاصد المقصد الثالث الفصل الاول المحث الخامس دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ /۱۸۰)
اقول :  اولاً  تعالٰی عن ان ینسب وجودہ الٰی زمانہ وثانیاً لو کان بقاء ہ بھٰذا المعنی لزم قِدَم الزمان والعذر عن ھذا ما قدمت وقداحسن صاحب المواقف اذقال بعد اثبات امتناع ثبوت الزمان لہ تعالٰی یعلم مما ذکرنا ان بقاء ہ تعالٰی لیس عبارۃ عن وجودہ فی زمانین ۲ ؎  اھ قال السید بل ھو عبارۃ امتناع عدمہ و مقارنتہ مع الازمنۃ ۳ ؎۔
اقول : ( میں کہتا ہوں) (۱) اللہ تعالٰی اس بات سے بلند ہے کہ اس کا وجود زمانے کی طرف منسوب کیا جائے(۲) اگر اللہ تعالٰی کا باقی رہنا اس معنی سے ہو تو زمانے کا قدیم ہونا لازم آئے گا۔ اس کی توجیہ وہ ہے جو میں اس سے پہلے بیان کرچکا ہوں ، صاحبِ مواقف نے اچھا انداز اپنایا ہے انہوں نے پہلے یہ بیان کیا کہ اللہ تعالٰی کے لیے زمانے کا ثابت ہونا محال ہے اس کے بعد فرمایا، ہماری گفتگو سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالٰی کے باقی رہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ دو زمانوں میں موجود ہے اھ میر سید شریف نے اس کی شرح میں فرمایا  :  بل ھو عبارۃ امتناع عدمہ ومقارنتہ مع الازمنۃ ا ھ اللہ تعالٰی کی بقا کا مطلب ہے کہ اس کا عدم محال ہے اور وہ تمام زمانوں کے ساتھ مقارن ہے۔ ( یہ اس عبارت کا ایک مطلب ہے دوسرا مطلب بعد میں آرہا ہے۔۱۲ شرف قادری )
( ۲؎ شرح المواقف   الموقف الخامس   المرصد الثانی   المقصد الرابع   منشورات الرضی الشریف قم ایران   ۸ /۲۸ ) 

( ۳؎ حاشۃ سید الشریف علی شرح المواقف  الموقف الخامس   المرصد الثانی   المقصد الرابع   منشورات الرضی الشریف قم ایران   ۸ /۲۸ )
Flag Counter