اقول : نعم ولکن امتنع علٰی ھذا الوھمی سبق العدم کما علمت، ولیس وھمیا بمعنی المخترع بل یدفع بہ کونہ موھوما اذلوکان موھوماً لم یکن قبل التوھم ولولم یکن قبل التوھم لکان قبل التوھم ولو کان قبل التوھم لم یکن موھوماً الطرفان ظاھران والوسط لجریان المعضلۃ فی الوجود الذھنی کجریا نھا فی العینی فینتج ان لوکان موھوما لم یکن موھو ما فیثبت انہ غیر موھوم بل موجود فی الاعیان ،
اقول : (میں کہتا ہوں) ٹھیک ہے لیکن عدم کا اس وہمی پر مقدم ہونا محال ہے جیسے کہ تم جان چکے ہو، زمانے کے وہمی ہونے کا یہ مطلب نہیں ہےکہ وہ اختراعی ہے، بلکہ دلیل سے اس کے وہمی اختراعی ہونے کا رد کیا جاسکتا ہے اور وہ یوں کہ اگر زمانہ وہمی امر ہو تو تو ہم سے پہلے نہیں ہوگا اور اگر توہم سے پہلے موجود نہیں ہوگا، تو وہ تو ہم سے پہلے موجود ہوگا۔ اور اگر تو ہم سے پہلے موجود ہوا تو موہوم نہیں ہوگا، دونوں طرفین ظاہر ہیں اور متوسط کا وجود ذہنی میں جاری ہونا اسی طرح مشکل ہے جس طرح وجود خارجی میں مشکل ہے، نتیجہ یہ ہوگا کہ اگر وہ ہوموم ہوا تو موہوم نہیں ہوگا بلکہ خارج میں موہود ہوگا۔
فان قلت المتکلمون ینکرون الوجود الذھنی۔
سوال : متکلمین تو وجود ذہنی کا انکار کرتے ہیں؟
اقول : (جواب) مرجعہ عند التحقیق الٰی انکار حصول الاعیان بانفسھا فی الازھان والا فہو مردود بالبرھان کما بینہ فی شرح المقاصد و مصادم البداھۃ الوجد ان کما یعرفہ کل فاھم و قاصد، امّا ھذا الذی ذکر نا فحق بلا مریۃ ویلزم القائل بحصولھا بانفسھا عرضیۃ الجوھر لقیامہ بالذھن واعتذار ابن سینا ان الجوھر مامن شانہ القیام بنفسہ اذا وجد فی الاعیان بھت بحت فالتجھر لایتبدل بتبدل الظرف والا تبدلت الذات ، وبالجملۃ ذات لا قیام لھا الا بغیرھا تبائن بالقطع ذاتا تقوم بنفسہا فثبت ان الحصول بالشبح لا بعین ۔
جواب : تحقیق یہ ہے کہ وہ موجودات خارجیہ کے بذواتہاذہنوں میں حاصل ہونے کا انکار کرتے ہیں ورنہ ان کا انکار دلیل سے باطل ہے جس طرح علامہ نے شرح مقاصد میں بیان کیا اور یہ بداہۃً وجدان کے مخالف ہے جیسے کہ ہر سمجھنے اور قصد کرنے والا جانتا ہے لیکن وہ مطلب جو ہم نے بیان کیا ہے وہ حق ہے اور جو یہ کہتا ہے کہ ا شیاء خود ذہن میں حاصل ہوجاتی ہیں اس پر جو ہر کا عرض ہونا لازم آتا ہے کیونکہ جو ہر ذہن کے ساتھ قائم ہوجائے گا۔ ابن سینا کا یہ عذر پیش کرنا کہ جو ہر وہ موجود ہے کہ جب وہ خارج میں پایا جائے تو قائم بنفسہ ہوگا یہ محض سینہ زوری ہے، جو ہر ہونا ایسی چیز نہیں جو ظرف کے بدلنے سے بدل جائے ورنہ ذات بدیل ہوجائے گی ، خلاصہ یہ کہ وہ ذات جو صرف غیر کے ساتھ قائم ہے قطعی طور پر اس ذات کے مبائن ہے جو قائم بنفسہا ہے ، لہذا ثابت ہوا کہ شے کی ذات ذہن میں حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کا شیج (عکس) حاصل ہوتا ہے۔
(۴) لیس تقدم عدم الزمان علٰی وجودہ بالزمان بل بتقدم اجزاء الزمان بعضا علی بعض ۱ ؎ ۔ (مقاصد وشرحھا وخواجہ زادہ وتجرید) اعنی التقدم بالذات لا بامر زائد علیہا السید) وھو قسم سادس للتقدم ۲؎ (تجرید وشرحہ فی مباحث السبق ) ولا نسلم ان التقدم والتاخر داخلان فی مفہوم اجزاء الزمان وانما جاء ھذا فی الامس والغدلاخذ الزمان مع التقدم المخصوص و التاخر، اما نفس اجزائہ فلا بل غایتہ لزوم التقدم والتاخر فیھا لکونھا عبارۃ عن اتصال غیر قار ولو سلم فالحادث من حیث الحدوث ایضا کذلک اذ لا معنی لہ سوی مایکون وجودہ مسبوقا بالعدم ولو سلمہ فالمقصود منع انحصار السبق فی الاقسام الخمسۃ مستنداً الی السبق فیما بین زمانہ اجزاء الزمان فانہ لیس زمانیا بمعنی ان یوجد المتقدم فی زمان لایوجد فیہ المتاخرولا یضرنا تسمیتہ زمانیاً بمعنی اخر ۱ وشرح مقاصد و سلک خواجہ زادھا مسلکاً اخر فقال اجزاء الزمان ذکر سندا للمنع فلا یضردرجہ فی السبق الزمانی لان اندفاع السند لایستلزمہ اندفاع المنع ۲۔
زمانے کے عدم کا اس کے وجود پر مقدم ہونا بالزمان نہیں ہے بلکہ اس طرح ہے جیسے زمانے کے بعض اجزاء بعض پر مقدم ہیں(مقاصد، اس کی شرح خواجہ زادہ اور تجرید) یعنی تقدم بالذات ہے ایسے امر کی وجہ سے نہیں جو ذات سے زائد ہے اور یہ تقدم کی چھٹی قسم ہے (تجرید اور اس کی شرح تقدم کی مباحث میں) اور ہم تسلیم نہیں کرتے کہ تقدم اور تاخر اجزاء زمان کے مفہوم میں داخل ہے، یہ بات امسِ(گذشتہ کل ) اور غد ( آئندہ کل) میں اس لیے آئی ہے کہ زمانے کو تقدم مخصوص اور تاخر کے ساتھ لیا گیا ہے، جہاں تک زمانے کے نفس اجزاء کا تعلق ہے تو ان میں تقدم و تأخر ماخوذ نہیں ہے زیادہ سے زیادہ لزوم تقدم و تاخر ہے کیونکہ اجزاء زمانہ اتصالِ غیر قار سے عبارت ہیں اور اگر تسلیم کرلیا جائے تو احادث بھی اسی طرح ہے کیونکہ حادث کا یہی معنی ہے کہ جس کا وجود عدم کے بعد ہو، اور اگر یہ بھی تسلیم کرلیا جائے تو ہم نہیں مانتے کہ تقدم پانچ قسموں میں منحصر ہے اور اس منع کی سند یہ ہے کہ زمانے کے اجزا میں تقدم اور تاخر پایا جاتا ہے حالانکہ یہ تقدم اس معنی کے اعتبار سے زمانی نہیں ہیں کہ مقدم ایسے زمانے میں ہایا جائے جس میں مؤخر نہ پایا جائے اس تقدم کو اگر کسی دوسرے معنی کے اعتبار سے زمانی کہا جائے تو وہ ہمیں نقصان نہیں دیتا۔(شرح مقاصد ) خواجہ زادہ نے ایک دوسرا راستہ اختیار کیا ہے انہوں نے کہا کہ اجزاء زمان کا ذکر منع کی سند کے طور پر کیا گیا ہے لہذا اسے اگر تقدم زمانی میں داخل مان لیا جائے تو یہ نقصان دہ نہیں ہے کیونکہ سند کے رَد ہونے سے منع کا رد ہونا لازم نہیں آتا۔
( ۱ ؎ شرح المواقف المقصد الثانی فی الحقیقۃ منشورات الشریف قم ایران ۵ /۱۰۵)
(شرح المقاصد المقصد الثانی المنحج الثالث المبحث الثانی دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ /۱۳۴)
(۲ ؎ تجرید طوسی )
( ۱ ؎ شرح المقاصد المقصد الرابع المبحث الخامس فی احکام الاجسام دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ /۳۳۴)
( ۲ ؎ تہافت الفلاسفہ للخواجہ زادہ)
اقول اوّلا: کل ذلک لاینفع ما لم یدفع ان القبلیۃ المحیلۃ للمعیۃ لاتکون الا زمانیۃ ودفعہ عند العقول المحبوسۃ فی سجن الزمان غیر یسیر فان امتناع الاجتماع انما یتاتی بامتداد متجدد منصرم غیر قار، اذلولا الامتداد لم تکن فیہ اثنینیۃ فکان کل ما یقع فیہ مجتمعا وکذ الوکان قارا لاجتمعت اجزاء ہ فی الوجود فکذا مایقع فیھا امّا المتصرّم فلا جزاٰن منہ یجتمعان وجود اولا مایقع فیھا و لاجزء مع واقع فیھما ولاجزء مع واقع فی اخر ولا یعلم ھذاا لمتصرم الا بالزمان اذبہ تقدر المتجددات حتی الحرکۃ القطعیۃ المشارکۃ لہ فی التصوم سواء بسواء فان جزء ھا الاول لایکون اولا الا لحصولہ اولا ای وقوعہ فی الجزء السابق من الزمان فالما ضی والا ستقبال انما یعرضان اولاً اجزاء الزمان وبواسطتہ سائرالاشیاء ولا نعنی بالتقدم الزمانی الاھٰذاالشامل للوجوہ الثلٰثۃ فیشمل تقدم جزع من الزمان علٰی جزء اخر وجزء عن الواقع فی جزاء متاخر، والواقع فی متقدم علی واقع فی متاخر، ومن ھذا الثالث الحادث وعدمہ فاندفع المنع الاول وظھر ان جعلہ کتقدم اجزاء الزمان فیما بینھا لایخرجہ عن التقدم الزمانی،
اقول : (میں کہتا ہوں کہ ) (۱) یہ سب گفتگو اس وقت تک فائدہ نہیں دے گی جب تک اس بات کو رد نہ کیا جائے کہ وہ قبلیت جو معیت کو محال قرار دیتی ہے وہ صرف زمانی ہی ہوگی اور زمانے کے قید خانے میں مقید عقلوں کے لیے اس کا رد کرنا آسان نہیں ہے، کیونکہ اجتماع اسی وقت محال ہوگا جب ایک ایسا امتداد پایا جائے گا جو نوبہ نو پیدا ہوتا جائے ،ختم ہوتا ہو اور مجمع الاجزاء نہ ہو اس لیے کہ اگر امتداد ہو تو اس میں اثنینیت نہیں ہوگی تو جو کچھ اس میں واقع ہوگا وہ مجتمع ہوگا اسی طرح اگر قار (مجتمع الاجزاء) ہو تو اس کے اجزاء وجود میں اکٹھے ہوجائیں گے تو جو چیزیں اس میں پائی جائیں گی وہ بھی اکٹھی ہوجائیں گی لیکن جو چیز ساتھ ساتھ ختم ہوتی جائے تو نہ اس کے اجزاء وجود میں جمع ہوں گے اور نہ ہی اس میں پائی جانے والی چیزیں جمع ہوں گی اسی طرح اس قار کی کوئی جزء دوسری جز میں پائی جانے والی چیز کے ساتھ جمع نہیں ہوگی۔ اور یہ ساتھ ساتھ ختم ہونے والی چیز زمانے ہی کے ذریعے پہنچائی جائے گی، کیونکہ زمانے ہی کے ذریعے متجدد اشیاء کا اندازہ لگایا جاتا یہاں تک حرکتِ قطعیہ جو تصرم میں زمانے کے ساتھ شریک ہے کیونکہ اس کی پہلی جزء اس لیے پہلی جزء بنے گی کہ وہ پہلے موجود ہوئی ہے یعنی وہ زمانے کی جز سابق میں پائی گئی ہے پس ماضی یا مستقبل ہونا پہلے اجزاء زمان کو لاحق ہوتا اور اس کے واسطے سے باقی اشیاء کو اور ہم تقدم زمانی کا یہی معنی مراد لیتے ہیں جو تینوں قسموں کو شامل ہے۔
(۱لف) زمانے کی ایک جز کا دوسری جزء پر مقدم ہونا (ب) زمانے کی ایک جز کا مقدم ہونا اس چیز سے جو دوسری جز میں واقع ہے۔(ج) جزء متقدم میں واقع ہونے والی چیز کا دوسری جزء میں وقع ہونے والی چیز سے مقدم ہونا، حادث، اور اس کا عدم اسی تیسری قسم سے تعلق رکھ ا ہے لہذا پہلا منع دور ہوگیا اور ظاہر ہوگیا کہ اس تقدم کو زمانے کے اجزاء کے باہمی تقدم کی طرح قرار دینا اسے تقدمِ زمانی سے نکال نہیں دیتا۔
وثانیاً ظھر ان ھذاالتقدم والتأخر لیس الا بالزمان سواء دخل فی مفہوم اجزاءہ اولاً ، وثالثاً ظھر ان البعدیۃالماخوذۃ فی الحادث لیست الا زمانیۃ فلا ینفع قولہ فالحادث کذلک ۱ ؎ ۔
(۲) ظاہر ہوگیا کہ یہ تقدم اور تاخر زمانی ہی ہے چاہے زمانہ اس کے اجزاء کے مفہوم میں داخل ہو یا نہ (۳) یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ حادث میں جو بعدیت ماخوذ ہے وہ زمانی ہی ہے لہذا ان (شارح مقاصد) کا یہ قول فائدہ نہیں دے گا کہ حادث بھی اسی طرح ہے۔
( ۱ ؎ شرح المقاصد المقصد الرابع المبحث الخامس فی احکام الاجسام دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ /۳۳۴)
ورابعاً ظہر ان لاحاجۃ الی الحصرفی الخمس فلیس ھذا الا من الخمس، وخامساً ظھر ان الاندراج فی الزمانی بھذاالمعنی مضرقطعا، وسادساً ظھر الفرق بین اجزاء الزمان وبین الحادث وعدمہ فانزھق التسویۃ بین الفریقین ، وسابعاً لو کان تقدم عدم الحادث علیہ لذاتہ التقدمہ ایضاً عدمہ الطاری لان العدمین لا یختلفان ذاتاً ، وبالجملۃ لا محید الا فماذکرنا من البرھا نین فانھما القاطعان لعرق الضلال والحمدﷲ ذی الجلال۔
(۴) ظاہر ہوگیا کہ پانچ میں حصہ کرنے کی حاجت نہیں ہے کیونکہ یہ تقدم ان ہی پانچ قسموں میں ہے۔(۵) زمانی کے اس معنی میں داخل ہونا قطعاً مضرہے۔(۶) اجزاء زمان اور حادث کے وجود و عدم کے درمیان فرق ظاہر ہوگیا، لہذا دونوں کو برابر قرار دینا غلط ہوگیا۔(۷) اگر حادث کے عدم کا اس پر مقدم ہونا لذاتہ ہو تو اس کا عدم طاری بھی مقدم ہوگا کیونکہ دونوں عدم ذات کے اعتبار سے مختلف نہیں۔(اقول : حادث جسے لذاتہ پہلے قرار دیا جارہا ہے اسے مراد وہ عدم سابق ہے اس سے یہ کیسے لازم آگیا کہ عدم طاری بھی مقدم ہوگا؟ ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر عدم سابق لذاتہ مقدم ہو تو عدم طاری اور عدم لاحق بھی لذاتہ مؤخر ہوگا۔۱۲ شرف قادری) خلاصہ یہ کہ ہم نے جو دوبرہان ذکر کیے ہیں ان سے خلاصی نہیں ہے کیونکہ وہ دونوں گمراہی کی رگ کو کاٹنے والے ہیں والحمدﷲ ذی الجلال۔
(۵) لواعتبرفی ماھیۃ القدیم والحادث الزمان فالزمان المعتبر ان کان قدیماً لایشترط لقدمہ زمان اخر والا لزم للزمان زمان فقد عقل قدیم من غیر اعتبار الزمان فیعقل مثلہ فی حق اﷲ سبحنہ وتعالٰی وصفاتہ وان کان حادثا لم یشترط ایضالحدوثہ زمان اخر فقد تصور حدوث من غیر اعتبار الزمان فلیتصور مثلہ فی حق العالم (خواجہ زادہ ۱ ؎ ۔ اھ ملخصاً ) و حاصلہ ان الزمان سواء کان حادثا اوفرض قدیماً لایحتاج فی حدوثہ ولا قدمہ الٰی زمان اخر فظھر ان ماھیۃ القدم و الحدوث معقول بدون الزمان فلیکن کذلک فی اﷲ تعالٰی والعالم والفرق بان ماھیۃ القدم والحدوث مستغنیۃ عن الزمان فی الزمان و محتاجۃ الیہ فی غیرہ یجعل لکل منھما ماھیتین وھو کما ترٰی۔
(۵) اگر قدیم اور حادث کی ماہیت میں زمانہ معتبر ہو تو وہ زمانہ جو معتبر ہے دو حال سے خالی نہیں ہوگا۔(۱) اگر قدیم ہو تو اس کے قدم کے لیے دوسرا زمانہ شرط نہیں ہوگا ورنہ زمانے کے لیے زمانی کا ہونا لازم آئے گا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمانے کے اعتبار کے بغیر قدیم کا تصور کیا جاسکتا ہے یہی بات اللہ تعالٰی اور اس کی صفات کے بارے میں بھی مان لینی چاہیے اور اگر وہ زمانہ حادث ہے تو بھی اس کے حدوث کے لیے دوسرا زمانہ شرط نہیں ہوگا اس کا مطلب یہ ہے کہ زمانے کا اعتبار کیے بغیر حدوث کا تصور کیا جاسکتا ہے تو یہی بات اللہ تعالٰی اور کائنات کے بارے میں مان لینی چاہیے ( خواجہ زادہ ملخصاً ) اس کا حاصل یہ ہے کہ زمانہ چاہے حادث ہو یا قدیم فرض کیا جائے وہ اپنے حدوث اور قدم میں دوسرے زمانے کا محتاج نہیں ہے اس سے ظاہر ہوگیا کہ حدوث و قدم کی ماہیت کا تصور زمانے کے بغیر کیا جاسکتا ہے اسی طرح اللہ تعالٰی اور اعلم کے بارے میں بھی مان لینا چاہیے یہ فرق کرنا کہ قدم اور حدوث کی ماہیت زمان میں زمانے سے مستغنی ہے اور غیر زمانہ میں اس کی طرف محتاج ہے، اس سے یہ لازم آتا ہے کہ حدوث و قدوم کی دو دو ماہیتیں ہوں اور یہ ظاہر البطلان ہے۔
( ۱ ؎تہافت الفلاسفہ للخواجہ زادہ )
اقول : ( میں کہتا ہوں کہ) قدم میں زمانہ سلباً ماخوذ ہے یعنی وہ چیز جس سے پہلے زمانہ نہیں ہے اور حادث میں ایجاباً معتبر ہے یعنی وہ چیز جس سے پہلے زمانہ ہے اور یہ زمانہ جو ماخوذ ہے اسے قدیم مانا جائے یا حادث یا مطلقاً اعتبار کیا جائے زمانے کے لیے زمانہ لازم نہیں آتا اور نہ ہی حدوث و قدم میں سے کسی کی ماہیت کا تعدد لازم آتا ہے زمانہ فلاسفہ کے نزدیک قدیم ہے کیونکہ اس سے پہلے کوئی زمانہ نہیں ہے نہ قدیم ا ورنہ حادث،اور زمانہ جو حادث ہے وہ حادث ہے کیونکہ اس سے پہلے قدیم زمانہ ہے، بلکہ اس سے پہلے زمانہ حادث بھی ہے کیونکہ ان کے نزدیک ہر زمانہ حادث سے پہلے زمانہ حادث ہے جیسے کہ ا سے پہلے گزرا گیا ہے۔
(۶) الشیرازی المعروف بصدرا تبعاً لا ستاذہ الباقر اٰمن بحدوث العالم والزمان فحاول ردالمعظلۃ بان تناھی مقدار لایستدعی مسبوقیۃ بالعدم الا ترٰی ان تناھی محدد الجہات لایستلزم تاخرہ عن امر متقدر موجود او موھوم ملاءً اوخلاءً تأخرا مکانیا کذلک تناھی الزمان لایستلزم تاخرہ عن امتداد زمانی موھوم اوموجود تاخراً زمانیاً وان کان الوھم یعجز من ادراک تناھیہ کما یعجزعن ادراک ان لیس وراء الفلک خلاءً ولا ملاءً ۱۔
(۶) صدر شیرازی اپنے استاد میر باقر داماد کی پیروی میں عالم اور زمانے کے حدوث پر ایمان رکھتا ہے اس لیے پیچیدہ اعتراض کا جواب یوں دیتا ہے کہ مقدار کا متناہی ہونا اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ وہ عدم سے موخر ہو کیا تم نہیں دیکھتے محدد جہات ( فلک الافلاک ) کے متناہی ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ کسی امر مقدر موجود یا موہوم ملا یا خلاسے موخر ہو تاخّر مکانی کے ساتھ اسی طرح زمانے کا متناہی ہونا اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ وہ امتداد زمانی موہوم یا موجود سے موخر ہوتا خر زمانی کے ساتھ اگر چہ وہم اس کے متناہی ہونے کا ادراک کرنے سے عاجز ہے جیسے کہ یہ جاننے سے عاجز ہے کہ فلک الافلاک کے پار نہ خلا ہے اور نہ ملا ہے۔
اقول : (میں کہتا ہوں) زمانے کے حادث ہونے کی صورت میں زمانے سے پہلے زمانہ ہونے کا لازم آنا اس بنا پر نہیں تھا کہ مقدار کے متناہی ہونے سے یہ لازم آتا ہے کہا س کے ختم ہونے کے بعد اس کی ہم جنس مقدار ہو جیسے مکانکے بعد مکان ہونا، بس اگر زمانہ متناہی ہو تو زمانے کی انتہا کے بعدزمانے کا ہونا اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ وہ عدم سے مؤخر ہو، کیا تم نہیں دیکھتے محددِ جہات ( فلک الافلاک) کے متناہی ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ کسی امر مقدر موجود یا موہوم، ملایا خلا سے مؤکر ہو تاخر مکانی کے ساتھ، اسی طرح زمانے کا متناہی ہونا اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ وہ امتداد زمانی موہوم یا موجود سے موخر ہوتاخر زمانی کے ساتھ اگرچہ وہم اس کے متناہی ہونے کا ادراک کرنے سے عاجزہے جیسے کہ یہ جاننے سے عاجز ہے کہ فلک الافلاک کے پار نہ خلا ہے اور نہ ملا ہے۔
( ۱ ؎ شرح ہدایت الحکمت فصل فی الزمان مطبع مجتبائی دہلی ص ۲۱۱ و ۲۱۲ )
اقول : لم یکن الزام الزمان قبل الزمان علی تقدیر حدوثہ بناء علی ان تناھی مقدار یوجب ان یکون وراء ہ مقدار من جنسہ کالمکان وراء المکان خلو تناھی الزمان لکان وراء الزمان زمان فان ھذا لایصح ان یتفوہ بہ الامجنون کیف وانہ یکون التناھی علٰی ھذا موجباً للاتناھی لان وراء کل المقدار مقدار مثلہ بل علٰی ان حدوث شیئ لیس معنا ہ الا الوجود بعد العدم بعدیۃ محیلۃ للمعیۃ و لیست عندھم غیر الزمانیۃ فمن قبل ھذا الزم قبل الزمان زمان وای مساس بھذا لتناھی المکان فلیس مقتضاہ ان بعد البعد بعد او شغلابعد فراغ حتی یلزم تقدیر شیئ ورائہ فقیاس الزمان علی المکان من البطلان ثم استدل ببراھین ابطال التسلسل۔
اقو ل: (میں کہتا ہوں) زمانے کے حادث ہونے کی صورت میں زمانے سے پہلے زمانہ ہونے کا لازم آنا اس بنا پر نہیں تھا کہ مقدار کے متناہی ہونے سے _______________یہ لازم آتا ہے کہ اس کے ختم ہونے کے بعد اس کی ہم جنس مقدار ہو جیسے مکان کے بعد مکان ہونا، پس اگر زمانہ متناہی ہو تو زمانے کی انتہا کے بعد زمانے کا ہونا لازم ہے کیونکہ یہ ایسی بات ہے جو صرف پاگل ہی کہہ سکتا ہے ، کیونکہ اس بنا پر تو متناہی ہونا غیر متناہی ہونے کو واجب کرے گا، اس لیے کہ ہر مقدار کے بعد اس جیسی مقدار رہے، بلکہ الزام کی بنا اس پر تھی کہ کسی شے کے حادث ہونے کا صرف یہ مطلب ہے کہ عدم کے بعد وجود ایسی بعدیت کے ساتھ پایا جائے کہ جو معیت کو محال قرار دے اور ایسی بعدیت فلاسفہ کے نزدیک صرف زمانی ہے، تو جو شخص اس بات کو تسلیم کرلے گا اس پر زمانے سے پہلے زمانے کا موجود ہونا لازم آئے گا اور اسے مکان کے متناہی ہونے کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ اس کا مقتضا یہ نہیں ہے کہ بعد کے بعد بُعد یا فراغ کے بعد شغل ہو یہاں تک کہ اس کے بعد کسی چیز کی تقدیر لازم آئے، پس زمانے کا امکان پر قیاس کرنا باطل ہے پھر صدر شیرازی نے ابطال تسلسل کے براہین سے استدلال کیا ہے۔
اقول : وھو طریق حق کما قد مناہ غیر انہا معارضۃ و نحن فی حل عقدۃ معضلۃ نفسہا کما تقدم واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ۔
اقول : یہ صحیح راستہ ہے جیسے کہ ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں ہاں اتنا ہے کہ یہ معارضہ ہے اور ہم اس لایخل عقدے کو حل کرنے کے درپے ہیں جس طرح کہ اس سے پہلے گزر۔ا واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم منہ غفرلہ (ترجمہ محمد عبدالحکیم شرف قادری)
جواب اوّل اقول : وباللہ التوفیق ( میں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں ت) ممکن کو اگر بشرطِ وجود لو تو اس کا عدم محال ہوگا اور بشرطِ عدم تو وجود یونہی بشرطِ استمرار انقطاع اور بشرطِ انقطاع استمرار ، کلام اس میں نہیں بلکہ نفس ذات ممکن میں، وہ ان میں کسی کی نہ مقتضی نہ منافی، تو یہ سب اس کے لیے ممکن بالذات ہیں اب عدمِ زمانہ قطعاً ممکن ہے ورنہ زمانہ واجب بالذات ہو، اور قطعاً اس کا ظرف زمانہ میں ہونا محال ورنہ بداہۃً اجتماع وجود وعدم ہو تو یقیناً یہ عدم زمانہ یونہی ممکن کہ غیر زمانہ میں ہو اور بحکم مقدمہ سابقہ اس کا استمرار بھی مقتضائے ذات نہیں تو قطعاً انقطاع ممکن بالذات ، اور وہ نہ ہوگا مگر وجود سے تو روشن ہوا کہ وہ عدم زمانہ کہ زمانے میں نہیں منقطع ہو کر وجود زمانہ ہوسکتا ہے یہی حدوثِ زمانہ ہے اور قبل زمانہ زمانہ لازم نہیں کہ عدم منقطع زمانہ میں نہ تھا۔
جواب دوم ،اقول : وباﷲ التوفیق (میں کہتا ہوں اﷲ تعالٰی کی توفیق کے ساتھ۔ت) وجود شے اگر کسی ظرف میں ہو تو اس کا عدم کہ وجود کا رافع یا اس سے مرفوع وبالجملہ اس کے ساتھ ممتنع الاجتماع ہے، اُسی ظرف میں ہونا لازم کہ ایک ظرف میں وجود دوسرے ظرف میں عدم کا منافی نہیں بلکہ موجب ہے جب کہ وجود اُسی ظرف سے خاص ہو اور اگر وجود شے لافی الظرف ہو تو عدم کہ اس کا منافی ہے وہ بھی لافی الظرف ہوگا کہ وجود لافی ظرف عدم فی ظرف کا منافی نہیں بلکہ موجب ہے۔ اب مفارقات غیر باری عزوجل مثلاً تمہارے نزدیک عقل اول جن کا وجود زمانے سے متعالی ہے ورنہ مفارق نہ ہوں مادی ہوں کہ زمانہ کہ مادہ میں حال ہے ضرور مادی ہے اُسے حرکت میں حلول سریانی ہے اور حرکت کو جرم میں تو اُسے جرم فلک میں اور مادی میں واقع نہ ہوگا۔ مگر مادی اور وہ اپنی نفس ذات میں مفارق ہیں تو بالذات وقوع فی الزمان سے آبی ہیں، لاجرم ان کا وجود کسی ظرف دیگر میں ہے یا لافی ظرف، بہرحال ان کا حدوث ممکن بالذات ہے کہ ذات ممکن نہ قدم کی مقتضی نہ عدم کی، توقطعاً حدوث کی منافی نہیں، جیسے کہ اس کی مقتضی بھی نہیں یہی حدوث کا امکان ذاتی ہے اور حدوث بے سبقت عدم ممکن نہیں تو ضرور ان کے وجود پر ان کے عدم کی سبقت ممکن اور بحکم مقدمہ سابقہ یہ عدم نہ ہوگا مگر ان کی طرح لافی ظرف یا ظرف دیگر میں بہرحال زمانےمیں نہ ہوگا، تو روشن ہوا کہ جس کا وجود زمانے میں نہیں برتقدیر حدوث اس کا عدم سابق بھی زمانے میں نہ ہوگابلکہ ظرف دیگر میں یا لافی ظرف، اور زمانہ بھی ایسا ہی ہے کہ اس کا وجود زمانے میں نہیں ورنہ ظرفیۃ الشیئ لنفسہ لازم آئے تو قطعاً برتقدیر حدوث اس کا عدم سابق زمانہ میں نہ ہوگا اور زمانے سے پہلے زمانہ لازم نہ آئے گا، وباللہ التوفیق ، یہ بات وہی ہے جو اوپر گزری کہ زمانے کی محکم کمند تمہارے اوہام کی گردن میں پڑی ہے جس میں تمہاری عقول ناقصہ کے سر پھنس گئے۔ تمہیں وجود کی سابقیت و مسبوقیت بے تصور زمانہ بن ہی نہیں پڑتی ، حالانکہ برہان سے ثابت کہ بے زمانہ بھی ممکن، الحمدﷲ قبلیت مذکورہ بلازمانہ بھی ہونے پر یہ دو روشن دلیلیں
ذٰنک برھانان من ربک ۱
(یہ دو برہان ہیں تمہارے رب کی طرف سے )کے فضل سے اس فقیر پر فائز ہوئیں،والحمدﷲ رب العلمین ( اور سب تعریفیں اﷲ کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ت) ان کے بعد زیادہ بحث کی حاجت نہیں مگر کلمات علماء میں اس معضلہ سے پانچ جواب مذکور ہوئے ہم بھی بعونہ تعالٰی پانچ کی تکمیل کریں کہ ان سے مل کر تلک عشرۃ کاملۃ ہوں۔