حجت ۱ : زمانے کو مقدارِ حرکت کہتے ہو اور ابھی واضح ہوچکا کہ حرکت کا قدم محال۔
حجت ۲ : روشن ہوچکا کہ وہ موہوم ہے خارج میں اس کا وجود درکنار سب سے ضعیف تر انحائے وجود خارجی یعنی وجود منشا تک اس کے لیے نہیں پھر سب سے اعلٰی یعنی وجود ازلی کیسے ہوسکتاہے۔
حجت ۳: برہان تطبیق کہ ایام زمانہ ماضی میں بے تکلف جاری خصوصاً اس متشدق اور اس کے متبوعوں کے طور پر کہ تمام ازمنہ ماضیہ و مستقبلہ کو موجود بالفعل مانتا ہے تو یہاں وہ فلسفی عذر بارد بھی ناوارد۔
حجت ۵ تا ۷ : ظاہر ہے کہ یوم یا جزء زمانہ ماضی لو سابق سے مسبوق ہے تو باقی دلائل ابطال قدم نوعی بھی قائم۔
کشف معضلہ وباﷲ التوفیق ( اور توفیق اﷲ تعالٰی ہی کی ہے۔ت) اہل انصاف کے نزدیک بحث ختم ہوگئی مخالف کو گنجائش دم زدن نہ رہی جب تک ان حجج ساطعہ سے عہدہ بررآ نہ ہولے وانی لہ ذلک ( اور اس کے لیے یہ کہاں ت) فلسفی اگر قدم زمانہ پر ہزار دلائل قائم کرے بقانونِ مناظرہ سب کے معارضہ کو ایک حجت بس نہ کہ سات، مگر بے انصافوں کے دل سے اپنے شبہ باطلہ کا خلجان زائل نہیں ہوتا جب تک بالخصوص اسے نہ توڑا جائے لہذا ہم چاہتے ہیں کہ بتوفقیہ تعالٰی اس مزلہ مضلہ کی بیخ کنی کردیں جس پر آج تک کے متفلسفہ کو ناز ہے وہ یہ کہ زمانہ اگر حادث ہو تو اس کا وجود مسبوق بالعدم ہواور شک نہیں کہ یہاں قبل وبعد کا اجتماع محال، تو یہ قبلیت نہ ہوئی مگر زمانی تو زمانے سے پہلے زمانہ لازم مواقف و مقاصد و تجرید طوسی و طوالع الانوار علامہ بیضاوی و شروح علامہ سید شریف و علامہ تفتازانی وفاضل قوشجی و شمس اصفہانی وشرح دیگر طوالع منسوب بہ تفتازانی و تہافت الفلاسفہ للامام حجۃ الاسلام وللعلامۃ خواجہ زادہ میں اس کے متعدد(عہ) جواب دیئے گئے جن میں فقیر کو کلام ہے کما بینّا علی ھوا مشھا ( جیسا کہ ہم نے ان کے حواشی میں بیان کیا۔ت) فیض قدیر عزجلالہ، سے جو کچھ قلبِ فقیر پر فائض ہو حاضر کرے۔ ربہ ثم برسولہ استعین صلی اللہ تعالٰی وسلم علیہ وعلٰی ذویہ اجمعین امین (اس سے پھر اس کے رسول سے مدد مانگتا ہوں، اﷲ تعالٰی آپ پر اور آپ کے تمام متعلقین پر درود سلام نازل فرمائے اے اللہ ! ہماری دعا کو قبول فرما ۔ت)۔
عہ : ھی خمسۃ اجوبۃ و ثم سادس لغیرھم ۔
یہ پانچ جواب ہیں اور اس جگہ ایک چھٹا جواب بھی ہے جو مذکورہ بالا علماء کے علاوہ کسی نے دیا ہے۔
(۱) قال الامام حجۃ الاسلام قدس سرہ الزمان حادث و لیس قبلہ ویعنی بقولنا ان اﷲ تعالٰی مقدم علی العالم والزمان انہ کان ولا عالم ثم کان ٭ومعہ عالم فلم یتضمن اللفظ الاوجود ذات وعدم ذات ثم وجود ذاتین ولیس من ضرورۃ ذلک تقدیر شیئ ثالث وان کان الوھم لایسکت عندہ اھ ۱ ،ویقال علٰی قیاسہ ھنا انہ کان العدم و لاحادث ثم کان الحادث ولاعدم ھنا ثم الاثبات شیئ ونفی اخرو لاثالث لھما اقول : لایعقل ثم الابتقدیر ثالث ۔
(۱) امام حجۃ الاسلام غزالی قدس سرہ نے فرمایا : زمانہ حادث ہے اور اس سے پہلے زمانہ نہیں ہے اور ہم جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالٰی عالم اور زمانے سے مقدم ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالٰی موجود تھا اور عالم موجود نہ تھا پھر اﷲ تعالٰی موجود تھا اور اس کے ساتھ عالم بھی موجود تھا، تو ان الفاظ کا مطلب صرف اتنا ہے پہلے ایک ذات موجود تھی اور دوسری ذات موجود نہ تھی، پھر دو ذاتیں موجود تھیں، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ کسی تیسری چیزکو بھی فرض کیا جائے اگرچہ وہم اس بات پر اکتفا نہیں کرتا اھ۔ اس پر قیاس کرتے ہوئے اس جگہ یہ کہا جائے گا کہ پہلے عدم تھا حادث نہیں تھا، پھر حادث موجود تھا جبکہ عدم نہیں، اس جگہ ایک چیز کا اثبات اور دوسری کی نفی ہے، تیسری کوئی چیز نہیں ہے۔ اقول : ( میں کہتا ہوں کہ) اس جگہ تیسری چیز کی تقدیر کے بغیر بات معقول نہیں ہے۔
(۱تہافت الفلاسفہ فی العقائد)
٭ اقول : رحمہ اﷲ الا مام و ایانا بہ حق العبارۃ ان یقال ثم کان وھو مع العالم فھو تعالٰی مع کل شیئ وتعالٰی ان یکون معہ شیئ معیۃ متعالیۃ عن المعیۃ المتعارفۃ المشترکۃ فی المعنی المتساویۃ فی الاثنین
وھو معکم این ما کنتم۱
ولم یرد انتم معہ بل الاولٰی فی التعبیرثم کان العالم واﷲ معہ کیلا یوھم کونہ ثانیا ﷲ عزوجل ۱۲ منہ غفرلہ۔
٭اقول : ( میں کہتا ہوں ) اﷲ تعالٰی امام غزالی پر رحم فرمائے اور ان کے وسیلے سے ہم پر رحم فرمائے عبارت اس طرح ہونی چاہیے تھی ثم کان وھو مع العالم پھر اللہ تعالٰی عالم کے ساتھ موجود تھا پس اﷲ تعالی ہر شے کے ساتھ ہے اور وہ بلند ہے اس سے کہ کوئی شے اس کے ساتھ ہو، اس کی معیت معروف معیت سے بلند ہے جس مین دو چیزیں کسی معنی میں شریک ہوتی ہیں اور ان میں مساوات ہوتی ہے۔ ارشاد ربانی ہے وھو معکم اینما کنتم وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں بھی ہو، اور یہ نہیں فرمایا کہ انتم معہ تم اس کے ساتھ ہو۔ اس لیے بہتر تعبیر یہ ہے۔ پھر عالم موجود تھا اور اﷲ تعالٰی اس کے ساتھ تھا، تاکہ عالم کا اﷲ تعالٰی کے لیے ثانی ہونا لازم نہ آئے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(۱القرآن الکریم ۵۷ /۴)
(۲) لا نسلم التقدم بالزمان سالانہ فرع وجود الزمان (مواقف شرجہا)۔ اقو ل : تقدم ابینا ادم علیہ الصلوۃ والسلام علینا زمان یعلمہ البلہ والصبیان فلایسوع انکارہ موجود ا کان الزمان موھوما وتقدم عدم الزمان علی الزمان بالزمان ولو الحاظ العقل محال قطعاً ۔
(۲) ہم سرے سے نہیں مانتے کہ یہ تقدم زمانی ہے کیونکہ تقدم زمانی فرع ہے وجود زمان کی ( مواقف اور شرح مواقف) اقول : حضرت آدم علیہ السلام کا ہم سے مقدم ہونا زمانے کے اعتبار سے ہے اسے بے وقوف اور بچے بھی جانتے ہیں اس لیے اس کا انکار درست نہیں ہے ، چاہے زمانہ موجود ہو یا موہوم اور عدم زمان کا زمانے پر تقدم زمانی کے ساتھ مقدم ہونا اگرچہ لحاظِ عقل میں ہو قطعاً محال ہے۔
(۳) التحقیق ان الزمان وھمی ولیس امراً موجودًا من جملۃ العلم یتصف بالقدم اوالحدوث ۱ (مقاصد وشرحہا) وتبعہ المتعاصران القوشجی وخواجہ زادہ ولفظہ لیس امرا موجودا لیلزم من انتفاء حدوثہ قدمہ ۲ ؎اھ۔
(۳) تحقیق یہ ہےکہ زمانہ ایک موہوم امر ہے، امر موجود نہیں ہے بلکہ یہ از قبیل معلومات ہے قدم اور حدوث کے ساتھ متصف ہوتا ہے(مقاصد و شرح مقاصد) صاحبِ مقاصد کی پیروی ان کے دو معاصروں علامہ قوشجی اور خواجہ زادہ نے کی ہے، ان کی عبارت کا ترجمہ یہ ہے، زمانہ ا مر موجود نہیں ہے تاکہ اس کے حادث نہ ہونے سے اس کا قدیم ہونا لازم آئے۔
( ۱ ؎ شرح المقاصد المقصد الرابع المبحث الخامس فی احکام الاجسام دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ /۳۳۴)
( ۲ تہافت الفلاسفہ للخواجہ زادہ )
اقول : اولاً قداجمعا علٰی حدوثہ ففیہ انکار لا صل والدعوٰی وثانیاً لا شک فی واقعیۃ الزمان وقد نطق بہ نصوص القرآن او
واﷲ یقدر الیل والنہار ۳؎
وما التقدیر الا للامتداد
یولج الیل فی النھار و یولج النہار فی الیل۴ ؎
ای یربی تارۃ مقدار ھذا علٰی ذلک واخری بالعکس و ذلک ان القدر الاوسط للکل منھما اثنا عشرۃ ساعۃ ،
اقول : (۱) ہمارا اس بات پر اجماع ہے کہ زمانہ حادث ہے اس جواب میں تو اصل دعوٰی ہی کا انکار کردیا گیا ہے ۔ (۲) زمانے کے امر واقعی ہونے میں کوئی شک نہیں ہے نصوصِ قرآن اس کی گواہی دے رہی ہیں واﷲ یقدر الیل والنہار اللہ دن اور رات کا اندازہ مقرر فرماتا ہے اور اندازہ امتداد ہی کا مقرر کیا جاتا ہے۔ یولج الیل فی النہار ویولج النہار فی الیل رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے یعنی کبھی اس کی مقدار اس پر زیادہ کرتا ہے اور کبھی اس کے برعکس فرماتا ہے اور یہ اس طرح کہ دن اور رات کی درمیانی مقدار بارہ گھنٹے ہے،
(۳القرآن الکریم ۷۳ /۲۰) ( ۴ ؎ القرآن الکریم ۵۷ /۶)
فتارۃ ید خل اللیل فی ساعات النہار فتصیر اربع عشر ساعۃ مثلاً ویبقی النہار عشراً وتارۃ بالعکس
ان عدۃ الشھور عنداﷲ اثنا عشر شھرا فی کتاب اﷲ یوم خلق المسوات والارض ۱ ؎ ۔
ھذا النص ایۃ علی واقعیۃ الزمان وعلی حدوثہ معا بیدی الدھر اقلب اللیل والنہار ۲؎ الٰی غیر ذلک واذلیس وجودہ فی الاعیان کما دلّ علیہ البرھان فلا محید عن وجودہ فی الاذھان ، فاذا لم تجز مسبوقیتہ بالعدم وجب کونہ فی الذھن من الازل فیلزم قدمہ و قدم الذھن قال فی المقاصد وشرحھا فان ثبت وجود الزمان بمعنی مقدار الحرکۃ لم یمتنع سبق العدم علیہ باعتبار ھذا الامر الوھمی کما فی سائر الحوادث ۱۔
پس کبھی رات کو دن کی ساعتوں میں داخل فرمادیتا ہے تو رات مثلاً چودہ گھنٹوں کی ہوجاتی ہے اور دن دس گھنٹوں کا رہ جاتا ہے، اور کبھی اس کے برعکس ہوتا ہے انّ عدۃ الشہور عنداﷲ اثنا عشر شھراً فی کتاب اﷲ یوم خلق السموات والارض بے شک مہینوں کی گنتی اﷲ کے پاس ۱۲ مہینے ہے اللہ کی کتاب میں جب آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ، یہ آیت بہت واضح طور پر زمانے کے امر واقعی اور حادث ہونے پر دلالت کرتی ہے بیدی الدھر اُقلب اللیل والنہار میرے ہی ہاتھ میں زمانہ ہے میں دن اور رات کا ردوبدل کرتا ہوں، اس کے علاوہ دوسری آیات بھی ہیں اور جب زمانہ خارج میں موجود نہیں ہے جیسے کہ دلیل سے ثابت ہوتا ہے تو ماننا پڑے گا کہ وہ اذہان میں موجود ہے اور جب عدم اس سے مقدم بتقدم زمانی نہیں ہوسکتا تو ماننا پڑے گا کہ وہ ازل سے ذہن میں تھا۔ اس طرح نہ صرف زمانے کا قدیم ہونا لازم آئے گا بلکہ ذہن کا قدیم ہونا بھی لازم آئے گا مقاصد اور اس کی شرح میں ہے زمانہ جو مقدار حرکت ہے اگر اس کا وجود ثابت ہوجائے تو تمام حوادث کی طرح اس امر وہمی کے اعتبار سے عدم کا اس سے پہلے ہونا محال نہیں ہوگا۔
(۱ ؎ ۔ القرآن الکرم ۹/ ۳۶)
( ۲ ؎صحیح البخاری باب ومایہلکنا الاالدہر ۲/ ۷۱۵ وباب قول اﷲ تعالٰی یریدون ان یبدلواکلام اﷲ ۲ /۱۱۱۶)
(صحیح مسلم کتاب الالفاظ باب النہی عن نسب الدھر قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۷)
(سُنن ابی داؤد باب فی الرجل یسب الدھر آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۵۹)
(مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۳۸)
( ۱ ؎ شرح المقاصد المقصد الرابع المبحث الخامس فی احکام الاجسام دارالمعارف النعمانیہ لاہور ۱ /۳۳۴)