| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
اقول : کلام بہت چمیلا ہے مگر یہاں مفید نہیں وصف شیئ اگر اسی وصف سے کہ فلاں شی کا وصف ہے مشہور و معلوم ہو تو بے شک رفع شے سے اس کا رفع بدیہی ہوگا اور اگر وہ فی نفسہ معلوم و متیقن اور اس کا وصف شے ہونا معلوم و مسلّم نہ ہوا اگرچہ وہ واقع میں وصف شے ہو تو ہر گز رفع شیئ سے اس کا رفعِ خیال بھی نہ کریں گے اور وہ یقین جو ان کو اس وصف پر بالاستقلال حاصل ہے وجود شیئ وعدم شیئ کی تقدیروں سے نہ بدلے گا، ان کے نزدیک استقلال سے واقع میں اس کا استقلال لازم نہیں، تو اس بیان سے مقدار حرکت فلک ہونے کی نفی نہیں ہوتی وہاں جہاں وہ زمانے کے وجودِ خارجی پر کہتے ہیں کہ ہم قطعاً جانتے ہیں کہ ذہن نہ ہوتا جب بھی زمانہ ہوتا ، وہاں یہ تقریر مفید ہے جس طرح ہم نے مقام ۲۶ میں ذکر کی اور ہمیں اس پر استدلال کی حاجت نہیں مدعی مخالف ہے اس کی دلیل کا ابطال ہی بس ہے بلکہ ہم اسی کی دلیل سے ثابت کردیں گے کہ زمانہ حرکت فلک کی مقدار نہیں فلسفی اپنے زعم پر دلیل یہ گھڑتا ہے کہ زمانہ مقدار حرکت ہے اور ازلی و ابدی تو حرکت مستقیمہ کی مقدار نہیں ہوسکتا ایک ہی حرکت ہو تو بعد نامتناہی لازم یا پلٹ پلٹ کر ہو تو ہر پلٹے پر سکون ضرور کہ کہ دو حرکت مستقیمہ متصل نہیں اور س کے سکون سے زمانہ کہ اس کی مقدار ہے منقطع ہوجائے گا لاجرم مقدار حرکت مستدیرہ ہے اور واجب کہ یہ حرکت ہر حرکت سے سریع ہو ورنہ زمانہ اسرع کی تقدیر سے عاجز رہے گا حالانکہ جملہ حرکت اس سے اندازہ ہوتی ہیں اور واجب کہ سب حرکتوں سے ظاہر تر ہوکہ اس کی مقدار زمانہ ہر صبی و جاہل پر ظاہر ہے اور وہ نہیں مگر حرکتِ یومیہ جس سے رات دن ، مہینے برس اندازہ کیے جاتے ہیں اور واجب کہ جو جسم اس سے متحرک ہے بسیط ہو کہ مختلف الطبیعۃ اجزاء سے مرکب ہو تو ہر جز اپنے حیز طبعی سے جدا ہو کر قسراً اسی حیز کل میں ہوا، اور قسر کو دوام ہیں تو انجام کار اجزاء متفرق ہوجائیں اور جسم ٹوٹ کر حرکت نہ رہے زمانہ قطع ہوجائے اور جب وہ بسیط ہے تو واجب کہ کرہ ہو کہ بسیط کی یہی شکل طبعی ہے تو ثابت ہوا کہ وہ جسم جس کی مقدار حرکتِ زمانہ ہے وہی کرہ بسیطہ متحرک بحرکت مستدیرہ ہے جس کی حرکت حرکت یومیہ ہے اور وہ نہیں مگر فلک الافلک اور یہاں سے یہ بھی ثابت ہوا کہ فلک اور اس کی حرکت ازلی ابدی ہیں۔
اقول : حاشا بلکہ فلاسفہ کا کذب و سفہ۔اولاً : ہم ثابت کرچکے کہ زمانہ مقدار حرکت ہی نہیں۔ ثانیاً : باذنہ تعالٰی روشن کریں گے کہ وہ قطعاً حادث ہے۔ ثالثا: مقام ۲۱ میں واضح ہوچکا کہ حرکاتف مستقیمہ کا اتصال جائز۔ رابعاً : نہ سہی پھر انقطاعِ زمانہ ہی کیا محال۔ خامساً : وجوب انقطاع قسر کا رَد مقام ۱۲ میں گزرا ۔ سادساً : ان سب سے قطع نظر ہو تو اس کا حرکت مستدیرہ وضعیہ ہونا ہی کیا ضرور۔ کیوں نہیں جائز کہ کسی دائرے یا مدار بیضی عدسی شلجمی اہلیلجی پر حرکت اینیہ ہو اب نہ لاتناہی بعد لازم نہ تخلل سکون۔ سابعاً : غایت یہ کہ اس حرکت سے اسرع نہ ہو نہ کہ وہی اسرع ہو۔ ثامناً : اگر اس کی بساطت ضرور تو ہم ثابت کرچکے کہ افلاک بسیط نہیں تو ضرور زمانہ مقدار حرکت فلک نہیں۔ تاسعاً : بسیط کی شکل طبعی کُرہ ہونے سے شکل طبعی پر ہونا کب واجب، جیسے تین عنصر کرویت پر نہیں۔
عاشراً : زمانہ کا اظہر اشیاء سے ہونا کیا اسے مستلزم کہ وہ حرکت بھی ایسی ہی اظہر ہو، اس کا مقدار حرکت ہونا خود شدید الخفا ہے لاکھوں عقلا اسے نہیں مانتے اور اگر یہ بھی ایسا ہی ظاہر ہوتا جب بھی خاص اس حرکت کا ظہور کیا ضرور، عام اذہان میں اتنا ہونا کہ یہ کسی حرکت کی مقدار ہے اس حرکت کے معلوم ہونے کو کب مستلزم ۔ حادی عشر : یہ بھی ماننا تو اب ضرور ہے کہ وہ حرکت حرکت فلک نہ ہو کہ حرکت فلک سخت اشد الخفا ہے ہیئت جدیدہ و الے تو سرے سے فلک ہی نہیں مانتے اور ہیئت اسلامیہ فلک کا متحرک ہونا قبول نہیں فرماتی، اور عامہ اذہان یہی اس سے خالی تو ضرور یہ حرکت حرکت یومیہ حرکت شمس ہے جس سے ہر جاہل ہر بچہ تک آگاہ اور بلاشبہ اظہر الحرکات ہے۔ ہیئت جدیدہ اگرچہ ہنگام ادعا اسے براہ جہالت منسوب بزمین کرے مگر اعمال و محاسبات میں وہ بھی حرکتِ شمس ہی کہتی اور لکھتی اور اس کے مدار منطقۃ البروج کا نام آف دی سن(of the sun) رکھتی ہے یعنی شمس کا راستہ ، نہ آف دی ارتھ (of the Earth)زمین کا۔
ثانی عشر : بساطت کا شگوفہ بھی یہی گل کھلاتا ہے ہم مقام اول میں ثابت کرچکے کہ بسیط کی شکل طبعی کرہ مضمتہ بے جوف ہے اور شمس ہی ایسا ہے نہ کہ فلک تو ضرور حرکت یومیہ شمس ہی کی حرکت ہے نہ فلک کی متشدق زیادہ چالاک ہے، اس نے تمام احتمالات کا احاطہ کرکے ماورائے مطلوب کا ابطال چاہا اور کہا حرکات مستقیمہ و کمیہ و کیفیہ نیز تمام طبعیہ وقسریہ سب حادث ہوتی ہیں اور حادث کو زمانہ درکار، تو زمانہ کہ اُن پر مقدم ہے ان کی مقدار نہیں ہوسکتا۔ نیز مستقیمہ طبعیہ سے پہلے تحدید جہات درکار ،اور وہ نہ ہوگی مگر ایسے جسم سے جس کی حرکت مستدیرہ واجب اور قسریہ بے امکان طبعیہ نہیں تو یوں بھی زمانہ حرکت مستقیمہ کی مقدار نہیں ہوسکتا ۔نیز حرکت کو اتصال مسافت کے ذریعہ سے جو اتصال عرضی ملتا ہی وہ علتِ زمانہ ہے اور حرکاتِ کیفیہ بلکہ کمیہ بحیثیت کمیہ کے لیے بھی اتصال مسافی نہیں صرف اتصال زمانی ہے تو اس وجہ سے بھی یہ خارج ہوئیں اور نہ رہی مگر حرکت مستدیرہ ارادیہ ازلیہ ابدیہ وہی زمانہ بنائے گی ، اور وہ نہیں مگر حرکت فلک۔
اقول اولاً : حرکت مطلقاً ہوسکتی ہی نہیں مگر حادث کو وہ انتقال ہے، اور انتقال موجب مسبوقیت اور ازلی مسبوقیت سے پاک اور قدم نوعی کی گند(عہ) ہم پہلے ہی کاٹ چکے ہیں تو حرکت سے علی الاطلاق ہاتھ دھولو، اور زمانہ کی مقدار حرکت ہونے کو استغفا دو۔
عہ : بالفتح بمعنی گندگی ۱۲ الجیلانی
ثانیاً : طبعیہ کا عدم دوام یا اس پر مبنی کہ مستدیرہ طبیعہ نہیں ہوسکتی اور مستقیمہ کا دوام لاتناہی بعد کو مستلزم ورنہ تخل سکون لازم یا اس پر کہ طبعیہ نہ ہوگی مگر جب حالت منافرہ پائی جائے اور وہ نہ ہوگی مگر قاسر سے اور قسر کو دوام نہیں یا اس پر طبعیہ طلب مقتضائے طبیعہ کے لیے ہے اسے پا کر سکون واجب اور طبعیہ کا دائماً اپنے کمال سے محروم رہنا محال اور ہم ثابت کرچکے کہ پانچویں مقدمے باطل و ممنوع ہیں۔ چہارم کا ابطال مقام دہم میں گزرا۔ ثالثاً: یونہی قسریہ کا عدم دوام یا اس لیے ہے کہ مستدیرہ قسریہ نہیں ہوسکتی نہ مستقیمہ دائمہ نہ قسر کو دوام اور تینوں باطل ہیں۔ رابعاً : کمیہ کا دوام کیوں محال نمودائم کے لیے بھی بعد غیر متناہی درکار نہیں، ممکن کہ ایک بار گز بھر نمو ہو پھر آدھ گز پھر پاؤ گز، یونہی الی غیر النہایہ کو تقسیم ذراع نامتناہی ہے اور کبھی دو گز تک بھی مقدار نہ پہنچے گی نہ کہ غیر متناہی اور قوتِ جسمانیہ کا غیر متناہی پر قادر نہ ہونا مقام ۲۴ میں باطل ہوچکا اور ذبول میں تو کوئی دقت ہی نہیں کہ تجزیہ جسم نامتناہی ہے۔ خامساً : یونہی دوام حرکت کیفیہ کا استحالہ ممنوع۔ سادساً : انقطاعِ زمانہ ہی کیا محال، پھر دائماً کی کیا حاجت ۔ سابعاً : ہم مقام ۲۶ میں ثابت کرچکے کہ مطلقاً حرکت محتاج زمانہ ہے تو زمانہ اس کی مقدار نہیں ہوسکتا۔ ثامناً : تحدیدِ جہات کا قضیہ بھی طے ہوچکا۔ تاسعاً :غلط ہے کہ محدد کا استدارہ واجب بلکہ ہم ثابت کرچکے کہ باطل ۔ عاشراً: یہ بھی غلط کہ جہاں طبع نہیں قسر نہیں۔
حادی عشر : ہر ایک کی مسافت اس کے لائق ہے حرکت کمیہ کہ ذبول یا تکاثف سے ہو اس کی مسافت جسم تعلیمی ہے کہ ہر آن مقدار گھٹے گی اور وہ ضرور اتصال رکھتا ہے اس کے ذریعہ سے کمیہ کو بحثیت کمیہ ہونے کے اتصال عارض ہوگا اگر چہ نمو وتخلل میں بحیثیت اینیہ ہوتا۔ ثانی عشر : تم تو آن سیال کو راسم زمانہ کہتے ہو اتصال مسافی کیسا؟ ثالث عشر : کیوں نہیں جائز کہ مستدیرہ دائمہ ارادیہ کسی دائرہ وغیرہ خط منحنی واحد پر کسی کی حرکت ہو۔ رابع عشر : سب جانے دو وہ مستدیرہ دائمہ ارادیہ حرکت فلک ہی ہونا کیا ضرور،کیوں نہ حرکت شمس ہو۔ خامس عشرتا سابع عشر : آگے وہی شعریات گائے کہ یہ اظہر المقادیر ہے تو وہ اظہر الحرکات واسرع الحرکات ہونا چاہیے اور اس پر وہی سابق کے ۷ و ۱۰ و ۱۱ وارد۔ ثامن عشر : شطرنج میں بغلہ اور بڑھایا کہ جس جسم کی یہ حرکت ہے چاہیے کہ وہ سب اجسام کو محیط ہو یہ کیوں، یہ اس لیے کہ شیخ چلی یونہی کہہ گئے ہیں یہ ہیں اس کی وہ خرافات مضحکہ جن کو کہتا ہے حکمت حقہ حقیقیہ یقینیہ واجب الاتباع ولاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ( نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قوت مگر بلندی و عظمت والے خدا کی توفیق سے۔ت)