Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
153 - 212
مقام بست وہشتم
زمانہ موجود ہو خواہ موہوم کسی حرکت کی مقدار نہیں ہوسکتا۔

اقول : ظاہر کہ زمانہ حرکتِ توسطیہ کی مقدار ہونا ناممکن کہ وہ متجزی ہی نہیں، یہ امتداد وہ متجدد نہیں یہ غیر قار تو ضرور اگر ہوگا تو حرکت قطعیہ کی مقدار ہوگا تو وجود زمانہ وجود حرکت قطعیہ پر موقوف کہ معروض کو عارض پر تقدم بالذات، اور حرکت قطعیہ کا نہ صر ف تشخص بلکہ نفس ماہیۃ انتقال پر موقوف کہ یہ اس کی ایک نوع ہے تو اسے اس پر تقدم بالذات، اور انتقال بداہۃً تقدم منتقل عنہ پر موقوف، اگر منتقل عنہ پہلے نہ تھا انتقال کس سے ہوا، اور پر ظاہر کہ یہاں سابق و لاحق جمع نہ ہوسکتے  ورنہ انتقال انتقال نہ ہوا اور تمہاری تصریحوں سے وہ تقدم جس میں قبل وبعد جمع نہ ہو سکیں نہیں ہوتا، مگر زمانی ا ور بلاسبہہ تقدم زمانی وجود زمانہ پر موقوف تو وجود زمانہ وجود زمانہ پر کئی درجے مقدم اس سے زائد کیا محال درکار۔
الحمدﷲ ہماری اس تقریر سے دفع دور کا وہ حیلہ جو افق المبین و قبسات باقر وغیرہما میں کیا گیا دفع و دور ہوگیا، دوریوں قائم کیا جاتا کہ زمانہ کی مقدار حرکت ہے، حرکت پر موقوف اور حرکت کا وجود ممکن نہیں مگر سرعت و بطوء کی ایک حد معین پر اور سرعت و بطو بے تقدر زمانہ ناممکن، تو حرکت زمانہ پر موقوف، اور اس کا جواب یہ دیا تھا کہ زمانہ ماہیت حرکت پر موقوف ہے اور ماہیت میں سرعت و بطوء کچھ داخل نہیں، یہ حرکت شخصیہ کو درکار تو تشخص حرکت زمانی پر موقوف ہوا اور دور نہیں جیسے مقدار جسم جسم پر موقوف اور جسم اپنے تشخص میں مقدار کا محتاج، ظاہر ہے کہ ہماری تقریر سے اسے کچھ مس نہیں ، ہم نے خود ماہیتِ حرکت کا زمانہ پر توقف ثابت کیا ہے، مباحث یہاں اور بھی ہیں جن کے ایراد سے اطالت کی حاجت نہیں۔
مقام بست و نہم
زمانہ کا مقدار حرکت فلکیہ ہونا تو کسی طرح ثابت نہیں بلکہ نہ ہوناثابت ہے، شَے کو معدوم ماننے سے اس کی مقدار کا عدم بالبداہت لازم آتا ہے، ( کوئی عاقل گمان نہیں کرسکتا کہ جسم تو معدوم ہے مگر اس کا طول و عرض باقی ہے) زمانہ اگر مقدار حرکت فلکیہ ہوتا تو اس کے عدم سے اس کا عدم بدیہی ہوتا اور یہ تصور کرنا کہ فلک نہیں اور زمانہ ہے ایسا تصور ہوتا کہ حرکت نہیں اور ہے حالانکہ ہر گز  ایسا (عہ) نہیں بلکہ اس کے خلاف پر یہ یقین ہوتا ہے کہ اگر چہ نہ فلک ہوتا نہ اس کی حرکت ، جب بھی ایک امتداد جس سے تقدم و تاخر و ماضی و مستقبل ہوں ضرور ہوتا، اور اگر تصور کریں کہ فلک نہ تھا پھر ہوا یا ساکن تھا پر متحرک ہوا یا آئندہ فلک یا اس کی حرکت نہ رہے جب بھی وہ امتداد تھا اور رہے گا ( کہ تھا اور نہ تھا اور پھر آئندہ سب اسی سے متعلق ہیں) فلسفی کا زعم یہ کہ یہ بداہت بداہت وہم سے جیسے وہم کا یہ زعم کہ فلک الافلک کے باہر غیر متناہی فضا ہے محض تحکم ہے یہ امتداد ( جس پر تھا اور ہے اور ہوگا کی بنا ہے جسے ہر بچہ اور ہر ابلہ جانتا ہے) اس پر یقین دونوں حالتوں میں یکساں ہے خواہ حرکتِ فلک کہ موجود مانیں یا معدوم، اگر یہ حکم عقل کا ہے تو دونوں حالتوں میں اور وہم کا ہے تو دونوں میں یہ تفرقہ کہ حرکتِ فلک ماننے کی حالت میں تو یہ حکم حکمِ عقل ہے اور نہ ماننے کی حالت میں حکمِ وہم ہے محتاج برہان ہے حرکتِ فلک نہ ہونے کی حالت میں اگر اذہان اسے قبول کرسکتے ہیں کہ وہ امر واضح جس پر تھا اور ہے اور ہوگا کہ بنا ہے) نہ ہوگا تو حرکتِ فلک ہونے کی حالت میں اسے کیوں نہ قبول کرسکیں گے ( لیکن وہ دونوں حالتوں کو اس کے قبول و انکار میں یکساں پاتے ہیں تو معلوم ہوا کہ یہ امر واضح کوئی جدا گانہ شیئ ہے جس کے ماننے کو فلک و حرکت فلک سے کوئی تعلق نہیں ( شرح مقاصد بتلخیص و ترتیب و ایضاح بزیادۃ الاہلۃ منا)
عہ : علامہ نے یہاں یہ زائد کیا کہ لہذا آج تک کسی عاقل نے یہ زعم نہ کیا کہ حرکت فلک کا ازلی بدی ہونا بدیہی ہے۔ اقول : عدمِ حرکت سے عدم زمانہ کی بداہت اسے مستلزم نہیں کہ حرکت فلک کی سرمدیت بدیہی ہو یہ جب ہوتا کہ زمانہ کی سرمدیت بدیہی ہوتی ۱۲ منہ غفرلہ۔
Flag Counter