| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
زمانے کے لیے خارج میں کوئی منشا انتزاع بھی نہیں۔ اقول : اس کا منشا انتزاع حرکت قطعیہ ہے یا توسطیہ یا آناً فاناً حدود مفروضہ مسافت سے اس کی نسبت متجددہ یا آن سیال یا اس کا سیلان یا مسافت یا اس کا اتصال یا نسب متجددہ یا اس کے اتصال سے حرکت کا اتصال عرضی یا متحرک یا اس کا اتصال یا تجدد نسب، ان کے سوا تیرھویں کوئی چیز ایسی متعلق نہیں جس سے انتزاع زمانہ کا تو ہم ہوسکے، اور ان بارہ میں کوئی صالح انتزاع زمانہ نہیں اس کے لیے چار شرطوں کی جامعیت لازم ۔ (۱) امتداد کہ بسیط غیر منقسم سے انتزاع امتداد معقول نہیں۔ (۲) عدم قرار کہ قارمن حیث ھوقار سے انتزاع غیر قارنا متصور۔ (۳) وجود خارجی کہ اسی میں کلام ہے۔ (۴) اس کا وجود زمانے پر موقوف نہ ہونا کہ دور نہ ہو۔ ان بارہ میں سے کوئی ے ان چاروں شرائط کی جامع نہیں۔ شرط اول سے حرکتِ توسطیہ و آن سیال خارج کہ بسیط غیر منقسم ہیں۔ شرط دوم سے یہ دونوں اور مسافت و متحرک اور ان کے اتصال یہ چھ خارج کہ قار ہیں ۔ شرط سوم سے باقی چھ نیز آن سیال ، سات خارجی کہ ہم ثابت کر آئے کہ حرکت قطعیہ موجود فی الخارج نہیں تو اس کا اتصال عرضی بدرجہ اولی ، اور یہ کہ آن سیال اور اس کا سیلان محض اختراع بے اصل ہے، اور نسبتوں کا اعیان سے نہ ہونا بدیہی، شرط چہارم سے سیلان آن اور تینوں تجدد نسب بلکہ حرکت قطعیہ اور اس کا اتصال عرضی بھی، یہ چھ خارج ہم مقام ۲۵ میں ثابت کر آئے کہ سیلان آن بلحاظ زمان ہی ہے اور تجدد کا زمانے پر توقف بدیہی کہ وہ نہیں مگر یہ کہ آن سابق میں نسبت یہ تھی اور لاحق میں یہ، اور عنقریب ہم مقام ۲۸ میں ثابت کریں گے کہ حرکت قطعیہ زمانے پر موقوف اور اس کا اتصال عرضی اس کی ذات پر موقوف ہونا ظاہر تو زمانے کا ان سے انتزاع دور ہے۔ تو روشن ہوا کہ خارج میں کوئی منشاء نہیں جس سے انتزاع زمانہ ہوسکے اگر کہیے جب خارجی میں نہ زمانہ نہ اس کا منشاء انتزاع تو انیاب اغوال کی طرح محض اختراع ، اور یہ عقلاً باطل اور نقلاً ابتداع۔
اقول : ہاں متشدق اور اس کے متبوعوں کے طور پر ایسا ہی ہے کہ وہ اسے موجود خارجی مانتے ہیں حالانکہ خارج میں نہ وہ نہ منشاء ا ور ایسی شیئ کو بحکم وہم موجود فی الخارج سمجھنا ہی انیاب اغوال کا اختراع ہے لیکن موجود ذہنی کو موجود ذہنی جاننا اختراع نہیں واقعیت ہے جیسے معقولات ثانیہ کو اسے انیاب اغوال سے کہنا جنون، ہم اوپر ثابت کرچکے کہ زمانہ ممکن کہ کسی حالت ذہنیہ سے منتزع ہو، ممکن کہ بالا انتزاع اصالۃً ذہن میں موجود ہو اور دونوں صورتوں پر انیاب اغوال سے نہیں ہوسکتا۔
تنبیہ نافع
اقول : حق یہ ہے کہ یہ ایک سخت کمند غیبی ہے کہ وہم کی گردن میں ڈالی گئی اور عقول ناقصہ کے سراس میں پھنس گئے۔
للبسنا علیھم مایلبسون۱ ؎۔
(اور ہم نے ان پر وہی شبہ رکھا جس میں اب پڑے ہیں۔ت)
(القرآن الکریم ۶/ ۹)
کے زبردست ہاتھوں نے اس دارالامتحان میں اس کا حلقہ اتنا سخت محکم کردیا کہ۔ع
تو چنداں کہ اندیشی گرد و بلند سرخود برون ناور دزین کمند
(تو جتنا اندیشہ کرے گا وہ اور بلند ہوگی، اس کمند سے اپنے سر کو نہیں بچایاجاسکتا)
ان کی ناقص عقلوں میں آ ہی نہیں سکتا کہ بھلا زمانہ کیونکر محض موہوم ہو ان کی بداہت وہم حکم کرتی ہے کہ اگر ذہن و ذاہن کچھ نہ ہوتے جب بھی زمانہ ضرور ہوتا، حالانکہ وہی بداہت حکم کرتی ہے کہ اگر فلک و حرکت کچھ نہ ہوتے جب بھی زمانہ ضرور ہوتا اسے بداہت وہم کہتے ہو اسے کیوں نہیں کہتے اتنی بات وسواس نے ان کے دلوں میں ڈالی اور یہ وہ پہلا بنیاد کا پتھر تھا جس پر صدہا کفریات کی عمارت چنتے چلے گئے جب زمانہ خود موجود متاصل ہے ضرور ازلی ابدی ہوگا ورنہ زمانے سے پہلے یا بعد زمانہ لازم آئے اور جب وہ سرمدی ہے ضرور حرکت فلکیہ کہ ان کے زعم میں یہ اس کی مقدار ہے ازلی ابدی ہے تو فلک الافلاک قدیم ہے پھر استحالہ خلا سے نیچے کے افلاک و عناصر قدیم ہیں غرض عالم قدیم ہے اور جو ان سے بھی زیادہ بدعقل تھے ان پر یہ گتھی اور بھی کری لگی ان کے عقل میں بھی نہیں آسکتا کہ کوئی موجود زمانہ سے خارج ہو، ایسی ہی وہم پر وری ان پر مکان وجہت سے پڑی بھلا جو کسی جگہ نہ ہو کسی طرف نہ ہو کسی وقت میں نہ ہو موجود کیسے ہوسکتا ہے ناچارانہوں نے اپنے معبود کو زمانی مکانی جہت میں مستقر مان کر خاصہ ایک جسم بنادیا، لاحول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم : ( نہ گناہ سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قوت ہے مگر بلندی و عظمت والے خدا کی توفیق سے(ت)