Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
151 - 212
ثالثاً اقول : خود کہتے ہو کہ زمانہ مقدار حرکت قطعیہ ہے، اور ہم ثابت کرچکے اور تمہارے سب اگلوں کو اعتراف تھا کہ حرکتِ قطعیہ موجود فی الخارج نہیں تو زمانہ ایک موجود ذہنی کو عارض ہوا اور جب یہ برہان سے ثابت تو اس پر یہ استبعاد کہ زمانہ تصور پر موقوف ہوگیا تصور نہ ہو تو زمانہ ہی نہ محض جہالت ہے ہاں ایسا ہی ہوگا پھر کیا محال ہے بلکہ ایسا ہی ہونا واجب کہ مقدار حرکت ہونے کو یہی لازم، اس کاجواب جُہلا کی طرف سے ادعائے بداہۃً ہوتا ہے کہ ہم بداہۃً جانتے ہیں کہ اگر ذہن و ذاہن نہ ہوں تو زمانہ ضرور ہوگا۔

اقول : بُرہاناً ہم جانتے ہیں کہ اگر ذہن و ذاہن نہ ہوں زمانہ ہر گز نہ ہوگا اور جواب ترکی بہ ترکی وہ ہے کہ مقام ۲۹ میں آتا ہے کہ ہم بداہۃً جانتے ہیں کہ اگر فلک وہ حرکت نہ ہوں زمانہ ضرور ہوگا۔ اس پر سفہاء کہتے ہیں بداہت وہم ہے جب زمانہ اسی کی مقدار تو بے اس کے کیونکر ہوسکتا ہے ہم کہتے ہیں وہ تمہاری بداہت وہم ہے جب زمانہ ایک امر ذہنی کی مقدار تو بے ذہن و ذاہن کیونکر ہوسکتا ہے ، فرق اتنا ہے کہ تم جس پر تکذیب بداہت کرتے ہو یعنی زمانے کا مقدار حرکت فلکیہ ہونا وہ ہر گز ثابت نہیں، جیسا کہ مقام ۲۹ میں آتا ہے تو تمہاری تکذیب کا ذب ہے اور ہم جو تمہاری بداہۃً وہمیہ کا رَد کرتے ہیں اس پر برہان ناطق ہے تو ہمارا رَد صادق ہے۔

رابعاً : حالت خارجی سے منتزع کا وجود ذہنی بھی تصور شیئ پر موقوف، تو اس میں اور قسم دوم میں فرق کرنا یہاں  سلب و اضافت میں حصہ لینا اور وہاں یہ کہنا کہ وہ کسی تصور پر موقوف اور زمانہ ایسا نہیں اور شق اختراعی بڑھانا محض تطویل و تہویل ہے اصل اتنی ہے جو تمہارے دلوں میں ملادی گئی ہے کہ زمانے کا وجود اذہانِ پر موقوف نہیں، اگر یہ ثابت ہو تو پھر کسی تطویل و تہویل کی کیا حاجت، خود ہی مدعا ثابت اور اگر یہ ثابت نہیں اور بے شک نہیں تو اسے پیش کرنا صراحۃً مصادرہ علی المطلوب ہے اور تمہاری دلیل مردود و مسلوب، اس مصادرے کے چھپانے ہی کے لیے یہ تشقیق و شقشقہ تھا تشدق اسی کا نام ہے۔
شبہ ۶: زمانہ اگر انتزاعی ہو تو ضرور ہے کہ اس کا منشا انتزاع کم متصل غیر قار موجود فی الخارج ہو ورنہ تسلسل لازم آئے، اُسی منتشاء موجود خارجی کا نام زمانہ ہے( ملا حسن علی المتشدق)

اقول : اولاً  کیا ضرور ہو کہ منشاء کم ہو بلکہ متکمم ذہنی جس کے اتصال سے یہ کم منّزع ہے۔

ثانیاً: کیا محال ہے کہ وہ متکمم ذہنی کسی موجود خارجی غیر متکمم سے منزع ہو۔

ثالثاً کیا ضرور ہے کہ وہ منزع عنہ غیر قار الذات ہو ممکن کہ بحسب نسب متجدد وہ ، نہ تسلسل لازم آیا، نہ کسی کم غیر قار کا خارج میں وجود، اور یہاں ایسا ہی ہے زمانہ حرکت قطعیہ سے منتزع ہے اور وہ حرکت تو سطیہ بسیطہ کے تجدد نسب سے۔
تنبیہِ جلیل
اقول : احادیث میں ہے کہ ایام و شہور محشور ہوں گے، جمعہ و رمضان شفیع و شہید ہوں گے۔ ہر مہینہ اپنے ہر قسم و قائع کی گواہی دے گا سوائے رجب کے کہ حسنات بیان کرے گا اور سیئات کے ذکر پر کہے گا میں بہرا تھا مجھے خبر نہیں اس لیے اسے شہراصم کہتے ہیں ہر مہینے اپنے آنے سے پہلے خدمت اقدس حضور سیدنا غوث اعظم  رضی اللہ تعالٰی عنہ میں حاضر ہوتا اور جو کچھ اس میں ہونا والا ہے سب عرض کرتا اس سے زمانے کے وجود خارجی پر استدلال نہیں ہوسکتا ، یہ ارواح ہیں کہ ان معانی سے متعلق ہیں یا عالم مثال کے تمثیلات جن میں اعراض متجسد ہوتے ہیں، خود اس فقیر نے اس ایک سال جس سے پہلے کشش باراں ہوچکی تھی فصل بارش کے دوسرے مہینے کو جسے ہندی میں ساون کہتے ہیں ایک نہایت سیاہ فام تروتازہ فربہ حبشی کی شکل میں دیکھا کہ میرے کمرے کے دروازے پر آکر کھڑا ہوا، ساون میں خوب کالی گھٹائیں آئیں اور زور شور سے برسیں۔

رَدّ شبہ کے لیے دو باتیں بس ہیں۔

اوّل : شہورو ایام زمانے کے اجزائے ممتازہ منفرزہ ہیں اور زمانے کے اجزاکا ایسا وجود خارجی مخالفین بھی نہیں مانتے۔

دوم : سارا دن اور پور امہینہ مجتمع حاضر ہوگا حالانکہ مخالفین بھی خارج میں اس کا اجتماع اجزا محال جانتے ہیں بہرحال امورِ آخرت کو امورِ دنیا پر قیاس نہیں کرسکتے وہاں اعمال کہ اعراض ہیں میزان میں رکھ کر تو لے جائیں گے جب وہ قیام بالذات اعراض کے قیام بالذات کا موجب نہ ہوا  وجود خارجی وجود خارجی کا مستوجب نہ ہوگا۔

 فاستقم وتثبت تبتنا اﷲ وایاک بالقول الثابت فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ امین ۔(سیدھا ہو جا اور ثابت قدم رہ اﷲ تعالٰی ہمیں اور تجھے ثابت رکھے حق بات پر دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں، اے اللہ ہماری دعا کو قبول فرما ۔ت)
Flag Counter