| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
شبہ ۲ : بداہۃً معلوم کہ زمانہ قابل زیادت و نقصان ہے حرکت کہ ایک مسافت میں ایک زمانے میں ہوئی ضرور اس کا نصف اس سے کم میں ہوا، اور امر عدمی قابل زیادت و نقصان نہیں۔ لاجرم زمانہ امروجودی ہے، یہ اول سے بھی زیادہ فاسد و کاسد ہے، شک نہیں کہ طوفانِ نوح علیہ الصلوۃ والسلام سے بعثتِ سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تک جو زمانہ ہے وہ اس سے اکثر ہے جو بعثت سیدنا موسٰی علیہ السلام سے بعثتِ اقدس تک (مواقف) یونہی آج سے ختم ماہ حاضر تک جو زمانہ ہے وہ اس سے کم ہے جو آج سے دو ماہ آئندہ تک حالانکہ ماضی مسقبل سب معدوم ہیں۔ اقول : یہ سندیں مناسب نہیں کہ متشدق اور اس کے متبوع تمام ماضی و مستقبل کو موجود مانتے ہیں بلکہ یوں کہیے کہ شک نہیں کہ معدل النہار باقی سب مدارات یومیہ سے بڑا ہے اور ہر مدار کہ اس سے قریب ہے مدار بعید سے بڑا ہے اور ہر فلک بالا کا منطقہ فلک زیریں کے منطقے سے اور قطر قطر اور محور محور سے بڑا ہے حالانکہ ان میں سے کوئی شئے موجود خارجی نہیں بلکہ قطرہ سیالہ و شعلہ جوالہ کے خط آبی ودائرہ آتشی لیجئے وہ بھی قطعاً چھوٹے بڑے بھی ہوسکتے ہیں اور نصف و ثلث بھی۔ حل یہ کہ تمہاری دلیل شکل ثانی ہے یعنی زمانہ قابل تفاوت ہے اور اگر معدوم قابلِ تفاوت نہیں یا شکل اول ہے اگر عکس کبرٰی کو کبرٰی کرو اور کبرٰی کو اس کی دلیل کہ سالبہ کلیہ کنفسہا منعکس ہے، بہرحال صغرٰی میں قابلیت خارجی میں مراد تو ہر گز مسلم نہیں بلکہ اول نزاع ہے، اور مطلق مراد اگرچہ ذہن میں ہو تو کبرٰی میں اگر قابلیت خارجی مقصود حَدِّ اوسط متکرر نہیں اور یہاں یہی مطلق مقصود ، تو معدوم سے اگر معدوم فی الخارج مراد تو صراحۃً باطل اور سندیں وہی قطرو محورمنطقہ اور معدوم مطلق تو اتنا ثابت ہوا کہ زمانہ معدوم مطلق نہیں ، نہ یہ کہ موجود خارجی ہے۔
شبہ ۳: باپ کابیٹے پر وجود میں تقدم قطعاً واقعی ہے اور بداہۃً زمانی ہے اور زمانہ موہوم ہو تو اس کے اعتبار کاتقدم بھی موہوم ہو حالانکہ واقعی ہے اسے بھی بہت طویل بیان کرتے ہیں جسے ہم نے ملخص کیا یہ بھی مردود ہے، تقدم امر عقلی ہے ، نہ خارجی ، ولہذا اعدام کو عارض ہوتاہے عدم ، حادث اس کے وجود سے پہلے ہے اور جب وہ عقلی ہے تو مابہ التقدم خارجی ہوناکیاضرور (مواقف) اقول : شک نہیں کہ تقدم وتاخر نسبتین ہیں اور اعیان سے نہیں ، اسی قدر بس ہے اوراس سند کی کہ عدم حادث مقدم ہے حاجت نہیں جس پرایراد ہوکہ اس کاتقدم بالتبع ہے، اور کلام اس میں ہے جسے بالذات عارض ہواور اس کے سبب سے وجود پدریاعدم حادث کو۔ اقول : حل برقیاس سابق ہے دلیل ،یہ قیاس مرکب ہے کہ زمانہ مابہ التقدم الواقعی ہے اورمابہ التقدم الواقعی موہوم نہیں اور جو موہوم نہیں موجود ہے۔ مقدمہ ثانیہ میں اگر موہوم سے مراد معدوم فی الخارج ہے تومسلم نہیں بلکہ ادل نزاع ہے واقعی کے لیے خاص ،خارجی کیا ضرور ، اور اگر مخترع محض مراد ، اور مقدمہ ثالثہ میں معدوم فی الخارج ، تو حد اوسط متکرر نہیں ،اور اگر یہاں بھی مخترع مراد تو اب موجود سے اگر موجود فی الخارج مقصود تو مقدمہ مردود ، عدم اختراع سے خارجیت کب لازم ، اور اگر مطلق موجود مراد توصحیح ہے ،اوراب اتنا ثبوت ہواکہ زمانے کے لیے ایک نحو وجود ہے نہ کہ خاص خارجی ۔
شبہ ۴ : نافین زمانہ زبان سے انکار کرتے اور دل میں خوب مانے ہوئے ہیں، اُسے دنوں مہینوں، برسوں کی طرف تقسیم کرتے ہیں، وقائع معاملات کی تاریخیں اس سے منفبط کتے ہیں اپنی عمریں دراز ، اعدا کی کوتاہ چاہتے ہیں۔ (متشدق) اقول اولا: گرفتار ان زمانہ زبان سے موجود خارجی کہتے اور دل میں خود اس سے منکر ہیں کہ اسے غیر قار متقضی متصرم مان رہے ہیں۔ ثانیاً: نفی واقعیت نہیں کی جاتی اور جو کچھ مذکور ہوا مستلزم خارجیت نہیں فلسفہ منطقۃ البروج کو بروج درجات و دقائق و ثوانی کی طرف تقسیم کرتے ہیں،ان سے تقویمات و انظار و اتصالات منضبط کرتے ہیں اپنے لیے اضافات مثل ابوت اعداء کے لیے سلوب عمی کی تمنا کرتے ہیں، حالانکہ ان میں سے کوئی کچھ موجود خارجی نہیں؟ ثالثاً : اس کی تقسیم اور ایک حصہ دراز ایک کوتاہ ہونا تمہارے نزدیک بھی نہیں مگر ذہنی پھر اُس سے وجود خارجی کیونکر لازم بلکہ واقعیت یہی لازم مجرد قسمت نہیں خطِ آبی و دائرہ ناری بھی صالح تقسیم ہیں۔
شبہ ۵ : وجودِ ذہنی تین قسم ہے :ایک اختراعی محض جیسے انیاب اغوال : دوم : وہ کہ شے کو اس کے وجود ذہنی کے لحاظ سے کوئی حالتِ واقعی عارض ہو۔ ظاہر ہے کہ اسی شے کے تصور پر موقوف ہوگی کہ اس کے وجود ذہنی کے لحاظ سے ہے مگر اس کے بعد کسی تعمل ذہن کی محتاج نہ ہوگی کہ اختراعی نہیں واقعی ہے مثلاً جب کسی نے اپنے ذہن میں "زید قائم" حکم کیا خود اس سے لازم آیا کہ اس کے ذہن میں ایک موضوع دوسرا محمول ہے اگرچہ وہ وضع و حمل کا تصور نہ کرے لیکن جب تک ذہن میں یہ حکم نہ تھا وضع و حمل بھی نہ تھے۔ سوم : کسی شے کی حالت خارجی سے منتزع جیسے فوقیت و عمی یہ قسم اضافیات و سلوب میں منحصر ہے۔ اور ظاہر ہے کہ نہ زمانہ اختراع محض ہے نہ کسی موجود ذہنی کو عارض کہ اسے تصور نہ کریں تو زمانہ ہی نہ ہو نہ وہ اضافت یا سلب ہے، لاجرم موجود خارجی ہے( متشدق فصل الظنون فی الزمان ) یہ محض زخرفہ ہے۔ اولاً : منتزع عن الخارج کا سلب و اضافت میں حصر مردود، حرکت فلک سے جو دوائر صغارو کبار منطقہ سے قطبین تک منتزع ہوتے ہیں قطعاً اس کی حالت خارجیہ سے منتزع ہیں اور سلب و اضافت نہیں۔
ثانیاً اقول: موجود ذہنی واقعی کا دو میں حصر ممنوع کیوں نہیں جائز کہ کوئی شیئ ذہن میں اصالۃً پیدا ہو کہ نہ خارج سے منتزع ہو نہ کسی موجود ذہنی کی حالت، جیسے خود انتزاع کہ کسی موجود ذہنی کا وصف نہیں بلکہ موجود ذہنی اس سے پیدا ہوتا ہے اور منتزع بھی نہیں ورنہ انتزاع کے لیے انتزاع درکار ہو اور جانب مبدء تسلسل لازم آئے کہ منتزع کا وجود انتزاع پر موقوف اور یہ اعتباریات میں بھی محال فافھم (عہ) ( تو سمجھ لے ت۔)
عہ : یشیرالٰی ان لقائل ان یقول انّ الا نتزاع من اعمال الذھن وھو و اعمالہ کا لتصور والحکم من الموجودات الخارجیۃ وانما الموجود الذھنی ماوجودہ بعمل الذھن فافھم وفیہ ان الکلام فی السند الخاص لایجدی المستدل ولا یغنیہ من جوع ۱۲ منہ غفرلہ۔
اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ ا نتزاع تو ذہن کے اعمال میں سے ہے۔ اور وہ اور اس کے اعمال جیسے تصور و حکم موجوداتِ خارجیہ سے ہیں۔ موجود ذہنی تو وہ ہوتا ہے جس کا وجود ذہن کی عمل سے ہو، تو سمجھ لے اور اس پر یہ اعتراض ہے کہ کسی سند خاص میں کلام مستدل کو نفع نہیں دیتا اور نہ بھوک میں اس کے کام آتا ہے۔(ت)