| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
مسئلہ ۲۶: از سورنیاں ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۱۲ رجب ۱۳۲۱ھ بادل ، ہوا کی کیا بنیاد؟ کس جگہ سے شروع ہوتے ہیں؟ اور تمام جگہ یکساں ہوا چلتی ہے، زمین میں مقام ہے یا آسمان پر؟ الجواب : ہوا ربّ العزت تبارک وتعالٰی کی ایک پُرانی مخلوق ہے کہ پانی سے بنائی گئی اور اس کے لیے علم الہٰی میں ایک خزانہ ہے جس پر دروازہ لگا ہوا ہے۔ اور وہ بند ہے اور فرشتہ اس پر موکل ہے۔ جتنی ہو ا اس میں سے رب العزت بھیجنا چاہتا ہے فرشتہ کو حکم دیتا ہے کہ اس میں سے بمقدار حکم ایک بہت خفیف حصہ روانہ کرتا ہے۔ جب قومِ عاد پر اللہ تعالٰی نے ہوا کا طوفان بھیجنا چاہا جو سات راتیں اور آٹھ دن متواتر ان پر رہا ، ان سب کو ہلاک کردیا۔ اس وقت اس فرشتہ کو حکم ہوا تھا کہ عاد پر ہوا بھیج۔ اس نے عرض کی اتنا سوراخ کھولوں جتنا بیل کا نتھنا۔ فرمایا تو چاہتا ہے کہ ساری زمین کو الٹ دے بلکہ چھلے برابر کھول۔ اور یوں ہوا ہروقت زمین اور آسمانوں سب میں بھری ہے اور انسان اور اکثر حیوانات کی اس پر زندگی ہے۔
اور بادل بخارات سے بنتے ہیں، جب رطوبت میں حرارت عمل کرتی ہے بھاپ پیدا ہوتی ہے ،حق سبحانہ ، ہوا بھیجتا ہے کہ وہ اس کو جمع کرتی ہے پھر تہہ بہ تہہ اس کے بادل بناتی ہے پھر جہاں حکم ہوتا ہے اسے لے جاتی ہے اور بحکم الہٰی حرارت کے عمل سے وہ پگھل کر پانی ہو کر گرتی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷: مسئولہ محمد اسمعیل صاحب محمود آبادی امام مسجد چھاؤنی بریلی ۷ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ کیا یہ بات معتبر حدیث سے ثابت ہے کہ عورتوں کو نسبت مرد کے نو حصہ شہوت زیادہ دی گئی ہے؟ اگر ہے تو شریعت مطہرہ میں چار عورتوں تک نکاح جائز ہے ماسوائے اس کے لونڈیاں الگ۔تو ایک خاوند باوجود ہونے کے ایک حصہ شہوت کے کیونکر چار عورتوں اور لونڈیوں کی خواہش پوری کرسکے گا؟ یہی اس میں کیا حکمت ہے؟ براہ کرم بتفصیل جواب عنایت ہو تاکہ دشمنانِ اسلام کو اس شہوت کے بارے میں جواب دے سکیں۔ مکرر آنکہ چار عورتوں تک کے حکم میں بہت سی حکمتیں ہیں مگر اس سوال میں فقط شہوت کی نسبت جواب طلب ہے۔
الجواب : عورتوں کی شہوت فقط نو حصے نہیں بلکہ سو حصے زائد ہے۔
ولٰکن اﷲ القی علیھن الحیاء۔ ۱ ؎
لیکن اللہ تعالٰی نے ان پر حیاء ڈال دی ہے۔
( ۱ ؎ المقاصد الحسنہ کتاب النکاح وا بواب من متعلقاتہ حدیث ۶۰۵ دارالکتاب العربی بیروت ص ۳۰۴ )
آدمی جب اپنے سے کسی ذرا زائد عقل والے کا کام دیکھتا ہے اور سمجھ میں نہیں آتا تو کہتا ہے کہ اس کی عقل زائد ہے اس نے کچھ سمجھ کر کیا ہے۔ پھر رب العزت حکیم و خبیر جل جلالہ کے افعال میں کیوں خدشات پیدا کرتا ہے کہ اس میں ایک سہل سی حکمت یہ ہے کہ فعلِ جماع میں مرد کا تعلق صرف لذت کا ہے اور عورت کو صد ہا مصائب کا سامنا ہے، نو مہینے پیٹ میں رکھتی ہے کہ چلنا پھرنا اٹھنا بیٹھنا دشوار ہوتا ہے۔ پھر پیدا ہوتے وقت تو ہر جھٹکے پر موت کا پورا سامنا ہوتا ہے پھر اقسام اقسام کے درد میں نفاس والی کی نیند اڑ جاتی ہے۔ اسی لیے فرماتا ہے:
حملتہ امہ کرھا ووضعتہ کرھا وحملہ وفصالہ ثلٰثون شھرا ۔۲
اس کی ماں نے اس کو پیٹ میں رکھا تکلیف سے اور جنا اس کو تکلیف سے، اور اس کو اٹھائے پھرنا اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینہ میں ہے۔(ت)
( ۲ ؎ القرآن الکریم ۴۶/ ۱۵ )
تو ہر بچہ کی پیدائش میں عورت کو کم از کم تین برس بامشقت جیل خانہ ہے تو اگر اس قدر کثیر و غالب نہ رکھی جاتی ایک بار کے بعد پھر کبھی پاس نہ آتی۔ انتظام دنیا تباہ ہوجاتا ہے۔ مرد کے پیٹ سے اگر ایک دفعہ بھی چوہے کا بچہ پیدا ہوتا تو عمر بھر کو کان پکڑ لیتا، یہ حکمت ہے جس کے سبب وہ ان تمام مصائب کو بھول جاتی ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۲۸ : از ڈاکخانہ دہاموں کے تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ مرسلہ محمد قاسم صاحب قریشی مدرس مدرسہ مورخہ ۲۷ ذیقعدہ ۱۳۳۵ھ) سوال رفع اشتباہ کے لیے مطلع فرمادیں کہ دن رات کی تبدیلی کا موجب گردش ارضی ہے یا سماوی ؟ جواب تفصیل سے مشکور فرمائیں۔ اللہ تعالٰی جزائے خیر و توفیق نیک عطا فرمائے۔
الجواب : دن رات کی تبدیلی گردشِ ارضی سے ماننا قرآن عظیم کے خلاف اور نصارٰی کا مذہب ہے ، او ر گردش سماوی بھی ہمارے نزدیک باطل ہے۔ حقیقتہً اس کا سبب گردش آفتاب ہے ۔
قال اللہ تعالی :
والشمس تجری لمستقر لھا ذٰلک تقدیر العزیز العلیم ۱ ؎
واﷲ تعالٰی اعلم ۔
اور سورج چلتا ہے اپنے ایک ٹھہراؤ کے لیے یہ اندازہ ہے زبردست علم والے کا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
( ۲ ؎ القرآن الکریم ۳۶/ ۳۸)