متشدق نے باب حرکت میں ادعا کیا کہ خارج میں حرکت قطعیہ کا وجود بدیہی ہے۔
اقول : حاشا بلکہ خارج میں اس کا عدم بدیہی ہے، مبدء سے منتہی تک کوئی شے ممتد متصل وحدانی ہر گز خارج میں نہیں بلکہ ایک شیئ مقتضی متجدد ہے جس کا ہر حصہ پہلے کی فنا پر آتا اور خود فنا ہو کر دوسرے کے لیے جگہ چھوڑتا ہے اس سے ذہن میں ایک اتصال موہوم ہوتا ہے اپنے شیخ کی اور خود اپنی نہ سنی کہ جب تک حرکت ہورہی ہے وہ اتصال موجود نہیں اور جب ہوچکی سب فنا ہوگیا۔ متشدق کے حاشیہ میں حمد اﷲ نے وجود خارجی حرکت قطعیہ پریہ دلیل نقل کی کہ حرکت تو سطیہ بسیط غیر منقسم ہے جو اجزائے مسافت پر منطبق نہیں ورنہ منقسم وغیر منقسم کا انطباق لازم آئے وہ صرف ان حدود پر منطبق ہے جو مسافت میں فرض کی جائیں اور ہر دو حد کے بیچ میں جو مقدار مسافت رہی اس پر منطبق نہیں تو اگر خارج میں صرف حرکت توسطیہ میں موجود ہو تو چاہیے کہ متحرک کا اجزائے مسافت پر اصلاً گزر نہ ہو بلکہ ہر حد مفروض سے سے دوسری تک طفرہ کرے اور بیچ میں تمام مقادیر کو چھوڑتا جائے۔
اقول اولاً : تو حرکت توسطیہ ضرور طفرے کرتی ہے، طفرہ جیسے حرکت قطعیہ میں محال ہے یونہی تو سطیہ میں۔ ثانیاً : جہل شدید یہ کہ یہاں کچھ حدود معینہ مفروضہ لیں کہ انہیں پرمرور ہواور بیچ کی سب مقداریں متروک حالانکہ حدود کی کچھ تعیین نہیں ۔ ہر دو حد کے وسط میں جو مقدار ہے اس میں بھی حدود فرض ہوں گی اور ان پر بھی قطعاً مرور ہوا اور ان چھوٹی حدوں کے بیچ میں جو چھوٹی مقداریں ہیں ان میں بھی حدود فرض ہوسکتی ہیں ان پر بھی قطعاً گزار ہوا، یونہی غیر متناہی تقسیم میں تو ہر جزء مسافت حد فرض ہوسکتا ہے اور ہر حد پر مرور خود مانتے ہو تو ہر جز مسافت پر یقینا مرور ہوا۔ فلسفہ کے مستدلین ایسے ہی ہوتے ہیں۔