Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
149 - 212
ابطال دلائل وجود حرکت بمعنی القطع
متشدق نے باب حرکت میں ادعا کیا کہ خارج میں حرکت قطعیہ کا وجود بدیہی ہے۔

اقول : حاشا بلکہ خارج میں اس کا عدم بدیہی ہے، مبدء  سے منتہی تک کوئی شے ممتد متصل وحدانی ہر گز خارج میں نہیں بلکہ ایک شیئ مقتضی متجدد ہے جس کا ہر حصہ پہلے کی فنا پر آتا اور خود فنا ہو کر دوسرے کے لیے جگہ چھوڑتا ہے اس سے ذہن میں ایک اتصال موہوم ہوتا ہے اپنے شیخ کی اور خود اپنی نہ سنی کہ جب تک حرکت ہورہی ہے وہ اتصال موجود نہیں اور جب ہوچکی سب فنا ہوگیا۔ متشدق کے حاشیہ میں حمد اﷲ نے وجود خارجی حرکت قطعیہ پریہ دلیل نقل کی کہ حرکت تو سطیہ بسیط غیر منقسم ہے جو اجزائے مسافت پر منطبق نہیں ورنہ منقسم وغیر منقسم کا انطباق لازم آئے وہ صرف ان حدود پر منطبق ہے جو مسافت میں فرض کی جائیں اور ہر دو حد کے بیچ میں جو مقدار مسافت رہی اس پر منطبق نہیں تو اگر خارج میں صرف حرکت توسطیہ میں موجود ہو تو چاہیے کہ متحرک کا اجزائے مسافت پر اصلاً گزر نہ ہو بلکہ ہر حد مفروض سے سے دوسری تک طفرہ کرے اور بیچ میں تمام مقادیر کو چھوڑتا جائے۔

اقول اولاً : تو حرکت توسطیہ ضرور طفرے کرتی ہے، طفرہ جیسے حرکت قطعیہ میں محال ہے یونہی تو سطیہ میں۔ ثانیاً : جہل شدید یہ کہ یہاں کچھ حدود معینہ مفروضہ لیں کہ انہیں پرمرور ہواور بیچ کی سب مقداریں متروک حالانکہ حدود کی کچھ تعیین نہیں ۔ ہر دو حد کے وسط میں جو مقدار ہے اس میں بھی حدود فرض ہوں گی اور ان پر بھی قطعاً مرور ہوا اور ان چھوٹی حدوں کے بیچ میں جو چھوٹی مقداریں ہیں ان میں بھی حدود فرض ہوسکتی ہیں ان پر بھی قطعاً گزار ہوا، یونہی غیر متناہی تقسیم میں تو ہر جزء مسافت حد فرض ہوسکتا ہے اور ہر حد پر مرور خود مانتے ہو تو ہر جز مسافت پر یقینا مرور ہوا۔ فلسفہ کے مستدلین ایسے ہی ہوتے ہیں۔
ابطال دلائل وجود زمانہ :
وہ چند شبہات ہیں:
شبہ ۱ : ہم یقیناً جانتے ہیں کہ طرفین مسافت کے درمیان ایک امکان یعنی اتساع ہے جس میں حرکت ایک حدِ معین سرعت پر واقع ہوسکتی ہے یعنی اس سے بطی ہو تو اس مسافت کو اُس مقدار اتساع سے زائد میں قطع کرے گی اور اسرع ہو تو کم میں یا بطی ہو تو اس مقدار اتساع میں اس مسافت سے کم طے کرے گی اور سریع تو زیادہ اسی اتساع کا نام زمانہ ہے اور یہ ہر گز کسی تو ہم پر موقوف نہیں، اگر وہم دواہم معدوم ہوں جب یہی طرفین مسافت میں یہ اتساع ضرور ہے تو یہ حکم ایجابی بنظر واقع صادق ہے تو ضرور یہ اتساع یعنی زمانہ موجود خارجی ہے اسے بہت طویل بیان کرتے ہیں جس کی ہم نے تلخیص کی۔ یہی دلیل ابن سینا سے آج تک ان متفلسفوں کی بہت بڑی دستاویز ہے اور وہ بوجوہ محض مردود۔

اوّلاً :  صدق ایجاب کو اگر درکار ہے تو موضوع کا وجود واقعی اور وہ وجود خارجی سے عام ہے۔

اقول : فوقیت سماء ثابت ہے یہ حکم ایجابی قطعاً صادق و واقعی ہے اور اس سے فوقیت کا وجود خارجی لازم نہیں۔

ثانیاً : یہ جو سرعت و بطوء اور مسافت کم یا زیادہ طے کرنا لے رہے ہو یہ سب حرکت قطعیہ میں ہے۔حرکت توسطیہ کہ محض توسط بین المبدء و المنتہی ہے نہ سریع ہو نہ بطی نہ مسافت کی کمی بیشی سی متغیر اور حرکت قطعیہ باتفاق فریقین امرموہوم تو اس کی مقدار یعنی یہی اتسا ع جو اس کی کمی بیشی کا اندازہ کررہا ہے، ضرور موہوم ہے۔ (مواقف موضحاً)
Flag Counter