Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
148 - 212
خامساً تمام فلاسفہ اور خود اس متشد ق کو مسلم کہ زمانہ و حرکت قطعیہ متجددو متصرم ہیں تقضی و تصرم ان کی ذات میں ہے پھرخارج میں متصل وحدانی کیسےہوسکتے ہیں،اتصال و تصرم کا اجتماع محال ،یہ تیسرا تنافض ہے۔

سادساً : خود اسی متشدق نے اواخر فصل تناہی ابعاد پھر فصل آن میں حادث بحدوث تدریجی کی دو قسمیں کیں۔ ایک وہ کہ بروجہ تجدد و تصرم پیدا ہو جیسے زمانہ و حرکت قطعیہ واصوات ئ ان کے لیے کبھی کھی آن میں وجود نہ ہوگا۔ دوسرا وہ کہ تدریجاً پیدا ہو مگر نہ بروجہ تجدد تصرم بلکہ جزسابق لاحق کے ساتھ جمع ہو، یہ پورا حادث ہونے کے بعد باقی رہ سکتا ہے ا ھ، صاف ظاہر ہوا کہ قسم اول کی اشیاء کو جن میں زمانہ و حرکت قطعیہ ہیں بقا نہیں و لہذا کسی آن میں ان پر حکم وجود نہیں ہوسکتا بخلاف قسم دوم کہ بعد تمامی حدوث اس پر ہر آن میں حکم وجود ہوگا۔ اب پورا موجود ہے یہ چوتھا تناقض ہے۔

سابعاً : جز ء سابق لاحق سے جمع نہ ہونے کے ہرگز یہ معنی نہیں  کہ دونوں ایک محل میں ہوں ، ایسا تو قطعاً قسم دوم میں بھی نہیں ، دو۲ خط کہ ایک دوسرے پر منطبق ہوں ایک پورا ثابت رہے اور دوسرے کا ایک کنارہ اس کنارے سے ملا رکھو ۔ دوسرے کنارے کو حرکت دو، یہاں تک کہ مثلاً ۶۰ درجے  کا زاویہ ہیداہو اسے قسم دوم کی مثال بتایا ہے کہ حدوث تدریجاً ہو۔ اور بعد تمامی حدوث اجزاء مجتمع ہیں کیا وہ انفراج جو پہلے درجے میں ہے ساٹھویں میں ہے سب درجے اپنی اپنی جگہ جدا نہیں کوئی مجنون ہی ایسا کہے گا بلکہ قطعاً یہی معنی کہ بعد تمامی سب مقارن فی الوجود ہیں بخلاف قسم اول متصرم کہ اس میں جو جزء آیا فنا ہوگیا اس کے بعد دوسرا آیا تو جب سابق تھا لاحق نہ تھا اب کہ لاحق آیا سابق معدوم ہوگیا تو مجتمع فی الوجود نہیں ہوسکتے یہ ہے زمانہ وحرکت قطعیہ ، یہ پانچواں  تناقض ہے۔

ثامناً: سب کو اور خود متشدق کو مسلّم کہ زمانہ وحرکت قطعیہ غیر قار ہیں جب خارج میں متصل وحدانی ہیں قطعاً قار ہوئے ۔یہ چھٹا تناقض ہے____ متشدق نے باب الحرکت میں کہا حرکت قطعیہ مو جود فی الاعیان ہے نہ بر وجہ قرار ذات کہ اجزا مجتمع ہوں کسی آن میں موجود ہو بلکہ  بر وجہ فنا و انقطاع تو حرکت قطعیہ  و زمانہ دونو ں اپنی ذات متصل وحدانی ہیں مگر جو آن فرض کرو ان کے وجود کی ظرف نہیں بلکہ وہ زمانہ ماضی و مستقبل میں حد فاصل ہے، ماضی یہ نہیں کہ فنا ہو گیا بلکہ  اس آن کے اعتبار سے ماضی ہے بلکہ اس سے پہلے تھا، اور مستقبل یہ نہیں کہ ابھی وجود میں نہ آیا بلکہ اس آن کے اعتبار سے مستقبل ہے کہ اس کے بعد ہے، یہی حال حرکت قطعیہ کا ہے، خلاصہ یہ کہ وہ کسی آن میں نہیں آن ان کا ظرف نہیں ،  ان کے غیر قار فی الخارج نے سے یہی مراد ہے ہاں اذہان میں قار ہیں۔
اقول اولا : تقضیو تصرم یعنی  فنا و انقطاع مان کر فنا وانقطاع سے انکار وہی تناقض ہے مگر اسے اسی پر ڈھالنا کہ ماضی اس آن کے اندر نہیں اس کے اعتبار سے منقضی ومنصرم ہے، یونہی مستقبل اس آن کے اندر نہیں اس کے لحاظ سے متجدد ہے، غیر قار ہونے کا یہ حاصل ہے دنیا بھر میں کسی امتداد کو قار نہ رکھے گا مسافت قطعاً قار ہے مگر جس آن میں اس کی ایک حد معین میں ہو گا کہ جتنا حصہ مسافت کا طے ہو لیا اس حد میں ہرگز نہیں اس سے پہلے منقضی ہو چکا اور جو حصہ بعد کو طے ہو گا وہ بھی اس حد میں ہرگز نہیں اس کے بعد آئے گا تو مسافت بھی غیر قار اور منصرم ومتجدد ہوئی، اور بلا لحاظ حرکت بھی مسافت میں جو نقطہ دو حصوں میں حد فاصل فرض کرو ہرگزکوئی حصہ اس حد میں موجود نہیں اپنی اپنی جگہ موجود ہیں یونہی زمانے میں جو آن حد مشترک لو تو دونوں حصے اس میں نہیں اپنے اپنے موقع پر موجود بتاتے ہیں خود متشدق نے اسی جگہ کہا کہ اسے یوں سمجھو جیسے مکان کے اعتبار سے جسم کا حال کہ وہ خود متصل واحد مکان واحد میں موجود ہے اور جب وہم میں اس کے دو حصے لے لو تو یہ مکان میں جمع نہ ہوں گے ہر حصہ دوسرے کے مکان میں بھی معدوم ہوگا اور بیچ میں جو حد مشترک لی ہے اس میں بھی معدوم ہوگا مگر ہر ایک اپنی اپنی جگہ موجود ہے ،اگر کہیے قرار کے لیے ہر شیئ میں اس کے حدود معتبر نہیں کہ کسی شے کے حصے اس کے کسی حد میں نہیں ہوسکتے تو سب غیر قار ہوجائیں بلکہ معتبر صرف حدِ زمانہ ہے کہ آن ہے تمام قارات ایک آن میں موجود ہیں اور زمانہ کسی آن میں موجود نہیں لہذا غیر قار ہوا۔

اقول : غیر قار وہ کہ بوجہ تجدد و تصرم کسی آن میں نہ ہو، زمانے کا آن میں نہ ہونا اس وجہ سے نہیں، اسے تو بتمامہ موجود بالفعل بلکہ علی الدوام مانتے ہو بلکہ اس کی وجہ وہی ہے کہ آن اس کی حد ہے اور کسی شیئ کے حصے اس کی کسی حد میں نہیں ہوسکتے اگر اس قدر عدم قرار کو کافی ہے تو ہر قار غیر قار ہے ورنہ زمانہ کیوں غیر قار ہے۔ ثانیا: حرکت قطعیہ جبکہ اول تا آخراپنے زمانے میں موجود ہے بلاشبہ بعد حدوث ہر آن  میں موجود ہے ، آن اس کی حد نہیں کہ اس میں نہ ہوسکے تو یہ غیر قار کیوں ہوئی ۔ مجرد تدریج فی الحدوث اگر غیر قار کردے تو زاویہ بھی غیر قار ہو۔

ثالثاً بایں معنی زمانہ ذہن میں بھی قار نہیں کہ امتداد متصور فی الذہن میں جو آن اس کے دومفروض حصوں میں حدِ فاصل لوہر گز کوئی حصہ اس حد میں نہیں ایک اس سے سابق ہے دوسرا لاحق اگر کہیے جب سارا اتصال ذہن میں معاً متصور تو تابقا ئے تصور ہر آن میں پورا اتصال موجود فی الذہن ہے۔

اقول : جب سارا اتصال خارج میں معاً متحقق تو تابقائے تحقق ہر آن میں پورا اتصال موجود فی الخارج ہے، بالجملہ آن کو اگر ظرف وجود ہر حصہ لو تو وہ جیسا خارج میں نہیں ذہن میں بھی نہیں اور اگر ظرف حکم بالو جود علی الکل لو تو وہ جیسا ذہن میں ہے قطعاً خارج میں بھی مان رہے ہو۔ جس آن میں تم نے زمانہ پر بتمامہ متصل وحدانی ہونے کا حکم کیا اس آن میں کل زمانے پر حکم وجود فی الخارج کیا یا نہیں، مغالطہ یہ دیتے ہو کہ خارج میں نفی قرار کے وقت آن کو ظرف وجود لیتے ہو اور ذہن میں اثبات قرار کے وقت آن کو ظرف حکم بالوجود، حالانکہ اوّل پر ذہن میں بھی قار نہیں، اور دوم پر خارج میں بھی قار ہے، بالجملہ زمانے کے موجود خارجی ماننے میں متشدق کی تمام سعی مردود  و بے کار ہے، متشدق نے اواخر فصل زمان میں کہا عدم قرار بمعنی امتناع اجتماع اجزا ہے۔

اقول : یہ بھی ہماری اسی تقریر سے ردَ ہوگیا اجتماع فی الوجود الخارجی ممتنع ہے تو یہ ہمارا عین مقصود اور تمہارا زعم مردود، اگر اجتماع فی الحد الحاصل متمنع ہے تو یہ ہر قار میں حاصل متشدق نے یہیں اس سے پہلے کہا کہ عدم قرار کا صرف یہ حاصل کہ اگر اس میں اجزا فرض کیے جائیں تو ان میں ایک کا وجود پہلے ہو دوسرے کا بعد میں۔
اقول : وجود خارجی بوجود منشامراد یا وجود فی الانتزاع اول میں تقدم تاخر کہاں ،کہ کل بوجود واحد متصل موجود بالفعل مانتے ہو اور ثانی سے اگر عدم قرار ہوا تو وجود ذہنی میں نہ خارجی میں۔ عکس اس کا جو تم مانتے ہو۔ دیکھئے معنی عدم قرار میں کیا کیابے قراریاں متشدق کو لاحق ہیں اور بنتی ایک نہیں۔
Flag Counter