زمانے کا وجود خارجی اصلاً ثابت نہیں۔ یونہی حرکت قطعیہ کا کسبِ کلام میں انکار وجود زمانہ پر دلائل ہیں جن پر خدشات ہوئے اور کلام طویل ہے ہمیں ان میں سے یہ دو مختصر جملے پسند ہیں۔
اول یہ کہ زمانہ مقدار حرکت قطعیہ ہے اور ہم ثابت کرچکے کہ حرکت قطعیہ موجود فی الخارج نہیں تو اس کی مقدار کیسے موجود فی الخارج ہوسکتی ہے۔ شرح مقاصد میں اس سے جواب دیا کہ حرکت قطعیہ امر غیر قار ہے اس کے دو جز ایک ساتھ نہیں ہوسکتے بلکہ ایک جز ختم ہوتا اور دوسرا آتا ہے اُس کے وجود خارجی کے کے یہی معنی ہیں تو یہی حال اس کی مقدار زمانے کا ہے ہاں امر ممتد موجود فی الخارج نہیں بلکہ موہوم ہے۔
اقول : یہ اعتراف بالحق ہے زمانہ و حرکت قطعیہ انہیں ممتد متصل ہی کا نام ہے نہ اس غیر منقسم کا اور یہ کہنا کہ اس کے وجود خارجی کے یہی معنی ہیں۔
اقول : بلکہ اس کے عدم فی الخارج کے یہی معنی ہیں کہ وجود امتداد مع فنائے اجزا محال ہے بلکہ سارے امتدا د سے ایک جز فنا ہو تو مجموع فنا ہو کہ عدم جز عدم جز عدم کل ہے نہ کہ جب ہر جز فنا ہو اس کے بعد شرح مقاصد میں بحث طویل ہے جس کا حاصل وہی کہ حرکت توسطیہ وآن سیال موجود ہیں اور قطعیہ و زمانہ موہوم۔
اقول : رَدکو تائیداور اقرار کو انکار کیونکر قرار دیا جائے۔
دوم : یہ کہ زمانہ موجود اگر قابلِ انقسام ہو تو قار ہوگیا اور ناقابل تو جز لازم آیا کہ زمانہ حرکت اور حرکت مسافت پر منطبق ہے۔ شرح مقاصد میں اس پر رد فرمایا کہ ہم شق اول اختیار کرتے ہیں اور اجتماع اجزا نہ ہوا کہ اجتماع معیت اور اجزاء زمانہ بعض بعض پر سابق دو جز ء ساتھ نہیں ہوسکتے کہ قار ہو۔
اقول اوّلاً : قار کے لیے وجود میں اجتماع درکار یعنی دونوں جز پر معاً حکم وجود صادق ہو یا محل واحد میں اجتماع علی الثانی مسافت وغیرہا تمام اجسام غیر قار ہوئے کہ ان کے کوئی دو جز ایک محل میں نہیں ہوسکتے ورنہ تداخل لازم آئے۔ وعلی الاول ضرور زمانہ قار ہوا کہ جب موجود منقسم ہے تو سب اجزاء پر معاً حکم وجود صادق ہے۔
ثانیاً : زمانہ اگر موجود ہو تو اس کے اجزاء موہوم اختراعی نہیں بلکہ قطعاً مناشی موجود ہیں ان کا وجود اگر بروجہ تصرم ہو ا کہ ایک فنا ہو کر دوسرا آیا تو موجود نہیں مگر غیر منقسم اور اگر بلا تصرم ہوا یعنی پہلا باقی تھا کہ دوسرا آیا تو یہی اجتماع فی الوجود قرار ہے۔ پھر فرمایا ہم شق دوم اختیار کرتے ہیں۔ اور جز لازم نہیں کہ ممکن کہ نامنقسم وہی منقسم ہو۔
اقول : ہم تشقیق انقسام وہمی ہی میں لیتے ہیں، اگر موجود غیر منقسم فی الوہم ہے تو جز لازم ورنہ اجزاء مقدار یہ مجتمع فی الوجود ہوگئے، اور اسی قدر قار ہونے کو درکار نہ کہ بالفعل اجزاء ہونا جیسے ہر جسم متصل وحدانی خصوصاً فلک جس کا تجزیہ ان کے نزدیک محال تو اس کا انقسام نہ ہوگا مگر وہم میں طرفہ یہ کہ ارسطو وابن سینا اور ان کے چیلے ہمیشہ اسے تسلیم کرتے آئے کہ زمانہ و حرکتِ قطعیہ موجود فی الاعیان نہیں آن سیال و حرکتِ توسطیہ سے متوہم ہیں ولہذا شرح مقاصد میں ان کے وجود خارجی کو اسی طرف راجع فرمایا کہ ان کے راسم خارج میں ہیں جن سے یہ موہوم ہوتے ہیں۔ کما تقدم۔
مگر متشدق جونپوری اس پر بہت کچھ رویا اور کہا یہ فلاسفہ وارسطو و ابن سینا پر افتراء ہے وہ یقیناً ساری حرکت قطعیہ اور تمام زمانہ ممتدازل تا ابد کو متصل واحدانی بالفعل موجود خارجی مانتے ہیں انکار اس کا کیا ہے کہ وہ کسی آن میں موجود نہیں کہ غیر قار ہیں اور غیر قار کا وجود کسی آن میں نہیں ہوسکتا۔ اور اس پر کلام ابن سینا میں اشارہ بتایا کہ اس نے حرکت قطعیہ کو کہا لایجوز ان یحصل بالفعل قائماً فی الاعیان ( نہیں جائز کہ حاصل ہو بالفعل اس حال میں کہ قائم ہوا عیان میں۔ ت)
دیکھو اس کے وجود فی الاعیان کا منکر نہیں بلکہ وجود قائم یعنی قار کا سب سے پہلے یہ اختراع خضری نے کیا پھر باقر پھر اس کے شاگرد صدر شیرازی پھر اس متشدق نے تقلید کی۔
اقول اولاً : ارسطو سے زمانہ خضری تک کی تصریحات اور قطرہ سیالہ و شعلہ جوالہ سے توہم خط و دائرہ کے تمثیلات جن سے عامہ کتب فلسفہ مملو اور ان سے عامہ کتب کلام میں منقول سب کو یہ قرار دینا کہ وہ اپنا مذہب نہ سمجھے کیونکر قابل قبول۔