Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
146 - 212
رَدّتشدّق : آن سیال کے بارے میں اگلے زبانی ادعا اور حرکت پر فاسد قیاس کے سوا کوئی دلیل یا شبہ نہ لائے نہ اس کا سیلان بتانے پائے مگر متشدق جو نپوری سے کب رہا جائے ا س حدس کے سر ڈھالا اور سیلان کا راستہ نکالا اور ایک طویل شقشقہ گھڑ ڈالا جس کا حاصل بے حاصل یہ کہ متحرک جس وقت حرکت کررہا ہے اس کی ذات کے مقابل نہ مسافت ہے نہ حرکتِ قطعیہ  ،  نہ زمانہ کہ ان سب میں کچھ گزر گیا کچھ آئندہ ہے بلکہ اس کے مقابل مسافت سے ایک نقطہ ہے اور حرکت قطعیہ سے توسط اور زمانہ سے ایک آن۔ یہ سب حدود و غایات ہیں ،  اور خود متحرک بحیثیت تحرک اپنے نفس کے لیے ایک حد ہے گویا وہ مبدء سے یہاں تک ایک امر ممتد ہے تو ہر حد مسافت پر اپنی حیثیت انتقال کے لحاظ سے خود اپنی حد ہے اب متحرک اپنی ذا ت سے باقی اور ان نسبتوں سے متجدد ،  یونہی حرکتِ توسطیہ ،  تو اس سے ذہن میں آپ ہی آتا ہے کہ وہ آن جو زمانے سے اس کا خط ہے وہ بھی بذاتِ خود باقی ہو اگر چہ بحیثت آنیت باقی نہ ہو کہ آن کا وجود نہیں مگر زمانے کے دو جزوں میں حدِ فاصل ہو کر پھر وہاں سے منتقل ہو کر دوسرے جزوں میں فاصل کیسے ہوجائے گی یہی آن بذاتِ خود نہ اس حیثیت سے کہ عرض زمانہ ہے آن سیال ہے کہ زمانے کی موہوم آنوں کی طرح زمانے میں نہیں بلکہ زمانے سے باہر زمانے کی حد ہے اور اپنے سیلان سے اسے حادث کرتی ہے جیسے اترتا قطرہ خط آبی کو۔

اقول اولاً : متشدق کے نزدیک زمانہ خود موجود فی الخارج ہے نہ کہ خطِ آبی کی طرح مرسوم موہوم اگر کہیے صرف رسم میں تشبیہ مقصود ہے نہ کہ وہم میں ولہذا متشدق نے شروع بحث میں سطح مستوی پر راس مخروط کی حرکت سے خط بننے پر کہا کہ یہ خط اگر چہ محض تخیل میں بنے گا نہ حقیقۃً کہ مسافت میں نقطہ اُسی وقت پیدا ہوگا جب سرِ مخروط اس کے ایک نقطہ سے ملا آگے بڑھتی ہی یہ نقطہ باطل ہو کر دوسرا پیدا ہوگا تو جب نقطے باطل ہوجائیں گے خط کہاں پیدا ہوگا۔ تو ظاہر ہوا کہ اسے رسم باقی مانتا ہے نہ محو ہوتی ہوئی۔

اقول : یہ تو ایسی چیز ہے جیسے کاغذ پر سیاہی سے خط کھینچنا کہ قلم کی حرکت سے بنااور باقی رہا۔ یہ مثال کیا دور تھی جو اس کا صحیح تصور آسان کرتی۔ غلط تصور دلانے اور اس کی غلطی بنانے کی کیا حاجت تھی۔ خیر یوں سہی مگر رسم جب کہ سیلان سے ہے بلاشبہ بتدریج ہوگا کہ سیلان حرکت ہے اور حرکت تدریجی اور تدریجی کو مسبوقیت لازم اور ازل مسبوقیت سے مبرا تو زمانہ ازلی کب ہوا۔ خود متشدق کو یہاں بھی کہتے بنی۔ احدث بسیلانہ زماناً آن سیال نے زمانہ حادث کیا اور اسے حدوث ذاتی پر حمل ناممکن کو حدوث ذاتی کسی کے دیئے سے نہیں ہوتا لاجرم وہ ازلیت زمانہ باطل ہوئی جس پر متشدق نے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی تکذیب اور فلاسفہ کی تصدیق میں کئی ورق سیاہ کیے ہیں اور آیاتِ قرآنیہ کو کہا کہ معاذ اللہ جاہلوں کے مدار کی طرف تنزل کرکے آسمان و زمین کو حادث لکھ دیا ہے۔ ورنہ واقع میں عالم قدیم ہے۔ یہاں شبہات اہل مکابرہ کے رَد میں ناظرین مقام ۲۳ سے مدد لیں۔

ثانیا:آن سیال کا سیلان مستدیر ہے کہ فلک کی حرکت توسطیہ مستدیرہ یا حسب تصریح صاحبِ قبسات خود جرمِ  فلک سے قائم ہے اور ظاہر ہے کہ سیلان جس شکل کا ہوگا اتصال اُسی صورت کا مرسوم ہوگا نہ یہ کہ گھماؤ پر کار اور بنے خطِ مستقیم  ،  اور وہ بھی یوں کہ ایک چھلے برابر حلقے پر جتنی بار پر کار پھراتے جاؤ لاکھوں منزل تک سیدھا خط کھینچتا جائے فلک کے محیط کو امتداد غیر متناہی سے وہ نسبت بھی نہیں جو ایک چھلے کے حلقے کو کروڑوں منزل کے امداد سے لیکن زمانے کا امتداد مستدیر نہیں کہ ہر دورے پر وہی پہلا زمانہ پلٹ پلٹ کر آتار ہے۔ع

گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

تو ضرور اس کا امتداد مستقیم ہے اور زنہار آن سیال سے مرسوم نہیں ہوسکتا یہ رد اُس وقت یہی ہے کہ زمانے کو موہوم مانو کہ تو ہم بھی ا سی صورت کا ہوگا جس نہج پر سیلان راسم ہے قطرے کے اترنے سے آبی دائرہ یا بینٹی گھمانے سے آتشی سیدھا خط کبھی متوہم نہ ہوگا اور وجود خارجی پر تو اختلاف ممکن ہی نہیں۔

ثالثاً فاعل کسی ذی مقدار پر افاضہ وجود ایک مقدار ہی پر کرے گا ناممکن کہ فاعل اس کی نفس ذات کو بے مقدار بنائے تو فاعل ذات ہی فاعل مقدار ہے اگرچہ خصوصی مقدار کا اقتضا شے دیگر سے ہو اس اقتضا کے مطابق مقدار پر فاعل اسے بنائے سفہاء جو طبیعت کو فاعل شکل و قدر کہتے ہیں حاصل یہی ہے کہ طبیعت اس کی مقتضی ہے اس خصوص کے سبب فاعل سے یہ سے یہی افاضہ ہوئی ہے نہ یہ کہ فاعل نے نفس ذات بے شکل و قدر پر افاضہ وجود کیا۔ اور انہیں طبیعت بنا کر اس میں چپکا دیا۔ اب تمہارے نزدیک فاعل حرکت فلکیہ اس کا نفس ہے تو وہی اس کا مقدار زمانہ کا فاعل ہو نہ یہ کہ وہ تو اسے بے مقدار زمانے کا فاعل ہو نہ یہ کہ وہ تو اسے بے مقدار بنائے اور آن سیال زمانہ بنا کر اس میں لگادے۔

رابعاً : جب یہ آن زمانے سے باہر ہے زمانے کی حد کیونکر ہوسکتی ہے حد یہ کہ طرف ہو ا ور طرف شے شے سے جدا نہیں ہوتی۔

خامساً : متشدق نے حاصل سیلان یہ رکھا کہ ذات آنباقی اور وصفِ آنیت متجدد و مقتضی ظاہر ہے کہ یہ تجدد و تقضی ظرف زمان سے باہر ناممکن کہ جو زمانے سے متعالی ہے اس سے بری ہے نہ دوسرے زمانے میں ہوسکتی ہے کہ زمانے دو نہیں شیئ واحد کو دو مستقل مقدار یں لاحق نہیں ہوسکتیں اب اس زمانے میں دو ہی طرح ممکن ایک یہ کہ آن سیال شیئا فشیئا سیلان کرے اور ہر حصے پر تازہ وصفِ آنیت اسے عارض ہو اتنا بنایا ،  اس کی حد ہوئی آگے بنایا وہ حدیث زائل ہو کر نئی آئی جس طرح متشدق نے ذات محرک میں کہا ہے یوں یہ سیلان واقعی ہوگا ،  دوسرے یہ کہ زمانہ ازلی ابدی متصل وحدانی حدود سے بری دائماً موجود خارجی ہے جیسا متشدق کا زعم کفری ہے اس میں جہاں چاہو تجزیہ فرض کرلو وہیں وہ آن سیال دونوں جزوں میں حدِ فاضل ہوگی ،  یہ فصل محض اعتباری تابع اعتبار ہوگا اور لاحظ کو اختیار ہوگا کہ اوپر سے نیچے اترتا ہوا اجزاء فرض کرتا آئے خواہ نیچے سے اوپر چرُتا دونوں صورتوں میں وصفِ آنیت کو سیلان ہوگا کہ محض اعتباری الٹے سیدھے میں متردد  ،  نیز لاحظ کو اختیار ہوگا کہ معاً ہزار جگہ تجزیہ فرض کرلے اب نہ سیلان ہوگا نہ آن خارجی کو وصف آنیت کا عروض کہ سب جگہ ایک ہی آن حد فاصل نہیں ہوسکتی کما اعترف بہ ( جیسا کہ اس کا اعتراف کیا گیات) اگر یہ صورت لیتے ہو تو یا سیلان ہی نہیں یا نرا اعتباری کہ موجود خارجی کا راسم نہیں ہوسکتا۔ اور پہلی صورت لو  تو زمانہ حادث اور اس کا بعض معدوم بعض موجود ،اور متشدق کا مذہب مذکور مردود ۔

سادساً : یہ تو سیلان پر کلام تھا اب اس کا نفس وجوب جس مہمل حدس سے لیا اس کا حال سنیے ، آغاز کلام اس سےکیا کہ ذات متحرک کے مقابل جس طرح مسافت سے ایک نقطہ ہے یونہی زمانے سے ایک نامنقسم چاہیئے اور انجام میں وہ نا منقسم نکالا کہ زمانے سے اصلاً نہیں بلکہ اس سے باہر ہے ،زمانے سے ایک نامنقسم تو وہی آن موہوم ہوتی جس طرح مسافت سے نامنقسم و نقطہ موہومہ یہ حدس ہوا یا حدث۔

سابعاً : غلط کہا کہ متحرک کے لیے حرکت قطعیہ سے وہ نامنقسم حرکت وسطیہ ہے حرکتِ وسطیہ ہر گز حرکت قطعیہ سے نہیں بلکہ مستقل مباین اس کی اصل ہے حرکت قطعیہ سے وہ نامنقسم ایک ایک حد مسافت کی موافات ہے۔

ثامناً :صریح جھوٹ کہا کہ یہ سب حدود و نہایات ہیں ، حرکتِ وسطیہ ہرگز حدو نہایت نہیں بلکہ حدود نہایات سے نسبت رکھنے والی۔

تاسعاً : خود مذہب متشدق پر سلسلہ صاف یہ تھا کہ متحرک کے لیے بحال تحرک تینوں چیزوں سے ایک ایک نامنقسم متجدد منقضی موہوم ہے مسافت سے وہ نقطے حرکت سے ان حدود کی موافاتین زمانے سے ان تک وصولی کی موہوم آنین اس میں اس حدس کی راہ کہاں تھی لہذا زبردستی حرکت توسطیہ کو حدود میں بھرتی کیا اور خود متحرک کے سر ایک تجدد رکھا کیا حدس یونہی اخلاط وتکلفات بار دوہ سے ہوتا ہے۔

عاشر اً:  بفرض غلط یہ بھی سہی ،  اب اس سلسلے میں مسافت و حرکتِ قطعیہ بھی ہیں اور متحرک و حرکت توسطیہ بھی  ،  ان دو سے اگر آن سیال کا قیاس نکلتا ہے۔ ان دو سے آن موہوم کا ۔ پھر کیا وجہ کہ حدس ادھر کا ہوا ، چاہیے یہ تھا کہ تعارض نظائر کے سبب کسی طرف کا نہ ہوتا اور یوں بھی ہوسکتا ہے تو ادھر کا لینا اور ادھر کا نہ لینا صرف جزاف ہے ،  تلک عشرۃ کاملۃ  ،  یہ ہے ان کا تشدّق وتخذق ۔