Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
145 - 212
سادساً اقول  : آن سیال کا حرکت تو سطیہ پر انطباق بھی محال ،  آن کسی وجہ سے کسی جہت میں اصلاً قابلِ انقسام نہیں اور حرکت توسطیہ صرف جہت مسافت سے منقسم نہیں کہ ایک نقطہ متحرک ہو ، یا سو گز کا جسم مبدء سے جدائی کے بعد منتہی تک پہنچنے سے پہلے توسط دونوں کو یکساں ہے یہ نہیں کہ نقطےکا توسط جسم کے توسط سے چھوٹا ہے کہ توسط میں تشکیک نہیں لیکن جہت متحرک سے وہ غیر متناہی تقسیم کے قابل ہے کہ تمام جسم متحرک میں ساری ہے اس میں جہاں جو جز فرض کیجئے مبدءومنتہی میں متوسط ہے ہر آن میں اس کی جو حالت تھی نہ کبھی پہلے تھی نہ بعد کو ،  اسی کو یوں تعبیر کرتے ہیں کہ حرکت تو سطیہ عرض میں منقسم ہے طول میں نہیں۔ طول سے مراد جانب مسافت اور عرض سے جانب متحرک خواہ تقسیم اس کے طول یا عرض کسی بعد میں ہو۔ اور جب وہ ایسی منقسم ہے آن اس پر کیونکر منطبق ہوسکتی ہے اگر کہیے اس حالت میں وہ حرکتِ واحدہ نہیں بلکہ کثیرہ متحرکوں کی کثیر حرکات ، جیسا جونپوری وغیرہ نے کہا اس لیے کہ ہر جز اور اس کی حرکت جدا ہے اور ہم نے حرکتِ واحدہ کو بسیط کہا ہے۔

اقول : اس سے یہ مراد کہ جس طرح جسم میں اجزاء بالقوہ ہیں یونہی یہ حرکت حرکات بالقوہ تو بھی قابلیت انقسام ہے اور اگر یہ مقصود کہ بحسب اجزا حرکاتِ کثیرہ بالفعل ہیں ان میں ہر ایک بسیط ہے نہ مجموعہ تو اولاً یا تو جواہر فردہ لازم کہ یہ حرکاتِ بسیطہ نہ ہوں گی مگر اجزائے بسیط کی اور جب بالفعل ہیں تو ضرور متحرکات بھی بالفعل یا غیر متناہی کا محصو رہونا کہ اجزا باوصف لامتناہی حدود شکل میں محصور ہیں۔
ثانیاً :  آن سیال ظاہر ہے کہ جو ہر نہیں ورنہ جوہر فرد ہو ا ور ضرور مقولہ کیف سے ہے کہ نہ بالذات قابل قسمت نہ طالب نسبت  ، اور اس کا موضوع نہیں مگر حرکت (عہ) توسطیہ جس طرح زمانہ کا موضوع حرکتِ قطعیہ اور اس کا قیام ضرور انضمامی کہ موجود فی الخارج ہے اب وہ اجزائے فلک کی ان سب حرکات ِ کثیرہ سے قائم ہے۔ تو عرض واحدہ بالشخص کا موضوعات جداگانہ سے قیام لازم اور ان میں ایک سے تو ترجیح بلا مرجح ۔
عہ :  صاحب ِ قبسات نے اُسے جرم فلک الافلاک سے قائم بتایا اور یہ ہمارے قول کے منافی نہیں یہ حرکتِ توسطیہ سے قائم اور وہ فلک سے تو یہ فلک سے۔ قبسات کی عبارت یہ ہے۔
کما فی الحرکۃ امران مختلفان بالمفہوم متباینان بالذات کذلک بازائھما فی الزمان شیئان مختلفان احدھما الان السیال وھو مکیال الحرکۃ التوسطیۃ و ما تنطبق ھی علیہ غیر مفارقۃ ایاہ مادامت موجودۃ والاخر الزمان المتصل الممتد وھو مقدار الحرکۃ القطعیۃ وما توجد ھی فیہ وتنطبق علیہ وکما ان الحرکۃ التوسطیۃ السیالۃ وراء حدودالحرکۃ بعمنی القطع کذلک الان السیال غیر الان الذی ھو طرف الزمان والفصل المشترک بین قسمیہ الماضی والمستقبل غیر قائم بجرم الفلک الاقصی الذی ھو موضوع الحرکۃ القطعیۃ المستدیرۃ التی ھی محل الزمان والحرکۃ التوسطیۃ الدوریۃ التی ھی ملزومۃ الان السیال وبالان السیال تکال الحرکات التوسطیہ الدوریۃ و الاستقامیۃ جمیعا کما بالزمان یقدر جمیع الحرکات القطعیۃ المستدیرۃ وغیر المستدیرۃ و الان السیال والحرکۃ التوسطیۃ الراسمان للزمان والحرکۃ بمعنی القطع فی ازاء النقطۃ الفاعلۃ للخط کما اذافرض مرور راس مخروط علی سطح والانات الموھومۃ التی ھی اطراف الازمنۃ و الاکوان فی حدود المسافۃ التی ھی بازاء الحدود الموھومۃ للحرکۃ بمعنی القطع فی ازاء النقاط التی ھی اطراف الخطوط بالفعل والنقاط المفروضۃ فی الخط المتصل بالتوھم الا ان الان لیس الاالان الوھمی فی الزمان ولایکون الافاصلا والنقط منھا موھومۃ واصلۃ ومنہا موجودۃ فاصلۃ کما فی الحدود الحرکات القطعیۃ واطرافہا اھ ۱۲ منہ غفرلہ۔
جیسے حرکت میں دو امر ہیں جو مفہوم میں مختلف اور ذات کے لحاظ سے متبائن ہیں ،  اسی طرح ان کے مقابل زمانہ میں دو مختلف چیزیں ہیں ایک آن سیال اور یہ حرکت تو سطیہ کا پیمانہ ہے اور حرکت تو سطیہ اس پر منطبق ہوتی ہے اور جب تک موجود رہتی ہے اس سے جدا نہیں ہوتی دوسری چیز زمانہ متصل ممتد ہے اور وہ حرکت قطعیہ اور جس میں حرکت قطعیہ پائی جائے کی مقدار ہے نیز حرکت قطعیہ اس پر منطبق ہے اور جیسے حرکتِ توسطیہ سیالہ حرکت قطعیہ کی حدود کے علاوہ ہے اسی طرح آن سیال اس آن کے مغایر ہے جو طرف زمان ہے اور زمانے کی دوق سموں ماضی اور مستقبل کے درمیان حد مشترک ہے  ،  نیز آن سیال فلک الافلاک کے جسم کے ساتھ قائم نہیں ہے جو حرکت قطعیہ مستدیرہ کا موضوع اور حرکتِ قطعیہ مستدیرہ زمانے کا محل ہے۔

حرکتِ توسطیہ دور یہ جسے آنِ  سیال لازم ہے اور آن سیال ہی سے تمام توسطی دوری اور مستقیم حرکتوں کی پیمائش کی جاتی ہے جیسے زمانے سے تمام حرکاتِ مستدیرہ اور غیر مستدیرہ کی مقدار معلوم کی جاتی ہے۔ آن سیال اور حرکت توسطیہ زمانے کو اور حرکتِ قطعیہ کو نقش کرتی ہیں اور یہ مقابل ہے اس نقطے کے جو خط کھینچنے کا سبب ہوتا ہے جیسے کہ جب ایک مخروطی جسم کا سرا فرض کیا جائے کہ وہ ایک سطح پر گزررہا ہے اور آنات فرض کی جائیں جو زمانوں کی اطراف ہیں اور حرکتِ قطعیہ کی وہمی حدود کے مقابل مسافت کی حدود میں متحرک کے وجودات فرض کیے جائیں ان نقاط کے مقابل جو خطوط کے اطراف میں بالفعل ہیں یا خط متصل میں وہم کی مدد سے فرض کیے گئے ہیں۔ لیکن آن تو وہی ہے جس کا زمانے میں وہمی طور پر ثبوت ہے اور یہ فاصل ہی ہوگی جب کہ بعض نقطے وہمی اور واصل ہیں اور بعض موجود ہیں۔ اور فاصل ، جیسے کہ حرکات قطعیہ کی حدود اور ان کی اطراف میں ہے ۱ ھ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
Flag Counter