Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
144 - 212
اقول :  بوجوہِ کثیرہ آن سیال نے وہ سیلان کیاکہ بالکل بہہ گئی۔

(۱) وہ موجود ،  خارجی تھی یہ متخیل۔ 

(۲) وہ واحدیہ متعدد 

(۳) وہ برقرار ( عہ۱) یہ متجدد۔

(۴) اس پر زمانہ موقوف کہ اُسی سے متخیل ہوتا ہے یہ خود زمانے پر موقوف کہ اسی کے اطراف وحدود۔

(۵) وہ راسم زمانہ ، یہ اس سے مرسوم (عہ۲) کہ جب تک زمانہ نہ گزرے دوسری آن متخیل نہ ہو ، 

(۶) وہ علی (عہ۳) الاتصال سیال یہ متفرق بالانفصال۔
عہ ۱: عدم التغیر فوق الوحدۃ ۱۲ منہ غفرلہ   ۔ عدم تغیر وحدت سے فوق ہے۔(ت)

عہ ۲: کونہامرسومۃ بالزمان فوق توقفہا علیہ ۱۲ منہ غفرلہ ۔ اس کا زمان سے مرسوم ہونا اس پر موقوف ہونے سے فوق ہے ۔ (ت)

عہ ۳ : ھٰھنا ثلاث اتصالات الاول مایطلبہ السیلان لوقوعہ فیہ وھوالمراد فی السابع۔ والثانی مایتخیل بھٰذا السیلان وھو المراد فی الثامن و بعدہ ۔والثالث مایعرض نفس السائل بالعرض بحسب السیلان وھوالمراد فی السادس فافہم ۱۲ منہ ۔
 

یہاں تین اتصال ہیں: اول وہ کہ سیلان اس کو طلب کرتا ہے اس میں گرنے کے لیے وہی مراد وجہ ہفتم ہیں۔ ثانی  وہ جو اس سیلان سے مختیل ہے۔ وہی مراد ہے وجہ ہشتم اور اس کے مابعد میں۔ ثالث وہ جو نفس سائل کو عارض ہو باعتبار سیلان کے ،  وجہ ششم میں وہی مراد ہے ،  تو سمجھ لے ۔(ت)
(۷) اس کا سیلانا امتداد متصل میں واقع ان کے طفرے اس اتصال کے قاطع۔

(۸) اس سے جدید امتداد متخیل ان کے بعد حتاج تخیل کہ اس کا سیلان رسم امتداد کا ذمہ دار ان کے خلا بھرنے کو خود امتدادور کار۔

(۹) اس کا سیلان امتداد کا راسم ان کا تفرق اس کا بھی حاسم (عہ) یعنی وہ امتداد متصل وحدانی دکھائے یہاں مستقل تخیل کے بعد بھی جو بنے ٹکڑے ٹکڑے آئے۔
عہ : الجسم فوق عدم التخیل فشتان ماثبوت العدم وعدم الثبوت ۱۲ منہ غفرلہ۔ جسم عدم تخیل سے فوق ہے تو ثبوتِ عدم اور عدم ثبوت میں بہت فر ق ہے۔(ت)
 (۱۰) زمانہ تخیل حدود پر موقوف نہیں۔

(۱۱) نہ اس کا محتاج کہ بعد تفرق اتصال پائے اس کے اتصال موہوم میں یہ حدود فرض کرسکتے ہیں نہ کہ یہ حدود ہولیں اس کے بعد انہیں امتدادوں سے وصل کیا جائے۔

(۱۲) قطرئہ سیالہ و شعلہ جوالہ کی مثالیں بھی اس بیان پر خوب منطبق ان میں یونہی حدود فرض ہو کہ خطوط وصل ہوتے ہوں گے۔ دیکھئے نہ کوئی شے بسیط موجود بتاسکے نہ ہر گز اس کا سیلان بناسکے۔
ولن یصلح العطار ماافسدہ الدھر
 (جس کو دہر فاسد کردے اس کی اصلاح عطار ہرگز نہیں کرسکتا۔(ت)
خامساً اقول : جب سیلان خارجی سے امتداد ذہنی بنتا ہے وہاں دو چیزیں خارج میں ہوتی ہیں ،  ایک وہ سیال جیسے قطرہ نازلہ ،  دوسرے اس کی مقدار مثلاً جو بھر ،  اور دو ذہن میں ایک وہ امر ممتمد کہ اس کے سیلان متصل سے موہوم ہوا مثلاً خط آبی دوسرے اس ممتد کی مقدار مثلاً دس گز خارج کی دوسری چیزیں ذہن کی دونوں چیزوں کی مجانس ا ور گویا ان کے اجزا سے ایک جز ان کے حصوں سے ایک حصہ ہوتی ہیں بایں معنی کہ مثلاً یہ پانی کا خط اگر خارج میں ہوتا تو وہ قطرہ اس کا ایک حصہ ہوتا اور اس کی جو بھر مقدار اس کی دس گز مقدار کا حصہ کہ سیلان سے ذہن میں اسی کی صورت کے امثال پے درپے اتصال پا کر امتداد بناتے ہیں تو ممتدذہنی گویا اسی سیال خارجی کے امثال سے مرکب اور اس کی مقدار انہیں مقادیر امثال کا مجموعہ کہ اسی مقدار خارجی کے اضعاف ہیں۔ اب یہاں ممتدذہنی تو حرکت قطعیہ ہے اوراس کی مقدار زمانہ خارج میں سیال ،  تم نے آن کو لیا۔

(۱) اس کی مقدار محال کہ وہ راساً ناقابلِ انقسام  ،  تو چار میں سے ایک تو یہ غائب ہوئی۔

(۲) وہ جو ایک خارج میں ہے مقدار کے مقابل نہیں بلکہ سیال کے تو چاہیے کہ آن حرکت قطعیہ کی جنس سے ہو اور حرکتِ قطعیہ کے حصوں سے ایک حصہ  ،  یہ بھی باطل پھر اس کے سیلان سے ان کا ارتسام کیسا ،  اگر کہیے ہم وہ امر ممتد اور اس کی مقدار حرکت قطعیہ وزمانہ نہیں لیتے بلکہ زمانہ او راس کا امتداد ،  اب ممتد جنس سیال سے ہوگیا اور گویا اس کے حصوں سے ایک حصہ۔
اقول :اب بھی بوجوہ غلط۔

(۱)  اب زمانہ متقدر ہوگیا حالانکہ مقدار ہے امتداد زمانے کو عارض ہوگیا حالانکہ وہ خود امتداد ہے۔

(۲) زمانہ اگر خارج میں موجود ہو آن نہ ہر گز اس کا حصہ ہوگی نہ حصہ کا مثل ، بلکہ اس کی طرف۔

(۳) آن کی مقدار اب یہی معدوم جو امتداد زمانہ کے مقابل ہوتی اگر کہیے ہم وہ خارج کی دو چیزیں حرکت تو سطیہ  و آن لیتے ہیں اور ذہن کی دو حرکت قطعیہ و زمانہ آن کو سیال اس لیے کہہ دیا ہے کہ سیال یعنی حرکت توسطیہ پر منطبق ہے اب تو چاروں کا تجانس و تعادل ہوگیا۔

اقول : اب بھی غلط :

(۱) جس طرح آن کے لیے مقدار نہیں آن کسی کے لیے مقدار نہیں۔

(۲) وہی کہ آن حصہ ئ زمانہ نہیں غرض خارج سے ذہن میں ارتسام زمانہ کسی پہلو ٹھیک نہیں آتا۔
Flag Counter