Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
143 - 212
مقام بست وپنجم
آن سیّال کوئی چیز نہیں ، ارسطو وابن سینا اور ان کے چیلوں نے کہا حرکت کے دو اطلاق ہیں۔

اول : حرکت بمعنی التوسط کہ مبدء سے جدائی کے بعد اور منتہی تک وصول سے پہلے جسم کے لیے مبدء و منتہی میں متوسط ہونے کی ایک حالت دائمہ باقیہ ہے کہ خود اپنی ذات میں ناقابل قسمت اور اول تا آخر بحالہا محفوظ و مستمر ہے اور آنات مفروضہ زمان حرکت میں حدود مفروضہ مسافت سے ہر آن اسے ایک نسبت تازہ ہے کہ نہ پہلے تھی نہ بعد کو ہو اس اعتبار سے سیال و نامستقر ہے اسے حرکت توسطیہ کہتے ہیں۔

دوم : حرکت بمعنی القطع جس طرح مینہ کی اترتی بوند سے پانی کا ایک خط اور بینٹی گھمانے سے آگ کا ایک دائرہ متوہم ہوتا ہے یونہی حرکت توسطیہ کے ان اختلاف نسب کے علی الاتصال توارد کے باعث مبدء سے منتہی تک ایک حرکت متصلہ وحدانیہ متخیل ہوتی ہے وجہ یہ کہ اس بوند یا شعلے یا متحرک کے ایک مکان میں ہونے کی ایک صورت خیال میں مرتسم ہوئی اور وہ بھی زائل نہ ہونے پائی تھی کہ معاً دوسرے تیسرے مکانوں میں ہونے کی صورتیں آئیں یونہی آخر تک لاجرم دہم میں ایک شیئ ممتد متصل پیدا ہوئی جو صور مذکورہ میں خط و دائرہ و حرکت ممتدہ وحدانیہ ہے اسے حرکت قطعیہ کہتے ہیں۔ ان صنادید فلسفہ نے جب خود اسے موہوم کہا تو ہمیں یہاں بحث کی حاجت نہیں اگرچہ جائے سخن وسیع ہے مگر جز اف بے معنی یہ ہے کہ اسی پر قیاس کرکے کہا کہ جس طرح خارج میں حرکت تو سطیہ اپنی ذات میں بسیطہ مستمرہ اور نسبتوں سے غیر مستقرہ ہے اور اس کے سیلان سے قطعیہ موہوم ہوتی ہے یونہی خارج میں ایک آن سیال ہے کہ اپنی ذات میں بسیط و ناقابل قسمت وغیر متبدل ہے اور اپنے سیلان سے اذہان میں ایک امتداد موہوم متصل کی راسم ہے جس کا نام زمانہ ہے آن سیال حرکت توسطیہ پر منطبق ہے اور زمانہ حرکت قطعیہ پر یہ بوجوہ ناقابل قبول۔

اولاً : کیا ضرور ہے کہ امتداد موہوم زمانی کسی امر خارج مستمر غیر مستقر ہی سے منتزع ہو کیوں نہیں ممکن کہ ابتداً ذہن میں حاصل ہو۔(علامہ خواجہ زادہ)

اقول : حرکت تو سطیہ بمعونت حس مدرک ہے کہ متحرک کو بین الغایتین مبدء سے منصرف منتہی کی طرف متوجہ اس سے ہٹتا اس کی طرف بڑھتا دیکھ رہے ہیں اور یہی معنی توسط ہے اور اس کے استمراد سے ایک اتصال متوہم ہونا معقول وہ حرکت قطعیہ ہے امتداد زمانی کا علم ہر بچے جانور کو ہے یہاں خارج میں کسی مستمر نامستقر کا نہ مشاہدہ نہ اس پر دلیل تو محض قیاس غائب علی الشاہد مردود و ذلیل اگر کہیے وجود ذہنی نہیں ہوتا مگر ظلی۔

اقول : یہ دلیل نہیں بلکہ دوسرے لفظوں میں مدعا کا اعادہ اور صریح (عہ) مصادرہ ہے۔
عہ : اور اس کا ابطالِ صریح مقامِ آئندہ میں آتا ہے ۱۲ منہ۔
ثانیاً اقول : سیلان خارجی سے ایک اتصال متخیل ہونا پہلے اس سیلان کے ارتسام کی فرع ہے جس نے نہ قطرہ اُترتا دیکھا نہ شعلہ گھومتا محال ہے کہ ان کے نزول و دوران سے اس کے ذہن میں خط و دائرہ مرتسم ہوں یہاں امتداد زمانی کی وہ شہرت کہ صبیان و حیوان بھی اس سے آگاہ اور آن سیال تم چند کے سوا کسی کے خیال میں یہی نہیں تو اس کے سیلان سے اذہان میں اس ارتسام کے کیا معنی۔

ثالثاً اقول : اگر رسمِ زمانہ کو خارج میں کوئی سیلان ہی درکار ،  اور فرض کرلیں کہ سیلان رسم زمانہ کرسکتا ہے تو کیوں نہ ہوکہ حرکتِ توسطیہ کا سیلان یہ راسم ہو آن و سیلان آن کی کیا حاجت بلکہ اس تقدیر پر یونہی ہونا چاہیےکہ خود کہتے ہو سیلان توسطیہ سے حرکت قطعیہ متصلہ موہوم ہوتی ہے تو قطعیہ کا اتصال اسی سیلان کا مرسوم اور قطعیہ کے اتصال ہی کا نام زمانہ ہے۔

رابعا اقول : سب جانے دو فرض کردم کہ کوئی آن ہے اور اسے سیلان ہے لیکن محال ہے کہ وہ راسم زمانہ ہو ،  ذرا سیلان کے معنی بتائیے آن تو فی نفسہ دائم و مستمر ہے اس کا سیلان نہ ہوگا مگر یہ آنات متعاقبہ میں حدودِ مختلفہ سے اس کی نسب متجددہ اس کے سوا اگر کچھ معنی سیلان راسم بتاسکتے ہو بتاؤ اور جب سیلان یہ ہے تو یہ خود زمانے پر موقوف تو اسے راسم زمانہ نہ کہے گا مگر سخت بے وقوف  ،  اس مقام کی صعوبت بلکہ مطلقاً عدم استقامت نے اگلوں کو بیان معنی سیلان آن سیال سے صم بکم رکھا مگر آخر زمانے میں ہدیہ سعیدیہ نے اس کی مشکل کشائی پوری کردی کہ حاضر ہمیشہ آن ہے زمانہ حاضر ہو تو قار ہوجائے۔ زمانہ یوں تو متخیل ہوتا ہے کہ آن حاضر کا تخیل کیا پھر ایک زمانہ لطیف کے بعد دوسری آن کا  ،  پھر زمانہ قلیل کے بعد تیسری آن کا یوں ایک آن مستمر سیال ہوتی ہے کہ گویا راسم زمانہ ہے جیسے قطرہ سیال و شعلہ جوالہ۔
Flag Counter