آن سیّال کوئی چیز نہیں ، ارسطو وابن سینا اور ان کے چیلوں نے کہا حرکت کے دو اطلاق ہیں۔
اول : حرکت بمعنی التوسط کہ مبدء سے جدائی کے بعد اور منتہی تک وصول سے پہلے جسم کے لیے مبدء و منتہی میں متوسط ہونے کی ایک حالت دائمہ باقیہ ہے کہ خود اپنی ذات میں ناقابل قسمت اور اول تا آخر بحالہا محفوظ و مستمر ہے اور آنات مفروضہ زمان حرکت میں حدود مفروضہ مسافت سے ہر آن اسے ایک نسبت تازہ ہے کہ نہ پہلے تھی نہ بعد کو ہو اس اعتبار سے سیال و نامستقر ہے اسے حرکت توسطیہ کہتے ہیں۔
دوم : حرکت بمعنی القطع جس طرح مینہ کی اترتی بوند سے پانی کا ایک خط اور بینٹی گھمانے سے آگ کا ایک دائرہ متوہم ہوتا ہے یونہی حرکت توسطیہ کے ان اختلاف نسب کے علی الاتصال توارد کے باعث مبدء سے منتہی تک ایک حرکت متصلہ وحدانیہ متخیل ہوتی ہے وجہ یہ کہ اس بوند یا شعلے یا متحرک کے ایک مکان میں ہونے کی ایک صورت خیال میں مرتسم ہوئی اور وہ بھی زائل نہ ہونے پائی تھی کہ معاً دوسرے تیسرے مکانوں میں ہونے کی صورتیں آئیں یونہی آخر تک لاجرم دہم میں ایک شیئ ممتد متصل پیدا ہوئی جو صور مذکورہ میں خط و دائرہ و حرکت ممتدہ وحدانیہ ہے اسے حرکت قطعیہ کہتے ہیں۔ ان صنادید فلسفہ نے جب خود اسے موہوم کہا تو ہمیں یہاں بحث کی حاجت نہیں اگرچہ جائے سخن وسیع ہے مگر جز اف بے معنی یہ ہے کہ اسی پر قیاس کرکے کہا کہ جس طرح خارج میں حرکت تو سطیہ اپنی ذات میں بسیطہ مستمرہ اور نسبتوں سے غیر مستقرہ ہے اور اس کے سیلان سے قطعیہ موہوم ہوتی ہے یونہی خارج میں ایک آن سیال ہے کہ اپنی ذات میں بسیط و ناقابل قسمت وغیر متبدل ہے اور اپنے سیلان سے اذہان میں ایک امتداد موہوم متصل کی راسم ہے جس کا نام زمانہ ہے آن سیال حرکت توسطیہ پر منطبق ہے اور زمانہ حرکت قطعیہ پر یہ بوجوہ ناقابل قبول۔
اولاً : کیا ضرور ہے کہ امتداد موہوم زمانی کسی امر خارج مستمر غیر مستقر ہی سے منتزع ہو کیوں نہیں ممکن کہ ابتداً ذہن میں حاصل ہو۔(علامہ خواجہ زادہ)
اقول : حرکت تو سطیہ بمعونت حس مدرک ہے کہ متحرک کو بین الغایتین مبدء سے منصرف منتہی کی طرف متوجہ اس سے ہٹتا اس کی طرف بڑھتا دیکھ رہے ہیں اور یہی معنی توسط ہے اور اس کے استمراد سے ایک اتصال متوہم ہونا معقول وہ حرکت قطعیہ ہے امتداد زمانی کا علم ہر بچے جانور کو ہے یہاں خارج میں کسی مستمر نامستقر کا نہ مشاہدہ نہ اس پر دلیل تو محض قیاس غائب علی الشاہد مردود و ذلیل اگر کہیے وجود ذہنی نہیں ہوتا مگر ظلی۔
اقول : یہ دلیل نہیں بلکہ دوسرے لفظوں میں مدعا کا اعادہ اور صریح (عہ) مصادرہ ہے۔