| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
قوتِ جسمانیہ کا غیر متناہی پر قادر ہونا محال نہیں فلسفی محال مانتا ہے اس کی دلیل کی کہ ابن سینا نے دی اور آج تک متداول رہی۔ تلخیص یہ ہے کہ حرکت غیر متناہیہ اگر قوتِ جسمانیہ سے ہو تو اس قوت کے حصے ہوسکیں گے کہ جسم میں ساری ہے کہ تجزی جسم سے متجزی ہوگی۔ اب ہم پوچھتے ہیں اس قوت کا حصہ مثلاً نصف بھی تحریک کل یا بعض جسم پر قادر ہے یا نہیں ، اگر نہیں تو یہ سارے جسم میں ساری ہونے کے خلاف ہے ، اور اگر ہاں تو قوت کا حصہ کل جسم یا بعض جسے حرکت دے سکے ضرور کل قوت بھی اسے حرکت دے سکتی ہے ورنہ جز کل سے بڑھ جائے اب حصے کی تحریک مدت وعدت میں کل کے برابر ہوئی کہ جتنے زمانے میں جتنے دورے کل قوت دے سکے حصہ یہی جب تو جز و کل برابر ہوگئے ورنہ ایک مبدء سے دونوں تحریکیں شروع کریں۔ ضرور ہے کہ حصے کی تحریک تھک رہے گی تو متناہی ہوئی اور کل کی تحریک اسی نسبت محدود سے اس پر زائد ہوگی حصہ نصف ہے تو دوچند ثلث ہے تو سہ چندا ور جو متناہی پر بقدر متناہی زائد ہو امتناہی ہے تو قوتِ جسمانیہ کا اثر نہ ہوا مگر متناہی ہے طویل بیان کرتے ہیں جسے ہم نے تلخیص کیا۔ اقول : یہ محض تمویہہ وملمع کاری ہے۔ اولاً: ہم اختیار کرتے ہیں کہ حصہ مدت میں برابر اور عدت میں اپنی قدر ہوگا۔ مثلاً کل قوت ایک دن میں دورہ دے تو نصف قوت دو دن میں دے گی ، ثلث تین دن میں سبع ایک ہفتہ میں اس کے دورے اور اس کے دوروں کے آدھے تہائی ۷ /۱ ہوں گے مگر منقطع کوئی نہ ہوگا تو زمانہ برابر رہا اور دوروں کی گنتی سے فرق پڑا تو نہ جزء وکل برابر ہوئے نہ جزء کی تحریک منقطع نہ کل کی ، اس پر بقدر متناہی زائد ابد کے دن ہفتے مہینے سال سب غیر متناہی ہیں اور دونوں سے ہفتے ۷ /۱ مہینے ۳۰/ ۱ ،سال ۳۵۵ /۱ نہ تساوی ہے نہ انقطاع۔ ثانیاً کیا ضرور کہ جس کام پر کل قوت قادر ہو نصف اس کے نصف پر ہو۔ ممکن کہ اس اثر پر قوی ہونا مشروط بہ ہیئت اجمتاعیہ ہو تو حصے سے ممکن نہیں ، نظیر سے توضیح (عہ) چاہو تو بداہۃًمعلوم کہ جہاز کے وزن مخصوص پر تحریک کے لیے ہوا کی ایک قوت درکار کہ اس سے کم ہو تو اصلاً حرکت نہ دے سکے اور یہ واقع ہے یقیناً معلوم کہ ہوا کی وہ قوت جو صرف ایک پتے کو کو ہلا سکے تحریک جہاز پر اصلاً قادر نہیں اور اس کی ایک قوت وہ ہے کہ جہازوں کو روزانہ سو میل لے جاتی ہے ضرور ہے کہ پہلی قوت غیر محرکہ کو اس قوت سے کوئی نسبت ہوگی ،
عہ : بظاہر اس سے اقرب یہ مثال ہوسکتی ہے کہ کرہ حرکتِ وضیعہ کرسکتا ہے اور اس کے ثخن میں اسکا کوئی حصہ مثلاً نصف کسی شکل مضلع مثلاً مثلث یا مربع پر خواہ جڑا ہو یا جدا ہو ہر گز نصف دورہ یا حرکتِ وضعیہ کا کوئی حصہ نہیں کرسکتا کہ مضلع جب ادنٰی جنبش کرے قطعاً حرکت اینیہ ہوگی نہ وضعیہ جس میں این برقرار رہے اور صرف وضع بدلے ۔ فافھم ان کنت تفھم ( تو سمجھ لے اگر تو سمجھتا ہے۔ت) ۱۲ منہ غفرلہ۔
فرض کیجئے۔ ۱/۱۰۰۰ یا ۱/۱۰۰۰۰۰ تو تمہارے طور پر لازم کہ اسی نسبت سے پہلی قوت اُسے روزانہ ۱۰۰ میل کے ایک حصہ تک لے جایا کرے یعنی ایک میل کا دوسواں حصہ ۱۷۶گز یا ہزارواں حصہ ۷۶ء ۱ گز کہ پونے دو گز (عہ) سے زائد ہوا حالانکہ وہ یقیناً اسے اصلاً نہیں ہلاسکتی۔
عہ : یعنی ۱ ۔۲۵/ ۱۹ گز ۱۲ الجیلانی ۔
ثالثاً : اگر کہیں کہ جذب مرکز سے ہے کہ میل ہو یا جذب ضرور جانب مرکز ہے تو مانحن فیہ میں سرے سے تقسیم حصص کا جھگڑا ہی نہ رہے گا۔
تکملہ : یہ دونوں اعتراض ہم نے بفضلہ تعالٰی بہ نگاہِ اولین کیے تھے پھر جو نپوری کی کتاب دیکھی تو اس میں دونوں مع نام جواب پائے۔ اول پر اقرار کردیا کہ اس صورت میں ہماری یہ دلیل جاری نہیں پھر اس پر یہ عذر بارد گھڑا کہ جب ہم ثابت کرچکے کہ قوتِ جسمانیہ ایک سلسلہ غیر متناہیہ پر قادر نہیں تو زیادہ پر کیسے قادر ہوجائے گی ۔ اس کا مطلب حمد ا ﷲ کی سمجھ میں نہ آیا اُلٹ پھیر کر انہیں لفظوں کو دہرادیا اور کہا ھذا ماعندی فی حل ھذہ العبارۃ ( یہ وہ ہے جو اس عبارت کے حل میں میرے پاس ہے۔ت) اقول : اس کا مطلب عقل میں نہ آنا بعید نہیں کہ اس کا مطلب خود عقل سے بعید ہے وہ یہ کہتا ہےکہ تم نے جزو و کل میں فرق یہ نکالا کہ مثلاً قوت کا سوواں حصہ ایک دن میں ایک دورہ دے تو پوری قوت ایک دن میں سو دورے دے گی ، اور دن غیر متناہی ہیں تو اس کی اکائیاں نامتناہی ہوں گی اور اس کی صدیاں بھی ، گویا وہ ایک سلسلہ غیر متناہیہ پر قادر ہوا۔ اور یہ سو سلاسل نامتناہی پر تو جز و کل کا فرق یہی رہا اور تناہی نہ ہوئی لیکن ہم بیان کرچکے کہ کل قوت ایک سلسلہ پر قادر نہیں ، ورنہ جزء و کل برابر ہوں تو سو سلسلوں پر کہاں سے قدر ہوجائے گی ۔ یہ اس کے مذعوم کی تقریر ہے۔ اقول : یہ محض مغالطہ یا نِری سفاہت ہے بشرط شے و بشرط الامین فرق نہ کیا ، جز ایک سلسلہ پر قادر ہو تو کل ضرور ایک پر قادر نہ ہوگا ورنہ کل و جز برابر ہوجائیں مگر یہ ایک پر اس کی قدرت کا سلب کس معنی پر ہے یا بایں معنی کہ صرف ایک ہی پر قادر نہیں بلکہ سو پر ہے نہ بایں معنی کہ ایک اس کی قدرت ہی نہیں جو سو پر قادر ہے قطعاً ایک اور اس کے ۹۹ مثل اور پر قادر ہے تویہ کہنا کہ جو ایک پر قادر نہیں سوپر کیسے قدر ہوگا ، کیسا صریح مغالطہ ہے ، یوں کہیے کہ ہم دلیل سے ثابت کرچکے کہ کل کی قدرت ایک پر محدود نہیں تو ضرور زائد پر ہے ، اگر کہیے کہ کل اس تنہا ایک سلسلہ پر بھی قادر ہے یا نہیں ، اگر نہیں تو جز کل سے بڑھ گیا۔ اور اگر ہاں تو اس سلسلے کے اعتبار سے دلیل جاری ہوگی اب اس میں تو ایک متعدد کا فرق نہیں ، دلیل کو ایک شے ایسی چاہیے جس پر کل و جز دونوں قادر ہو ولہذا اس صورت میں بھی جاری تھی کہ جز صرف بعض کی تحریک پر قادر ہو ظاہر ہے کہ کل بھی اسے حرکت دے سکے گا تو دلیل جاری ہوگئی اگرچہ کل اس بعض جیسے ہزار بعض اور پر قادر ہے۔ اقول : ہاں کل اس تنہا ایک پر بھی قادر ہے مگر نہ اپنی پوری قوت بلکہ بعض سے وہ جس کی پوری قوت سو پر قادر ہے اگر ایک پر اختصار چاہیے گا پوری قوت اس پر صرف نہ کرے گا بلکہ سوواں حضہ تو بغض قوت کل کا کل قوت بعض سے مساوی ہونا لازم آیا اور یہ غیر محذور بلکہ ضرور۔ دوم : کی تقریریوں کی کی جائز ہے کہ کل کے لیے ایک قوت ہو کہ تقسیم سے نہ رہے جیسے مرکب کی قوت کہ بعد مزاج حاصل ہوتی ہے ان بسائط پر نہیں جن سے اس کی ترکیب ہوئی اور کشتی کہ دو کی تحریک سے حرکت کرے ایک سے متحرک نہ ہوگی پھر جواب دیا کہ قوت جو مزاج سے حاصل ہوئی اگرچہ قبل امتزاج بسائط میں نہ تھی مگر اب ضرور ہر بسیط بھی اس کا حامل ہے کہ تمام جسم میں ساریہ مانی گئی ہے اور ہم جز کو کل سے جدا کرکے کلام نہیں کرتے بلکہ اسی حالت میں کہ وہ مزاج حاصل کیے ہوئے ہے تو ضرور کل سے اسے جو نسبت ہے اسی نسبت پر اس قوت کا حصہ اس میں ہے اور ایک شخص اگر اس کشتی کو نہیں ہِلا سکتا تو اس سے چھوٹی کو تو ہلا سکے گا۔ اقول : بحمداﷲ تعالٰی ہماری تقریر مزاج پر نہیں جس میں ایک قوت جدیدہ خود ان بسائط ہی کو بعد کسرو انکسار حاصل ہوتی ہے۔ ہمارے اعتراض کا حاصل یہ ہے کہ کل کو ایک شے پر قوت ہو تو ضرور نہیں کہ مقوی علیہ کے حصہ حصص قوت کے مقابل ہوں کہ کل مقوی علیہ پر کل کو قوت ہے تو اس کے نصف پر نصف اور ثلث پر ثالث کو وھٰکذا ( اور اسی طرح ، ت) بلکہ ممکن کہ مقوی علیہ پر قوت ہیئت اجتماعیہ سے مشروط ہو تو جب کوئی حصہ لو گے خواہ کل سے قطع کرکے یا اس میں ملا ہوا جز اس پر اصلاً قادر نہ ہوگا جز بشرط شیئ قادر ہے کہ عین جز اگر چہ خارج میں کل سے جدا نہ کیا لیا تو اس سے تنہا اور شرط قوت کہ اجتماع تھا نہ رہا یہاں بھی وہی تفرقہ نہ کیا ، جز بشرط شے قادر ہے کہ عین کل ہے اور کلام بشرط لا مین ، اگر کہئے کہ جز قادر ہو جب تو محال مذکور لازم آئے گا۔ اقول : ہاں تو اس سے جز کا قادر ہونا محال ہوا کہ اس کے فرض سے محال لازم آیا نہ کہ قوت کل کی لامتناہی فاند فع ما قال الملاحسن فی حاشیتہ ( تو جو ملّا حسن نے اس کے حاشیہ میں کہا وہ مندفع ہوگیا۔ ت) رہا وہ اخیر جملہ کو ایک اس سے چھوٹی کو ہلا سکے گا۔
اقول : وہ بھی ہماری اس تقریر سے رد ہوگیا مقوی علیہ کے حصوں کا قوت کے حصوں پر انقسام ضرور ہے یا نہیں ، اگر نہیں تو تمہاری دلیل باطل ، اور اگر ہاں تو جو ہوا جہاز کو روزانہ سو میل لے جائے لازم کہ اس کا تجزیہ کرتے جاؤ۔ تو سو میل کا اُن پر اقسام ہوتا رہے اور وہ حصہ کہ پتے کو بھی نہ ہلا سکے اس جہاز کو انگل بھر یا بال بھر غرض کچھ نہ کچھ روزانہ ضرور ہلائے یہ صریح باطل ہے یہ بیان اس کے ایضاح کو تھا کہ ممکن بعض قدرتیں ہیئت اجتماعیہ سے مروط ہوں اور ہیئتِ اجتماعیہ مجموع میں حیث ہو مجموع کو عارض ہے نہ کہ ہر جز میں ساری تواجزا میں اس کا حصہ ہونا ضرور نہیں بلکہ نہ ہونا ضرور ہے کہ شرط مفقود ہے تو جسم کا ہر جز جسم ہونا اور بداہۃًجنس قوت کل سے کسی شیئ پر قادر ہونا اگر چہ اپنی نسبت پر اس جسم سے اصغر کی تحریک پر ہو یہ کچھ تمہیں مفید نہیں ، ہاں ہر جز بھی کسی نہ کسی حصہ جسم کی تحریک پر قادر سہی مگر ممکن کہ عدت و مدت میں لامتناہی پر قدرت ہیئت اجتماعیہ سے مشروط ہو تو وہ ہر گز نہ کسی جز میں ہوگی نہ اس کی نسبت پر انقسام پائے گی کہ استحالہ لازم آئے کہ غیر متناہی کی تنصیف تثلیث وغیرہ ناممکن ، "فاند فع ما تفوہ بہ الجونفوری واندفع ما ارادیہ اصلاحہ الملاّحسن فی حاشیتہ" ( تو مندفع ہوگیا وہ جو اس کے حاشیہ ( تو مندفع ہوگیا وہ جو اس کے حاشیہ میں ملا حسن نے کہا۔ت) اس کے بعد جونپوری نے ابن سینا کی تقریر پر رد کیا اور اپنی طرف سے حسب عادت کو شقشقہ لسان و لقلقہ بیان ہی اس کی بضاعت ہے اس دلیل کی ایک اور تقریر طویل ولا طائل گھڑی۔ اقول : بحمدہ تعالٰی وہ بھی ہماری اسی تقریر سے رد ہوگئی اس کا مبنی بھی اسی پر ہے کہ قوت بانقسام محل منقسم ہوا ، اور ہم روشن کرچکے کہ قوت مشروطہ بہیئت اجتماعیہ اجزا پر منقسم نہ ہوگی کل ہر گز اجزا کی گنتی کا نام نہیں جیسے عشرہ کہ دس وحدتوں سی زیادہ اس میں کچھ نہیں تو اس کی قوت نہ ہوگی مگر قوائے اجزاء کا حاصل جمع بلکہ یہاں ایک امر زائد ہے جس نے کثرت کو وحدت کردیا ، یعنی یات اجتماعیہ اس سے جو قوت حاصل ہوگی یقیناً مجموع قوائے اجزاء کے علاوہ ہے اور اس کا خود جونپوری کو یہی اعتراف ہے مگر پھر ہیئت اجتماعیہ کو نہیں سمجھتا ، اور انقسام محل سے تقسیم کرتا ہے۔یہ سب اس تقدیر پر ہے کہ موثر صرف جمیع اجزا بشرط اجتماع ہوں اور اگر جموع من حیث ھو مجموع موثر ہو یعنی ہیئت اجتماعیہ موثر میں داخل تو امراظہر ہے ، اب اجزاء تین وجہ پر ہیں ، (۱) مرسل نفس اجزا۔ (۲) معری متفرقہ۔ (۳) محلی مجتمعہ کہ لابشرط و بشرط لاوبشرط شے کے مراتب ہیں۔ پانچ مرسل دس مرسل کا نصف ہے لیکن دس مع ہیئت اجتماعیہ کا نصف نہ پانچ مرسل ہے نہ بلا ہیئت اجتماعیہ نہ مع ہیئت اجتماعیہ کو یہ ہیئت اجتماعیہ اسی کی مثل ہے جو دس محلی میں ہے نہ کہ اس کی نصف تو دس محلی کی جو قوت ہوگی اس کے انصاف و اثلاث میں نہ ہوگی کہ اس کے لیے انصاف و اثلاث ہی نہیں۔ یہ جو انصاف و اثلاث ہیں دس مرسل کے ہیں اور اس کے لیے وہ قوت نہیں۔ اسی قدر اس کے رد کو بس ہے زیادہ اطالت کی حاجت نہیں ، وﷲ الحمد۔