| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
قدم نوعی محال ہے فلسفی بہت اشیاء کو ایسا مانتا ہے کہ ان کے اشخاص و افراد سب حادث ہیں مگر طبیعت کلیہ قدیم ہے زمانہ کے دن ا ور فلک کے دورے اور موالید کے انواع ایسے ہی قدیم ہیں مثلاً فلک کے سب دورے حادث ہیں کوئی خاص دورہ ازل میں نہ تھا مگر ہیں ازل سے یعنی کوئی دورہ ایسا نہیں جس سے پہلے غیرمتناہی دورے نہ ہوئے ہوں۔ یہ صراحۃً کچا جنون ہے اور اس کے بطلان پر براہین قطعیہ قائم۔
حجت ۱ : برہانِ تضایف۔ حجت ۲: برہان تطبیق ، ان کا بیان ابھی سن چکے۔ حجت ۳ : بدیہی ہے کہ قدیم ہر حادث پر مقدم ہے اس کے لیے ایک ایسا وقت ضروری ہے کہ وہ ہو اور کوئی حادث نہ ہو کہ اگر ہر وقت اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی حادث رہا تو اسے سب حوادث پر تقدم نہ ہوا حالانکہ بداہۃًسب پر ہے لیکن قدم نوعی کی حالت میں یہی بدیہی باطل لازم آتا ہے قدیم کے لیے کوئی وقت ایسا نہ نکلے گا جس میں وہ ہو اور کوئی حادث نہ ہو ، اس پر جلال دوانی نے شرح ۳عقائد عضدی میں کہا کہ یہ بداہت وہم ہے قدیم کے ہر حادث پر مقدم ہونے سے اتنا لازم کہ کوئی حادث ایسا نہ ہو جس پر وجود قدیم کو سبقت نہ ہو۔ یہ یہاں ضرور حاصل ہے کہ اس حادث سے پہلے ایک حادث تھا اس وقت یہ حادث نہ تھا اور قدیم موجود تھا تو قدیم اس پر مقدم ہو اگرچہ اس پہلے حادث کا مقارن ہوا اور وہ پہلا بھی حادث ہے اس سے پہلے اور حادث تھا اس وقت یہ نہ تھا اور قدیم جب یہی تھا تو قدیم اس پر بھی مقدم ہوا ، اسی طرح ہر حادث کا حال ہے تو قدیم ہر حادث پر مقدم بھی ہے۔ اور ہر وقت ایک نہ ایک حادث اس کا مقارن ہے۔ قدیم کے لیے ایک وقت ایسا ہونا جس میں کوئی حادث نہ ہو یہ حوادث متناہیہ میں ہے ، نہ غیر متناہیہ میں ان میں وہ ہوگا کہ قدیم ہر حادث سے پہلے ہوگا اور کوئی نہ کوئی حادث ضرور دواماً اس کے ساتھ ہوگا۔
اقول : اس بداہت کو بداہت وہم کہنا وہم کا دھوکا ہے قدیم قطعاً ازل میں ہے اور یقیناٍ کوئی حادث ازل میں نہیں ورنہ حادث نہ ہو تو بلاشبہ قدیم کے لیے وہ وقت ہے جس میں کوئی حادث نہیں۔ رہا یہ کہنا کہ یہ حوادث غیر متناہیہ میں نہیں۔ اقول : یہی تو ہم کہتے ہیں کہ یہ ان میں نہیں اور اس کا ہونا یقینی ہے لہذا حوادث غیر متناہیہ باطل نہ یہ کہ اسی یقینی ہی کو الٹ اس سے باطل کیجئے۔ یوں تو جس مقدمہ قطعیہ یقینیہ سے کسی پر رد کیجئے وہ یہی جواب دے دے کہ یہ مقدمہ اس صورت کے ماورا میں ہے یہیں نہ دیکھئے بعض سفہانے برہان تطبیق پر کہا کہ کل میں بعض سے کچھ زیادہ ضروری ہونا امور متناہیہ میں ہے نہ غیر متناہیہ میں۔ اب یہ کس سے کہا جائے کہ جب کل میں بعض سے کچھ زیادت نہیں تو کاہے کا کل اور کس لیے بعض تقصیر معاف آپ کا جواب ایسا نہیں تو اس سے دوسرے نمبر پر ضرور ہے۔
حجت ۴ : کتنی واضح بات ہے کہ طبیعت کا وجود نہیں ہوسکتا مگر ضمن فرد میں جب ازل میں کوئی فرد نہیں طبیعت کہاں سے آئے گی۔ دوانی نے اسے بھی کلام سخیف کہا اور جواب کچھ نہ دیا۔ صرف اتنا کہا کہ ان کی مراد یہ ہے کہ اس نوع کا کوئی نہ کوئی فرد ہمیشہ رہے کبھی منقطع نہ ہو ، اور ظاہر ہے کہ ہر فرد کا حادث ہونا اصلاً اس کے منافی نہیں۔ اقول : یہ جواب نہیں بلکہ دعوی کا اعادہ ہے جب جمیع افراد معینہ حادث ہیں تو فرد منتشر ازلی کیسے ہوگا کہ خارج میں اس کا وجود نہ ہوگا مگر ضمن فرد معین میں۔ ہاں ایک نظیر دی اور اسے بے نظیر سمجھا اور وہ ضرور مبحث سے بے گانہ ہونے میں بے نظیر ہے وہ یہ کہ گلاب کے پھولوں میں کیا کہو گے ، ہر پھول ایک دو دن سے زیادہ نہیں رہتا حالانکہ گلاب مہینے دو مہینے باقی رہتا ہے ۔ اور بداہۃً معلوم کہ ایسے حکم میں متناہی وغیر متناہی میں کچھ فرق نہیں یعنی تو یہاں بھی اگر طبیعت ازل میں ہوئی ، حالانکہ کوئی فرد ازلی نہ تھا تو کیا حرج ہوا جیسے طبیعت گل دو مہینے رہی۔ حالانکہ کوئی پھول دو مہینے نہ رہا۔ اقول : حاصل حجت یہ سمجھے کہ جو حکم جمیع افراد سے مسلوب ہو طبیعت کے لیے ثابت نہیں ہوسکتا یہ بلاشبہ باطل ہے اور اس کے رد کو دور جانا نہ تھا کلیت ہی ایسی چیز ہے کہ جمیع افراد سے مسلوب اور طبیعت کے لیے ثابت ، یہ حاصل حجت نہیں بلکہ یہ کہ جو ظرف وجود خارجی وجود جمیع سے افرادخالی ہو۔ طبیعت اس میں نہیں ہوسکتی کہ اس کا وجود نہ ہونا مگر ضمن فرد میں اور یہ ظرف ہرر فرد سے خالی ، لہذا قطعاً طبیعت سے بھی خالی اس سے گلاب کی مثال کو کیا مس ہوا۔ کوئی پھول اگرچہ دو مہینے یا دو گھڑی بھی نہ رہا مگر یہ ظرفِ وجود ( یعنی دو مہینے) کس ساعت پھول سے خالی ہوا ہر وقت کوئی نہ کوئی پھول اس میں موجود رہا تو ضرور طبیعت موجود رہی لیکن ظرف ازل جمیع افراد حوادث سے قطعاً خالی ہے محال ہے کہ کوئی فرد حادث ازلی ہو ورنہ حادث نہ رہے تو ضرور طبیعت سے بھی خالی ہے بے تشخص خارج میں موجود ہو ، اور یہ محال ہے گلاب کے یہ دو مہینے دیکھنے نہ تھے جو خود ظرف وجود افراد تھے ان مہینوں سے پہلے دیکھو جس وقت کوئی پھول موجود نہ تھا کیا اس وقت طبیعت گل موجود تھی ہر گز نہیں ، عجب کہ فاضل دوانی سے شخص کو ایسا صریح مغالطہ ہو۔
حجت ۵: کہ گویا رابعہ کی تفصیل و تکمیل اور رگ مثال گل کی راساً قاطع ہے۔ اقول طبیعت خارج میں موجود نہ ہوگی مگر ضمن فرد معین یا منتشر میں اور فرد منتشر خود خارج میں نہیں ہوسکتا۔ مگر ضمن فرد معین میں کہ وجود خارجی مساوق ہذیت ہے اور ہذیت منافی انتشار ، وہاں وہ کسی ایک یا چند افراد معینہ مجتمعہ یا متعاقبہ فی الوجود سے منتزع ہوگا ، اور بہرحال طبیعت اس کے ساتھ موجود رہے گی۔ لیکن جہاں نہ فرد ہو نہ افراد نہ مجتمع نہ متعاقتب وہاں نہ فرد منتشر ہوسکتا ہے نہ طبیعت کہ نہ اس کا منزع منہ نہ اس کا مورد۔ ازل میں افراد حادثہ کا یہی حال ہے فرد یا افراد معینہ کے ازلی ہونے سے تم خود منکر ہو اور ان کا حادث ہونا آپ ہی اس انکار کا ضامن ، اور ازل میں تعاقب نہیں کہ تعاقب سبوقیۃ کو چاہتا ہے اور ازل سے مسبوقیہ سے پاک لاجرم ازل میں افراد متعاقبہ بھی نہ تھے تو فرد منتشر و طبیعت دونوں کے جمیع انجائے وجود منتفی تھے تو ہر گز طبیعت ازلی نہیں ہوسکتی بخلاف گل کہ اگرچہ ہر معین پھول سے دو مہینے استمرار وجود مسلوب ہے مگر فرد منتشر سے مسلوب نہیں کہ وہ ان مہینوں میں اول تا آخر افراد متاقبہ سے منتزع ہے۔
حجت ۶: اقول۔ ازل میں طبیعت کے وجود خارجی کی علتِ تامہ موجود تھی یا نہیں اگر نہیں تو ازل میں وجود طبیعت بداہۃًمحال اور اگر ہاں تو طبیعت ضرور ازل میں موجود فی الخارج تھی کہ تخلف محال اور وجود خارجی بے تعین ناممکن اور طبیعت معروضہ للتعین ہی فرد معین ہے تو ضرور ازل میں فرد معین موجود تھا حالانکہ سب افراد حادث ہیں ، ہذاخلف اور اب غیر متناہی دو حاصروں میں محصور ہوگئے ایک فرد ازلی اور دوسرا مثلاً آج کا فرد تو ضرور شق اول معین اور باوصف حدوث افراد طبیعت کا ازلی ہونا قطعاً محال تو دلائل قاطعہ سے روشن ہوا کہ نہ زمانہ قدیم نہ حرکت نہ فلک نہ موالید نہ افلاک نہ عناصر ،
والحمدﷲ رب العلمین
( اور سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ت)
تنبیہ : ملتِ اسلامیہ میں ذات و صفات الہی عزجلالہ کے سوا کوئی شے قدیم نہیں ، انواع بھی غیر ذات وصفات ہیں تو کسی شے کا قدم نوعی ماننا بھی مخالف اسلام ہے بلکہ ہم روشن کرچکے کہ قدم نوعی بے قدم شخصی ناممکن ، اور غیر کے لیے قدم شخصی ماننا قطعاً ضروریات دین کا انکار ہے۔ فاضل دوانی نے کہ ان دو حجتوں پر وہ بحثیں کردیں ، اور ان سے پہلے فلاسفہ کی دلیل قدم عالم پر دو جگہ رد میں کہا کہ اس سے قدم جنسی لازم آیا نہ شخصی ، یہ سب عادت نظار پر ہے دلیل مخالف میں یہ کہنا کہ اس سے اتنا لازم آیا نہ وہ کہ تیرا مدعا ہے اس سے مقصود اس قدر کہ دلیل اس کے مدعا کی مثبت نہیں۔ نہ یہ کہ جو لازم بتایا مسلم ہے کہ بلکہ وہ برسبیل تنزل وارخائے عنان بھی ہوتا ہے اور دلیل موافق پر نقض سے تو معاذ اللہ مدعا میں کلام مفہوم بھی نہیں ہوتا یہاں تک کہ بعض دلائل توحید و وجود واجب پر ابحاث کرتے ہیں اس سے مقصود صرف اس دلیل خاص کی تضعیف ہوتی ہے آخر یہ وہی فاضل ہیں جنہوں نی اس کے بعد براہین تطبیق و تضانیف کا بلا شرط اجتماع و ترتیب مطلقاَ جاری ہونا بہ سعی بلیغ ثابت کیا ، کیا وہ ابطال قدم نوعی کو کافی نہیں قطعاً (عہ) کافی ہیں۔
عہ : اما قولہ بعد ذکر القدم الجنسی وقد قال بذلک بعض المحدثین المتاخرین وقدرایت فی بعض تصانیف ابن تیمیہ القول بہ فی العرش اھ ۱۔
رہا اس کا قول قدم جنسی کے ذکر کے بعد کہ بعض متاخرین محدثین اس کے قائل ہیں اور میں نے ابن تیمیہ کی بعض تصانیف میں عرش کے بارے میں یہ قول دیکھا ہے ا ھ
(۱علامہ دوانی)
فاقول : ما یدریک وان المحدثین ھھنا من التفعیل دون الا فعال بل ھو المتعین فان القائل بہ لاشک مبتدع ضال ویؤیدہ نقلہ عن ابن تیمیۃ احد الضلال ویشیدہ ان المذکور عنہ القول بقدم العرش و ھو شخص فالمعنی قد قال بالقدم النوعی بعض الضالین ولا عزو فقد قال ابن تیمیہ بالقدم الشخصی فی العرش ھذا ولا یبعد من جہالات ابن تیمیۃ ان یقول فی العرش بالقدم النوعی فقد نقلوا عنہ التجسیم والجسم لا بدلہ من مستقر ولم یتجاسرعلی اثبات قدیم بالشخص فعاد الی النوعی اولم یرض معبودہ ان یبقی دائماً علٰی عرش خلق وقد وھن من طول الامد فاستجندلہ عرشاً کل حین ھذا کلہ ان ثبت عنہ واللہ تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ ۔
تو میں کہتا ہوں کہ تجھے کیا خبر ہے کہ محدثین یہاں پر تفعیل سے ہے نہ کہ افعال سے بلکہ افعال سے ہونا ہی متعین ہے کیونکہ اس کا قائل بلاشبہ بدعتی گمراہ ہے ابن تیمیہ جو کہ ایک گمراہ ہے سے اس کا نقل کرنا اس کی تائید کرتا ہے۔ اور اس کو تقویت دیتا ہے ابن تمیہ کی طرف سے قدم عرش کا قول کرنا جو کہ شخص ہے ، چنانچہ معنی ی ہوا کہ بعض گمراہ قدم نوعی کے قائل ہیں اور بے شک ابن تیمیہ عرش کے قدم شخصی کا قائل ہے اور ابن تیمیہ کی جہالتوں سے بعید نہیں کہ وہ عرش کے بارے میں قدم نوعی کا قول کرے ، کیونکہ اس سے منقول ہے کہ وہ اللہ تعالٰی کے لیے جسم مانتا ہے اور جسم کے لیے مستقر کا ہونا ضروری ہے۔ اور اس نے قدیم شخصی کے اثبات کی جسارت نہ کی ، لہذا قدم نوعی کی طرف عود کیا، یا اس کا معبود اس بات پر راضی نہ ہوا کہ وہ ہمیشہ پرانے عرش پر رہے گا جو کہ طویل عرصہ گزرنے پر کمزور ہوچکا ہے تو اس نے ہر گھڑی نیا عرش چاہا ہے یہ تمام اس صورت میں ہے جب کہ ابن تیمہ سے یہ قول ثابت ہو۔ اور اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)