Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
140 - 212
مقام بست و دوم
امور غیر متناہیہ کا عدم سے وجود میں آجانا مطلقاً محال ہے مجتمع ہوں خواہ متعاقب مرتب  ہوں یا غیر مرتب فلسفی زمانہ و حرکت فلک کی ازلیت اور خود افلاک و عناصر و ہیولات کے قدم شخصی اور موالید وصور نوعیہ کے قدم نوعی اور نفوس مجردہ کے بالفعل لاتناہی کے تحفظ کو زبردستی اس میں اجتماع بالفعل و ترتیب بالفعل کی دو قیدیں بڑھتا ہے اور یہ(عہ۱) اس کی ہوس خام ہے برہان تطبیق و برہان تضایف وغیرہما قطعاً مجتمع و متعاقب میں دونوں یکساں جاری ۔
عہ ۱:  ملّا جلال دوانی نے شرح عقائد عضدی اور ملا حسن لکھنوی نے حاشیہ مزخرفات جونپوری میں اس مبحث کو واضح کردیا ہے اسی سے متشدق جونپوری کی تمام خرافات کا رد روشن ہے ،  ہمیں تطویل کی حاجت نہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔
اولاً :ایامِ زمانہ و دورات فلک و انواع موالیداگر یونہی ازلی ہوں کہ ایک فنا ہو کر دوسرا پیدا ہو جب بھی قطعاً عقل حکم کرتی ہے کہ ایک سلسلہ کہ آج تک ہے یقیناً اس سلسلہ سے کہ کل تک تھا بڑا ہے اب کل کو آج اور پرسوں کو کل اور اترسوں کو پرسوں سے مطابق کرتے جاؤ۔ اگر دونوں سلسلے برابر چلے جائیں کبھی ختم نہ ہوں تو جزو کل برابر ہوگئے ، اور اگر چھوٹا ختم ہوجائے تو متناہی ہوا۔ اور بڑا اس پر زائد نہ تھا مگر ایک سے تو وہ بھی متناہی ۔ اس کے لیے ان کا بالفعل موجود ہونا کیا ضرور ، تطبیق اگر خارج یا ذہن میں بالفعل تفصیلی درکار ہو تو وہ غیر متناہی موجود بالفعل میں بھی ممکن نہیں۔ اور اگرذہنی اجمالی کافی اور یقیناً کافی تو سب کافی الحال موجود ہونا کیا ضرور۔
عہ ۲ : اقول۔تطبیق اجمالی نہ ہوگی مگر ذہن میں کہ خارج میں ہر ایک کا وجود ممتاز و منحاز ہے تو اجمال نہ ہوگا۔ مگر انہیں اجمالاً لحاظ سے اور تطبیق تفصیلی ذہن و خارج دونوں میں ہوسکتی ہےلہذا انہیں تین حصر ہے ۱۲ منہ)
اقول :  بلکہ سلسلے متناہی نہ ہوں تو نہ صرف جز کل کا مساوی بلکہ اپنے کل کے ہزاروں لاکھوں مثل سے بڑا ہو تمام عدد صفر کے برابر رہ جائیں بلکہ صفر سے بھی کروڑوں حصے چھوٹے ہوں ،  غرض لاکھوں استحالے لازم آئیں ،  یہ سب ایک جملہ جبریہ سے واضح  ،  یہ سلسلہ غیر متناہی سے ایک یا لاکھ جس قدر کم کرو اس کا نام ص رکھو ا ور باقی کا نام لا ، اب تطبیق دو اگر دونوں برابر چلے جائیں تو لا + ص = لا –  مشترک ساقط کیا  "ص"  ظاہر ہے کہ "ص"  ہر عدد ہوسکتا ہے تو ہر عدد صفر کے برابر ہوا اور آپس میں بھی سب برابر ہوئے اور شک نہیں کہ دس کھرب لاکھ سے کروڑ حصے بڑا ہے تو ایک بھی لاکھ کا کروڑ مثل ہے نیز دس کھرب صفر کے برابر ہے تو لاکھ صفر کا بھی کروڑواں حصہ ہے اسی طرح غیر متناہی استحالے ہیں۔
ثم اقول : لطف یہ کہ ان کے متشدقین اسی زمانہ ممتد غیر قار کو متصل وحدانی موجود فی الخارج مانتے ہیں اور جب استحالہئ لاتناہی وارد کیا جائے تعاقب وعدم وجود بالفعل کی طرف بھاگتے ہیں حالانکہ اس میں بھی مضر نہیں ،  اگر کہیے یہی تقریر بعینہ جانب ابدودار د ایک سلسلہ آج سے ابد تک لیں اور دوسرا کل آئندہ سے تو قطعاً پہلا دوسرے سے بڑا ہوگا۔ اور ذہن تطبیق اجمالی کرسکے گا تو دونوں برابر ہوجائیں گے یا ابد متناہی ۔

اقول : ہاں ضرور دلیل وہاں بھی جاری ،  پھر کیا حاصل ہوا ،  وہی تو جو ہمارا مدعا ہے یعنی غیر متناہی اشیاء کا وجود میں آجانا محال اگر چہ برسبیل تعاقب ہوجانب ازل لاتناہی سے غیر متناہی کا وجود میں آچکنا لازم اور وہ محال اور یہ جانب ابد بھی محال کہ کسی وقت یہ صادق آئے کہ غیر متناہی وجود میں آلیے بلکہ ابادلاباد تک جتنے موجود ہوتے جائیں گے خواہ باقی رہیں یا فنا ہوتے جائیں سب متناہی ہوں گے تو محال لازم نہ آیا اور سلسلہ آگے بڑھنے میں محذور نہیں کہ زیارت نہ ہوگی مگر متناہی پر  ،  بالجملہ جانب ازل لاتناہی کمی ہے اور وہ محال اور جانب ابد لاتناہی لا تقفی اور وہ جائز۔
ثانیاً : دو متقابل چیزیں کہ ذاتِ واحدہ میں جہت واحدہ سے جمع نہ ہوسکیں اور ان میں کسی کا تصور بغیر دوسرے کے ناممکن ہو وہ متضایف کہلاتی ہیں جیسے ابوت و بنوت یا علیت و معلولیت یا تقدم وتاخر  ،  ان کا ذہن و خارج میں ہمیشہ برابر رہنا واجب مثلاً ممکن نہیں کہ ایک شے مقدم اور اس سے کوئی موخر نہیں یا موخر ہو اور اس سے کوئی مقدم نہیں تو ان کا سلسلہ کہیں تک لیا جاتا قطعاً ہر تاخر کے مقابل تقدم اور ہر تقدم کے مقابل تاخر ہوگا۔ اب آج سے ازل تک ایام زمانہ یا دوراتِ فلک یا انواع عنصریات کا ئنہ و فاسدہ لیں تو یقیناً آج کا دن یا دورہ یا نوع اس سلسلہ میں سب سے موخر ہے اور کسی پر مقدم نہیں اور کل اور پرسوں  اترسوں وغیر کا ہر ایک اپنے موخر سے مقدم اور مقدم سے موخر ہے اب اگر یہ سلسلہ غیر متناہی ہے تو اوپر کے تقدم تاخر برابر رہے اور یہ سب میں بعد کا تاخر خالی رہ گیا گنتی میں تقدموں سے تاخر زیادہ رہے اور یہ محال ہے تو واجب کہ ابتداء میں ایک تقدم ایسا نکلے جو خالی تقدم ہو اور اس سے پہلے کچھ نہ ہوتا کہ تقدم و تاخر گنتی میں برابر رہیں تو ثابت ہوا کہ ایام و دورات و انواع کی ازیست محال ،  ظاہر ہے کہ یہ تقریر بھی اصلاً ان کے بالفعل مجتمع ہونے پر موقوف نہیں باپ بیٹے مرتے جیتے رہیں ممکن نہیں کہ نبوت و ابوت کی گنتی برابر نہ ہو قطعاً ہر نبوت کے مقابل ایوت اور ہر ابوت کے مقابل نبوت ہے اور عدو مساوی۔

رہی ترتیب سلسلہ تضایف میں ،  تو وہ خود ہی حاصل ہے اور تطبیق کے لیے بھی اس کا بالفعل ہونا کیا ضرور۔ ہر غیر مرتب لحاظ میں مرتب ہوسکتا ہے کہ غیر متناہی نا مرتب کو ایک بار ایک سے دو تین چار غیر متناہی لیں دوبارہ ایک جز الگ رکھ کر باقی کو یونہی ایک دو تین چار لاکھ پھر ایک کی ایک اور دو کی دو سے آخر تک تطبیق اجمالی لحاظ کریں حکم مذکور ظاہر ہوگا یا تناہی یا جزو و کل کی تساوی دونوں غیر متناہی چلے گئے تو جزو و کل برابر ورنہ دونوں متناہی مباحث یہاں کثیر ہیں اور عاقل کے لیے اسی قدر میں کفایت۔
Flag Counter