| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
اور وجہ وقوع کوہ قاف کے ریشہ کی حرکت ہے۔ حق سبٰحنہ و تعالٰی نے تمام زمین کو محیط ایک پہاڑ پیدا کیا ہے جس کا نام قاف ہے۔ کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں اس کے ریشے زمین میں نہ پھیلے ہوں ۔جس طرح پیڑ کی جڑ بالائے زمین تھوڑی سی جگہ میں ہوتی ہے اس کے ریشے زمین کے اندر اندر بہت دور تک پھیلے ہوئے ہوتے ہیں کہ اس کے لیے وجہ قرار ہوں اور آندھیوں میں گرنے سے روکیں۔ پھر پیڑ جس قدر بڑا ہوگا اتنی ہی زیادہ دور تک اس کے ریشے گھیریں گے۔ جبل قاف جس کا دور تمام کرہ زمین کو اپنے پیٹ میں لیے ہے اس کے ریشے ساری زمین میں اپنا جال بچھائے ہیں۔ کہیں اوپر ظاہر ہو کر پہاڑیاں ہوگئے کہیں سطح تک آکر تھم رہے جسے زمین سنگلاخ کہتے ہیں۔ کہیں زمین کے اندر ہے قریب یا بعید ایسے کہ پانی کی چوان سے بھی بہت نیچے ان مقامات میں زمین کا بالائی حصہ دور تک نرم مٹی رہتا ہے۔ جسے عربی میں سھل کہتے ہیں۔ ہمارے قرب کے عام بلاد ایسے ہی ہیں مگر اندر اندر قاف کے رگہ و ریشہ سے کوئی جگہ خالی نہیں جس جگہ زلزلہ کے لیے ارادہ الہی عزوجل ہوتا ہے۔ والعیاذ برحمتہ ثمہ برحمۃ رسولہ جل وعلا وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ( اللہ تعالی جل جلالہ کی پناہ اس کی رحمت کے ساتھ اور اس کے رسول اللہ َؐ کی رحمت کے ساتھ ۔ت) قاف کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے وہاں کے ریشے کو جنبش دیتا ہے۔ صرف وہین زلزلہ آئے گا جہاں کے ریشے کو حرکت دی گئی۔ پھر جہاں خفیف کا حکم ہے اس کے محاذی ریشہ کو آہستہ ہلاتا ہے اور جہاں شدید کا امر ہے وہاں بقوت، یہاں تک کہ بعض جگہ صرف ایک د ھکا سا لگ کر ختم ہوجاتا ہے۔ اور اسی وقت دوسرے قریب مقام کے درو دیوار جھونکے لیتے اور تیسری جگہ زمین پھٹ کر پانی نکل آتا ہے۔ یا عنف حرکت سے مادہ کبریتی مشتعل ہو کر شعلے نکلتے ہیں چیخوں کی آواز پیدا ہوتی ہے۔
والعیاذ باللہ تعالٰی
(اللہ تعالٰی کی پناہ، ت) زمین کے نیچے رطوبتوں میں حرارت شمس کے عمل سے بخارات سب جگہ پھیلے ہوئے ہیں اور بہت جگہ دُخانی مادہ ہے، جنبش کے سبب منافذِ زمین متسع ہو کر وہ بخار و دُخان نکلتے ہیں، طبیعات میں پاؤں تلے کی دیکھنے والے انہیں کے ارادہ خروج کو سبب زلزلہ سمجھنے لگے حالانکہ اُن کا خروج بھی سبب زلزلہ کا مسبب ہے۔
امام ابوبکر ابن ابی الدنیا کتاب العقوبات اور ابوالشیخ کتاب العظمہ میں حضرت سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی:
قال خلق اﷲ جبلا یقال لہ قاف محیط بالعالم وعرقہ الی الصخرۃ التی علیہا الارض، فاذاا راداﷲ ان یزلزل قریۃ امر ذلک الجبل ، فحرک العرق الذی یلی تلک القریۃ فیزلز لھا ویحرکھا فمن ثم تتحرک القریۃ دون القریۃ ۱
اﷲ عزوجل نے ایک پہاڑ پیدا کیا جس کا نام ق ہے، وہ تمام زمین کو محیط ہے اور اس کے ریشے اس چٹان تک پھیلے ہیں جس پر زمین ہے جب اللہ عزوجل کسی جگہ زلزلہ لانا چاہتا ہے اس پہاڑ کو حکم دیتا ہے وہ اپنے اس جگہ کے متصل ریشے کو لرزش و جنبش دیتا ہے۔ یہی باعث ہے کہ زلزلہ ایک بستی میں آتا ہے۔ دوسری میں نہیں۔
( ۱ ؎ الاسرار المرفوعۃ بحوالہ ابن ابی الدنیا وابی الشیخ حدیث ۱۲۲۹ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۳۲۱ )
حضرت مولوی معنوی قدس سرہ الشریف مثنوی شریف میں فرماتے ہیں ؎
(۱) رفت ذوالقرنین سوئے کوہ قاف دید کُہہ راکز زمرد بود صاف (۲) گرد عالم گشتہ آں محیط ماند حیراں اندراں خلق بسیط (۳) گفت تو کوہی دگرہا چیستند کہ بہ بیش عظیم تو بازایستند (۴) گفت رگہائے من اندآں کو ہہا مثل من نبوند درحسن وبہا (۵) من بہر شہرے رگے دارم نہاں برعروقم بستہ اطرافِ جہاں (۶) حق چوخواہد زلزلہ شہرے مرا ام فرماید کہ جنباں عرق را (۷) پس بجنبانم من آں رگ رابقہر کہ بداں رگ متصل گشت است شہر (۸) چوں بگویدبس، شود ساکن رگم ساکنم وزروئے فعل اندر تگم (۹) ہمچومرہم ساکن وبس کارکن چوں خرد ساکن وزوجنباں سجن (۱۰) نزد آنکس کہ نداند عقلش ایں زلزلہ ہست ازبخارات زمیں (۱۱) ایں بخارات زمیں نہ بود بداں زامرحق است وازاں کوہ گراں۔ ۱ ؎ (۱۲) مور کے بر کاغذے دیداوقلم گفت بامور دگر ایں راز ھم (۱۳) کہ عجائب نقشہاآں کلک کرد ہمچو ریحان وچوسوسن زارو ورد (۱۴) گفت آں موراصبع ست آں پیشہ ور دیں قلم در فعل فرع ست واثر (۱۵) گفت آں مورسوم کزبازوست کا صبع لاغرنہ زورش نقش بست (۱۶) ہمچنیں میرفت بالاتا بکے مہتر موراں فطن بوداند کے (۱۷) گفت گز صورت مبینید ایں ہنر کہ بخواب ومرگ گرد د بے خبر (۱۸) صورت آمد چوں لباس و چوں عصا جز بعقل وجاں نجنبد نقشہا۔ ۲؎
(۱) حضرت ذوالقرنین کوہ قاف کی طرف تشریف لے گئے، انہوں نے ایک پہاڑ دیکھا جو زمرد سے زیادہ صاف تھا۔ (۲)اس احاطہ کرنے والے نے تمام جہاں کے گرد حلقہ کیا ہوا تھا۔ اس وسیع مخلوق کو دیکھ کر آپ حیران رہ گئے۔ (۳)آپ نے فرمایا تو پہاڑ ہے دوسرے کیا ہیں کہ تیری بڑائی کے سامنے کھڑے ہوں۔ (۴) اس نے کہا کہ وہ دوسرے پہاڑ میری رگیں ہیں جو حسن اور قیمت میں میری مثل نہیں ہیں۔ (۵) ہر شہر میں میری رگ چھپی ہوئی ہے۔ دنیا کے کنارے میری رگوں پر بندھے ہوئے ہیں۔ (۶) جب اللہ تعالٰی کسی شہر میں زلزلہ لانا چاہتا ہے تو مجھے حکم دیتا ہے کہ رگ کو ہلادے۔ (۷) میں زور سے اس رگ کو ہلا دیتا ہوں جس رگ سے وہ شہر ملا ہوا ہوتا ہے۔ (۸) جب وہ فرماتا ہے کہ بس، تو میری رگ ساکن ہوجاتی ہے، مییں بظاہر ساکن ہوں مگر حقیقت میں متحرک ہوں۔ (۹) جیسے کہ مرہم ساکن اور بہت کام کرنے والی ہے۔ جـیسے عقل ساکن ہے اور اس کی وجہ سے بات متحرک ہے۔ (۱۰) جس کی عقل اس کو نہیں سمجھتی اس کے نزدیک زلزلہ زمین کے بخارات کی وجہ سے۔ (۱۱) سمجھ لے کہ یہ زمین کے بخارات نہیں ہیں اللہ تعالٰی کے حکم اور اس بھاری پہاڑ کی وجہ سے ہے۔ (۱۲) ایک چھوٹی سی چیونٹی نے کاغذ پر قلم کو دیکھا۔ تو اس نے دوسری چیونٹی سے بھی یہ راز کہہ دیا۔ (۱۳) کہ اس قلم نے عجیب نقشے کھینچے ہیں، جیسے نازبو، سوسن کا کھیت اور گلاب کا پھول ۔ (۱۴) اس چیونٹی نے کہا اصل میں یہ سارا کام کرنے والی انگلی ہے۔ یہ قلم تو عمل میں اس انگلی کے تابع ہے اور اس کا اثر ہے۔ (۱۵) تیسری چیونٹی نے کہا کہ وہ بازو کی وجہ سے ہے کیونکہ کمزور انگلی نے اپنی طاقت سے یہ نقش و نگار نہیں کیا ہے۔ (۱۶) بات اسی طرح اوپر چلتی گئی۔ یہاں تک کہ چیونٹیوں کی ایک سردار جو کچھ سمجھدار تھی۔ (۱۷) اس نے کہا اس کو جسم کا ہنر مت سمجھو کیونکہ وہ تو نیند اور موت میں بے خبر ہوجاتا ہے۔ (۱۸) جسم تو لباس اور لاٹھی کی طرح ہے۔ عقل اور جان کے بغیر یہ نقش نہیں بن سکتے ہیں۔(ت)
( ۱ ؎ مثنوی معنوی دفتر چہارم رفتن ذوالقرنین بکوہ قاف، مؤسسۃ انتشارات اسلامی لاہور ۴/ ۵۱۔ ۳۵۰) ( ۲ ؎ مثنوی معنوی دفتر چہارم بیان آنکہ مور کے برکاغذ می رفت الخ ، مؤسسۃ انتشارات اسلامی لاہور، ۴/ ۳۵۲ )
بحرالعلوم قدس سرہ فرماتے ہیں:
ایں ردست برفلا سفہ کہ میگویند بخارات در زمین محسوس مے شوند بالطبع میل خروج کنند واز مصادمت ایں ابخرہ تفرق اتصال اجزائے زمین مے شودو زمین درحرکت می آید و اینست زلزلہ، پس مولوی قدس سرہ ردایں قول می فرمایند کہ قیام زمین از کو ہہا ست ورنہ در حرکت میماند ہمیشہ پس آں کو ہ جنبش مے دہد زمین را بامرا ﷲ تعالٰی۔
یہ فلاسفہ پررد ہے جو کہتے ہیں کہ بخارات زمین میں محسوس ہوتے ہیں اور طبعی طور پر خروج کی طرف میلان کرتے ہیں ۔ چنانچہ ان بخارات کے ٹکڑاؤ کی وجہ سے زمین کے اجزائے متصلہ میں تفرق پیدا ہوتا ہے اور زمین حرکت کرنے لگتی ہے اور یہی زلزلہ ہے۔ چنانچہ مولوی قدس سرہ اس قول کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ زمین کا قیام تو پہاڑوں کے سبب ہے ورنہ یہ مسلسل حرکت کرتی رہتی۔ لہذا وہ پہاڑ اللہ تعالٰی کے حکم سے زمین کو حرکت دیتا ہے۔(ت)
چیونٹیوں کی حکایت سے بھی ان سفہاءکی تنگ نظری کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ جس طرح قلم کی حرکت انگلیوں سے انگلیوں کی قوت بازو سے بازو کی طاقت جان سے ہے تو نقش کہ قلم سے بنتے ہیں جان بناتی ہے مگر احمق چیونٹیاں اپنی اپنی رسائی کے موافق ان کا فاعل قلم انگلیوں بازو کو سمجھیں، یوں ہی ارادۃ اللہ سے کوہ قاف کی تحریک ہے اس کی تحریک سے بخارات کا نکلنا زمین کا ہلنا ہے۔ یہ احمق چیونٹیاں جنہیں فلسفی یا طبیعی والے کہئے صدمہ بخارات کو سبصبِ زلزلہ سمجھ لیجئے) بلکہ نظر کیجئے تو یہ ان چیونٹیوں سے زیادہ کودن و بدعقل ہیں۔ انہوں نے سبب ظاہر ی کو سبب سمجھا۔ انہوں نے سبب کے دو مسببوں سے ایک کو دوسرے کا سبب ٹھہرایا۔
وباﷲ العصمۃ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم
( حفاظت اﷲ تعالٰی ہی کی طرف سے ہے اور اﷲ سبحانہ و تعالٰی خوب جانتا ہے۔ت)