Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
139 - 212
شبہ ۲ :حرکت میل سے پیدا ہوتی ہے اور یہی میل اس کی منتہی تک علت وصول ہے تو آن وصول میں اس کا وجود ضرور کہ معلول بے علت ناممکن اب دوسری حرکت کو دوسرا میل درکار ،  وہ اس آن میں ہوگا کہ پہلے میل نے جہاں تک پہنچایا دوسرا وہاں سے جدا کرے گا تو دونوں متنافی ہیں اور متنافیوں کا اجتماع ناممکن ،  اور میل کا حدوث آنی ہے ،  تو اس دوسرے کی آن حدوث اس آن وصول کے بعد ہے اور بیچ میں زمانہ فاصل جس میں سکون حاصل ،  یہ شبہ ابن سینا کا ہے اس پر بھی رد کثیر ہیں بعض ذکر کریں۔

اولاً : میل معد وصول ہے نہ کہ فاعل ،  تو آن وصول میں اس کا وجود کیا ضرور بلکہ عدم ضرور  ،  تو دوسرا میل اسی آن میں پیدا ہو کر بلا فصل زمانہ دوسری حرکت دے گا نہ میلین کا اجتماع ہوگا نہ حرکت کا انقطاع۔

اقول  : بحمدہ تعالٰی یہ رد بھی بہ نگاہِ اولین ہمارے ذہن میں آیا پھر شرح مقاصد میں دیکھا کہ اسے ضمناً ذکر کرکے تصعیف کی اور وجہِ ضعف نہ بتائی وہاں عبارت یوں تھی کہ اگر مان لیں کہ جز لایتجزی باطل ہے اور میل معد نہیں علت موجبہ ہے تو رد یوں ہے اسے فرمایا منع اول کا ضعف ظاہر ہے۔ شاید یہ صرف مسئلہ جز ی طرف اشارہ ہو معد سے اعتراض میں کیا ضعف ہے۔

اقول : بلکہ اس معنی پر جو ہم نے کلام ابن سینا سے مستنبط کیے غالبا ً اس نے اسی چاک کے رفو کو یہ جملہ بڑھایا کہ یہ میل ہی حدود و حرکات تک پہنچاتا ایک سے ہٹاتا اور دوسرے پر لاتا ہے ا ھ یعنی جب تمام حدود متوسطہ مسافت پر وصول کی علت وہی تھا اور ہر گز معد نہ تھا کہ ختم حرکت تک ا س کا وجود واجب تو حد اخیر تک پہچانے کی علت بھی وہی ہوگا اور جیسے ان حدود میں معد نہ تھا موجود تھا یہاں بھی کہ حدوحد میں تفرقہ تحکم ہے یہ ہے وہ جو ہم نے اس کے کلام سے استنباط کیا۔

اقول : مگر رفو نہ ہونا تھا نہ ہوا۔ مسافت کو اگر بلحاظ وحدانی ملحوظ کرتے ہو جس طرح وہ خارج میں ہے تو یہاں حدود کہاں مسافت واحد ہے اور حرکت واحد اور میل واحد کہ علت حرکت ہے اور حداخیر تک وصول کا معد اور اگر مسافت میں حدود فرض کرکے منقسم لیتے ہو تو اس کی تقسیم سے حرکت یہی منقسم ہوگی۔ اب یہ ایک حرکت نہیں بلکہ ہر حد تک جدا حرکت ،  او رظاہر ہے کہ جو حرکت ایک حد تھی اس پر ختم ہو کر دوسری شروع ہوگی تو واجب کہ اس کی علت میل بھی یونہی منقسم ہو اس حد پر تو ہر میل ہر حد کے وصول کا معد ہی ہوا نہ کہ علت موجبہ ،  یونہی حدِ اخیر کا کہ حد وحد میں تفرقہ تحکم ہے۔ معہذا بفرض غلط اگر اس ایک اعتراض کا علاج ہو بھی جائے اعتراضات آئندہ قطعاً اس کی تقریر پر بھیو ارد  ،  لاجرم اس کی سعی بھی ویسی ہی مردود و سوفسطائی۔

ثانیاً اقول  : یہی فلاسفہ تصریح کرتے ہیں اور خود عقل سلیم حاکم کہ جسم کے لیے اس کے حیز میں میل طبعی نہیں کہ میل طالب حرکت ہے اور حیز میں طبیعت طالب سکون محال ہے کہ وہاں سے حرکت طلب کرے اب جو جسم حرکتِ طبعی سے حیز میں پہنچے آن وصول میں یہ میل نہ ہوگا۔ کہ آن وصول آن حصول ہے اور حصول نافی میل تو تمہارا  زعم کہ آنِ وصول میں میل موصل باقی ہونا لازم صراحۃً باطل ہے اب کیا محال ہے کہ اسی آن میں میل دیگر قسری یا ارادی پیدا ہو کر حرکت دیگرے دے تو نہ اجتماع نہ انقطاع۔

ثالثاً :  میل پر بھی وہی وارد جو مبانیت پر تھا ،  کیا ضرور کہ اس کا حدوث آنی ہو ،  ممکن کہ زمانی غیر تدریجی ہو۔

رابعاً اقول : اجتماع متنافیین اس وقت ہے کہ دونوں کا مقتضی ایک ہو یا دونوں مقتضے پورے عامل ہوں کہ ہر ایک کا پورا اثر واقع ہو۔ ا ور اگر مقتضے دو ہوں اور ایک عامل دوسرا معطل یا دونوں عامل ،  مگر اثر ساقط یا صرف غالب کا بقدر غلبہ ظاہر تو ہر گز محال نہیں بلکہ واقع ہے جیسے وہ مرکب جس میں جز ناری نیچے اور ارضی اوپر ہو۔ شک نہیں کہ نار اوپر لے جانا چاہے گی اور تراب نیچے لانا تو دو متنافی اثروں کا وقت واحد میں اقتضاہے مگر مقتضٰی جدا پھر اگر نارو تراب دونوں نوری کی قوت برابر ہے ساقط ہو کر اثر اصلاً مرتب نہ ہوگا مرکب ساکن رہے گا ورنہ جو غالب ہے اپنی طرف لے جائے گا۔ اور دوسرے کی ممانعت سے اس میں ضعف آجائے گا۔ یہاں اتنا بھی نہیں بلکہ شق اول ہے یعنی ایک عامل اور دوسرا محض معطل  ، مثلاً میل طبعی ایک منتہی تک لایا اور ہم نے مان لیا کہ وہ آنِ وصول میں موجود ہے مگر اس سے جدا کرنا طبیعت نہ چاہے گی بلکہ میل قسری یا ارادی کہ اسی آن میں حادث ہوا اور ان کا اجتماع متنافیین نہ ہوا کہ مقتضی جدا ہیں اور پہلا یعنی میل طبعی یہاں معطل محض کہ طبیعت جسم کا اسے حیز کا ہٹانا محال اور دوسرا عامل ہے تو کسی طرح اجتماع متنافیین نہ جانب موثر سے ہوا نہ جانب اثر میں۔ یہ ہے ابن سینا کی وہ سعی جس پر جونپوری کو وہ ناز تھا کہ اس میں بصیرت طلبوں کی ہدایت ہے اور رشد خواہوں کو گمراہوں سے نجات "۔ومن(عہ)
لم یجعل اﷲ لہ نورًا فمالہ من نور ۱ ؎ ۔
 ( اور جسے اللہ نور نہ دے اس کے لیے کہیں نور نہیں۔ت) واﷲ حق ہے کہ من لم یجعل اﷲ لہ نورا فمالہ من نور ،  مگر نہ جانا کہ اس کا مصداق خود یہی مغرور۔
عہ :  گرفتار فلسفہ مزخرفہ سے اس آیت پر ایمان تعجب کہ اہل نور کے نور جعل واجب سے ہوں تو اس کے مجعولات غیر متناہی ہوں گے حالانکہ وہ واحد من جمیع الجہات ہے  والواحد لا یصدر عنہ الاالواحد بل ولا واحد (واحد سے نہیں صادر ہوتا مگر واحد بلکہ ناواحد ۔ت) تو یوں کہاہوتا کہ من لم یجعل العقل الفعال (جسے عقل فعال نہ دے ۔ت) ہاں بالعرض کا باب واسع ہے کہ واسطہ در واسطہ ہوکر واسطوں سے جعل اس تک منتہی ۱۲ منہ غفرلہ۔
 (۱؂القرآن الکریم ۲۴ /۴۰)
Flag Counter