Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
138 - 212
مقامِ بستم
بلکہ اصول فلسفہ پر فلک کی حرکت مستدیرہ بلکہ مطلقاً جنبش یکسر باطل و محال کسی چیز کو باطل کہنا دو طور پر ہوتا ہے۔ ایک بطلانِ ثبوت ،  یہ اوّل تھا اور اس میں فلاسفہ مدعی تھے۔

دوم ثبوتِ بطلان یہ اب ہے اور اس میں ہم مدعی ہیں ،  ثبوت ہمارے ذمہ ہے فنقول وباﷲ التوفیق (تو ہم اﷲ تعالٰی کی توفیق سے کہتے ہیں۔ت)
حجت ا تا ۳ : تعیین جہت تعین قدر تعیین محور میں لزوم ترجیحات بلا مرجح کہ بارہا مبین ہوا۔ 

اقول : اور اول و دوم مطلقاً حرکت پر وارد اگرچہ وضعیہ نہ ہو۔

حجت ۴ : اقول۔ بعض اوضاع کا استخراج ترجیح بلا مرجح اور کل کا محال اور فلسفی کے نزدیک طلب محال محال تو حرکت محال۔

حجت ۵ : اقول۔ فلک الافلاک میں عرضیہ کی کوئی وجہ نہیں۔ اور باقی افلاک میں عرضیہ ہم باطل کرچکے اور طبعیہ وقسریہ سب میں تم باطل جانتے ہو ،  اور ارادیہ ہم نے باطل کردی ،  تو جمیع وجوہ حرکت منتفی تو حرکت باطل۔

حجت ۶ : اقول ۔بارہاگزرا کہ حرکت فلکی اس کی بساطت کی نافی ،  اور اس کی نفی اساس فلسفہ کی ہادم ،  اور اساس فلسفہ کی ہادم اور اساس فلسفہ تمہارے نزدیک مستحکم ، لاجرم حرکت فلک باطل۔

حجت ۷: اقول ۔تصریح کرتے ہو کہ حرکت بے عائق داخلی یا خارجی ناممکن کہ اس کے لیے زمانہ کی تحدید اسی سے ہوتی ہے ایک مسافت جتنے زمانہ میں قطع ہوتی ہے مانو کہ اس کے نصف میں بھی قطع ہوسکتی ہے جب کہ سرعت اس سے دو چند ہواور ربع میں جب کہ چوگنی ہو نہ زمانے کی تقسیم متناہی نہ سرعت کسی حد پر متہی کوئی روکنے والاہوگا تو اس کی مقدار مزاحمت سے قدر سراعت متقدر ہوگی اور بے اس کی تقدیر کے وقوع حرکت نامتصور ،  لیکن فلک (عہ) میں نہ میل طبعی مانتے ہو نہ مان خارجی ،  تو دونوں عائق معدوم تو وقوع حرکت محال۔
عہ :  اور وہ جو ہدیہ سعیدیہ میں کہا کہ حرکت ارادیہ میں جائز ہے کہ متحرک کا ارادہ ایک حد سرعت کی تعیین کرلے اس کا رَد مقام اول سوال ۴ میں گزرا ۱۲ منہ غفرلہ
مقام بست ویکم
دو حرکت مستقیمہ کے بیچ میں سکون لازم نہیں۔ ارسطو اور اس کا گروہ برخلاف افلاطون جب کہتا ہے اور دو شبہے پیش کرتا ہے۔
شبہ ۱: ایک حرکت کے ختم پر متحرک کو منتہائے مسافت سے اتصال ہوگا۔ اور دوسری حرکت کے شروع پر اس سے فراق و زوال ہوگا اور اتصال و فراق ایک آن میں جمع نہیں ہوسکتے۔ ضرور ان فراق بعد آں اتصال ہے اور دونوں آئیں متصل نہیں ہوسکتیں ورنہ جزُ  لایتجزی لازم آئے تو ضرور ان کے بیچ میں ایک زمانہ ہوگا جس میں نہ پہلی حرکت ہے کہ ختم ہوچکی نہ دوسری کہ ابھی شروع نہ ہوئی، لاجرم سکون ہے یہ برہان قد مائے فلاسفہ کی ہے اس پر رد بوجوہ ہے خود ان کے شیخ ابن سینا نے اسے حجت سو فسطائی کہا یہاں اسی قدر کافی کہ اولاً حرکت واحدہ کی حدود مسافت سے منقوض ظاہر ہے کہ متہرک ہر حد مفروض پر پہنچتا ہے پھر اس سے گزرتا ہے تو ہر حد پر اتصال و زوال کے لیے دو آنیں درکار ہوں اور ان کے بیچ میں زمانہ تو حرکت واحدہ واحدہ نہ رہے بیچ میں ہزاروں سکون فاصل ہوں۔

اقول :یہ اعتراض باول نگاہ ہمارےذہن میں آیا تھا۔ پھر شرح مقاصد میں دیکھا کہ اسے ذکر کیا اور جواب دیا کہ کہ انقسام مسافت محض موہوم ہے۔

اقول :  مقام ۱۰ ،میں ہم اجزائے مقدار یہ پر کلام کرچکے وہی یہاں کافی ہے بداہۃًمتحرک مسافت کو شیئاً فشیئاً قطع کرتا اور اس کے حصول پر پہنچتا گزرتا ہے۔ یہ حالت اس کے لیے خارج میں ہے نہ کہ ذہن ذاہن پر موقوف۔

ثانیاً :حل یہ کہ جدائی اگرچہ تاریخی نہیں کہ منتہی منقسم نہیں مگر اس کا حدوث آنی ہونا کب لازم ،  تم فلاسفہ  ہی کہتے ہو کہ حدوث کی تیسری قسم وہ ہے کہ نہ دفعہ ہو نہ تدریجی بلکہ زمانی غیر تدریجی ہو جیسے حرکت توسطیہ کہ ہر گز ایک آن میں حادث نہیں ہوسکتی نہ ہر گز تدریجی کہ غیر منتقسم ہے کہ کیا محال ہے کہ جدائی بھی اسی قسم سے ہو۔

اقول :  بلکہ مبانیت کا ایسا ہی ہونا لازم کہ وہ نہ ہوگی مگر حرکت سے اور حرکت زمانی ،  تو تتالی آنین لازم نہ آئی وہی زمانہ جس کی طرف یہ آن وصول ہے اس کا زمان حدوث ہے اور یہی زمانہ حرکت ثانیہ ہے۔ بالجملہ یہی آن وصول دونوں حرکتوں اور دونوں جدائیوں کے دونوں زمانوں میں حدِ فاصل ہے اس سے پہلے پہلی جدائی تھی اور حرکت اولی اور اس کے بعد دوسری جدائی ہے اور حرکت ثانیہ اور خود اس آن میں نہ کوئی جدائی نہ کوئی حرکت اور آن میں وجود حرکت نہ ہونا سکون نہیں ورنہ ہمیشہ سکون ہی رہے کہ کوئی حرکت کبھی ایک آن میں نہیں ہوسکتی۔
Flag Counter