Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
137 - 212
مقام نوزدہم
فلک کی حرکت ثابت نہیں۔ ریاضیوں نے کواکب کی نو حرکاتِ مختلفہ دیکھیں ایک سب سے تیز حرکت یومیہ جس میں سب شریک ہیں۔ اور ایک سب سے ست حرکت ثوابت اور ساتوں سیاروں کی۔

اقول : اور اتنا طبعیات سے لیا کہ افلاک پر خرق خال لاجرم افلاک کو متحرک بالذات مانا۔ اور کواکب کو بالفرض اور اسی انتظام کے لیے وہ حوامل و متممات و تداویر وجو زہر و مائل و تددیر وغیرہا کے محتاج ہوئے مگر فلک الافلک زبردستی مان لیا بلکہ فلک ثامن بھی علامہ قطب الدین شیرازی نے کیا خوب کہا کہ نو حرکتوں کو نو فلک کیا ضرور ہوسکتا ہے کہ ثوابت ممثل فلک زحل میں ہوں اس کی حرکت خاصہ سے متحرک اور ساتوں افلاک کے ساتھ ایک نفس متعلق کہ انہیں حرکت یومیہ دے ،  یعنی تو آسمان سات ہی رہیں گےجیسا کہ ان کے خالق کا ارشاد ہے۔

اقول :  بلکہ یوں کہتا تھا کہ نفس فلک زحل باقی کے قسر پر قادر ہو جس طرح نفس انسانی قسر حجار پر تو فلک زحل کی حرکت ارادی ہوتی باقی کی قسری ، یہ اس لیے کہ ایک نفس دو جسموں سے متعلق نہیں ہوتا۔جیسے دو نفس ایک جسم سے طبعی اپنی طبیعات پر چلے اور اتنا ریاضیوں سے لیا کہ نوفلک ہیں اور ان کی حرکت کے ثبوت میں تین شبہے  پیش کیے۔

شبہ ۱ :  مقام سابق میں فلسفی کی دلیل گزری کہ افلاک میں مبدءمیل مستدیر ہے تو ضرور میل مستدیر ہے تو ضرور متحرک بالا ستدارہ ہے کہ وجود موثر کے وقت وجود اثر واجب ہے ، ۔ اس کے مفصل ردا ابھی اور مقام اول سوال سوم میں گزرے۔

شبہ ۲ : جب ہر جز کو سب اوضاع سے نسبت مساوی تو یا جز کسی وضع پر نہ ہوگا یا ایک ہی پر ہوگا یا سب پر معاً ہوگا یا بدل بدل کر اول و ثالث بداہۃًمحال ہیں اور ثانی ترجیح بلا مرجح  ،  لاجرم رابع لازم اور یہی حرکت مستدیرہ ہے مواقف و شرح میں اس پر دو وجہ سے رَد فرمایا۔

اولاً : اس کا مبنی بساطت فلک ہے اور وہ محدد (عہ)کے سوا اور افلاک کے لیے ثابت نہیں۔
عہ : علامہ خواجہ زادہ نے تہفت الفلاسفہ میں بھی یوں ہی استثناء کیا ۱۲ منہ غفرلہ المولٰی سبحانہ وتعالٰی۔
اقول : حاشا اس کے لیے بھی نہیں جس کی تفصیل سن چکے۔

ثانیاً : بساطت اگر سب میں مسلم ہو تو وہ مقتضی حرکت نہیں بلکہ مانع حرکت ہے کہ قطبین کی تعیین جہت کی تعین قدر حرکت کی تعین ضروری ہوگی ۔ اور وہ ہر ایک بیشمار طور پر ممکن ،  تو ایک کی تخصیص ترجیح بلا مرجح ہے۔ اسی پر طوسی کا وہ جواب تھا جس کی سرکوبی سوال سوم میں گزری۔

ثالثاً : اقول ۔ دلیل چاروں کرئہ عناصر سے منقوض وہ بھی بسیط ہیں تو واجب کہ سب ہمیشہ حرکت مستدیرہ کریں۔

رابعاً : اقول ۔کیوں نہیں جائز کہ مقتضائے طبیعت فلک سکون ہو تو خصوص وضع نہ تخیص وضع ہے نہ ترجیح بلا مرجح ،  اس کا بیان مقام ۸ میں گزرا۔

خامساً: اقول ۔ بلکہ سکون میں بلاوجہ التزام وضع کی کوئی وجہ ہی نہیں ،  وضع وہ لیتے ہو جو فلک کے لیے ہے تو اس کا التزام ضروری ہے کہ وہی اس کا حیز طبعی ہے جیسا کہ مقام ۱۴ میں ہم نے مبرہن کیا ،  یا وہ اوضاع جو اجزا کو ہیں تو خارج میں کہاں (عہ۱) اجزاء ، اور کہاں اوضاع یہ تو محض ذہنی انزاع اگر اس سے یہی ترجیح بلا مرجح واقع میں لازم آتی اور اس کا دفع ضروری ہے تو باہر ہی سے ان کے اوضاع کیوں لو آپس میں بھی تو وضعیں ہوں گی (عہ۲)، ایک جز دوسرے سے گرہ بھر دور ہے تیسرے سے گز بھر ،  چوتھے سے لاکھ میل۔ یہ سب ترجیح بلا مرجح ہیں ،  تو نہ صرف دورہ بلکہ واجب ہے کہ فلک کے تمام اجزاء میں تلاطلم ہوتا ہمیشہ یہ اجزاء ان کی جگہ جاتے وہ ان کی جگہ آتے ،  سارے جسم کی بناوٹ ہر وقت تہ و بالا ہوتی رہتی۔ اچھا خرق محال مانا تھا کہ ذرہ ذرہ پاش پاش کردیا اور اب بھی نجات نہیں ،  جتنے تجزئے ممکن تھے سب ہوئے تھے تو جزلایتجزی لازم ،  اور اگر ہنوز ہر جز کا تجزیہ ممکن تھا جیسا تمہارا مذہب ہے تواس جز کے اجزاء کی باہم اوضاع کب بدلیں پھر ترجیح بلا مرجح رہی واجب کہ ہر جز کے ریزے ریزے بھی جگہیں بدلتے اور اب ان ریزوں پر بھی کلام ہوگا اور کبھی منتہی نہ ہوگا تو ترجیح بلا مرجح سے کبھی نجات نہیں ہاں ایک ہی جائے پناہ ہے کہ فاعل عزوجل کو مختار مانو اور اس کے مانتے ہی تمہاری دلیل راساً مہندم  ،  ہم شق دوم اختیار کریں گے اور ترجیح بلا مرجح نہیں بلکہ مرجح ارادہ فاعل جل و علا ہے جس وضع پر اس نے بنادی ااسی پر بنا ،  پھر حرکت کس لیے اگر کہیے ترجیح بلا مرجح حفظ اوضاع بیرونی میں ہے نہ اندرونی میں کہ فلک میں صورت نوعیہ حافظ اتصال ہے اور مانع استدارہ نہیں۔
عہ ۱ :  اقول ۔ یہاں وہ اعتراض وارد نہیں ہوسکتا جو ہم نے مقام ۹ میں کہا کہ مناشی کا وجود بیرونی و اندرونی سب بستیوں کے لیے ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔

عہ ۲: تنبیہ : اقول۔ یہاں کلام بقائے شکل میں ہے نہ نفس تشکل میں کہ شکل بننے میں یہ جز یہاں اور وہاں کیوں ہوا تو متشدق کا یہ شقشقہ کہ اجزاء تو بعد تشکل ہوں گے یہاں ناشی نہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔
اقول : خاص فلک میں حافظ اتصال ہے تو اس کا حاصل وہی امتناعِ خرق کہ باطل ہوچکا اور مطلقاً تو صریح باطل آب و ہوا میں کیا صورت نوعیہ نہیں۔ پھر کس قدر جلد ان کے اجزاء متفرق ہوجاتے ہیں اگر کہیے امتناع خرق وہ باطل ہوا کہ جہت امتناع حرکت مستقیمہ سے ہو کیوں نہیں ممکن کہ باوصف امکان مستقیمہ خود صورت نوعیہ آبی تفرق ہو تو اس کی جہت سے خرق محال ہوگا۔

اقول : سب ایرادوں سے قطع نظر یونہی کیوں نہیں ممکن کہ خود صورت نوعیہ آبی استدارہ ہو تو اوضاع بیرونی کا دوام اسی جہت سے ہوگا۔ اگر کہئے ہم امتناعِ خرق سے در گزرے اب کیوں نہیں ممکن کہ فلک میں صلابت ہو کہ تفرق اجزا دشوار ہو ترجیح حفظ اوضاع اندرونی کو اسی قدر بس ہے امتنا ع تفرق کی حاجت نہیں۔

اقول : علی التسلیم جب امتناع خرق جا کر صلابت ممکن تو حرکتِ مستقیمہ ممکن ہوئی کہ محال ہوئی تو خرق محال ہوتا اور جب حرکت مستقیمہ ممکن تو یوں  ،  نہیں ،  ممکن کہ فلک میں ثقل شدید ہو کہ اسے مطلقاً ہلنے نہ دے حفظ اوضاع انرونی کہ مرجع صلابت ہوئی حفظ اوضاع بیرونی کا مرجح ثقل ہو تو شبہ کی شق ثانی مختار رہی اور ترجیح بلا مرجح لازم نہ آئی بہرحال استدارہ ناثابت رہا۔
سادساً : اقول ۔تم پر مصیبت یہ ہے کہ حرکت مستدیرہ کرکے بھی سب اوضاع پر علی سبیل البدلیۃ بھی نہ آسکے گا۔ ظاہر ہے کہ ان قطبوں کے سوا اور اقطاب پر متحرک ہو تو اور اوضاع بدلیں گی اور اقطاب غیر متناہی اقسام تبدیل باقی رہ گئیں۔ اگر کہیے مقصود اس قدر ہے کہ ایک وضع کا التزام نہ رہے کہ ترجیح بلا مرجح لازم اور جب ایک محور  پر ہمیشہ متحرک ہے ہر وقت وضعیں بدل رہی رہی ہیں گو استیعاب اوضاع نہ ہو۔

اقول اولاً : یہ جواب کیا ہوا التزام وضع سے فرار تو اس لیے تھا کہ ترجیح بلا مرجح نہ ہو وہ اب بھی حاصل کہ ایک وضع کا التزام نہ سہی غیر متناہی وجوہ تبدیل سے ایک ہی وجہ کا التزام تو ہے۔

ثانیاً اگر صرف اتنے میں کام چل جاتا ہے کہ وضع واحد کا التزام نہ رہے تو حرکت مستدیرہ کیا ضرور ہر وقت ایک خفیف ہلتا رہنا کافی  ،  اگرچہ ایک ہی بال برابر کہ وضع ہر وقت یونہی بدلے گی۔

سابعاً اقول :  سب جانے دو وضع واحد پر رہنا اس وقت ترجیح بلا مرجح ہے کہ انتقال سے کوئی مانع نہ ہو اور عدم مانع ممنوع۔

ثامناً تا عاشرا : بلکہ تین مانع موجود ہیں کہ قدرو جہت و محور کسی کی تعیین نہیں ہوسکتی ۔ رب انعمت علی فزد (اے میرے پرورگار تو نے مجھ پر انعام فرمایا ہے اس میں اضافہ فرما۔ ت)
شبہ ۳ : جب خود فلک میں مبدءمیل مستدیر ہے تو اس میں اس سے منع نہ ہوگا نہیں ہوسکتا کہ طالب بھی ہو اور مانع بھی نہ خارج سے ممانعت ہوگی کہ حرکت مستدیرہ سے مانع نہیں مگر میل مستقیم اور فلک میں نہیں ،  

لاجرم میل موجود ہوگا اور وہ موجب حرکت ،  یہ شبہ اولٰی کے چاک کار فو ہے وہاں نفس وجود مبدء کو موجب وجود میل ٹھہرادیا تھا۔ اور اس سے ذہول کہ مانع بھی کوئی چیز ہے یہاں اس کا شعور ہوکر عدم مانع کا شاخسانہ بڑھایا اور اب بھی بوجوہ مردود  ، 

اوّلاً : مبدءمیل مستدیرکا وجود ثابت نہیں۔(سیدشریف)

ثانیا : اقول ۔ بلکہ عدم ثابت  ،  کما تقدم

ثالثاً(عہ) : طلب و منع کا امتناع اجتماع بحسب طبیعت غیر شاعرہ مسلم اور فلک شاعر ہے۔
عہ : یہ اور اس کے بعد کی تین تہافت الفلاسفہ للعلامۃ خعاجہ زادہ میں ہیں ۱۲ منہ غفرلہ
اقول : یعنی ممکن کہ نفس طالب استدارہ ہو اور طبیعت مانع جیسے انسان کے اوپر جست کرنے میں۔

رابعاً :  مستدیرہ سے مانع کا میل مستقیم میں حصہ ممنوع۔

اقول  :  تین مانع ہم بتاچکے۔

خامساً کیا ثبوت ہے کہ وہاں کوئی میل مستقیم والا نہیں جو فلک کو روکے۔

سادساً مانا کہ مبدء میل بھی ہے اور مانع بھی نہیں پھر یہی وجود میل کیا ضرور ،  ممکن کہ میل کس شرط پر موقوف ہو جو یہاں مفقود۔

سابعاً اقول : بلکہ یہاں میل محال کہ وہ علت حرکت ہے اور حرکت وہ کہ کمال ثانی رکھے اور یہاں کمال ثانی مفقود۔   

یکھو سوال دوم میں ہماری تقریریں۔
Flag Counter