| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
فلک کا قابلِ حرکت مستدیرہ ہونا ثابت نہیں ، فلسفی اس کا یہ ثبوت دیتا ہے کہ فلک میں جتنے اجزاء فرض کرو متحد الطبع ہوں گے کہ وہ بسیط ہے تو کسی جز کے لیے کوئی وضع معین لازم نہیں تمام اوضاع سے اُسے یکساں نسبت ، تو ہر جزپر ایک وضع سے دوسری کی طرف انتقال جائز اور یہ یہاں حرکت مستقیمہ سے نہ ہوگا کہ فلک پر اینیہ جائز نہیں ، لاجرم مستدیرہ سے ہوگا ، تو ثابت ہوا کہ فلک قابل حرکت مستدیرہ ہے ، اور ثابت ہوا کہ اس میں مبدء میل مستدیر ہے کہ جواز تبدیل (عہ) خود اس کی ذات سے ناشی ہے۔ لہذا خارج سے ہو تو قسر ہواور قسر بے میل طبعی ناممکن اور فلک میں میل طبعی نہیں تو قسر محال تو قابل استدارہ نہ رہے گا حرکت بے میل ناممکن ، لاجرم اس میں مبدء میل مستدیر ہے۔
عہ : اقول : یہ جملہ دلیل میں اپنی طرف سے زائد کیا ہے اور اس میں علامہ خواجہ زادہ کے اس ایراء کا جواب ہے کہ تبدیل وضع کے لیے فلک ہی کی حرکت کیا ضرور دوسرا جسم جس کے اعتبار سے اوضاع لی جائیں اس کی حرکت بھی تبدیل اوضاع کردے گی۔ علامہ کا دوسرا ایراد یہ ہے کہ ممکن کے بعض اجزاء کو ایک جدا گانہ صورتِ نوعیہ ملے جو اس وضع خاص کا اقتضاء کرے۔ اقول : یہ دو باتوں پر مبنی ، ایک یہ کہ یا تو فلک بسیط نہ ہو یا افاضہ صورت استعداد مادہ پر موقوف نہ ہو کہ فاعل مختار ہے ، دوسرے یہ کہ فلک پر قسر جائز ہو کہ جب بعض کی صورت نوعیہ کل کو حرکت سے مانع ہوئی تو باقی اجزاء مقسور ہوئے اور ان میں سے ہر بات خود ہی ان کی دلیل کی ہادم ہے تو اس اضافہ لفاضہ کی حاجت نہیں اور اگر ان کے اصول پر کلام مبنی ہو تو نہ خاک پر قسر جائز نہ بسیط کے مادہ پر اختلاف صور ممکن نہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔
(ردّ)
یہ سب زخرفہ ہے۔ ثانیاً اقول : امتناع اینیہ بربنائے تحدید ہے اور تحدید ثابت نہیں۔ ثالثاً اقول : ہم ثابت کرچکے کہ اس میں مبدء میل مستقیم ہے۔ رابعاً اقول : ہم باطل کرچکے کہ قسر بے میل طبعی نہیں۔ خامساً : عنقریب آتا ہے کہ یہی دلیل فلک کی حرکت مستدیرہ محال کررہی ہے نہ کہ قابلیت ثابت کرے (مواقف) سادساً : امکان انتقال کو امکان مبدءمیل درکار نہ کہ اُس کا وجود بالفعل (سیدشریف و خواجہ زادہ) اس پر سیالکوٹی نے اعتراض کیا کہ مبدء میل بالفعل نہ ہو تو نظر بذات جسم حرکت محال ہو کہ جس میں میل نہیں قاسر سے قبول حرکت نہ کرے گا حالانکہ اُس کا امکان ثابت ہوچکا۔ اقول : اس مبنی کے بطلان سے قطع نظر امتناع للذات اور امتناع لعدم الشرط میں فرق نہ کیا ، نفس ذات کو حرکت سے ابا نہیں کہ امتناع ذاتی ہو ، بالفعل امتناع اس لیے ہے کہ علت حرکت یعنی میل موجود نہیں مگر ذات کو اس کے حدوث سے منافات بھی نہیں تو حرکت سے ابا کب ہوا۔ بالجملہ سلب امکان للذات میں لام تعلیل پر دو احتمال ہیں۔ اول : للذات متعلق سلب ہو یہ امتناع ذاتی ہے اور یہ یہاں نہیں۔ دوم : متعلق امکان ہو یعنی نفس ذات اس کے لیے کافی ہو اور کسی شے کی حاجت نہ ہو یہ ضرور یہاں مسلوب ہے اور منافی قابلیت نہیں وبعبارۃ اُخری امکان للذات ہی کے دو معنی ہیں لام تخصیص کا ہو یا تعلیل کا ، اول امکان ذاتی ہے وہ ضرور ہے اور محتاج وجود مبدء نہیں ، دوم امکان وقوع بوجہ نفس ذات ہے یہ بے میل نہیں اور امکان ذاتی کا منافی نہیں۔ سابعاً : بنظر طبیعت سب اوضاع سے اجزاء کی تساوی نسبت بنظر خصوص جز تساوی کو مستلزم نہیں ممکن کہ خاص اس جز کو خاص اس وضع سے مناسبت ہو تو اس کے لیے یہی وضع واجب ہو۔(سیالکوٹی) اقول : یہ محل ِ نظر ہے ہذیت بے وجود خارجی معدوم ہے اور معدوم میں اقتضا نہیں ، فتأمل (پس غور کیجئے) بہرحال چھ وجوہ سابقہ رد کے لیے وافی و افر ہیں۔