بسیط نہیں ، فلسفی یہاں چار شبہے رکھتا ہے جن کا حاصل دوہی ہے۔
شبہ ۱ : اگر اجزائے مختلف الطبائع سے مرکب ہو تو ہر جز اپنے حیز کا طالب ہوگا تو اجزا پر حرکت مستقیمہ جائز ہوگی جو فلک میں محال ہے ، یہ ہے وہ جسے بہت طویل کہا تھا۔ ہم نے ایک سطر میں تلخیص کی اور اس کے کافی و وافی رد مقام ۶ و ۱۲ میں سن چکے۔
شبہ ۲ : اجزاء بعض یا کل اپنے حیز سے جدا ہوں گے کہ دو طبیعتوں کا ایک حیز نہیں ہوسکتا تو جو غیر حیز میں ہے قسیراً ہے اور قسر کو دوام نہیں۔ مقاومت طبع سے سست ہوتا جائے گا۔ اور بالاخر طبیعت غالب آئے گی اور گرہ کھل جائے گی تو فلک بکھر جائے گا اور حرکت باطل ہوجائے گی تو زمانہ منقطع ہوجائے گا کہ اُسی کی مقدار تھا حالانکہ زمانہ سرمدی ہے۔
اولاً : بارہا سن چکے کہ قسر کا وجوب انقطاع ممنوع
ثانیاً : عنقریب آتا ہے کہ زمانہ مقدار حرکت فلکیہ بلکہ اصلاً کسی حرکت کی مقدار نہیں۔
ثالثاً : یہ بھی کہ زمانہ سرے سے موجود ہی نہیں انقطاع و دوام کیسا۔
رابعاً : یہ بھی کہ زمانہ سرے سے موجود ہی نہیں انقطاع جائز۔
شبہ ۳: جن اجزاء سے فلک مرکب ہو اُن کی انتہا بسائط پر ضرور ، ہر بسیط اگر اپنی شکل طبعی پر ہو تو کرہ ہوگا کہ بسیط کی یہی شکل طبعی ہے اور متعدد کرے مل کر ایک سطح کروی نہیں بن سکتی( کہ ہر دو کا تماس نہ ہوگا مگر ایک نقطے پر باقی بیچ میں فرجہ رہے گا) ورنہ جو شکل غیر طبعی پر ہوں ان کا طبعی کی طرف عود جائز ہوگا تو حرکت مستقیمہ جائز ہوئی۔ (جونپوری)
اقول : یہ وہی شبہ اولٰی ہے اور انہیں ردود سے مردود ، فرق اتنا کردیا ہے کہ وہاں حیز پر کلام تھا یہاں شکل پر۔
شبہ ۴: وہ بسائط جن سے فلک کا ترکب ہو طبیعت واحدہ پر ہوں گے یا مختلف برتقدیر اول ایک طبیعت کے متعدد فرد یونہی ہوتے ہیں کہ ہیولٰی میں انفصال ہو کر ایک حصہ اس فرد کے لیے ہو ایک اس کے لیے اور مادہ قابلِ انفصال نہیں ہوتا جب تک کوئی صورت نہ پہنے وہ صورت اگر یہی تھی جواب ہے تو قابل خرق ہوئی اور دوسری تھی تو کون وفساد ہوا اور فلک پر دونوں محال ، برتقدیر ثانی ہر بسیط اگر اپنے حیز طبعی میں ہو تو محیط کی جہتیں مختلف ہوجائیں گی کہ ان میں ایک سے قریب ایک حیز کا حیز طبعی ہو دوسری سے دوسرے کا تو وہ جہات اس جسم سے پہلے تحدید پاچکیں فلک محدود نہ ہوا( جونپوری)
اقول اولاً : فلک پر خرق جائز مگر اشربوا فی قلوبھم العجل ( ان کے دلوں میں بچھڑا رَچ رہا تھا۔ت)
ثانیاً : کون وفساد کا امتناعِ حرکت مستقیمہ پر مبنی اور وہ باطل۔
ثالثاً: فلک کا محدد ہونا مردود۔
رابعاً : شق ثانی میں یہ شق چھوڑ دی کہ بعض غیر طبعی میں ہوں اور اس کے لیے پھر اُسی شُبہ اولی کی طرف رجوع ضرور ہوگی جس طرح وہاں یہ شق متروک تھی کہ سب اپنے اپنے حیز طبعی میں ہوں جس کے لیے اسی شبہ چہارم کی طرف رجوع ہوئی تو دونوں مل کر شبہ واحدہ ہیں کلام یہاں طویل ہے مگر خیر الکلام ماقل ودَلَّ (بہترین کلام وہ ہے جو مختصراً اور جامع ہوت)
اقول : یہ تو ان کے شبہات تھے ، اب ہم اصولِ فلسفہ پر حجت قطعیہ پیش کریں کہ بساطت فلک محال ، فلک اگر بسیط ہو تو اس کا سکون محال ہو کہ اجزاء متحد الطبع ہیں۔ ہر چیز کو سب اوضاع سے نسبت یکساں تو ایک پرقرار ترجیح بلا مرجح ، نیز حرکت محال ہو کہ حرکت اینیہ ہوگی۔ یا وضعیہ فلک پر اینیہ محال اور وضعیہ کے لیے تعیین قطبین درکار ، اور سب اجزاء صالح قطبیت ، تو سب کو چھوڑ کر دو کی تخصیص ترجیح بلا مرجح ، اور جب بربنائے بساطت سکون و حرکت دونوں محال اور جسم کا اُن سے خلو محال تو بساطت محال۔