| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
اقول : (۱) جب دونوں اقتضا منوط بشروط اور شرطین متنافی تو ان کا اجتماع کیونکر ہوسکتا ہے۔ اقتضا میں داکل شرط مقتضی کے طبع ہونے کا مانع نہیں کہ شرط نہ مقتضی ہے ، نہ جزء مقتضی جیسے خود میل مستقیم کہ بالا تفاق بخروج عن الخیر ہے۔ اور بالا اتفاق طبعی ہے ، اور اگر تم یہ اصطلاح گھڑو کہ طبعی وہی ہے کہ جو نفس طبیعت من حیث ھی ھی کا مقتضی ہو تو یہ مسئلہ جس لیے تم نے اچھالا ہے کہ فلک پر میل مستقیم اور عناصر پر مستدیر منع کرو جیسا کہ جو نپوری نے اس کے متصل فصل میں کیا وہ وہیں باطل ہوجائے گا۔ فلک و عناصر میں ثابت ہوا تو اتنا کہ میل کا اقتضا ہے یہ کہ خالص نفس طباع سے ہے جس میں کسی امر زائد کی اصلاً مداخلت نہیں۔اس پر کیا دلیل غایت عدم ثبوت ہے نہ کہ ثبوت عدم۔ (۲) ہم وہ غایتیں لیتے ہیں کہ خود متنافی نہیں اور ان میں ایک منوط بشرط ہونا بدیہی اور تمہیں بھی تسلیم ، اور دوسری بلاشرط اور دونوں میل اس حد تک موصل ، کیا محال ہے کہ طبیعت تبدل وضع چاہے اور حیز کو تو چاہا ہی ہے اب اگر حیز سے باہر ہو حیز تک حرکت مستقیمہ کرے گ ا دونوں غایتیں اسی حرکت سے حاصل ہوں گی حیز تک وصول یہی اور اوضاع کا تبدل یہی جب حیز میں پہنچا میل مستقیم ختم ہوجائے گا کہ اس کی غایت حاصل ہوگئی اب میل مستدیر شروع ہوگا کہ یہاں دوسری غایت یعنی تبدل اوضاع اسی سے ممکن تو حیز سے باہر مستقیمہ کرے گا اور حیز کے اندر مستدیرہ اور دونوں کا مبدء طبیعت واحدہ۔ خامساً : اوپر کتنے وجوہ سے روشن ہوچکا کہ خرق حرکت مستقیمہ پر موقوف نہیں غرض دلیل ذلیل کا ایک حرف بھی صحیح نہیں۔ سادساً : ارصاد نے اگر بتایا تو اتنا کہ فلک میں میل مستدیر ہے نہ یہ کہ ہمیشہ رہے گا نہ اس کے دوام پر دلیل تمام ، تو کیا محال ہے کہ میل مستدیر منقطع ہو کر میل مستقیم حادث ہو ، اب تو اجتماع متنافیین نہ ہوگا۔ (شرح مقاصد) ناتمامی دلیل دوام کا بیان عنقریبآتا ہے ان شاء اللہ تعالٰی۔
سابعاً اقول : سب سے لطیف تریہ کہ دلیل جمیع مقدمات صحیح مان لیں جب بھی اُسے مدعا سے اصلاً مس نہیں نہ آئندہ بلکہ اس وقت خواہ کسی وقت خرق افلاک کی نافی نہیں ، متفلسفہ کی نِری عیاری ہے ، وجہ سنیے۔ دلیل اگر بتائے گی تو صرف اتنا کہ دو میل طبعی جمع نہیں ہوسکتے اور براہِ چالاکی دعوٰی عام کیا کہ طباعی نہیں ہوسکتےۤ جس میں طبعی وارادی دونوں آجائیں کہ فلک کی بگڑی بنائیں ، مگر یہ ظلم شدید یاجہل بعید ہے ایک طبعی ایک ارادی ہو تو اصلاً تنافی نہ ان کا اجتماع دشوار، خود جونپوری نے میل مستقیم طبعی کے ساتھ میل مستدیر ارادی جائز رکھا ہے جیسے حیوان کہ قصداً گھومے ، فلک میں بعینہ یہی صورت ہے کہ اس کا گھومنا قصداً مانتے ہو طبیعت میں میل مستقیم ہونے سے کون مانع ،یہ ہیں ان کے مزخرفات جن کو جونپوری دلائل حقہ قطعیہ واجب الاذعان کہتا ہے۔
"زُیّن لہ سوء عملہ واتبعوااھواء ھم" ۔
اس کے بُرے عمل اُسے بھلے دکھائے گئے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلے۔(ت)
(القرآن الکریم ۴۷/ ۱۴)
ان سات اور ان گیارہ جملہ اٹھارہ وجوہ نے بحمدہ تعالٰی روشن کردیا کہ خود فلک الافلاک اور جملہ افلاک کا خرق والتیام یقیناً جائز ، اتنا عقلاً ہے اور سمعاً تو بالیقین خرق سماوات قطعاً واقع جس پر ایمان فرض۔
"وﷲ الحجۃ السامیۃ
وخسرھنا لک المبطلون ، وقیل بعداً للقوم الظالمین ، والحمدﷲ ربّ العٰلمین"۔
اور اﷲ ہی کے لیے بلند حجت ہے وہاں باطل والے خسارے میں ہوں گے اور فرمایا گیا دور ہوں ظالم لوگ اور سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔(ت)
اس ضروری مسئلہ دینی پر کلام بحمداﷲ تعالٰی ہماری کتاب کے خواص سے ہے اور ایک یہی کیا بفضلہ تعالٰی اس ساری کتاب میں معدود مباحث کے سوا عام ابحاث وہی ہیں کہ فیض قدیر سے قلب فقیر پر فائز ہوئی ہیں۔ اور ایک یہی کتاب نہیں ، بعونہ عزوجل فقیر کی عامہ تصنیفات افکار تازہ سے مملو(عہ) ہوتی ہیں حتی کہ فقہ میں جہاں مقلدین کو ابدائے احکام میں مجال دم زدن نہیں۔
عہ : صدقت یا سیدی لاریب فیہ ازکان فضل اللہ علیک عظیما فاسئلک من زکٰوتہ حظّاًیسیراً بملازمہ سلطان کہ رساند ایں دعارا کہ بشکر بادشاہی بنوازد ایں گدا را (الجیلانی)
تحدثابنعمۃ اﷲ واﷲ ذوالفضل العظیم رب انعمت فزد یا واحد یاماجد لاتزل عنی نعمۃ انعتمہا علی وصل وسلم علٰی نعمتک الکبرٰی ورحمتک المعداۃ وفضلک العظیم وعلٰی الہ وصحبہ وامتہ وحزبہ اجمعین اٰمین والحمدﷲ رب العلمین"
اﷲ تعالٰی کی نعمت کا ذکر کرتے ہوئے اور اﷲ بڑے فضل والا ہے اے میرے پروردگار تُو نے انعام فرمایا ہے تو اس میں اضافہ فرما۔ اے واحد اے بزرگی والی ! جو نعمت تو نے مجھے عطا فرمائی ہی وہ مجھ سے زائل نہ فرما۔ اور درود و سلام نازل فرما اپنی سب سے بڑی نعمت ، اپنی بڑھی ہوئی رحمت اور اپنے فضل عظیم پر اور آپ کی آل آپ کے اصحاب اور آپ کی تمام امت پر۔ آمین ! اور سب تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا(ت)