Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
133 - 212
تاسعاً اقول :  یہاں سے ایک اور ردو اضح ہوا حرکت کی جہت چاہیے کہ مبدء  و منتہی کی طرف اشارہ جدا ہو تحدید کی حاجت نہیں اور نفس جہد کی حاجت خود محدد کو ہے کہ بے اس کے اس کا حیز طبعی نامتصور سرے سے شبہ کا منبی ہی اڑ گیا۔

عاشراً اقول : سب جانے دو فلک بسیط ہی سہی اور حرکت کے لیے تحدید کی حاجت اور یہ حرکت اجزا نہ طبعیہ نہ ارادیہ پھر قاسر سے کون مانع ہے ہم روشن کرچکے کہ فلک پر قاصر جائز  ،  اب اس کی تحدید کی ہوئی جہات میں قاسر کا اس کے اجزاء کو حرکت دینا کیا محال ہے۔
تنبیہ : ہم نے حرکت اجزاء ارادیہ طبیعہ قسریہ ہر طرح کی لی ان میں جائز کہ نیچے ہی کے اجزا حیز غریب میں ہوں یا انہیں سے ارادہ متعلق ہو کہ خود مرجح ہے یا کوئی وجہ ترجیح ہو یا قاسر انہیں پر قسر کرے خواہ ارادۃً یا یوں کہ مثلاً بوجہ قرب انہیں پر اثر قسر پہنچے ان سب صورتوں میں اوپر کے اجزاء کہ حافظ محدب ہیں برقرار رہیں گے اور ممکن کہ وہ بھی تخلخل و تکاثف سے حرکت اینیہ کریں یا ان کا کوئی حصہ کٹ کر نیچے آئے اور معا دوسرا جسم پیدا ہو کر اس کی جگہ بھردے یا جوش دیگ کی طرح اوپر کے اجزا نیچے نیچی کے اوپر جایا کریں۔ ان میں سب کو حرکت اینیہ ہوگی اور جملہ صور میں تحدید جہت میں خلل نہ آئے گا۔
الحمدﷲ تلک عشرۃ کاملۃ
(الحمدﷲ یہ پوری دس ہوئیں ۱۰ ت)فلک اعلٰی پر تھا۔اب ایک باقی افلاک پر بھی سن لیجئے۔
حادی عشر : تحدید کا قصہ فلک اطلس میں تھا باقی آٹھ پر خرق سے کیا مانع اور معراج مبارک میں انہیں سات آٹھ کا خرق درکار نہ کہ تا سع کا جسے تم عرش اعظم سمجھتے ہو۔ اس پر فلسفی نے کہا کہ ہر فلک میں مبدء میل مستدیر ہے تو مبدء میل مستقیم نہیں کہ اجتماع محال اور فلک پر قسر محال میل مستقیم محال تو حرکت مستقیمہ محال تو خرق محال۔ یہ انہیں مقدمات باطلہ اور انکی امثال ہوساتِ عاطلہ پر مبنی ہے۔
اوّلاً اقول: حرکتِ مستدیرہ کہ مرصاد ہے حرکت کواکب ہے عنقریب آتا ہے کہ کسی فلک کے لیے حرکت درکنار اس کی صلاحیت ثابت نہیں تو مبدءمیل مستدیر کہاں سے آئے گا۔

ثانیاً اقول : بلکہ ہم ثابت کریں گے کہ اصولِ فلسفہ پر فلک کی حرکت مستدیرہ بلکہ مطلقاً حرکت محال۔

ثالثاً اقول : ہم ثابت کرچکے کہ فلک میں مبدءمیل مستقیم ہے۔

رابعاً  اجتماع میلین کیا محال مثلاً بنگو اور پہیے کی حرکت میں دونوں ہیں۔ ( مواقف)اس (عہ) پر عبدالحکیم نے کہا کہ حرکتِ مستدیرہ اصطلاح میں ہے وہ ہے کہ حیز سے باہر نہ کرے یہ دحرجہ  میں کہاں(حاشیہ شرح مواقف)
عہ: بعض نے حواشی میبذی میں اور اونچی آن لی کہ اس کا مبنی
الواحد لا یصدرعنہ الا الواحد ۱ ؎۔
 ( واحد سے نہیں صادر ہوتا مگر واحد ۔ ت ) ہے طبیعت واحدہ دو چیزوں کا اقتضا کیونکر کرے اقول :حیز ،  شکل  ،  مقدار طبعی کیفیات جیسے زمین میں برودت ،  یبوست ،  بس ان میں سے ایک اختیار کرلو کہ وہ طبعی ہے باقی سب غیر طبعی ،  فلسفی ایسے بھی ہوتے ہیں ،  ۱۲ منہ غفرلہ۔
 (۱؂ شرح المقاصد    المبحث الرابع    دارالمعارف النعمانیہ لاہور      ۱/ ۱۶۱)
 (۱) یہ عجیب جواب ہے جب مستدیرہ کے معنی یہ لے لئے تو اس مستقیمہ سے امتناع اجتماع بدیہی ہوگیا۔ فلسفی کہ خود مسئلے کو نظری مان رہا اور جسم مرکب میں اجتماع میلین کے امتناع میں خود فلسفہ مضطرب ہورہا ہے اس کا کیا محل رہا۔

(۲) کلام اجتماع دو مبدء میل میں ہے نہ بالفعل اجتماع میلین میں حرکت مستدیرہ محص وضیعہ ہونا کیا اس کے منافی کہ اس میں مبدءمیل مستقیم بھی ہو حیز میں حرکت مستدیرہ کرے اور بغرض خروج مستدعی عود ہو یہی مبدءمیل مستقیم ہے تو سند غیر مساوی پر کلام کو جواب سمجھنا قانون مناظرہ سے خروج ہے ۔

فلسفی مقدمہ ممنوعہ کا ثبوت دیتا ہے کہ میل مستقیم خطِ مستقیم پر لے جانا چاہتا ہے اور مستدیر اس سےپھیرتا  ہے تو دونوں متنافی ہیں ، اور محال ہے کہ بسیط میں دو متنافیوں کا اقتضاء ہو اس پر صریح رد ہے کہ دو شرط سے دو متنافی کا اقتضاء کیا محال ہے مثلاً حیز میں ہو تو وضعیہ چاہے اور باہر ہو تو اینیہ جونپوری نے کہا دو متنافی اگر باختلاف احوال ایک غایت طبیعہ تک موصول ہوں تو دونوں بالعرض مقتضائے طبع ہوسکتے ہیں جیسے حیز سے باہر حرکت اور اندر سکون کہ دونوں سے مطلوب حیز طبعی ہے میل مستقیم و مستدیر ایسے نہیں اس کی غایت حیز ہے اور اس کی نہیں کہ یہ اس تک موصل نہیں معہذا اگر اس کی غایت یہی استدارہ نہ رہے ، ۔ اور جب یہ متنافیون کی دو غایتیں ہوں تو اگر وہ غایتیں یہی متنافی ہوں تو طبیعت واحدہ مقتضی متنافیین نہیں ہوسکتی اور نہ ہوں تو طبیعت دونوں کو معاً چاہے گی تو ان تک موصل یعنی دونوں میل متنافی جمع ہوجائیں گے۔
Flag Counter