Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
131 - 212
سادساً  :  اقول :۔ محدد کے لیلے جہت درکار نہیں بلکہ اس کے اجزا (عہ) کی حرکت کے لیے تو کیا محال ہے کہ ان کے اجزاء کی حرکت کو وہی جہات درکار ہوں جن کی حد بندی خود اس کی شکل نے کی۔ توضیح اس کی یہ کہ خرق کے لیے خود فلک کا حرکت اینیہ کرنا مطلوب نہیں بلکہ اس کے بعض اجزاء کا اور تحدید صرف اس کے تشکل پر موقوف او رتشکل مساوق تعیین اور تعین مساوق وجود تو وجود تک تحدید پر فقط ایک مرتبہ تقدم ہے وہ بھی ذاتی نہ زمانی اور اجزا کی حرکت اینیہ ممکن کہ ارادی ہو فلک کا نفس منطبع انہیں یہ حرکت دے جیسے تمہارے نزدیک کل کو حرکت مستدیرہ دے رہا ہے ا ور اس ارادہ کا لازم وجود ہونا ضرور نہیں ممکن کہ لایزال میں ہو جس طرح کل متعاقب حادث دورے نئے نئے تخیلات نفس منطبعہ سے پیدا ہورہے ہیں۔ ممکن کہ وہ تخیل و شوق جو اجزائے مذکورہ کو حرکت اینیہ دینے پر باعث ہوا کسی دورہ خاصہ کل سے منوط و مشروط ہو جیسے ہر دورہ دورہ آئندہ کے لیے معد ہوتا ہے تو یہ تحریک نہ ہوگی۔ مگر حادث، اور اسے جہات وہی درکار ہوں گی جن کی حد بندی خود شکل فلک تمہارے زعم سے ازل میں کرچکی۔
عہ:  انت تعلم ان الکلام فی الاجزاء المقداریۃ ویکفی للخرق افتراقہا وہی مؤخرۃ عن الکل فاند فع مافی المیبذی من ان التحدید مقدم علی الاجزاء والاجزاء علی الکل فلزم تقدم التحدید علی الفلک ۱؂انتھی، اما زعم صدر ا ان امکان الحرکۃ الاینیۃ فی جسم یتوقف علٰی وجود الجھۃ وتحددھا بجسم اخر اذلولا ھی لا متنعت الاینیۃ فیجب تقدم الجہات وتحدد ھا بالتحدید علی الاجزاء الاعلٰی حرکاتھا فقط ۲؂انتہٰی فاقول: اولا منقوض بالحرکۃ الوضعیۃ فان امکانھا فی جسم یتوقف علٰی وجود الاوضاع وتعینہا بجسم اخراذلولا ھی و تعبہا لامتنعت الوضعیۃ فیجب تقدم الاوضاع علی جنس الاجزاء لاعلٰی حرکاتھا فقط وھواشنع المحالات اذلاوضع للاجزاء اذھو المتبدل فی الوضعیۃ دون وضع الکل و  ثانیاً   وھو الحل ان اراد الامکان الذاتی بمعنی ان الجسم فی حدذاتہ لایاباھا فلا یجب لہ وجود الجہات بل تصور ھا وان ارادالوقوعی لایجب کو نہ مع الذات حتی یلزم تقدم الجہات علٰی نفس الاجزاء ۱۲ منہ غفرلہ۔
تو جانتا ہے کہ گفتگو اجزائے مقداریہ میں ہے اور خرق کے لیے ان کا افتراق کافی ہے اور وہ کل سے موخر ہیں چنانچہ اس سے میبذی کے اس قول کا اندفاع ہوگیا کہ تحدید مقدم ہے اجزاء پر اور اجزاء مقدم ہیں کل پر، تو اس طرح تحدید کا فلک پر مقدم ہونا لازم آیا انتہی، رہا صدرا کا زعم کہ کسی جسم میں حرکت اینیہ کا امکان وجودِ جہت اور اس کے کسی دوسرے جسم کے ساتھ تحدد پر موقوف ہے کیونکہ اگر جہت موجود نہ ہوگی تو اینیہ ممتنع ہوگی لہذا جہات اور تحدید کے ساتھ ان کے تحدد کا نفس اجزاء پر مقدم ہونا واجب ہوگا نہ کہ فقط ان کی حرکات پر، انتہی، میں کہتا ہوں  اولا   تو یہ منقوض ہے حرکتِ وضعیہ سے کہ اس کا کسی جسم میں امکان اوضاع کے وجود اور کسی دوسرے جسم کے ساتھ ان کے تعین پر موقوف ہے اس لیے کہ اگر وہ نہ ہوں اور ان کا تعین نہ ہو تو وضیعہ ممتنع ہوگی لہذا اوضاع کی تقدیم جنس اجزاء پر واجب ہوگی نہ کہ فقط ان کی حرکات پر، یہ بدترین محال ہے کیونکہ اجزاء کی کوئی وضع نہیں۔ اس لیے کہ وہی متبدل ہوتی ہے حرکت وضعیہ میں نہ کہ وضع کل اور میں   ثانیاً   کہتا ہوں اور وہی حل ہے کہ امکان سے اگر اس کی مراد امکان ذاتی ہے بایں معنی کہ جسم بااعتبار اپنی ذات کے اس سے انکار ی نہیں ہے تو اس کے لیے وجودِ جہت واجب نہیں بلکہ تصور جہت واجب ہے اور اگر اس کی مراد امکان سے امکان واقعی ہے تو اس کا ذات کے ساتھ ہونا واجب نہیں یہا ں تک کہ جہات کا نفس اجزاء پر مقدم ہونا لازم آئے ۔ (۱۲ منہ) (ت)
 (۱؂المیبذی  الفن الثانی فی الفلکیات  فصل ان الفلک بسیط المطبع المحمدی لکھنو  ص ۱۶۶)

(۲؂ صدرا شرح عین الحکمۃ )
سابعاً  اقول: بلکہ ممکن کہ یہ حرکت ارادیہ بھی وجود فلک کے ساتھ ہی ہوا اور اب بھی تحدید کو اس پر تقدم ہی رہے گا کہ یہ حرکت ارادے پر موقوف اور ارادہ شوق پر اور شوق تصور پر او ر تصور وجود پر تو وجود کو حرکت پر چار مرتبے تقدم ہوا اور تحدید پر ایک ہی مرتبہ تھا تو تحدید حرکت پر تین مرتبہ مقدم رہی۔
Flag Counter