| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
خامساً : فلک محدود ہے تو فوق و تحت کا (عہ۲) نہ ہر جہت کا ، ممکن کہ جز ء فلک گرد مرکز عالم حرکتِ مستدیرہ کرے تو خرق ہوا، اور تحدید جہتین میں کچھ فرق نہ آیا کہ یہ حرکت تحت و فوق میں نہیں(شرح تجرید قوشجی) اس کا جواب میر ہاشم وغیرہ نے حواشی میبذی میں دیا کہ دوانی نے تحقیق کیا ہے کہ جہات ستّہ سے باقی چھ جہتیں بھی انہیں فوق و تحت کی طرف راجع ہیں۔
عہ۲: علامہ سید شریف نے بھی حاشیہ شرح حکمۃ العین میں اسے نقل کیا اور اتنا بڑھایا کہ یہ دعوی نہیں کرسکتا کہ ہر حرکت مستقیمہ ( یعنی اینیہ) جہت حقیقیہ سے جہت حقیقیہ ہی کی طرف ہو پھر فرمایا فتامل، اس کے بعد وہ تقریر فرمائی کہ اینیہ نہ ہوگی مگر جہت سے جہت کو۔ اقول: جب تک وہ ثابت نہ ہولے کہ اینیہ نہ ہوگی مگر تحت و فوق میں اس تقریر کا محل نہ تھا اور اس کے اثبات کی طرف کوئی راہ نہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔
اقول: ہاں جو حرکات خطوط مستقیمہ یا منحنیہ، غیر مستدیرہ یا مستدیرہ غیر محیط بمرکز عالم یا محیطہ خارجۃ المرکز پر ہوں ضرور تحت و فوق کی طرف راجع ہیں لیکن جو خطوط مستدیرہ موافقۃ المرکز پر ہوں محال ہے کہ ا ن کی طرف راجع ہوں ورنہ مرکز سے دائرہ تک بعد مساوی نہ رہے گا۔ کمالا یخفٰی ( جیسا کہ پوشیدہ نہیں) ت) بلکہ سیالکوٹی نے یوں تقریر کی کہ اینیہ نہ ہوگی مگر ایک جہت حقیقیۃ سے دوسری کو کہ یادونوں مکان طبعی ہوں گے یا دونوں قسری، یا ایک طبعی ایک قسری ، بہرحال حرکت حقیقیہ سے حقیقیہ کو ہے۔(حاشیہ شرح مواقف) اقول: (۱) یہ اسی بداہت کے خلاف ہے گرد مرکز عالم کسی دائرہ موافق المرکز پر حرکت کیونکر تحت سے فوق یا فوق سے تحت کو ہوسکتی ہے حالانکہ ہر وقت مرکز سے بعد یکساں ہے۔ (۲) اگر اینیہ جہات حقیقیہ ہی میں منحصر تو زمین اگر اپنی کرویت حقیقیہ پر رہتی کوئی سیّاح تمام روئے زمین کے ذرے ذرے پر سیاحت کر آنے والا کبھی خواہ کیسے ہی منحنی خطوط پر مختلف جہات میں چلتا متحرک نہ ٹھہرتا کہ آن کو بھی جہات حقیقیہ سے اس کا فاصلہ نہ بدلا۔ (۳) جزء نار اگر کرہ نار پر حرکت اینیہ مستدیرہ کرے طبعی سے طبعی کی طرف منتقل ہے اور حقیقیہ سے حقیقیہ کی طرف نہیں۔ (۳) جزء نار اگر محدب ہوا میں یونہی متحرک ہو قسری سے قسری کی طرف منتقل ہے اور حقیقیہ میں تبدیل نہیں۔