Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
13 - 212
فلسفہ ،طبعیات ، سائنس، نجوم، منطق
مسئلہ۲۳ : مرسلہ مولوی احمد شاہ ، ساکن موضع سادات 

      بجلی کیا شَے ہے؟

الجواب : اﷲ تعالٰی نے بادلوں کے چلانے پر ایک فرشتہ مقرر فرمایاہے جس کا نام رعد ہے ، اس کا قد بہت چھوٹا ہے، اور اس  کے ہاتھ میں ایک بڑا کوڑا ہے۔ جب وہ کوڑا بادل کو مارتا ہے اس کی تری سے آگ جھڑتی ہے اس کا نام بجلی ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم،
مسئلہ ۲۴: زلزلہ آنے کا کیا باعث ہے ؟

الجواب : اصلی باعث آدمیوں کے گناہ ہیں ، اور پیدا يوں ہوتا ہے کہ ایک پہاڑ تمام زمین کو محیط ہے اور اس کے ریشےزمین کے اندر اندر سب جگہ پھیلے ہوئے ہیں جیسے بڑے درخت کی جڑیں دور تک اندر اندر پھیلتی ہیں، جس زمین پر معاذاللہ زلزلہ کا حکم ہوتا ہے وہ پہاڑ اپنے اس جگہ کے ریشے کو جنبش دیتا ہے  زمیں ہلنے لگتی ہے۔ واللہ تعالی اعلم ۔
مسئلہ ۲۵: از ضلع کھیری ڈاک خانہ مونڈا کوٹھی مجیب نگر مرسلہ سردار مجیب الرحمان خان ۲۶ صفر ۱۳۲۷ھ 

جناب مولوی صاحب معظم مکرم منہل الطاف و کریم الاخلاق عمیم الاشفاق زاد مجدکم وفیوضکم۔ پس از تسلیم مسنون، نیاز مشحون و تمنائے لقائے شریف عرض خدمت والا ہے۔ نسبت زلزلہ مشہور ہے کہ زمین ایک شاخِ گاؤ پر ہے کہ وہ ایک مچھلی پر کھڑی رہتی ہے۔ جب اس کا سینگ تھک جاتا ہے تو دوسرے سینگ پر بدل کر رکھ لیتی ہے۔ اس سے جو جنبش و حرکت زمین کو ہوتی ہے اس کو زلزلہ کہتے ہیں۔ اس میں استفسار یہ ہے کہ سطح زمین ایک ہی ہے، اس حالت میں جنبش سب زمین کو ہونا چاہیے، زلزلہ سب جگہ یکساں آنا چاہیے ۔ گزارش یہ ہے کہ کسی جگہ کم ، کسی مقام پر زیادہ، کہیں بالکل نہیں آتا۔بہرحال جو کیفیت واقعی اور حالت صحیح ہو، اس سے معزز فرمائیے۔ بعید از کرم نہ ہوگا۔ زیادہ نیاز وادب۔

راقم آثم سردار مجیب رحمان خان عطیہ دار علاقہ مجیب نگر۔
الجواب : جناب گرامی دام مجدکم السامی ، وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،
زلزلہ کا سبب مذکورہ زبان زد عوام محض بے اصل ہے اور اس پر وہ اعتراض نظر بظاہر صحیح و صواب۔ اگرچہ اس سے جواب ممکن تھا کہ ہمارے نزدیک ترکیب اجسام جواہر فردہ سے ہے اور ان کا اتصال محال صدرا وغیرہ میں کاسہ لیسانِ فلاسفہ نے جس قدر دلائل ابطال جزء لایتجزی پر لکھے ہیں ان میں کسی سے ابطال نفس جز نہیں ہوتا۔ ہاں دو جز کا اتصال محال نکلتا ہے، یہ نہ ہمارے قول کے منافی نہ جسم کے اتصال حسی کا نافی، دیوار جسم و حدانی سمجھی جاتی ہے، حالانکہ وہ اجسام متفرقہ ہے، جسم انسان میں لاکھوں مسام مثبت افتراق ہیں اور ظاہر اتصال ، خوردبین سے دیکھنا بتاتا ہے کہ نظر جسے متصل گمان کرتی ہے کسی قدر منفصل ہے، پھر ان شیشوں کی اختلاف قوت بتارہی ہے کہ مسام کی باریکی کسی حد پر محدود نہیں ٹھہراسکتے جوشیشہ ہمارے پاس اقوٰی سے اقوٰی ہو اور اس سے بعض اجسام مثل آہن وغیرہ میں مسام اصل نظر نہ آئیں ممکن کہ اس سے زیادہ قوت والا شیشہ انہیں دکھادے۔ معہذا نظر آنے کے لیے دو خط شعاعی میں کہ بصر سے نکلے زاویہ ہونا ضرور۔ جب شے غایت صغر پر پہنچتی ہے دونوں خط باہم منطبق مظنون ہو کر زاویہ رویت معدوم ہوجاتا اور شے نظر نہیں آتی ہے یہی سبب ہے کہ کواکب ثابتہ کے لیے اختلاف منظر نہیں کہ بوجہ کثرتِ بعد وہاں نصف قطر زمین یعنی تقریباً چار ہزار میل کے طول و امتداد کی اصلاً قدر نہ رہی دونوں خطہ کہ مرکزِ ارض اور مقام ِ ناظر سے نکلے باہم ایک دوسرے پر منطبق معلوم ہوتے ہیں زاویہ نظر باقی نہیں رہتا تو مسام کا اس باریکی تک پہنچنا کچھ دشوارنہیں بلکہ ضرور ہے کہ کوئی قوی سے قوی خورد بین انہیں امتیاز نہ کرسکے اور سطح بظاہر متصل محسو س ہو، اور جب زمین اجزائے متفرقہ کا نام ہے تو اس حرکت کا اثر بعض اجرا ء کو پہنچنا بعض کو نہ پہنچنا مستبعد نہیں کہ اہل سنت کے نزدیک ہر چیز کا سبب اصلی محض ارادۃ اﷲ عزوجل ہے۔ جتنے اجزاء کے لیے ارادہ تحریک ہوا انہیں پر اثر واقع ہوتا ہے وبس۔ سواران دریا نے مشاہدہ کیا ہے کہ ایامِ طوفان میں جو بلاد شمالیہ میں حوالی تحویل سرطان یعنی جون جولائی اور بلاد جنوبیہ میں حوالی تحویل جدی یعنی دسمبر جنوری ہے۔ ایک جہاز ادھر سے جاتا ہے اور دوسرا ادھر سے آرہا ہے۔ دونوں مقابل ہو کر گزرے اس جہاز پر سخت طوفان ہے اور اسے بالکل اعتدال و اطمینان، حالانکہ باہم کچھ ایسا فصل نہیں۔ ایک وقت ایک پانی ایک ہوا اور اثر اس قدر مختلف، تو بات وہی ہے کہ ماشاء اللہ کان ومالم یشاء لم یکن جو خدا چاہتا ہے وہ ہوتا ہے اور جونہیں چاہتا نہیں ہوتا۔ مگر اس جواب کی حاجت ہم کو اس وقت ہے کہ وہ بیان عوام شرع سے ثابت ہو، اس کے قریب قریب ثبوت صرف ابتدائے آفرنیش زمین کے وقت ہی جب تک پہاڑ پیدا نہ ہوئے تھے۔ عبدالرزاق و فریابی وسعید بن منصور اپنی اپنی سنن اور عبدبن حمید وابن جریر و ابن المنذر و ابن مردودیہ و ابن ابی حاتم اپنی تفاسیر اور ابو الشیخ کتاب العظمہ اور حاکم بافادہ تصحیح صحیح مستدرک اور بیھقی کتاب الاسماء اور خطیب تاریخ بغداد  اور ضیائے مقدسی صحیح مختارہ میں عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی :
ان اول شیئ خلق اﷲ القلم فقال لہ اکتب، فقال یارب ومااکتب؟ قال اکتب القدر فجری من ذلک الیوم ماھو کائن الی ان تقوم الساعۃ ثم طوی الکتاب وارتفع القلم وکان عرشہ علی الماء فارتفع بخار الماء ففتقت منہ السمٰوٰت ثم خلق النون فبسطت الارض علیہ والارض علی ظھر النون فاضطرب النون فمادت الارض فاثبتت بالجبال۔ ۱ ؎
فرمایا، اللہ عزوجل نے ان مخلوقات میں سب سے پہلے قلم پیدا کیا اور اس سے قیامت تک کے تمام مقادیر لکھوائے اور عرش ِ الہی پانی پر تھاپانی کے بخارات اٹھے ان سے آسمان جدا جدا بنائے گئے  پھر مولٰی عزوجل نے مچھلی پیدا کی اس پر زمین بچھائی ، زمین پشت ِ ماہی پر ہے، مچھلی تڑپی ، زمین جھونکے لینے لگی۔ اس پر پہاڑ جما کر بوجھل کردی گئی۔
 (الدر المنثور تحت آیت ۶۸/ ۱  داراحیاء التراث العربی بیروت    ۸/ ۲۵۴)
کما قال تعالٰی والجبال اوتادا o ۔۲؂
جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا۔ اور پہاڑوں کو میخیں بنایا۔
 ( ۲ ؎ ۔ القرآن الکریم ۷۸/ ۷ )
، وقال تعالٰی والقی  فی الارض رواسی ان تمید بکم ۱؂
اور اللہ تعالٰی نے فرمایا اور اس نے زمین میں لنگر ڈالے کہ کہیں تمہیں لے کر نہ کانپے۔(ت)
 ( ۱ ۔؎القرآن الکریم ۱۶ /۱۵ )
مگر یہ زلزلہ ساری زمین کو تھا۔ خاص خاص خاص مواضع میں زلزلہ آنا، دوسری جگہ نہ ہونا،اور جہاں ہونا وہاں بھی شدت و خفت میں مختلف ہونا، اس کا سبب وہ نہیں جو عوام بتاتے ہیں۔ سبب حقیقی تو وہی ارادۃ اﷲ ہے ، اور عالمِ اسباب میں باعث اصلی بندوں کے معاصی۔
مااصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعفوعن کثیر، ۔۲؂
تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے تمہارے ہاتھوں کی کمائیوں کابدلہ ہے۔ اور بہت کچھ معاف فرمادیتا ہے۔(ت)
( ۲ ؎ القرآن الکریم ۴۲ /۳۰ )
Flag Counter