Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
129 - 212
اقول: یہ بوجوہ مردود ہے۔

(۱) آج تک جسے محدود کہہ رہے تھے اس کے ٹکڑے ہوگئے اب اس ٹکڑے کی خبر سناؤ کیا اسی طرح بیچ میں سے نہیں چِر سکتا تو اب اس کا نصف زیریں لغو ہوجائے گا، نصف بالا محدود رہے گا۔ اب اس میں کلام ہوگا اور کہیں نہ رکے گا کہ تقسیم جسم غیر متناہی مانتے ہو۔ لاجرم تمہارے ہاتھ میں خالی خیالی ہوا کے سوا کچھ نہ ہوگا جسے محدود مقررکرو محدود صاحب جہات کی تردید کرتے تھے یہاں خود انہیں کی تحدیدپڑگئے ، قرار ہوگا تو صرف اس پر کہ صرف سطح محدب محدد ہے اب سارا دل لغو محض رہا۔ بقائے محدب کے بعد محدد کے تمام اجزاء نیچے اوپر ادھر ادھر ہوا کریں کٹ کٹ کر گرا کریں تحدید پر حرف نہیں آتا۔ کیا اسی کا نام استحالہ خرق تھا۔

(۲) کیوں دو ٹکڑے نیچے اوپر لیجئے بلکہ مثلاً معتدل(عہ) النہار پر دو ٹکڑے ہوجائیں ،یونہی دونوں طرف اس کے موازی ہر مدار پر کہ سارا فلک چھلے چھلے ہوجائے اور جس طرح یہ چھلے اب موہوم ہیں، اور تو ہم میں حرکت مستدیرہ کررہے ہیں کہ صرف وضع بدلتی ہے این نہیں بدلتا یونہی اس وقت یہ چھلے اور ان کے دورے واقع ہوجائیں تو ان میں کسی کی حرکت جہت سے جہت کو نہ ہوگی۔ جس طرح اب نہیں اور بیچارہ فلک پاش پاش پرزے پرزے ہوگیا۔ اب ان ٹکڑوں میں نہ کوئی محیط ہے نہ کوئی محاط لغو کسے کرو گے ہاں یہاں حر زبانی کا شبہ وارد ہوگا کہ خرق و التیام بے اقتران و افتراق اجزاء نہ ہوگا اور وہ مستدعی حرکت اینیہ۔
عہ: بعض نے کہا تھا کہ ممکن کہ فلک کا ایک جزو دائرے پر حرکت کرے تو حرکت جہت کو نہ ہوئی اور خرق ہوگیا۔ علامہ سید شریف نے حاشیہ شرح حکمۃ العین میں جواب دیا کہ ضرور اس کے جز کے لیے حرکت اینیہ ہوئی تو وہ نہ ہوگی مگر جہت سے جہت کو اور محدد کے ساتھ بحال تو ہم جو اس جز کی حرکت ہے وہ محض وہم میں ہے نہ خارج میں۔

اقول: اولا اس جواب کو ہماری تقریر سے مس نہیں کہ پورے حلقے کی حرکت ہرگز اینیہ نہیں قطعاً وضعیہ ہے۔

  ثانیاً  وہ اعتراض کہ آتا ہے کہ جز کی حرکت اینیہ ضرور جہت سے جہت کو ہوگی ، مگر مثلاً مشرق سے مغرب کو یا بالعکس اور ان جہات کی تحدید محدود سے نہیں تحدید تحت و فوق کی ہے۔ اور جز کی حرکت قطعاً ان کی طرف نہیں۔

 ثالثاً جز کی حرکت محض اختراع وہم ماننا فلک کی حرکتِ مستدیرہ کا خاتمہ کردے گا کہ وہ نہیں مگر استخراج اوضاع کو، اور اصالۃً وضع نہ بدلتی مگر اجزا کی ، اور وہ موہوم ہیں۔ موہوم کے لیے خارج میں کوئی وضع بھی نہیں کہ وہ خود ہی خارج میں نہیں پھر یہ حرکت کس لیے۔

رابعاً سکونِ قلب پر جو استحالہ مانتے ہیں کہ ایک وضع کا لزوم ہوگا اور وہ ترجیح بلا مرجح ہے اجزائے فلک کی نسبت سب اوضاع سے برابر ہے یہ بھی باطل ہوگیا ، نہ اجزا ہیں، نہ اوضاع ، نہ لزوم ، نہ تبدل رہا وجود منشا کا عذر۔

اقول:  مشترک ہے غرض ۔
ولن یصلح العطار		 ماافسدہ الدھر (۱۲ منہ غفرلہ)
 (عطا ر ہر گز اس کی اصلاح نہیں کرسکتا جس کو زمانہ نے بگاڑ دیا۔ت)
اقول: وباﷲ التوفیق ایک ہموار سطح کا دوسری ہموار سطح سے تماس کلی کہ اصلاً باہم فصل نہ رہے۔ ممکن ہے یا نہیں مثلاً دو مساوی جسم ہر ایک نصف کرے کی صحیح شکل پر ہو۔ اگر انہیں ملا کر پورے کرلے گی شکل پر رکھیں تو بالکل مل جائیں گے یا ایک سطح دوسری سے وصل ہو ہی نہیں سکتی۔ فصل ضرور ہے برتقدیر ثانی یہ فصل ایک نقطے کی قدر ہے یا خط کی علی الاول نقطہ جو ھری ثابت خواہ وہ نقطہ قائمہ بذاتہ ہو یا کسی شیئ ثالث سے جوان دو میں فصل ہے علی الثانی اس فصل میں کوئی جسم نہیں تو خلا لازم اور ہے تو اس کی سطحوں سے ان پہلی دو سطحوں کا تماس کلی ہے یا نہیں۔

اگر نہیں تو وہاں وہی کلام ہوگا اور منقطع نہ ہوگا مگر تسلیم خلا ملایا اس اقرار پر کہ ہاں دوجدا جدا سطحیں ایسی وصل ہوسکتی ہیں کہ بیچ میں اصلاً نقطے بھر بھی فصل نہ ہو۔ جب دو جسم منفصل میں ایسا اتصال ممکن تو جسم متصل میں کیوں ایسا انفصال ناممکن، ضرور جائز کہ دو حصے ہوجائیں اور انکے بیچ میں اصلاً فصل نہ ہو اور جب فصل نہ ہوا مسافت نہ ہوئی حرکت کہاں سے آئے گی، یہ جو ذہن پر مستولی ہو رہا ہے کہ پھٹے گا تو ہٹے گا، یہ استیلائے وہم ہے کہ ہم نے افتراق یوں ہی ہوتے دیکھا اور یہی ہمارے خیا ل میں ہے اور عقل قطعاً جائز رکھتی ہے کہ دو ٹکڑے اس حالت پر پیدا ہوں جو حالت دو املس سطحوں کے وصل سے ہوتی ہے کہ ہیں دو اورفصل نام کو نہیں، 

انتہاءً یہ صورت واقع ہے ابتدءً  کون مانع ہے۔

رابعاً  اقول: جہت کو منتہائے اشارہ حسیہ کہتے ہو اور مقعر اطلس یقیناً منتہی نہیں اشارہ قطعاً محدب تک جائے گا تو ثخن بلاشبہ تحدید میں لغو ہے، اب اجزائے ثخن میں حرکت اینیہ سے کون مانع تو ظاہر ہوا کہ میبذی نے جو تقرر کی کہ خرق حرکت (عہ۱) مستقیمہ سے ہو تو فلک اس کا قابل نہیں اور مستدیرہ سے ہو کہ بعض جزو ایک طرف حرکت مستدیرہ کریں اور بعض دوسری طرف، یا ساکن رہیں، یہ طبعاً نہیں ہوسکتی کہ طبیعت اجزاء متحد نہ قسراً کہ فلک پر قاسر نہیں ، نہ ارادۃً کہ فلک بسیط ہے، آلات مختلف نہیں رکھتا جن کے ذریعے سے فلکی بالارادہ مختلف افعال کرے۔
عہ۱: (۱)  منع مستقیمہ ممنوع 

(۲)  اتحاد طبع ممنوع

(۳)  منع قاسر ممنوع 

(۴)  بساطت فلک ممنوع 

(۵)  آلات مختلفہ نہ ہونا ممنوع جس طرح ہمارے جوارح ہمارے نفس کے آلات ہیں یونہی فلک کے پرزے خارج حامل جو زہر مائل مدیر تدویر متمم حاوی محدی کواکب نفس فلکی کے ہوناکیا محال ۔

(۶ ) اقول: ایک جزو متحرک اور دوسرا ساکن تو اختلاف افعال نہ ہوا سکون فعل نہیں۔۱۲۔
اقول: محض ندامن بعید و دور ازکار ہے، قطع نظر اس سے کہ اس کا ایک مقدمہ باطل جس کا بطلان بارہاظاہر ہوچکا ہے۔ ہمارے کلام سے اصلاً مس نہیں منع مستقیمہ پر بنائے تحدید ہے اور تحدید میں ثخن لغو۔
Flag Counter