Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی )
128 - 212
مقام پانزدہم
بلکہ افلاک کی حرکت قسریہ ہونا ثابت ، اس پر دودلیلیں ہیں : ایک افلاک شمانیہ میں اور ایک محدد وغیرہ سب ہیں۔
 (حجت اولٰی )
اقول : آٹھوں ممثلوں کو اپنی حرکت خفیہ کے سوا حرکت یومیہ بھی ہے کہ جہت ومقدار واقطاب سب میں ان کی حرکت خاصہ بطیہ کے خلاف ہے ،ان کا نفس وقت واحد میں دوجہتوں کو دو مختلف حرکتیں نہ دے گا ۔ آخر یہ دوسری کہاں سے ہے ۔ سفہاء خود کہتے ہیں کہ فلک اعظم کا نفس ایسا قوی ہے کہ ایسے اور باقی سب افلاک کو حرکت یومیہ سے گھماتا ہے تو ضرور باقی افلاک پر قسر ہوا کہ مبدء خارج سے ہے نہ ان کی طبیعت نہ ان کا ارادہ ، سفہاء قسر سے نجات اس میں جانتے ہیں کہ باقی کی حرکت عرضیہ ٹھہراتے ہیں ۔

اقول :اولاً جب ان کو حرکت ہی نہ ہوئی اطلس کی حرکت ان کی طرف بالعرض نسبت کردی جاتی ہے تو اعلٰی کا نفس ان کی تحریک پرخاک قادر ہوا ۔

ثانیاً ہم ۱۰۰ کے بعد جواب اول کے دفع اول میں روشن طور پر بیان کرآئے کہ افلاک کی حرکت کو عرضیہ کہنا جہل محض ہے یہ ضرور ذاتیہ ہے اور تم مان چکے کہ فلک اعلٰی کی قوت نفس سے ہے تو یقیناً ان پر قسر کے قائل ہوئے ولکن لاتفقہون (لیکن تم نہیں سمجھتے ۔ت)
 (حجّت ثانیہ)
ایک نہایت لطیف و نفیس بات کہ فلک الافلاک اور فلک کی حرکت قسریہ ہونا قبول وادی فلک کا قابل استدارہ ہونا یوں بیان کرتے ہیں کہ وہ بسیط ہے ہر وضع سے اس کے اجزاء کو نسبت یکساں ہے تو انتقال جائز۔

اقول: نہیں نہیں بلکہ واجب کہ سکون میں ایک وضع کالزوم ہو اور وہ ترجیح بلا مرجح ہو۔اور وہ محال ، اور جو فعل دفع محال کی ضرورت سے ہو قسری ہے کہ اس کا مبدء خارج سے ہے۔جیسے پنچورے سے پانی کا نہ گِرنا یا پچکاری میں اوپر چڑھنا وغیرہ ذلک الافعال کہ بے اقتضائے طبع بضرورت امتناع خلا ہیں سب قسری ہیں، لاجرم تمام افلاک کی حرکت قسری ہے۔
مقام شانزدہم
فلک (عہ) پر خرق و التیام جائز ہے۔ فلسفی اسے محال کہتا ہے اور اس کے فضلہ خوارنیچری وغیرہم اسی بناء پر معراج پاک سے منکر ہیں۔ طرفہ یہ کہ ایمان و کلمہ گوئی و تصدیق قرآن عظیم و ایمان ___________قیامت کے مدعی ہیں۔ قرآن و قیامت پر ایمان استحالہ خرق والتیام کے ساتھ کیونکر جمع ہوا جس میں بکثرت نصوص قاطعہ ہیں کہ روز قیامت آسمان پارہ پارہ ہوجائیں گے ،
ولٰکن الظّٰلمین باٰیت اﷲ یجحدون ۱؂۔
  لیکن ظالم اﷲ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔(ت)
 (۱؂ القران الکریم ۶/ ۳۳)
فلسفی کے پاس کوئی دلیل نہیں سوا اس مشہور شبہ باطلہ کے کہ خرق و التیام نہ ہوگا مگر حرکت سے اور حرکت اینیہ نہ ہوگی مگر جہت سے جہت کو تو محدد یا اس کے اجزاء اگر حرکت اینیہ قبول کریں تو محدد کے لیے جہت درکار ہوئی نہ کہ جہت کی حد بندی محدد سے ہوئی،
عہ:  اس بحث میں جن کے لیے یہ مقامات وضع ہوئے اگرچہ اس مسئلہ کی حاجت نہیں مگر ضروری دینی ایمانی مسئلہ ہے اور انہیں مقامات نے اسے بعونہ تعالٰی صاف کردیا لہذا ان کے بعد اسے ایک مستقل مقام مقرر کرنا مناسب ہوا کہ نہایت اہمیت رکھتا ہے ۱۲ منہ غفرلہ
رَدّ بوجوہ کثیرہ ہے۔
اولا اقول: ہم روشن بیانوں سے باطل کرچکے کہ فلک محدد جہات ہے تو وہ دربا ہی جل گیا جس پر یہ اور بیسیوں تفریعات باطلہ تھیں۔

  ثانیاً اقول: ہم روشن بیانوں سے ثابت کرچکے کہ فلک میں مبدء میل مستقیم ہے تو ضرور اجزاء میں بھی ہے کہ طبیعت متحد ہے پھر عدم قبول اینیہ کیا معنی ۔

 ثالثاً  خرق کے لیے اینیہ کیا ضرور ، مستدیرہ سے بھی ہوسکتا ہے، مثلاً سارے محدود کا دل بیچ میں سے چیر کر  تلے اوپر دو کرے ہوجائیں ایک متحرک رہے ایک ساکن، یا ایک شرق کو چلے ایک غرب کو، تو یہ حرکت کسی جہت سے جہت کو نہ ہوئی کہ تحدید جہات کے خلاف ہو۔ متشدق جونپوری نے کہا۔ یوں تو محدود ہی اوپر والا ٹکڑا رہے گا نیچے کو لغو ہوگا۔
Flag Counter