| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
حرکت قلب قسریہ ہوسکتی ہے، فلسفی اس کے استحالہ پر چند شبہات پیش کرتا ہے ۔ شبہ ۱: قسر کو دوام نہیں اور حرکت فلک دائم۔ اقول: دونوں مقدمے مردود ہیں، ثانی کا رَدا بھی سن چکے اور اول کا رَد تعلیل ہفتم میں ، شبہ ۲: میل قسری نہ ہوگا میل طبعی کے خلاف اور فلک میں میل طبعی نہیں کہ میل مستدیر طبعی نہیں ہوسکتا کہ متروک بعینہ مطلوب ہے اور میل مستقیم کسی جہت کو اور جہات کی تحدید خود فلک سے ہے۔ اقول: ایک ایک حرف مردود ہے، مقام سوم و چہارم و نہم میں رد گزرے۔
شبہ ۳: فلک کی حرکت مستدیرہ فاعل کے قسر سے ہوتی تو سب اجسام میں ہوتی کہ فاعل کی نسبت سب سے یکساں ہے لاجرم اگر ہو تو کسی دوسرے فلک کے قسر سے اور اس کا قسریوں ہی ہوگا کہ وہ اپنی حرکت سے اسے حرکت دے جیسے ہاتھ کنجی کو، اب اس فلک کے قاسر میں کلام ہوگا اس کی حرکت ارادیہ پر انتہا لازم ، تو ثابت ہوا کہ افلاک میں وہ ہے جس کی حرکت ارادیہ ہے، یہ اس دلیل کی توجیہ و توضیح و تلخیص و تقریب ہے جو امام حجۃ الاسلام نے فلاسفہ سے نقل فرمائی۔ امام نے اس پر دو رد فرمائے۔ اولاً مولٰی عزوجل فاعل مختار ہے۔ اقول: رَد میں اسی قدر بس ہے آگے جو ترقی فرمائی کہ اس کا فعل ہر جسم کے ساتھ مختلف ہونا اگر ان کی صفتوں کے اختلاف پر مبنی ہو تو ان صفتوں میں کلام ہوگا کہ یہ صفت اس جسم اور وہ اس جسم کے ساتھ کیوں خاص ہوئی، اس کی حاجت نہیں کہ بحث کو طول ہو اور ابطال قدم نوعی کی حاجت پڑے جیسا کہ مباحث صور نوعیہ میں معرو ف ہے۔ ثانیاً کیا ضرور ہے کہ وہ جسم قاسر کوئی دوسرا فلک ہی ہو ممکن کہ اور کوئی جسم ہو کہ نہ کرہ ہو نہ محیط تو کسی فلک کی حرکت ارادیہ نہ ثابت ہوگی۔ اقول: نفی کرویت کی حاجت نہیں ، نفی احاطہ پر اقتصار اولٰی کہ اسی قدر فلک نہ ہونے کو کافی، انہیں اس زعم کی گنجائش نہ دی جائے کہ وہاں کوئی ایسا جسم نہیں فلک سے ورانہ خلا و ملا اور افلاک متلاصق اور عنصریات ان کے زعم میں افلاک سے قابل ہیں نہ کہ افلاک میں فاعل یہ عذر ۔ اگرچہ بارد ہے، مگر اس کی راہ ہی کیوں ہو سرے سے کہیں کہ ممکن کہ ایک یا لاکھوں کو کب اگرچہ انہیں ثوابت میں سے کہ نظر آتے ہیں یا ان کے غیر کہ بوجہ بعد شہود نہیں فلک اعظم میں ہوں اور وہ اپنی حرکت ارادیہ سے فلک کو دھکا دیتے ہوں کہ اجزاء پر استحالہ اینیہ ثابت نہیں۔ ثالثاً اقول: استوائے نسبت فاعل کی اب یہاں تک توسیع ہوئی کہ اختلاف طبائع و مواد و استعداد یہی اڑ گیا کہ قسر جانب فاعل سے ہوتا تو سب پر ہوتا۔ رابعاً اقول: فلک قاسر قاسر فلک کیا ضرور ہے کہ اپنی حرکت ہی سے قسر کرے ممکن کہ بعض ارادے سے مسخر کرلے جیسے ہمارا نفس اپنے جوارح کو۔ ہم میں بھی یہ حرکت بہ نظر جسم حقیقیہ قسریہ ہی ہے کہ طبیعت جسم سے نہیں مگر ارادیہ کہلاتی ہے کہ وہ نفس اسی جسم سے متعلق ہے تو گویا تحریک خارج سے نہیں مگر فلک قاسر کا نفس دیگر افلاک سے متعلق نہیں اس کی تحریک ضرور قسری ہوگی اور حرکت ارادیہ پر انتہا لازم نہ ہوگی۔ خامساً اقول: بالفرض ثبوت ہوا بھی تو اس قدر کا کہ کسی ایک فلک کی حرکت ارادیہ ہے وہ موجبہ کلیہ کدھر گیا کہ سب کی ارادیہ ہے اور وہ سالبہ کلیہ کیا ہوا کہ فلکیات میں کہیں قسر نہیں۔
شبہ ۴: افلاک اگر قسرسے متحرک ہوتے تو سب کی حرکت موافق قطبوں پر ایک ہی طرف ایک ہی مقدار پر ہوتی کہ سب قاسر ہی کی موافقت کرتے حالانکہ اختلاف مشہود ہے (عہ۱) علامہ خواجہ زادہ تہافت الفلاسفہ میں اسے نقل کرکے رَد کیا کہ یہ جب لازم (عہ۲) ہو کہ قاسر فلک ہی میں منحصر ہو اور یہ ممنوع ہے۔
عہ۱: پھر حکمۃ العین اور اس کی شرح میں بھی یہ مہمل دلیل نظر آئی اور وہی اس کا ایک جواب دیا جو ہمارا اولاً میں پیش پا افتادہ تھا۔ ۱۲ منہ۔ عہ۲: اقول: جب بھی نہیں جیسا کہ ہمارے رَد سے واضح ہوگا غالباً علامہ نے اسے تنزلاً فرمایا ۱۲ منہ غفرلہ۔
اقول: خدا کی شان کہ ایسے مہملات بکنے والے عقل و حکمت کے مدعی ہیں۔ اولا وحدتِ قاسر کیا ضرور، ممکن کہ ہر ایک پر جدا قاسر ہو۔ ثانیاً قسر بذریعہ حرکت وضعیہ ہی کیا ضرور کہ اقطاب وغیرہا میں موافقت لازم ہو۔ ثالثاً قاسرواحد کا سب پر اثر یکساں ہونا کیا ضرور اثر جس طرح قوت قاسر سے بالا ستقامۃ بدلتا ہے۔ یوں ہی قوتِ مقسور سے بالقلب ہلکا بھاری پتھر ایک ہاتھ سے ایک قوت سے پھینکو ہلکا دور جائے گا بھاری کم۔ رابعاً اس سے باطل ہوا تو دو فلک پر قسر ایک مثلاً محدود پر قسر کا کیا انکار ہوا۔ خامساً اختلاف مشہود ہے تو حرکات خاصہ کا حرکت یومیہ سب کو عام ہے اور اس کے اقطاب و جہت و قدر کچھ مختلف نہیں تو کیا محال ہے کہ سب میں قاسر واحد کے قسر واحد سے ہو غرض تفلسف ہے عجیب چیز۔
مقامِ چار دہم
فلک کی حرکت ارادیہ ہونا ثابت نہیں۔ فلسفی یہاں دو شبہے پیش کرتا ہے۔ شبہ۱: فلک کی حرکت مستدیرہ ہے اور وہ طبعیہ نہیں ہوسکتی، نہ فلک میں قسریہ، ان شبہات سے کہ مقام۹ تا ۱۱ میں گزرے لاجرم ارادیہ ہے۔ اقول: اولا یہ تلاش تو جب ہو کہ پہلے اس کی حرکت بھی ثابت ہو لے، اور ہم عنقریب واضح کریں گے کہ اس کی حرکت کا کچھ ثبوت نہیں۔ ثانیاً بلکہ سکون ثابت ہے۔ ثالثاً بلکہ فلک میں حرکت کی قابلیت تک ثابت نہیں۔ رابعاً بلکہ اصول فلسفہ پر اس کا متحرک ہونا محال پھر ارادیہ وغیرارادیہ یعنی چہ۔، خامساً ہم ثابت کرچکے کہ مطلقاً حرکت مستدیرہ اور خود فلک کی وضعیہ طبعیہ ہوسکتی ہے۔ سادساً : قسریہ ہوسکتی ہے۔ شبہ ۲: ہمیں ایک ہی شے مطلوب یہی ہے مہروب بھی، یہ بغیر ارادہ ناممکن۔ اولا یہ وہی بات ہے کہ نفی طبعیہ میں کہی اور اس کے کافی و وافی ردو ہیں گزرے۔ ثانیاً مانا کہ ارادہ ضرور، پھر یہی کیا لازم کہ متحرک کا ہو ممکن کہ محرک کا ہو کیا چرخ و مغزل فسان (عہ) وغیرہ کی حرکات و ضعیہ نہ دیکھیں ان میں بھی وہی طلب و ترک ہے کیا ان کے ارادے سے ہے۔ کچھ بھی عقل کی کہتے ہو۔
عہ: بمعنی سان جس پر چاقو وغیرہ تیز کیا جاتا ہے۔ ۱۲ الجیلانی
ثالثاً پتھر کے نیچے گزرے مسافت میں جو نقطہ فرض کر واسے طلب کرتا پھر اس سے گزرتاہے اگر کہیے یہ نقاط مطلوب نہیں بلکہ حیز، یہ راہ میں پڑے ناچار ان پر گزر ہوا ہم کہیں گے کہ ممکن کہ یوں ہی مستدیرہ میں اوضاع مطلوب نہ ہوں بلکہ نفس حرکت (علامہ خواجہ زادہ) اس کی کافی بحث (عہ) بھی وہیں گزری ۔ یہ ہے وہ جو ہمیں ان مقامات کی وضع پر محرک ہوا۔ اثنائے بحث میں ہم نے متعدد وعدے کیے ہیں۔ دو ضروری مقام اور لکھ کر بعونہ تعالٰی ان کا انجاز کریں۔
عہ: شرح حکمۃ العین میں جو یہ جواب دیا کہ پتھر کی یہ طلب و ترک حرکت واحدہ میں نہیں، وہیں ہم نے اس کے اقرار سے ثابت کردیا کہ مستدیرہ میں بھی حرکت واحدہ میں نہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔