| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
دلیل سوم : اگرچہ ان کے یہاں مشہور وہی قول دوم ہے مگر ہم دلائل سے اول کو ترجیح دیں ۔ اولا اگر پانی کا حیز طبعی زیر ہوا و بالا ئے ارض رہنا تھا تو واجب کہ جو کنواں جو سطح زمین کے برابر ہو تو اس پر کھڑے ہو کر کسی برتن سے پانی الٹیں کنارہ چاہ پر رک جائے اندر نہ گرے اور اگر کنویں کی من سطح ارض سے اونچی ہے تو جتنی بلند ہے وہاں تک پانی لے جائے سطح زمین کی محاذات پر فوراً رک جائے کہ یہیں تک اس کا حیز طبعی ہے اور حیز طبعی میں شے کو روک کے لیے کسی سہارے کی حاجت نہیں ہوتی بلکہ اس سے تجاوز کے لیے قاسر کی ضرورت ہوتی ہے۔ ثانیاً سطح زمین میں جو ڈھال اس کی اصلی حالت سے نیچا پیدا ہوگیا جیسے عام نالی وغیرہا ، واجب ہے کہ پانی اس کی طرف متوجہ نہ ہو کہ وہ طالب سفل مطلق نہیں اور جس سطح کا طالب ہے یہ ڈھال اس سے نیچے ہیں، حالانکہ یقیناً پانی جتنا ڈھال پائے گا اس کا طالب ہوگا تو ضرور وہ سفل مطلق چاہتا ہے زمین کہ اس سے اثقل ہے مرکز تک پہلے پہنچ گئی ہے لہذا ا س سے محجوب ہے۔ ثالثاً سمندر کا پانی تمہارے نزدیک اپنے حیز طبعی میں ہے کہ اس کنارے پر مثلاً ایک انگل کے فاصلے سے ایک گڑھا کھودیں پھر اس فاصلے کو پانی کی طرف ہاتھ مار کر توڑ دیں۔ ہاتھ کے صدمے سے پانی قدر جانب خلاف کو ہٹ کر پھر پلٹے گا اب واجب تھا کہ پلٹ کر اپنی پہلی جگہ پر رک جاتا ، غار میں نہ آتا کہ وہیں تک اس کا حیز طبعی ہے اور آگے حرکت پر کوئی قاسر نہیں نہ پانی صاحب ارادہ ہے کہ وہ بھی حکم قاسر میں ہے۔ بلا قاسر حیز غریب میں جانا کیا معنی اگر کہیے اِس غار میں ہوا مقسور تھی کہ بوجہ استحالہ خلا نہ نکل سکتی تھی اب کہ اس نے دیکھا کہ دوسرا جسم یعنی پانی موجود ہے کہ میرے نکلنے پر اسے بھردے گا وہ نکلی اور پانی بضرورت خلا داخل ہوا۔ اقول: قطع نظر اس سے کہ یہ حیز ہوا و آب دونوں کے لیے غریب ہے ہوا کو کیا ترجیح ہے کہ وہ خود اس سے آزاد ہو کر پانی کو مقید کردے اگر ایسا ہے تو واجب کہ سمندر کا پانی تمام روئے زمین پر پھیل جائے کہ برابر کی ہوا حیز غریب میں ہے اور وہ اپنے پاس پانی دیکھ رہی ہے جو اس کے نکل جانے پر ضرورت خلاء کو پورا کردے گا تو کیوں نہیں اپنے حیز طبعی کی طرف اڑتی کہ پانی پھیل کر محیطِ زمین ہوجا ئے۔ رابعاً تالابوں ، نالوں میں جو پانی بھرا ہے تمہارے طور پر حیز غریب میں ہے تو واجب کہ اپنے حیز طبعی کی طرف حرکت کرے اور استحالہ خلا کے دفع کو ہوا موجود ہے جیسے وہاں پانی موجود تھا بلکہ یہی صورت راجح ہے کہ اب ہوا و پانی دونوں حیز غریب میں ہیں، اور پانی اونچا کہ اپنے حیز طبعی میں آجائے اور ہوا اس خلا کو بھر دے تو یہ ایک ہی حیز غریب میں ہوگا۔ خامساً بسیط کا ہر جز طالب حیز ہے ولہذا پانی کہ زمین پر ڈالیں اس کی دھار اپنے دل پر نہیں رہتی بلکہ تمام اجزاء اتر کر پھیل جاتے ہیں مگر ڈھال کی طرف خطِ مستقیم پر جاتے ہیں۔ اگر مستدیر شکل میں پھیلیں جلد اپنے مقصد کو پہنچیں کہ مرکز سے محیط تک کسی کو اتنا فصل نہ ہوگا جو اجزائے بعید کو خطِ مستقیم میں اور طبیعت ہمیشہ قربِ طرق سے اپنے مقتضی میں جانا چاہتی ہے تو واجب تھا کہ زمین پر شکل دائرہ میں پھیلتا۔ ان تمام وجوہ سے ثابت کہ پانی طالب سفل مطلق ہے تو قول اول ار جح ہے تو اس دورہ زمین یعنی حیز لایتجزی کے سوا جو مرکز عالم پر منطبق ہے چاروں عناصر ازلاً ابداً اپنے حیز طبعی سے محروم ہیں۔
دلیل چہارم: تم کرہ نار کو مشایعتِ فلک میں دائم حرکت مستدیرہ مانتے ہو، ظاہر ہے کہ یہ نہ ارادیہ نہ طبعیہ، اور ہم نے فوزمبین میں زیر دلیل صدم بیان قاطع سے روشن کیا کہ فلاسفہ کا اسے عرضیہ کہنا باطل ابن سینا نے جو اس کی وجہ تراشی مضحکہ محضہ ہے لاجرم قسریہ ہے ، اور قسریہ کو دوام۔
دلیل پنجم : اس سے بڑھ کر فلک ثوابت و جملہ ممثلات کا بہ تبعیت فلک الافلاک حرکت یومیہ کرنا اور یہاں جوابن سینا نے فرضیت کی وجہ گھڑی بالکل شیخ چلی کی کہانی ہے
کما بیّنّافی کتابنا الفوز المبین
(جیسا کہ ہم نے اپنی کتاب فوزمبین میں اس کو بیان کیا ہے۔ت) لاجرم یہ سب قسریہ ہیں اور سب دائم یہاں فوزمبین میں ہمارا کلام یہ ہے ۔
اقول: وباﷲ التوفیق ہماری رائے میں حق یہ ہے کہ حرکت وضعیہ میں عرضیت کی کوئی تصویر پایہ ثبوت تک نہ پہنچی۔ جب تک مابالعرض مابالذات کے ثخن میں ایسا نہ ہو کہ اس کی حرکت وضعیہ سے اس کا این موہوم بدلے این موہوم سے یہاں ہماری مراد وہ قضا ہے کہ مابالذات کو محیط ہے ظاہر ہے کہ حامل کو جو فضا حاوی ہے تدویر کہ ثحن حامل میں ہے۔ اس فضا کے ایک حصے میں ہے جب حامل حرکت و ضعیہ کرے گا ضرور تدویر اس حصہ فضا سے دوسرے حصہ میں آئے گی تو اگر چہ خود ساکن محض ہو ضرور ضرور اس کی حرکت وضعیہ سے اس کی وضع بدلے گی این موہوم بدلا۔ اگرچہ این محقق برقرار ہے بخلاف مائل یا خارج المرکز کہ اگر دونوں متمم کو ایک جسم مانیں تو یہ اس کے ثخن میں ضرور ہے مگر ان کی گردش سے اس کا این موہوم نہ بدلے گا تو ان کی حرکت سے یہ متحرک بالعرض نہ ہوگا۔ جونپوری کا شمس بازغہ میں زعم کہ اگر اس کے ساتھ نہ پھرے تو اسے حرکت سے روک دے گا۔
اقول: دو وجہ سے محض بے معنی ہے۔ (۱) نہ یہ اس کی راہ میں واقع ہے نہ اس میں جڑا ہوا ہے کہ بے اپنے اسے چلنے نہ دے ،اور اگر بالفرض راہ روکے ہوئے ہے تو۔۔۔۔۔۔کھول دے گا ، حرکتِ وضعیہ سے کوئی گنجائش پیدا نہیں ہوسکتی۔ (۲) اگر یہ ان میں چسپاں بھی ہو تو ان کے گھومنے سے ضرور گھومے گا۔ مگر یہ انتقال بالذات اسے بھی عارض ہوگا اگرچہ دوسرے کے علاقہ سے تو عرضی نہ ہوگا بلکہ ذاتی غرض اس صورت کے سوا وضعیہ میں عرضیہ کی کوئی تصویر ثابت نہیں ۔
ومن ادعی فعلیہ البیان
( اور دلیل مدعی کے ذمے ہے۔ت) افلاک میں فلاسفہ کا محض ادعا ہے اس لیے کہ ان میں قاسر سے بھاگتے ہیں ۔ مشایعت ساتھ ساتھ چلتا ہے نہ یہ کہ ایک ساکن محض رہے دوسرے کی حرکت اس کی طرف منسوب ہو۔ چکروں کا بیان ابھی گزرا تو عرضیہ میں فریقین کی بحث خارج از محل ہے ابن سینا پھر جو نپوری مذکور نے زعم کیا کہ فلک کی مشایعت میں کرہ نار کی حرکت عرضیہ اس لیے ہے کہ ہر جزو نار نے اپنے محاذی کے جز و فلک کو اپنا مکان طبعی سمجھ رکھا ہے اور بے شعوری کے باعث یہ خبر نہیں کہ اگر اسے چھوڑے تو اسے دوسرا جز بھی ایسا ہی اقرب و محاذی مل جائے گا ناچار بالطبع اس کا ملازم ، لہذا جب وہ بڑھتا ہے یہ بھی بڑھتا ہے کہ اس کا ساتھ نہ چھوٹے اور اس پر اعتراض ہوا کہ پھر فلک ثوابت فلک اطلس کے سبب کیوں متحرک بالعرض ہے اس کے اجزاء نے تو اس کے اجزاء کو نہیں پکڑا کہ خود جدا حرکت رکھتا ہے اس کا جواب دیا کہ اس کے اقطاب نے اپنے محاذی اجزاء کی ملازمت کرلی ہے اور اس کے اقطاب پر نہیں لہذا ان اجزاء کی حرکت سے اس کے قطب گھومتے ہیں۔ لاجرم سارا کوہ گھوم جاتا ہے۔ اقول: یہ شیخ چلی کی سی کہانیاں اگر مسلم بھی ہوں تو عاقل بننے والوں نے اتنا نہ سوچا کہ جب نارو فلک البروج کی یہ حرکت اپنے اس مکان کی حفاظت کو ہے تو ان کی اپنی ذاتی حرکت ہوئی یا عرضیہ ۔