| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
طبیعت کا دائماً اپنے کمال سے محروم رہنا محال نہیں، فلسفی محال کہتا ہے اور اس پر اس مقدمہ کی بنا کرتا ہے کہ دوام قسر محال۔ اقول: یہ مقدمہ ہمارے نزدیک یوں ہے کہ ازل میں کوئی شے قابل مقسور ہوئی نہیں تو قسر نہ ہوگا مگر حادث، لیکن جس طرح فلسفی کہتا ہے ہرگز صحیح نہیں کمال تک ایصال فعل ذی الجلال ہے اور اس پر کچھ واجب نہیں، کلام یہاں مزعوم فلسفی پر ہے، لہذا اسی کے زعم پر بعض دلیلیں پیش کریں۔ فاقول: (پس میں کہتا ہوں ت) دلیل اوّل: ہم نے مقام اول میں ثابت کیا کہ بسیط کی شکل طبعی کرہ مصمتہ غیر مجوفہ ہے اور افلاک سب مجوف ہیں اور ان کے نزدیک اسی شکل پر ازلی ابدی دائماً اپنے کمال طبعی سے محروم ہیں۔ دلیل دوم : فلاسفہ مختلف ہیں کہ نَار و ہوا دونوں طالب محیط اور ارض وماء دونوں طالبِ مرکز ہیں، یا نار طالب محیط(عہ) اور ہوا کا حیز زیر حیز نار وبالائے حیز آب ہے اور ارض طالب مرکز اور آب کا حیز بالائے حیز ارض و زیر حیز ہوا ہے، بہرحال اس پر اتفاق ہوا کہ نار طالبِ محیط ہے اور وہ ازلاً ابداً کبھی نہ محیط کو پہنچی، نہ پہنچے تو دواماً حیلولت افلاک سے مقسور ہے۔
عہ: فی حکمۃ العین وشرحھا ( البسیط العنصری ( ان تحرک عن الوسط فہو الخفیف المطلق ان طلب نفس المحیط وھو النار ( والا فالخفیف المضاف وھوالہواء ( وان تحرک الی الوسط فہوالثقیل المطلق ان طلب نفس المرکز) وھو الارض (والا فالثقیل المضاف) وھو الماء ۱اھ و فی المواقف وشرحھا فی قسم العناصر (المتاخرون ) من الحکماء علٰی انھا اربعۃ اقسام خفیف یطلب المحیط فی جمیع الاحیاز وھوالنار و خفیف یقتضی ان یکون تحت النار وفوق الاخرین و ھو الھوا ء وثقیل مطلق یطلب المرکز وہی الارض و ثقیل مضاف یقتضی ان یکون فوق الارض وتحت الاخرین وھو الماء اھ ۲وقولہ المتاخرون راجع الٰی من جعلہا اربعۃ فان منھم من قال بواحد وباثنین وبثلٰثۃ ۱۲ منہ
حکمۃ العین اور اس کی شرح میں ہے کہ بسیط عنصری دو حال سے خالی نہ ہوگا کہ وہ وسط سے حرکت کرے گا یا وسط کی طرف حرکت کرے گا۔ اگر وسط سے کرے گا تو پھر دو حال سے خالی نہ ہوگا کہ وہ طالب نفس محیط ہے یا نہیں، بصورت اول خفیف مطلق ہے اور وہی نار ہے اور بصورتِ ثانی خفیف مضاف ہے اور وہی ہوا ہے ، اور اگر وسط کی طرف حرکت کرے گا توپھر دوحال سے خالی نہ ہوگا کہ وہ مطالب نفس مرکز ہوگا یا نہیں ، بصورت اول ثقیل مطلق اور وہی ارض ہے ، اور بصورت ثانی ثقیل مضاف اوروہی ماء ہے اھ۔ مواقف اور اس کی شرح میں قسم عناصر میں ہے متاخرین حکماء کا نظریہ یہ ہے کہ عناصر چار ہیں(۱) وہ خفیف جو تمام حیزوں میں طالب محیط ہے اور وہی نار (آگ) ہے (۲) وہ خفیف جو تقاضا کرتا ہے کہ وہ نار کے نیچے اور باقی دونوں کے اوپر ہو اور وہی ہوا ہے۔ (۳) ثقیل مطلق جو طالب مرکز ہے اور وہی ارض ہے (۴) ثقیل مضاف جو ارض کے اوپر اور باقی دونوں کے نیچے ہونے کا مقتضی ہے اور وہی ماء ( پانی ہے) اور اس کا قول متاخرون اس کی طرف راجع ہے جس نے عناصر کو چار قسمیں ٹھہرایا ہے کیونکہ ان میں بعض نے ایک کا ، بعض نے دو کا اور بعض نے تین کا قول کیا ہے۔ ۱۲ منہ (ت)
(۱شرح حکمۃ العین ) (۲شرح المواقف القسم الثالث المقصد الاول منشورات الشریف الرضی قم ایران ۷/ ۱۳۷)