| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
اقول: کیا محا ل ہے کہ تمام اوضاع کہ اس دورے سے حاصل ہوں سب منافر طبع ہوں تو وہ سب مہروب ہوں گے ان میں مطلوب کوئی نہیں۔ تو حرکت کمال اول بھی رہی کہ کمال ثانی ترک منافر ہے اور منقطع بھی نہ ہوگی کہ ہر جگہ منافر کا تجدد ہے اور مطلوب و مہروب بھی ایک ہی نہ ہوئے کہ مطلوب منافر سے بچنا ہے اور وہ متروک نہیں متروک یہ اوضاع ہیں اور وہ مطلوب نہیں، ہر جز کا ایک وضع چھوڑ کر دوسری پر آنا اس کی تحصیل کو نہیں بلکہ اس کی تبدیل کو۔
(رَدِّ سوم )
اقول: کیا محال ہے کہ مقتضائے طبع اقرب اوضاع جدیدہ کی تحصیل ہو نہ بااعتبار خصوص وضع بلکہ اعتبار وصف مذکور اقتضائے طبع پر کوئی ایسی تحدید نہیں جس سے یہ اس میں نہ آسکے نہ ہر گز اس کی لم معلوم ہونی ضرور۔ مقناطیس کا جذب، کہروبا کی کشش ، مقناطیسی سوئی کا ہر وقت مواجہہ ستارہ قطب رہنا ،ادھر سے پھیری جائے تو تھرتھرا کرپھر اسی طرف ہوجانا ،آفتاب (عہ) پر جب کوئی بڑ ا کلف پیدا ہو اس سوئی کا زیادہ مضطرب و بے قرار ہونا، سورج مکھی کے پھول کا بر وقت روبہ شمس رہنا، طلوع سے غروب تک آفتاب جیسا جیسا بدلے اس کا اسی طرف رخ پھرنا غروب کے بعد نیچے گر جانا وغیرہا۔ صدہا افعال طبعیہ غیر معقول المعنٰی ہیں، کیا دشوار کہ یہ بھی انہیں میں سے ہو تو وضع حاصل کا ترک وضع اقرب جدید کی تحصیل کو ہے اور بعد تمامی دورہ اس پر آنا اس وقت اس کی طلب نہیں بلکہ تمام متوسط طلبوں کے بعد یہ اقرب اوضاع جدیدہ ہوجائے گی تو کوئی وضع معاً مطلوب و مہروب ہونا درکنار بعینہ نہ مطلوب نہ مہروب طلب وصف اقرب جدید کی ہے اور اس سے ہرب نہیں، ہرب ہر وضع حاصل سے ہے اور اس کی طلب نہیں۔
عہ: ص ۱۴۷ ۔ ۱۲
مقامِ یازدہم
حرکتِ وضعیہ فلک بھی طبیعہ ہوسکتی ہے، فلسفی نے اول تو مطلقاً مستدیرہ طبعیہ ہونا محال مانا جس کے رَدسن چکے یہ شبہ خاص دربارہ فلک ہے کہ حرکتِ طبعیہ واجب الانقطاع ہے اور حرکت فلک ممتنع الانقطاع تو حرکت فلک طبعیہ نہیں ہوسکتی ۔ کبرٰی (عہ) اس لیے کہ اس کی حرکت کی مقدار زیادہ ہے وہ منقطع ہو تو زمانہ منقطع ہو۔ اور زمانہ کا انقطاع محال اور صغرٰی اس لیے کہ وہ کسی غرض کے لیے ہونی ضرور ، اور کبھی نہ کبھی غرض کا حاصل ہوجانا واجب ، ورنہ جب متحرک کا اس تک وصول ممکن ہی نہ ہو کمال ثانی کب ہوئی، معہذا علم اعلٰی میں ثابت ہوچکا ہے کہ طبیعت ہمیشہ اپنے کمال سے محروم نہ رہے گی۔ لاجرم بعد حصول غرض انقطاع لازم،
عہ: ای ما اقمنا موضعھا لاستلزامہ لھامنہ غفرلہ ۔
یعنی جس کو ہم نے کبری کی جگہ رکھا کیونکہ وہ کبری کومستلزم ہے غفرلہ ۔(ت)
اقول: بحمدہ تعالٰی ایک حرف صحیح نہیں۔ (۱) زمانہ سرے سے موجود ہی نہیں۔ (۲) موجود سہی تو مقدار حرکت نہیں ہوسکتا۔ (۳) ہو تو حرکت فلک کی مقدار ہونا ممنوع، یہ سب بیان عنقریب آتے ہیں۔ (۴) حرکت فلک کی اس سے تقدیر ہو بھی تو اس کے انقطاع سے انقطاعِ زمانہ لازم نہیں کیا محال ہے کہ کواکب میں حرکات پیدا ہو کر اسکی حفاظت کریں۔ (۵) نہ سہی انقطاعِ زمانہ ہی کس نے محال کیا، اس کا روشن بیان آتا ہے۔ (۶) تو حرکت فلک ہر گز ممتنع الانقطاع نہیں۔ (۷) ابھی سن چکے کہ حرکت کا غرض کے لیے ہونا کچھ ضرور نہیں۔ (۸) یہ بھی کہ غرض ایسی ممکن جو ہر آن حاصل ومستمر ہو تو کمال ثانی بھی موجود اور انقطاع بھی مفقود۔ (۹) دعوٰی یہ تھا کہ غرض کا حصول بالفعل واجب، اور دلیل یہ کہ حصول محال ہو تو کمال ثانی نہ رہے، کہاں بالفعل حاصل نہ ہونا کہاں محال و ممتنع ہونا، بہت حرکات ہیں کہ ان کی غرض ان پر کبھی مترتب نہیں ہوتی بے کارجاتی ہیں، کیا وہ حرکت ہونے سے خارج ہوگئیں۔ (۱۰) استحالہ حرمان طبیعت ممنوع ۔ (۱۱) بعد حصول غرض لزوم انقطاع ممنوع ممکن کہ ہمیشہ غرض دیگر پیدا ہوتی رہے۔ (۱۲) تو حرکت طبعیہ کا وجوب انقطاع ممنوع۔