| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
کیسے نقطے اور کیسی وضعیں ، کس کی طلب اور کس سے ہرب، تمہارے نزدیک جسم متصل وحدانی ہے نہ اس میں اجزاء بالفعل ہیں نہ حرکت موجودہ میں دونوں کی تجزی وہم میں ہے تو کیا محال ہے کہ بعض اجسام کی طبیعت مقتضی حرکت مستدیرہ ہو یوں کہ نفس حرکت مطلوب ہو۔ (عہ۱)(امام حجۃ الاسلام فی تہافت الفلاسفہ)
عہ۱: قزوینی نے حکمۃ العین میں اس اعتراض میں امام کی تقلید کی اور میرک بخاری نے شرح میں اس کی تائید کی۔ طوسی نے شرح اشارات میں اس اعتراض کا مہمل جواب دیا تھا اسے رد کیا جواب یہ تھا کہ شیئ کا مقتضٰی اس کے دوام سے دائم رہتا ہے۔ تو جسم قادرالذات حرکت غیر قارہ کا کیونکر مقتضی ہوسکتا ہے بلکہ کسی اور غرض کا مقتضی ہوگا۔ شارح نے رد کیا کہ بحسب تجددو توالی امور مقتضی ہوسکتا ہے۔ وانا اقول: ( اور میں کہتا ہوں ت) موجودہ حرکت بمعنی التوسط ہے، وہ غیر قار نہیں اور بلاشبہ دائم رہ سکتی ہے، متجدد و منصرم حرکت بمعنی القطع ہے وہ نہ مقتضے نہ موجود بلکہ انتزاع وہم ہے۔ پھر شارح حکمۃ العین نے خود حواشی علامہ قطب شیرازی سے یہ جواب نقل لیا۔ اور مقرر رکھا کہ جب حالت مطلوب حاصل ہوتی ہے۔ طبیعت حرکت تھمادیتی ہے۔ یہ جواب جیسا ہے خود ظاہر لاجرم علامہ سید شریف نے حواشی میں فرمایا کہ یہ جب ہو کہ حرکت کے سوا کوئی اور فرض مطلوب ہو اور جب خود حرکت مطلوب یعنی محترک رہنا ہی مقتضائے طبع ہو تو انقطاعِ حرکت کیا معنی ۱۲ منہ غفرلہ ۔
اقول: امام کی شان بالا ہے، فقیر کو ، تامل ہے، یہاں شک نہیں کہ اجزاء اگرچہ بالفعل نہیں ان کے مناشی انتزاع موجود ہیں اور ان میں ہر ایک کی طرف اشارہ حسیہ جدا ہے اور یہی امتیاز ان کے لیے امتیازا وضاع کا ضامن ہے اور یہ امتیازقطعاً واقعی ہے اعتبار کا تابع نہیں اس منشا کو دوسرے جسم کے جز موجود یا اس کے منشا سے جو محاذات یا قرب و بعد ہے یقیناً دوسرے جز یا اس کے منشا سے اس کا غیر ہے اسی قدر طلب و ترک اوضاع کو بس ہے تو ایراد میں صرف جملہ اخیرہ پر اقتصار چاہیے یعنی کیا ضرور ہے کہ حرکت وضعیہ طلب اوضاع ہی کے لیے ہو کیوں نہیں جائز کہ نفس حرکت مطلوب ہو۔ علامہ خواجہ زادہ (عہ۲) نے اس منع کا ایضاح کیا کہ حقیقت حرکت یہی ہوتا کہ دوسری شے کی طرف لے جائے۔ ( یعنی اس کا کمال ثانی کی غرض سے کمال اول ہونا جسے طوسی نے شرح اشارات میں اس رد کا جواب قرار دیا) فلسفی زعم ہے ہمیں مسلم نہیں، ہاں اکثر حرکتیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ اس سے کیا لازم کہ حرکت ایسی ہی ہو، ابن رشد فلسفی مالکی نے جواب دیا کہ حرکت محض امر ذہنی سے تو بالذات اسی کی کی مطلوب ہوسکتی ہے۔ جو صاحب ارادہ ہو کہ خود حرکت کی طلب نہ ہوگی مگر شوق حرکت سے اور شوق بے تصور ناممکن۔
عہ۲: علامہ نے دلیل فلاسفہ پر ایک اور رَد کیا کہ وضع متروک معدوم ہوجائے گی اور تمہارے نزدیک اعادہ معدوم محال ، دوبارہ اس کی مثل وضع آئے گی۔ نہ وہ تو جو متروک ہے مطلوب نہیں۔ اقول: اوّل وضع آئندہ وگزشتہ میں فارق نہ ہوگا مگر زمانہ اور اقتضائے طبع تبدل زمانہ سے تبدیل نہیں ہوتا۔ ثانیاً امر طبعی میں جس طرح یہ محال کہ جو متروک ہے وہی مطلوب ہو، یونہی یہ بھی محال کہ جو مطلوب ہے وہی مترک ہو تجددو امثال سے اول کا جواب ہوگیا ثانی بدستور رہا کہ یہ مثل آئندہ کہ اب مطلوب ہے یہی مل کر متروک ہوگا۔۱۲ منہ غفرلہ۔
اقول: اولا حرکت کا ذہنی محض ہونا قبل حدوث مراد یا بعد علی الاوّل کوئی غرض کبھی نہیں ہوتی مگر ذہنی کہ موجود ہو تو تحصیل حاصل ہو مثلاً طلب خیز نہیں بلکہ طلب حصول فی الخیر کہ غرض وہ جو فعل پر مرتب ہو اور ذات حیز حرکت پر مترتب نہیں کہ وقت حرکت حصول فی الخیر موجود فی الخارج نہیں تو اس کا وجود نہ ہوگا مگر ذہنی تو حرکت وغیر حرکت میں فرق باطل و علی الثانی حرکت ہر گز ذہنی نہیں موجود فی الخارج ہے جس سے ایک ذہنی محض منتز ہوتی ہے۔ ثانیاً طلب بے شوق نہ ہونا عام ہے یا حرکت ہی سے خاص ثانی ممنوع بلکہ بداہۃ تحکم اور اول حرکت طبعیہ کا مطلقاً احالہ۔ ثالثاً ذہنی کے لیے تعقل چاہیے تو خارجی کے لیے احساس ضرور نہیں اور طبیعت دونوں سے عاری اور یہ کہ ادراک یہیں درکار نہ وہاں تحکم محض ہے یہ ہے ان کی فلسفیت ۔ رابعاً پتھر مٹی کے ستون پر رکھا تھا، ستون مہندم ہو کر نیچے سے نکل گیا۔ پتھر جانب زمین چلا راہ میں ہوا وغیرہ جو مزاحم ملا اسے دفع کرتا زمین تک پہنچا تو۔ (۱) وقت حرکت جانا کہ میں اپنے حیز میں نہیں۔ (۲) یہ کہ حیز وہ ہے۔ (۳) اس سمت پر ہے۔ (۳) حرکت مجھے اس تک پہنچائے گی۔ (۵) وہ اقرب طرق پر چاہیے کہ جلد وصول ہو۔ (۶) یہ جو راہ میں ملا اجنبی ہے۔ (۷) اسے دفع نہ کروں تو یہ مجھے وصول الی المطلوب سے روکے گا۔ (۸) جس پر جب تھا اور جس پر اب آیا دونوں جنس واحد سے تھے ان میں تمیز کی کہ یہ میرے مقصد سے دور اور وہ نزدیک ہے، بغیر ان آٹھ مقصودوں کے یہ افعال کیسے واقع ہوئے ہیں جن میں ایک خود حرکت بھی ہے اور جب ان سب کے نتائج قوت غیر شاعرہ سے ایسے ہی واقع ہورہے ہیں گویا اسے ان سب کا شعورہے تو نری حرکت کا صدور بے قصور و بے شعور کیا محال و محذور ۔