اقول: اولا یہ اسی حیز طبعی کی دلیل سے ثابت ہو کر فلسفہ کی عمارتیں ڈھا گیا حیز طبعی نہیں مگر وہ کہ طبیعت جسم اس میں کون و سکون کی مقتضی ہو یعنی جسم اس میں ہے تو سکون چاہے اور باہر ہو تو عود۔ یہی مبد میل مستقیم ہے جس کا مقتضی بشرط خروج طلب عود اس کے لیے نہ وقوع عود ضرور نہ امکان (عہ) خروج کہ یہ امور اقتضا سے خارج ہیں مقدم کا امکان شرط شرطیہ نہیں، کلام اس میں ہے کہ اس کی طبیعت میں کوئی ایسی چیز ہے یا نہیں کہ برتقدیر خروج اسے پھر یہاں لانا چاہیے اگر نہیں تو حیز طبعی نہ ہوا اور اگر ہاں تو اسی کا نام مبدء میل مستقیم ہے تو ثابت ہوا کہ اگر ہر جسم کے لیے حیز طبعی ضرور ہے تو ہر جسم میں مبدء میل مستقیم ضرور ہے اور فلک بھی ایک جسم ہے تو ضرور وہ بھی مبد میل مستقیم رکھتا ہے۔ ثانیاً : ہم ثابت کریں گے کہ اس میں مبد میل مستدیر نہیں تو ضرو رمبدء میل مستقیم کہ دونوں سے خلو محال جانتے ہیں(تبیین) اقول: یہاں سے روشن ہوا کہ فلک محدد جہات نہیں کہ جس میں مبدء میل مستقیم ہے قابل حرکت اینیہ ہے اور حرکت اینیہ نہ ہوگی مگر جہت سے جہت کو تو اس سے پہلے تحددجہات لازم ، لہذا اس کا محدد ہونا محال۔
عہ۱: یہی فلسفہ اس مدعا پر کہ فلک کی محرک قوت جسمانیہ نہیں وہ دلیل لایا کہ اس قوت کا حصہ کل جسم یا بعض جس کی تحریک پر قادر ہو کل قوت بھی اس پر قاد رہوئی ( تاآخر بیان مذکور تعطیل نہم) اس پر کھلے دو اعتراض تھے۔ (۱) اقول: جب قوت جسم میں ساریہ ہے تو اس کا تجزیہ نہ ہوگا مگر بہ تجزیہ جسم اور وہ تمہارے فلک پر محال تو نہ کوئی حصہ فوت ہے نہ کوئی جزو جسم جس پر دلیل چل سکے۔ (۲) قوت اسی کو حرکت دے گی جس میں حلول کیے ہے تو نہ کل قوت بعض جسم کی محرک ہوگی نہ بعض کل کی دلیل ماشی ہو یہ دوسرا خود متشدق جونپوری نے وارد کیا اور وہی جواب دیا نہ کلام محض فرض و تقدیر پر ہے کہ اگر ایسا ہو تو ان قوتوں کا اقتضاء یہ ہے یونہی یہاں ہے کہ بغرض خروج طلب عود لازم اور یہی مبدء میل مستقیم ہے۔
مقام ہشتم
فلک میں مبدء میل مستدیر نہیں۔
اقول: اولا یہ اسی مقام سابق (عہ) سے ثابت کہ فلاسفہ کے نزدیک دو مبدء میل کا اجتماع محال۔
عہ: مقام ششم کے ثانیہ میں اس مقام کا ثانیہ ملحوظ اورا س مقام کے اوّلاً میں مقام ششم کا اولاً فلادور ۱۲ منہ۔
ثانیاً ہم ثابت کریں گے کہ فلک پر حرکت مستدیرہ محال تو ضرور اس میں مبدء میل مستدیر نہیں کہ ہوتا تو حرکت محال نہ ہوتی کہ فلک پر عالق نہیں مانتے۔
مقامِ نہم
جسم میں کوئی نہ کوئی مبدء میل ہونا کچھ ضرور نہیں، فلسفی ضروری جانتا اور اس پر دو دلیلیں دیتا ہے۔ (۱) جسم اگر حیز بدل سکے تو میل مستقیم ہوا، نہ بدل سکے تو دوسرے اجسام سے جو اس کے اجزاء کی وضع ہے خاص وہی لازم نہیں، دوسری بھی جائز تو مع ثبات حیز وضع بدلناجائز ہوا۔ یہ میل مستدیر ہوا۔ بہرحال اگر طباعی ہے یعنی خود جسم کی طبیعت یا ارادے سے ، تو اس میں مبدء میل ثابت ہوا۔ اور اگر خارج سے ہو تو ضرور جسم میں کوئی مبدء میل طبعی ہے کہ طبع نہیں تو قسر نہیں ۔ (۲) حیز نہ بدلے تو وہی تقریر سابق اور بدل سکے تو ہر جسم کے لیے ایک حیز طبعی ہے جب اس سے جدا ہو ضرور ہے کہ بالطبع اسے طلب کرے یہی مبدء میل مستقیم ہے۔ اقول: اولا وہ مقدمہ کی طبع نہیں تو قسر نہیں کہ دونوں دلیلوں کا مبنی ہے مقام چہارم میں باطل ہوچکا۔ ثانیاً ہر جسم کے لیے حیز طبعی ہونا مقام پنجم میں باطل ہوا۔ ثالثاً کیا محال ہے کہ مقتضی طبع بعض اجسام سکون محض ہو اور انتقال سے مطلقاً اباء تو تبدیل وضع جائز نہ ہوگی نہ اس لیے کہ یہ وضع خاص مقتضائے طبع ہے بلکہ اس لیے کہ طبع کو انتقال سے اباء ہے جیسے وہ ثقیل کہ مرکز یا خفیف کہ محیط کو واصل ہو ضرور اسے اجسام مخصوصہ سے ایک بین فصل ہوگا جسے وہ بدلنا نہ چاہے گا نہ اس لیے کہ خصوص فصل مطلوب ہے بلکہ اس لیے کہ اس کی تبدیل حرکت سے ہوگی اور وہ حرکت سے آبی۔ رابعاً اگر بالفرض ہر جسم کے لیے حیز طبعی ہو تو دلیل سے اگر ثابت ہو ا تو اس قدر کہ حیز کی تعیین طبیعت کرے کہ ترجیح بلا مرجح نہ ہو وہ حیز و طبیعت میں مناسبت سے حاصل کہ اسی قدر ترجیح کو بس ہے بحال زوال طلب و عود کی کیا ضرورت کہ یہ نہ لازم مناسبت ہے نہ شرطِ ترجیح ممکن کہ جسم میں حرکت کی صلاحیت ہی نہ ہو جہاں اٹھا کر رکھ دیں وہیں رہ ہوئے۔ خامساً اس عیّاری کو دیکھئے کہ دلیل دوم کو اس جسم سے خاص کرتے ہیں جو حیز بدل سکے حالانکہ وہ صحیح ہے تو یقیناً عام ہے کہ ہر جسم کے لیے ایک حیز طبعی ہے بدل سکے یا نہیں تو بغرض خروج ضرور بالطبع جس کا طالب ہوگا۔ یہی مبدء میل مستقیم ہے۔
مقامِ دہم
حرکت وضعیہ کا طبعیہ ہونا محال نہیں، فلسفی محال جانتا اور جہاں قاسر نہ ہو ارادیہ واجب مانتا ہے، دلیل یہ کہ اس میں جو متروک ہے اسی آن میں مطلوب ہے جو نقطہ جہاں سے چلا وہیں آرہا ہے ،یہ بات طبعیہ میں ناممکن کہ بالطبع کسی وضع کی طالب بھی ہو اور اس سے ہارب بھی بخلاف ارادہ کہ اعتبارات (عہ) مختلفہ کا تصور کرکے ایک جہت سے طلب دوسری سے ہرب میں حرج نہیں۔
عہ: بعض نے یوں تقریر کی کہ ہرب ایک وقت میں ہے۔( یعنی جب وہاں سے چلا) اور طلب دوسرے وقت میں ( یعنی تمام دورہ کے بعد اس پر آتے وقت نیز غرض حرکت چیز دیگر ہے۔( یعنی مثلاً مفارق سے تشبہ) اور یہ طلب و ہرب دونوں بعرض تو اجتماع میں حرج نہیں، شرح حکمۃ العین میں اس پر رد کیا کہ بلاشبہ طلب و ہرب وقت واحد میں ہے کہ جہاں سے چلا اسی وقت تو اس کی طرف متوجہ ہے اور حرکتِ واحدہ میں شیئ واحد کی طلب و ترک معاً ارادۃ بداہۃً محال ہے اگر دونوں بالعرض ہوں اور خود یوں تقریر کی کہ اس وقت ہرب مثلاً اس نقطے سے ہے اور توجہ اس کے برابر والے نقطہ کی طرف یہ توجہ اس پہلے کی طرف بھی توجہ بالعرض یوں ہوگئی کہ وہ اسی جہت توجہ میں واقع ہے ورنہ اس ارادے میں وہ مطلوب نہیں۔ ہاں تمامی دورے کے بعد پھر مطلوب ہوگا ، مگر وہ ارادہ جدید ہوگا۔ ہر ہر نقطہ کا تازہ ارادہ ہے۔ طبیعت غیر شاعرہ سے ایسا نہیں ہوسکتا۔ ( شرح مذکور۱ مع حاشیہ علامہ سید شریف)
(۱شرح عین الحکمۃ )
اقول: اولا بات وہی تو ہوئی جو اس بعض نے کہی تھی کہ ہرب ایک وقت میں ہے طلب دوسرے وقت، شرح کی تقریر صرف اس کی شرح ہے۔ ثانیاً جب اختلاف وقت حاصل تو شیئ واحد کے مطلوب و مہروب بالعرض ہونے میں حرج نہ ہونا اور بالعرض کی قید اس نے اس لیے لگائی کہ وہی مطلوب بالذات ہوتا اس تک پہنچ کر انقطاع حرکت لازم تھا۔ فافہم۔ ثالثاً متن میں ہماری تقریر دیکھئے کہ طبیعت غیر شاعرہ سے بھی ایسا ناممکن۔ رابعاً حرکت وضعیہ اگر حرکتِ واحدہ ہے تو کل جسم کے لیے اس میں نہ کسی وضع کی طلب ہے نہ ترک کہ اس سے کل کی وضعیں بدلتی ہی نہیں ہر جز کی بدلے گی اور حیز کے اعتبار سے ہر ہر نقطہ سے دوسرے تک حرکت تازہ ہے تو مختلف وقتوں میں مختلف حرکتیں ہیں۔ کیا محال ہے کہ ایک وقت و حرکت میں ایک نقطہ بالطبع مطلوب اور دوسرے وقت و حرکت میں مہروب ہو۔ جیسے قطرہ کہ اترتا ہے ہر آن ایک جز مسافت پر آنا چاہتا اور اس پر آکر اسے چھوڑنا چاہتا ہے اس کا جواب شارح نے یہی دیا تھا کہ یہ دو حرکتوں میں ہوا نہ حرکت واحدہ میں، وہی جواب یہاں ہے ۱۲ منہ۔