| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر ۲۷(کتاب الشتّٰی ) |
خلا محال نہیں، فلاسفہ مقام سابق کی اسی دلیل دوم کو اثبات معاوق داخلی یعنی میل طبعی میں پیش کرتے ہیں جس طرح سن چکے اور اسی کو اثبات معاوق خارجی یعنی ملا و استحالہ خلا میں لاتے ہیں کہ اگر خلا ہو تو اس میں حرکت ایک حد تک ایک زمانہ معین میں ہوگی اور ایک جسم ایک ملا میں اتنی ہی مسافت چلے ضرور ہے کہ خلا والے سے دیر میں چلے گا کہ ملا اس کا معاوق ہے فرض کرو دو چند میں اب وہ ملا لیجئے جس کی معاوقت پہلے ملا سے نصف ہو تو نصف ہو تو ضرور ہے کہ اس سے نصف دیر میں چلے گا تو حرکت مع معاوق بلا معاوق کے برابر ہوگئی حالانکہ دونوں جگہ صرف معاوق درکار، پہلی صورت میں معاوق خارجی مثل ملا کافی توقسر کے لیے ضرورت میل طبعی ثابت نہیں اور دوسری میں معاوق داخلی مثل میل کافی تو استحالہ خلاف ثابت نہیں، غرض وہاں معاوق خارجی کو بھولتے ہیں اور یہاں داخلی کو یہ ہے ان کا تفلسف فلاسفہ کے لیے استحالہ خلا میں دو واہی شبہے اور ہیں کہ مواقف میں مع رد مذکور میں اور زرنقات و سر نقات (عہ) اگر ثابت ہوگا تو استحالہ عادیہ نہ عقلیہ ان کی بڑی دستاویز یہی شبہ مردودہ تھا اس پر بھی زیادہ کلام کی حاجت نہیں کہ خود ان کے بڑے خونگرم حامی متشدق جونپوری نے شمس بازغہ میں اگرچہ ابوالبرکات بغدادی کے اعتراض کو نہایت سقوط میں بتایا مگر اسی سے اخذ کرکے دونوں مقاموں میں فلاسفہ کا جہل واضح ہو روشن کردیا ہے اور دونوں جگہ دلیل کا ناتمام ہونا صاف مان لیا ہے پھر بھی دونوں دعوؤں پر فصلیں عقد کرتا اور انہیں مردود باتوں پر لاتا ہے۔ یونہی اور مواضع مردودہ میں بااینہمہ خطبہ میں ادعا کرتا ہے کہ اس کی کتاب حکمتِ حقہ حقیقیہ یقینیہ کے بیان میں ہے جس کا اتباع واجب، معاذ اللہ اسی خرافاتِ مطرودہ اور ان سے بدتر کفریات مردودہ کو جن میں سے بعض کا بیان آتا ہے قرآن عظیم ٹھہرادیا۔
زین لھم سوء اعمالھم۱
ان کے برے کام ان کی آنکھوں میں بھلے لگتے ہیں،(ت)
(۱القرآن الکریم ۹/ ۳۷)
عہ: یہ دونوں مسودہ میں ایسے ہی لکھے ہیں پڑھنے میں نہیں آئے ۔
مقام ششم
حیز شکل مقدار اور جتنی چیزیں جسم کے لیے فی نفسہ ضروری ہیں کہ جسم کا ان سے خلو نا متصور ان میں بھی کسی شیئ کا جسم کے لیے طبعی ہونا کچھ ضرور نہیں، فلسفی ضرور جانتا ، اور اس پر دلیل یہ دیتا ہے کہ جب جسم کو بعد وجود اس کی طبیعت پر چھوڑا جائے جتنے امور خارجیہ سے خالی ہوسکتا ہے خالی فرض کیا جائے ضرور اس تقدیر پر بھی کسی حیز میں نہ ہونا محال اور معاً سب چیزوں میں ہونا محال لاجرم کسی حیز خاص میں ہوگا۔ اب مطلق جسم تو مطلق حیز کا طالب تھا اس خصوص کے لیے کوئی مقتضی درکار وہ کوئی امر خارج نہیں ہوسکتا کہ اس سے خلو مفروض نہ فاعل کہ بے اس کے اگرچہ وجود متصور نہیں۔ مگر اس کی نسبت سب چیزوں کی طرف یکساں ہے تو اس سے بھی تعیین نہیں ہوسکتی نہ صورت جسمیہ کہ سب میں مشترک ہے نہ ہیولے کہ قابل محض ہے نہ کہ مقتضی ، نیز وہ خود متحیز ہی نہیں یہ بتبعیت صورت تحیز پاتاہے ، لاجرم یہ خصوصیت کسی اور شیئ داخل جسم کااقتضاء ہے اسی کا نام طبیعت ہے تو یہ حیز طبعی ہوا کہ اگر قسراً اس سے جدا ہو بعد زوال قسر بالطبع اس میں پھر آجائے یونہی شکل و مقدار وغیرہما اشیائے لازمہ۔ اقول: اولا ہویت باقی رہی مطلق جسم نے مطلق حیز چاہا ھذیۃ ھذیۃ چاہے گی ۔ اگر کہیے ھذیۃ فرد منتشر چاہے گی کہ خاص کا کسی میں ہونا ضرور خاص، یہ خاص کس لیے۔ اقول: مطلق ھذیۃ فردِ منتشر چاہے گی اور ھذیۃ خاصہ فرد متعین، اگر کہیے اس ھذیۃ کو اس خاص سے کیا مناسبت کہ خاص اسی کو چاہا۔ اقول: اولا علم مناسبت کیا ضرور مقتضیات طبیعت میں بہت جگہ ادراک مناسبت سے عقول دانیہ قاصر، بعض کا ذکر عنقریب آتا ہے۔ ثانیاً ترجیح کے لیے قربِ خاص یہی خاص اقرب تھا لہذا اس میں حصول ہوا اپنے طور پر زمین کے اجزاء کو دیکھئے ، ڈھیلا کہ اوپر سے گرے کسی حصہ مشقر پر نہ ہونا محال اور معاً سب حصوں میں ہونا محال، لاجرم ایک حصہ خاص میں ہوگا اس خصوص خاص کا اقتضا ء ہر گز طبیعت سے نہیں اگر یہی ڈھیلا دوسری جگہ سے اترے دوسرے حصہ خاص میں ہوگا۔ تیسری جگہ تیسرے میں، وہکذا تصریح نہیں مگر قرب۔ ثالثاً دلیل ہر جسم کے اجزاء مقداریہ سے منقوص جو جز لو اور ہر خارج سے قطع نظر کرو محال ہے کہ کسی حصہ حیز میں نہ ہو یا معاً سب میں ہو، لاجرم ایک حصہ خاصہ میں ہوگا تو وہی اس کا حیز طبعی ہوا، جیسے کل کا کل اب بسیط کے اجزاء مختلف الطبائع ہوگئے نیز لازم کہ زمین کا ڈھیلا جس جگہ سے کاٹ کر ہزاروں کوس لے جاؤ جب چھوڑو خاص اس جگہ پہنچے کہ حیز طبعی کی یہی شان ہے اگر کہیے اجزائے مقدار یہ موہوم ہیں اور موہوم معدوم اور معدوم کے لیے حیز نہیں۔ اقول: اب فلک کی حرکت مستدیرہ باطل ہوگئی وضعیہ نہ ہوگی مگر تبدیل اوضاع سے اور اوضاع اصالتاً نہ ہوتے۔ مگر اجزائے مقدار یہ کہ خارج سے نسبت انہیں کی لی جاتی ہے اور وہ معدوم اور معدوم کے لیے وضع نہیں۔ اگر کہیے ان کے مناشی انتزاع موجود ہیں اور عقل حکم کرتی ہے کہ یہ حیز ایک وضع خاص رکھتا ہے جو اس حیز کے لیے نہیں۔ اقول: یہاں بھی مناشی انتزاع موجود ہیں اور عقل حکم کرتی ہے کہ یہ حیز کے ایک حصہ خاص میں ہے جس میں وہ حیز نہیں۔ رابعاً روشن ہوچکا کہ خالق عزوجل فاعل مختار ہے پھر کوئی مخصص کیا درکار ہے یہ کہنا کہ فاعل سے تخصیص ممکن نہیں اگر مراد فاعل حقیقی عزجلالہ ہے صریح کفر ہے اور اگر حسب تحلت (عہ) فلسفی عقل فعال مراد تو غیر خدا کو موجِد اجسام ماننا کیا کفر نہیں۔
عہ۱: بمعنی مذہب ۱۲ الجیلانی۔
خامساً جب جسم کو بلحاظ وجود فی الاعیان لیا ہے کہ اس میں وہ حیز معین کا محتاج تو تخلیہ انہیں امور سے ہوسکتا ہے جن پر وجود کو توقف نہیں ان سے خالی ہو کر وجود ہی نہ رہے گا تو وہ نحوایجاد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس سے وجود ہوا صالح عزل نہیں نحو ایجادیہ ہے کہ اس حیز میں اس شکل اس مقدار پر بنایا تو اس خارج سے تخصیص اس خلو کے منافی نہیں ولہذا دلیل کو باوصف اسقاط ہر خارج نفی تخصیص فاعل کی حاجت ہوئی رہا سیالکوٹی کا کہنا کہ فاعل بحیثیت ایجاد معتبر نہ بحیثیت تخصیص حیز، اس وجہ سے اس سے تخلیہ ہے۔
عہ۲: حیز میں تحقیق مقام یہ کہ کل کے لیے اپنی تین وضعیں ہیں۔ (۱) وہ جس سے اس کی طرف اشارہ حسیہ ہے۔ اقول: یعنی یہ اشارہ خاصہ محدودہ کہ نہ اس سے کم پر رکے نہ آگے بڑھے ہم مقام ۱۴ میں تحقیق کریں گے کہ یہی اس کا حیز طبعی ہے تو یہ وضع مقولہ وضع سے نہیں مقولہ این سے ہے حرکت وضعیہ سے نہ بدلے گی بلکہ اینیہ سے۔ (۲) وہ کہ اس کے اجزاء و اشیائے خارجیہ کی نسبت سے ہے۔ (۳) وہ کہ اجزاء کی باہم نسبت سے یہ دونوں انحائے مقولہ وضع ہیں۔ اقول: ظاہر ہے کہ دونوں اولا بالذات اجزاء کے لیے ہیں اور ان کے واسطے سے کل کو مثلاً ایک کمرہ دوسرے کے اندر اس طرح ہے کہ اس کے نقطہ ا کو اس کے ج سے غایت قرب اور ح کے مقاطر ء سے غایت بعد ہے اور ا کے مقاطر ب کو ء سے غایت قرب اور ح سے غایت بعد ہے اور اگریہ کرہ الٹ کر رکھا جائے تو ا کو ء سے غایت قرب اور ج سے غایت بعد ہو اور ب کو بالعکس یا وہ اس ہیات پر بنا ہے کہ اس نقطہ ا نقطہ ب وغیرہا ہر نقطے سے اتنے اتنے فصل مخصوص پر ہے، اگر اجزا کے مواضع بدل دیئے جائیں یہ فصل بدل جائیں ان میں وضع بمعنی دوم ہی حرکت وضعیہ سے بدلتی ہے اور بمعنی سوم نہ وضعیہ سے بدلے نہ اینیہ سے جب تک اجزاء متفرق ہو کر الٹ پلٹ نہ ہوں ظاہر ہے کہ اگر اجزاء یا ان کی نسبتیں باہم امور خارجہ سے نہ ہوں تو نفس کل میں کوئی تغیر بیان ہی نہیں۔ لہذا یہ دونوں وصفیں کل کی اپنی ذاتی نہیں بواسطہ اجزا میں ۱۲ منہ غفرلہ ۔
27_40.jpg
اقول: ایجاد جسم معین بے تعیین حیز خاص متصور نہیں تو ایجاد کو اس پر توقف ہے اور کسی جہت کا اعتبار ان سب کا اعتبار ہے جو اس کے موقوف علیہ ہوں و لہذا تمہیں فاعل من حیث الایجاد کے اعتبار سے چارہ نہ ہوا کہ وجود اس پر موقوف ہے۔ سادساً و سابعاً آئندہ دو مقام ہیں۔